مندرجات کا رخ کریں

سید مرتضیٰ آوینی

ویکی‌وحدت سے
سید مرتضیٰ آوینی
پورا نامسید مرتضیٰ آوینی
دوسرے نامکامران، سید الشهدا اهل قلم
ذاتی معلومات
پیدائش1326 ش، 1948 ء، 1366 ق
یوم پیدائش1 شهریور
پیدائش کی جگہشهر ری ایران
وفات1372 ش، 1994 ء، 1413 ق
یوم وفات20 فروردین
وفات کی جگہفکه، خوزستان
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • فتح کی داستان، رسالہ سورہ میں مغربی تہذیب پر تنقید کرنے والے مضامین، منتخب فلمیں
مناصب
  • دستاویزی فلم ساز
  • فوٹوگرافر
  • صحافی
  • دستاویزی سیریز ‘روایتِ فتح کا هدایت کار

"سید مرتضیٰ آوینی، اسلامی سنیما کے فلم ساز، فوٹوگرافر، صحافی، مصنف اور ایران کے نظریاتی مفکر تھے، اور وہ دستاویزی سیریز 'روایتِ فتح' کے ہدایت کار اور مصنف بھی تھے، جو 20 فروردین 1372 شمسی کو صوبہ خوزستان کے علاقے فکہ میں فلم بندی کے دوران بارودی سرنگ پھٹنے سے شہید ہو گئے۔ ان کی نماز جنازہ 22 فروردین کو امام خامنہ ای اور فنکاروں و مصنفین کی موجودگی میں ادا کی گئی اور انہیں بہشت زہرا کے شہداء کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔"

زندگی نامه

سید مرتضی آوینی کی پیدائش 21 شهریور 1326 شمسی کو ری شہر، تهران کے جنوب میں ایک درمیانی طبقے کے مسلمان خاندان میں ہوئی۔

تعليم

انہوں نے ابتدائی اورمتوسطه تعليم زنجان، کرمان اور تهران میں گزاری، اور 1344 شمسی میں یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور معماری میں ماسٹر کی ڈگری تهران یونیورسٹی سے حاصل کی۔

فنی سرگرمیاں

ایران کے انقلاب کے دوران آوینی نے مستند فلموں کے ہدایت کار کے طور پر اپنے فنکارانہ کام کا آغاز کیا۔ وہ جنگی فلم سازوں میں سے ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے ایران اور عراق جنگ کے بارے میں 80 سے زیادہ فلمیں بنائیی، فلم سازی کی نئی تکنیکیں ایجاد کیں اور شیعوں کے عرفانی نظریے کی بنیاد پر ایران اور عراق جنگ کے باطنی پہلو کو اجاگر کیا۔

ان کے بیشتر کاموں میں بسیجیوں کی جنگ کی تفہیم اور ان کا کردار شامل تھا۔ ان کا مشہور ترین کام دستاویزی سیریز روایت فتح ہے، جو ایران اور عراق جنگ کے دوران بنائی گئی تھی۔

آثار

روایت فتح

روایت فتح، ایران اور عراق جنگ کے فوجی جوانوں کے روزمرہ زندگی پر مرکوز ایک دستاویزی فلم تھی۔ اس سیریز میں پانچ حصے شامل تھے اور یہ جنگ کے روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے تھے۔ یہ فلم اپنے عقیدے کے ذریعے ایک روحانی تجربے کو اجاگر کرتی ہے۔

نظری کام

آوینی کا دستخط شدہ اقتباس: "ہم یہ توہم رکھتے ہیں کہ ہم قائم رہے ہیں، لیکن شہید چلے گئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت نے ہمیں اپنے ساتھ لے لیا، لیکن شہید قائم رہے ہیں۔"

مقالے

انہوں نے سوره مجلۀ میں مغربی تمدن پر تنقید کے موضوع پر کئی مقالے لکھے، جو بعد میں ان کی فلم (سراب)کا موضوع بن گیا۔

انتخابی فلمیں

  • شش روز در ترکمن صحرا (ترکمن صحرا میں چھ دن)
  • سیل خوزستان (خوزستان میں سیل)
  • خان گزیده‌ها
  • حقیقت
  • با دکتر جهاد در بشاگرد (ڈاکٹر جہاد کے ساتھ بشاگرد میں)
  • هفت قصه از بلوچستان (بلوچستان سے سات کهانی)
  • با تیپ المهدی در محور رأس‌البیشه (تیپ المهدی کے ساتھ رأس البیشه محور پر)
  • شیر مردان خدا! کرب‌وبلا در انتظار است (خدا کے شیر مردان! کرب و بلا کا انتظار ہے)
  • شهری در آسمان (آسمان میں ایک شہر)

