confirmed
821
ترامیم
ٹیگ: Manual revert |
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
سطر 9: | سطر 9: | ||
}} | }} | ||
'''تنظیم آزادی فلسطین''' | '''تنظیم آزادی فلسطین''' (PLO) ایک نیم فوجی سیاسی تنظیم ہے جسے اقوام متحدہ اور عرب لیگ نے [[فلسطین]] کے اندر اور باہر فلسطینی عوام کے واحد جائز نمائندے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس کا قیام 1964 میں یروشلم میں پہلی فلسطینی عرب کانفرنس کے انعقاد کے بعد، 1964 کی عرب سربراہی کانفرنس (قاہرہ) کے ،بین الاقوامی فورمز میں فلسطینیوں کی نمائندگی کے فیصلے کے نتیجے میں کیا گیا تھا۔ اس میں [[تحریک فتح]] اورعوامی محاذ برائے آزادی فلسطین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے بینر تلے فلسطینی گروپوں اور جماعتوں کی ایک بڑی تعداد سرگرم ہے۔سوائے [[ حماس|تحریک حماس]] ،[[تحریک جہاد اسلامی فلسطین|تحریک جہاد اسلامی]] اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین -قیادت عامہ کے جن کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔ اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین کو بیرون ملک رہنے والے فلسطینیوں کے علاوہ [[مغربی کنارے]] اور [[غزہ کی پٹی]] میں فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کا صدر تصور کیا جاتا ہے۔ | ||
== ہدف == | == ہدف == | ||
تنظیم کے قیام کا بنیادی ہدف مسلح جدوجہد کے ذریعے فلسطین کو آزاد کرانا تھا۔ تاہم، تنظیم نے بعد میں فلسطین کے ایک حصے میں ایک عارضی جمہوری ریاست کے قیام کے خیال کو | تنظیم کے قیام کا بنیادی ہدف مسلح جدوجہد کے ذریعے فلسطین کو آزاد کرانا تھا۔ تاہم، تنظیم نے بعد میں فلسطین کے ایک حصے میں ایک عارضی جمہوری ریاست کے قیام کے خیال کو اپنایا جو 1974 میں فلسطینی نیشنل کونسل کے عبوری پروگرام کا حصہ تھا، جس کی اس وقت بعض فلسطینی گروپوں نے مخالفت کی تھی۔ 1988 میں، تنظیم نے سرکاری طور پر تاریخی فلسطین میں دو ریاستوں کے قیام اور امن و امان کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ شانہ بشانہ رہنے کا نظریہ اپنا لیا جو پناہ گزینوں کی واپسی اور 1967 میں غصب شد سرزمین پر فلسطینیوں کی آزادی اور مشرقی یروشلم کو ان کا دارالحکومت بنانے کی ضمانت دیتا ہے <ref>[http://www.mideastweb.org/plo1974.htm mideastweb.org]</ref>۔ | ||
1993 میں پی ایل او کی اس وقت کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین [[یاسر عرفات]] نے اس وقت کے اسرائیلی صدر اسحاق رابن کے نام ایک سرکاری خط میں [[اسرائیل]] کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا۔بدلے میں اسرائیل نے پی ایل او کو فلسطینی عوام کا واحد جائز نمائندہ تسلیم کیا۔ اس کے نتیجے میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ایک فلسطینی خود مختار اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا، جسے پی ایل او اور اسرائیل کے درمیان [[معاہدہ اوسلو|اوسلو معاہدے]] کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے <ref>William L. Cleveland, A History of the Modern Middle East, Westview Press (2004). ISBN 0-8133-4048-9.</ref> | |||
1993 میں پی ایل او کی اس وقت کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین [[یاسر عرفات]] نے [[اسرائیل]] کو باضابطہ طور پر تسلیم | |||
== تاسیس == | == تاسیس == | ||
