مندرجات کا رخ کریں

فرشتے

ویکی‌وحدت سے

ملائکہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کا ایک گروہ ہیں جو عالم غیب کا حصہ ہیں۔ ان ہستیوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے درجات و مراتب متعین ہوتے ہیں۔ ان کا واضح اور جامع خاکہ اسلامی روایات اور قرآنی آیات سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔

ملائکہ (فرشتہ) کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم

لفظِ «ملائکہ» عربی زبان سے ماخوذ ہے۔ ملائکہ، مَلَک (فرشتہ) کی جمع ہے۔ اصل میں یہ لفظ «ملائک» تھا، جس کے آخر میں جمع کے معنی میں تاکید پیدا کرنے کے لیے «تاء» کا اضافہ کیا گیا ہے۔ فلسفیوں کی اصطلاح میں ملائکہ سے مراد عقولِ مجردہ، نفوسِ فلکیہ اور ارواحِ مجردہ ہیں جو مادی و عنصری کائنات میں تصرف کرتے ہیں۔ «ملائکۂ روحانیہ» سے مراد ارواحِ مجردہ، «ملائکۂ طباعِ ارضیہ» سے مراد طبائعِ کلیہ اور «ملائکۂ موکلہ» سے مراد عقول ہیں۔[1]

مَلَک (میم اور لام کے زبر کے ساتھ) کے معنی فرشتہ کے ہیں اور اس کی جمع «ملائکہ» ہے۔ اکثر علمائے لغت کا ماننا ہے کہ یہ «ألوک» سے مشتق ہے، اور ألوک کے معنی پیغام رسانی یا رسالت کے ہیں۔[2] مفردات راغب میں درج ہے[3] کہ ہر ملک، ملائکہ میں سے ہے لیکن ہر ملائکہ ملک نہیں ہے؛ بلکہ ملک وہ ہے جس کی طرف قرآن کی ان آیات میں اشارہ ہوا ہے: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا۔ سورہ = نازعات /آیت = 5 ؛ «پھر جو معاملات کی تدبیر کرتے ہیں»۔ فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا۔ سورہ = ذاریات/آیت = 4 ؛ «اور قسم ہے امور تقسیم کرنے والے فرشتوں کی»۔ وَ النَّازِعَاتِ غَرْقًا۔ سورہ = نازعات/آیت = 1 ؛ «قسم ہے ان فرشتوں کی جو (مجرموں کی روحیں) سختی سے کھینچ نکالتے ہیں» وغیرہ۔

اسی طرح قرآن میں عزرائیل/ملک الموت اور دیگر فرشتوں کے بارے میں وارد ہوا ہے: وَ الْمَلَکُ عَلَی أَرْجَائِهَا۔ سورہ = الحاقہ/آیت = 17 ؛ «اور فرشتے آسمان کے کناروں پر ہوں گے (اور احکامات کی بجا آوری کے لیے تیار ہوں گے)»۔ وَ مَا أُنزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَ مَارُوتَ۔ سورہ = بقرہ/آیت = 102 ؛ «اور اس چیز کی پیروی کی جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر نازل کی گئی تھی»۔ قُلْ یَتَوَفَّاکُم مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِی وُکِّلَ بِکُمْ ۔ سورہ = سجدہ/آیت = 11 ؛ «کہہ دیجیے: موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، تمہاری روحیں قبض کر لے گا»۔

الصحاح میں کسائی سے نقل کیا گیا ہے کہ «مَلَک» کی اصل «مَأْلَک» ہے جو «ألوک» (بمعنی رسالت) سے ماخوذ ہے۔ بعد ازاں ہمزہ کی جگہ لام آ گیا اور یہ «ملائک» بن گیا، پھر کثرتِ استعمال کی وجہ سے ہمزہ گر گیا اور لفظ «مَلَک» رہ گیا۔ جمع بناتے وقت ہمزہ واپس لا کر «ملائکہ» کہا گیا؛ لہٰذا اس کی میم زائد ہے۔ دوسری جانب مجمع میں ابن کیسان سے منقول ہے کہ اس کی اصل «مُلک» سے ہے؛ بنا بریں اس کی میم زائد نہیں ہے۔

بہرحال، لفظِ «مَلَک» مفرد، تثنیہ اور جمع کی شکل میں قرآنِ مجید میں تقریباً اسی (80) بار وارد ہوا ہے اور اس سے مراد ہر جگہ فرشتہ اور فرشتے ہی ہیں۔ اگر اس کا اشتقاق «ألوک» ہی سے مانا جائے تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر فرشتے کے ذمے ایک مخصوص رسالت اور فریضہ سونپا گیا ہے۔[4]