کتابیں

  • هر آنکه جز خود؛ (وہ جو خود کے سوا کوئی نہیں)
  • آیینه جادو؛ (جادو کا آئینہ)
  • توسعه و مبانی تمدن غرب؛ (غرب کے تمدن کے توسعے اور مبانی)
  • گنجینه آسمانی؛ (آسمانی خزانہ)
  • یک تجربه ماندگار؛ (ایک یادگار تجربہ)
  • فردایی دیگر؛ (ایک نیا مستقبل)
  • حلزون‌های خانه به دوش؛ (خانه بدوش گهونگهے)
  • رستاخیز جان؛ (روح کی قیامت)
  • آغازی بر یک پایان؛ (ایک اختتام کی شروعات)
  • فتح خون؛ (خون کی فتح)
  • امام و حیات باطنی انسان؛ (امام اور انسان کی روحانی زندگی)
  • با من سخن بگو دوکوهه؛ (مجھ سے بات کرو دوکوهه )
  • مرکز آسمان؛ (آسمان کا مرکز)
  • نسیم حیات؛ (زندگی کی خوشبو)
  • سفر به سرزمین نور؛ (نور کی زمین کا سفر)
  • انفطار صورت . (صورت کا انحلال)

شہادت

سید مرتضی آوینی 20 فروردین 1372 شمسی کو خوزستان کے علاقے فکه میں فلم بندی کے دوران ایک مین کے پھٹنے سے شہید ہو گئے۔ ان کی نماز جنازہ 22 فروردین کو رهبر معظم امام خامنہ ای اور فنکاروں اور مصنفین کی موجودگی میں ادا کی گئی اور انہیں بہشت زهرا کے شہداء کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔[1]

روز شہادت کا نامگذاری

رهبر معظم سید علی خامنہ ای نے آوینی کی شہادت کے بعد انہیں " قلمکاروں کے سید الشهدا" قرار دیا اور ان کی شہادت کے موقع پر، 20 فروردین کو جمهوری اسلامی ایران کے تقویم میں ان کے نام کے تحت "اسلامی انقلاب کی فن کا دن" نام رکھا گیا ہے۔[2]


شهید آوینی امام خامنہ ای کی زبانی

"یہ امر یقینی بنانا چاہیے کہ شہید آوینی کے یہ آثار پسِ پشت نہ پڑیں۔ یہ نہایت قیمتی کام تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں عظیم صلاحیت تھی کہ اتنی کثرت سے اور اتنی عمدگی سے یہ سب کچھ انجام دے سکے۔ بالخصوص 'روایتِ فتح' ایک بہت اہم سلسلہ ہے۔ جب یہ نشر ہوتا تھا تو راتوں کو میں سماعت کرتا تھا۔ بظاہر تین یا چار قسطیں ہی چلی تھیں۔ اب ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان کے جو کام تیار ہیں، ان سے استفادہ کیسے کیا جائے؟ ایک پہلو یہ ہے کہ اس کام کا تسلسل برقرار رہے۔

اس روز جب ہم نے ان حضرات سے گزارش کی اور میں نے اصرار کیا کہ روایتِ فتح جاری رہے، تو مجھے اس کے آگے بڑھنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا۔ جب پروگرام نشر ہوئے تو حقیقت یہی سامنے آئی۔ یعنی دفاعِ مقدس کے حقائق کو یادوں میں زندہ کرنا، ان یادوں کو ایک ایک کر کے زبان زدِ خلق کرنا، انہیں مصور کرنا اور جنگ کے ماحول کو از سرِ نو تخلیق کرنا۔ یہ کام شہید انجام دے رہے تھے۔ اور جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے، ان کی کارکردگی بہتر اور پختہ ہوتی جا رہی تھی۔ 

کیونکہ اس نوعیت کا کام پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، یہ جنگ کے میدان میں جاتے اور جوانوں سے گفتگو کرتے۔ وہ کام بہت آسان تھا۔ لیکن یہ کام زیادہ فنکارانہ اور محنت طلب تھا، جس میں فکری اور فنی ریاضت کی ضرورت تھی۔ پہلے شہید نے آغاز کیا، پھر وہ رفتہ رفتہ نکھرتے اور پختہ ہوتے گئے۔ میرا خیال ہے کہ اگر وہ حیات ہوتے اور اسے جاری رکھتے، تو یہ فنون بہت بلندیوں کو چھو لیتا۔ اس سلسلے کو اب بھی جاری رہنا چاہیے۔

یہ صرف اسی میدان تک محدود نہیں ہے۔ یعنی یادوں کے توسط سے اس فضا کو دوبارہ جنم دینا ان کاموں کا حصہ ہے۔ جنگ اور روایتِ فتح کو جاری رکھنے کے حوالے سے شاید مزید کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔ افسوس ہے کہ یہ کام ختم ہو گیا۔ مجھے بہت مسرت ہوئی کہ میں آپ لوگوں کی زیارت سے مشرف ہوا۔"[3]


متعلقہ تلاشیں


حوالہ جات

  1. شہید کی مختصر سوانح عمری، شهید آوینی ثقافتی اور هنری انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ (زبان فارسی) درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: ۲۰/جنوری/۲۰۲۶ء.
  2. شہید مرتضی آوینی کی سوانح عمری کا تعارف، پیام آزادگان ثقافتی اور فنی ادارے کی ویب سائٹ.( زبان فارسی) درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: ۲۰/جنوری/ ۲۰۲۶ء
  3. شهید آوینی امام خامنه ای کی زبانی، اندیشہ شهید آوینی ثقافتی اور فنی انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ ( زبان فارسی). درج شده تاریخ: .... اخذشده تاریخ: ۲۰ / جنوری/۲۰۲۶ء