عرب لیگ میں ، 1945 میں اس کے قیام کے بعد سے ہی فلسطینی عوام کے مختلف نمائندے رہے ہیں۔ حالانکہ فلسطین اس وقت برطانوی مینڈیٹ کے تحت تھا۔اس دور میں فلسطین کے نمائندے بالترتیب موسی العلمی، عبدالکریم العلمی، احمد حلمی عبد الباقی، اور [[احمد الشقیری]] تھے۔ | |||
1964 میں پہلی عرب سربراہی کانفرنس میں، جسے مصری صدر [[جمال عبدالناصر]] نے بلایا تھا، تنظیم آزادی فلسطین کا قیام [[فلسطین]] کے عوام کی مرضی کے اظہار اور ان کے حقوق اور خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والی ایک تنظیم کے طور پر کیا گیا تھا۔ کانفرنس نے فلسطین کے نمائندے احمد الشقیری کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ فلسطینیوں سے رابطہ کریں اور اس پر ایک رپورٹ لکھیں جو اگلی عرب سربراہی کانفرنس میں پیش کی جائے۔ احمد الشقیری نے ایک سفر کیا جس کے دوران انہوں نے عرب ممالک کا دورہ کیا اور وہاں کے فلسطینیوں سے رابطہ کیا۔ ان کے دورے کے دوران، قومی چارٹر اور تنظیم آزادی فلسطین کے آئین کا مسودہ تیار کیا گیا، اور ایک عام فلسطینی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ | |||
اس | الشقیری نے کانفرنس کے لیے تیاری کمیٹیاں بنائی، جس کے نتیجے میں پہلی فلسطینی کانفرنس میں رکنیت کے لیے امیدواروں کے ناموں کی فہرستیں تیار کی گئیں، جو یروشلم میں 28 مارچ سے 2 جون 1964 کے درمیان منعقد ہوئی تھی اور اس کا افتتاح شاہ حسین بن طلال نے کیا تھا۔ اس کانفرنس کو آزادی فلسطین قومی کونسل کے نام سے جانا جاتا تھا۔ کانفرنس میں 242 فلسطینی نمائندوں نے شرکت کی جن کا انتخاب عرب حکومتوں [[اردن]]، [[شام]]، [[لبنان]]، [[مصر]]، [[کویت]]، [[قطر]] اور [[عراق]] نے کیا تھا۔ | ||
اس نے قومی چارٹر اور تنظیم کے بنیادی قانون کی توثیق کی، اور | اس کانفرنس نے احمد الشقیری کو اپنا صدر منتخب کیا اور نابلس سے حکمت المصری، غزہ سے حيدر عبد الشافی اور لبنان سے نقولا الدر کو نائب صدر منتخب کیا گیا اور تنظیم آزادی فلسطین کے قیام کا اعلان کیا گیا <ref>[https://www.alwatanvoice.com/arabic/news/2015/07/10/741669.html alwatanvoice.com]</ref>۔ نیز کانفرنس نے قومی چارٹر اور تنظیم کے بنیادی قانون کی توثیق کی، اور شقیری کو تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ کانفرنس نے شقیری کو مستقل کمیٹی کے پندرہ اراکین کا انتخاب کرنے کا کام سونپا، اور یروشلم کو تنظیم کی قیادت کے لیے ہیڈ کوارٹر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ کانفرنس میں فلسطینی عوام کو عسکری طور پر تیار کرنے اور فلسطینی نیشنل فنڈ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کی سربراہی عرب بینک کے بانی کے بیٹے عبدالمجید شومان کو سونپی گئی ۔فلسطینی نیشنل فنڈ کے لئے عرب حکومتوں اور پناہ گزینوں سے رقم اکٹھی کی گئی، جن میں سے ہر ایک کو ہر سال ایک چوتھائی دینار (تقریباً ایک ڈالر) دینے کو کہا گیا۔ | ||
جب تنظیم آزادی فلسطین کا قیام عمل میں آیا تو سات دفاتر کھولے گئے۔ سعید السبع الجزائر میں، شفیق الحوط لبنان میں، جمال الصوریانی مصر | جب تنظیم آزادی فلسطین کا قیام عمل میں آیا تو سات دفاتر کھولے گئے۔ سعید السبع کو الجزائر میں، شفیق الحوط کو لبنان میں، جمال الصوریانی کو مصر میں اور مصطفیٰ سہتوت کو شام میں دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ | ||
=== کانفرنس مندرجہ ذیل متن کے ساتھ سامنے آئی === | === کانفرنس مندرجہ ذیل متن کے ساتھ سامنے آئی === |