ملائکہ: عالمِ غیب کے مکین

ملائکہ، عالمِ غیب کے مکین ہیں اور عالمِ غیب کے رہنے والے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہیں، جبکہ ہم ان کے وجود پر ایمان لانے کے مکلف اور مامور ہیں۔ قرآنی آیات اور روایات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے انسان کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ قرآنِ کریم[5] میں قوم لوط پر عذاب نازل ہونے سے قبل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر فرشتوں کی آمد کے واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی تفصیل امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ایک روایت میں بیان ہوئی ہے اور شائقین اس کے لیے اصل ماخذ کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔[6]

مجموعی روایات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بظاہر بعض فرشتوں، جیسے جبرائیل، میکائیل اور عزرائیل، نیز چند دیگر محدود فرشتوں کے دیکھے جانے کے امکان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے؛ اور بعض شخصیات اور اولیائے الٰہی، جیسے رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، ائمہ (علیہم السلام) یا انبیاء و رسل (علیہم السلام)، اور بعض عظیم عرفاء جیسے مرحوم سید محمد حسین طباطبائی کے لیے ان ہستیوں کے مشاہدے اور دیدار کی صلاحیت و امکان موجود رہا ہے۔

دوسرے الفاظ میں، قطعیت کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام عام انسان فرشتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ فرشتوں سے رابطے کے اکثر مدعی، درحقیقت گروہِ جن سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم نکتہ یہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ فرشتے اوامرِ الٰہی کی بجا آوری پر مامور ہیں اور کائنات میں ان میں سے ہر ایک کی ایک معین ذمہ داری اور فریضہ ہے۔

اس بنیاد پر بعض افراد کے اس قول کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ «فرشتے بھی جادوگروں کے تابع ہو جاتے ہیں تاکہ انہیں غیب کی خبریں فراہم کریں»۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر زمین اور عالمِ مادّہ کے اندر فرشتوں کے مجسم ہونے اور مادی مشاہدے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، جب امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور شایانِ شان حمد و ثنا کے امکان کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے عظمتِ خلقت کو بعض فرشتوں کے اوصاف کے ذریعے اس طرح بیان فرمایا:

«اللہ تبارک و تعالیٰ کے ایسے فرشتے ہیں جن میں سے بعض اتنے عظیم الجثہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک زمین پر اتر آئے تو اپنی وسعت اور کثرتِ پر و بال کے باعث زمین میں سما نہ سکے گا۔ بعض اس قدر ہیبت ناک اور خوبصورت ہیں کہ اگر تمام جن و انس مل کر بھی ان کی توصیف کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں گے۔ بعض فرشتے ایسے ہیں جن کے دونوں کندھوں یا کان کی لو کے درمیان سات سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ بعض اپنے ایک ہی پر سے پورے افق کو ڈھانپ سکتے ہیں، علاوہ ازیں ان کے جسمانی حجم کی کیفیت یہ ہے کہ بعض کا قد اس قدر طویل ہے کہ آسمان ان کی ناف سے نیچے ہیں؛ بعض ایسے ہیں جنہوں نے کسی سہارے کے بغیر زمین کے نچلے طبقے کی فضا کی گہرائی میں قدم جما رکھے ہیں اور تمام زمینیں ان کے گھٹنوں تک آتی ہیں؛ اور بعض ایسے ہیں کہ اگر تمام سمندروں کا پانی ان کے انگوٹھے کے ناخن کی پشت پر انڈیل دیا جائے تو وہ سب سما جائے؛ اور بعض وہ ہیں کہ اگر ان کی آنکھ کے آنسو میں کشتیاں ڈال دی جائیں تو وہ ابد تک تیرتی رہیں۔ «فَتَبارَکَ اللهُ أَحْسَنُ الْخالِقِینَ»۔» [7]

قرآنِ کریم میں حضرت مریم (سلام اللہ علیہا) کے بارے میں بھی وارد ہوا ہے:

«فرشتہ انسان کی صورت میں مریم کے سامنے آیا۔ مریم ڈر گئیں کہ مبادا وہ نوجوان کوئی برا ارادہ رکھتا ہو، چنانچہ انہوں نے کہا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ فرشتے نے کہا: سانچہ:قرآنی متن؛ یعنی: میں تو محض تیرے پروردگار کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں تاکہ تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔»

ملائکہ کی خصوصیات

عصمت اور امرِ الٰہی کی اطاعت

خداوندِ متعال نے قرآن میں تین مقامات پر اس بات پر زور دیا ہے کہ فرشتے اوامرِ الٰہی سے سرتابی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے، اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔[8]

تخلیقِ حضرت آدم (علیہ السلام) کے واقعے میں سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیات کے پیشِ نظر شاید یہ کہا جا سکے کہ فرشتوں کا اختیار، انبیاء اور اوصیاء کے اختیار کا ہی ایک ادنیٰ درجہ ہے؛ اگرچہ وہ گناہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، لیکن اپنی معرفت اور شناخت کی بدولت گناہ، معصیت اور لغزش سے پاک اور مبرا ہیں۔ واقعۂ تخلیق میں فرشتوں کے اعتراض کے علاوہ، بعض فرشتوں کے بارے میں تفویض کردہ ذمہ داریوں میں کوتاہی کا تذکرہ بھی ملتا ہے؛ اس سلسلے میں فطرس کے واقعے کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ فطرس وہ فرشتہ تھا جس کے پر کسی مہم میں تاخیر یا کوتاہی کے سبب ٹوٹ گئے اور اسے ایک جزیرے میں جلاوطن کر دیا گیا، اور پھر سید الشہداء (علیہ السلام) کی ولادتِ باسعادت کے بعد آپؑ کے توسل و شفاعت سے اسے اس کا سابقہ مقام اور نیا منصب عطا ہوا۔[9]

علم

ملائکہ کی ایک اہم اور نمایاں خصوصیت ان کا علم ہے۔ فرشتے انبیاء اور اوصیاء کی مانند اپنا علم لوح محفوظ سے حاصل کرتے ہیں۔[10] مجموعۂ آیات، روایات اور دینی بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو جو علم عطا کیا گیا ہے وہ متعدد امور میں عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہے، لیکن ان انبیاء کے مقابلے میں بھی جنہیں انبیائے اولوالعزم کا بلند مقام حاصل نہیں ہے اور جن کا قرآن میں عدمِ عزم کے ساتھ ذکر آیا ہے[11]، ان کی علمی وسعت اور گنجائش کم تر ہے۔

قرب اور کرامتِ الٰہی

اللہ کے حضور مقرب ہونے کا وصف تمام فرشتوں میں مشترک ہے اور ان کے مابین فرق صرف اس قرب کے درجات کا ہے۔ ملائکہ کے قربِ الٰہی کی مقدار ان کے مراتب اور ان معین فرائض کی بنیاد پر ہے جو ان کے سپرد کیے گئے ہیں۔[12]

عبادت

قرآنِ مجید کی آیات میں ملائکہ کی بیان کردہ صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تکبر اور روگردانی نہیں کرتے۔[13]

فرض شناسی

متعدد آیات اور روایات کے مطابق، ہر فرشتہ کسی خاص مقصد اور ذمہ داری کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنی پوری حیات میں اسی فریضے کی انجام دہی میں سرگرم رہتا ہے۔

ملائکہ کے پر و بال

سورۂ فاطر کی پہلی آیت میں قرآنِ مجید نے ملائکہ کو پروں والی مخلوق (اُولیٰ اَجنِحَة) کے طور پر بیان کیا ہے جن کے پروں کی تعداد مختلف ہے، جو بظاہر خود فرشتوں کے درجات اور مراتب کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔

ملائکہ کا مقام اور مسکن

یہ بات مشہور ہے کہ ملائکہ کی جائے رہائش آسمان ہے، اور مختلف سماجی طبقات میں یہ تصور عام ہے۔ تاہم ان کے سپرد کردہ ذمہ داریوں کی نوعیت کے مطابق، انہیں کائنات کے ہر گوشے میں محسوس اور مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ وہ تجرد کے حامل ہیں اور مادی جسم سے پاک ہیں، اس لیے وہ دیگر موجودات کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ یا مزاحمت کا باعث نہیں بنتے اور ان کی موجودگی کی کیفیت مادی کائنات کے مکینوں سے بالکل مختلف ہے۔

دوسرے لفظوں میں آسمان، زمین، سمندر، اور کائنات کے ظاہر و باطن میں فرشتے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ امام زین العابدین (علیہ السلام) نے صحیفۂ سجادیہ کی تیسری دعا کے ایک حصے میں فرشتوں کی مختلف اقسام کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ اس دعا میں کائنات کے اندر فرشتوں کے مختلف مناصب، ذمہ داریوں اور ان کی حیثیتوں کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

  1. لغت نامۂ دہخدا، ذیل لفظِ «ملائکہ»۔
  2. قاموسِ قرآن، ذیل لفظِ «ملک»۔
  3. المفردات فی غریب القرآن، ذیل لفظِ «ملک»۔
  4. قاموسِ قرآن، ذیل لفظِ «ملائکہ»۔
  5. سورۂ ہود (11)، آیت 69 کے بعد۔
  6. بحار الانوار، ج 56، ص 256۔
  7. الخصال، ج 2، ص 401۔
  8. سورۂ نحل (16)، آیات 49–50؛ سورۂ انبیاء (21)، آیت 26؛ سورۂ تحریم (66)، آیت 6۔
  9. امالی صدوق، ص 137؛ الخرائج و الجرائح، ج 1، ص 252؛ بحار الانوار، ج 43، ص 244۔
  10. اطیب البیان فی تفسیر القرآن، ج 1، ص 244۔
  11. سورۂ طہ (20)، آیت 115۔
  12. سورۂ انبیاء (21)، آیات 26–27۔
  13. سورۂ اعراف (7)، آیت 206۔