مرصاد آپریشن
مرصاد آپریشن اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے ایران عراق جنگ میں کیا جانے والا آخری بڑا فوجی آپریشن تھا، جو مرداد ۱۳۶۷ میں ایران کی مجاہدین خلق تنظیم کے ’’فروغ جاویدان‘‘ آپریشن کے جواب میں انجام دیا گیا۔ یہ آپریشن کرمانشاہ صوبہ میں سرپل ذهاب، کرند غرب، اسلام آباد غرب اور چہار زبر گھاٹی کے محور میں انجام پایا اور اسلامی انقلابی گارڈ کور، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج، بسیج، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ہوانیروز اور عوامی دستوں کی شرکت سے مکمل کیا گیا۔ مرصاد آپریشن کا مقصد مجاہدین خلق تنظیم کی پیش قدمی کو روکنا، زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانا اور اس تنظیم کے فوجی دستوں کو تباہ کرنا تھا۔ آپریشن کے اختتام پر حملہ آور افواج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انہوں نے ایرانی سرزمین سے پسپائی اختیار کی۔ یہ جنگ ایران عراق جنگ کی آخری اہم کارروائیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی آخری وسیع پیمانے پر کی جانے والی جنگی کارروائی کے طور پر معروف ہے۔
وقوع کے عوامل
تیر ۱۳۶۷ ش میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۵۹۸ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے قبول کیے جانے کے بعد، مجاہدین خلق تنظیم نے یہ تجزیہ کرتے ہوئے کہ قرارداد کو قبول کرنا اسلامی جمہوری نظام کی کمزوری اور ملک کی دفاعی صلاحیت میں کمی کی علامت ہے، ایک وسیع فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تنظیم کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ جنگ کے نئے حالات اور بعثی عراق کی مکمل حمایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ایک برق رفتار کارروائی کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت مجاہدین خلق تنظیم کے رہنماؤں اور عراقی حکومت کے حکام کے درمیان مشترکہ اجلاسوں میں ’’فروغ جاویدان‘‘ کے نام سے ایک فوجی منصوبہ تیار کیا گیا۔ اس آپریشن کی منصوبہ بندی عراقی فوج کی رسدی، بکتر بند، توپ خانے اور فضائی مدد کے ساتھ کی گئی تھی اور اس کا اعلان کردہ مقصد تقریباً ۳۳ گھنٹوں کے اندر تہران پہنچنا تھا۔ فروغ جاویدان آپریشن سے قبل ’’قومی آزادی کی فوج‘‘ کے نام سے معروف افواج نے سنہ ۱۳۶۷ ش میں ’’آفتاب‘‘ اور ’’چلچراغ‘‘ کے نام سے دو دیگر کارروائیاں بھی کی تھیں۔ آفتاب آپریشن فروردین ۱۳۶۷ میں شوش کے علاقے میں اور چلچراغ آپریشن اسی سال خرداد میں مہرآن کے علاقے میں انجام دیا گیا۔ تنظیم کے کمانڈروں کے نقطۂ نظر سے یہ کارروائیاں اسلامی جمہوریہ کے خلاف اصل آپریشن کے نفاذ کی تمہید سمجھی جاتی تھیں۔
فروغ جاویدان آپریشن
فروغ جاویدان آپریشن ۳ مرداد ۱۳۶۷ کو مجاہدین خلق تنظیم کے دستوں کے ایران کی مغربی سرحدوں سے گزرنے کے ساتھ شروع ہوا۔ ان دستوں نے عراقی فوج کی براہِ راست حمایت سے قصر شیرین اور سرپل ذهاب کے محور سے ایران کی سرزمین میں داخل ہوکر پاتاق درہ عبور کیا اور کرند غرب اور اسلام آباد غرب کے شہروں پر قبضہ کرلیا۔ تنظیم کا آپریشنل منصوبہ ایک مقررہ ٹائم ٹیبل کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، جس کے مطابق حملہ آور دستوں کو پانچ مراحل میں سرپل ذهاب، اسلام آباد غرب، کرمانشاہ، ہمدان اور قزوین کے شہروں سے گزرنا تھا اور آخرکار تہران میں داخل ہونا تھا۔ تنظیم کے رہنما اس آپریشن کو اسلامی جمہوریہ کی حکومت کے خاتمے اور اپنی تنظیم کو اقتدار کی منتقلی کا نقطۂ آغاز سمجھتے تھے۔ اس آپریشن کے لیے تقریباً ۲۵ جنگی بریگیڈ منظم کیے گئے تھے، جن میں کئی ہزار مسلح اہلکار شامل تھے۔ ان دستوں کے پاس انفرادی ہتھیاروں کے علاوہ بکتر بند گاڑیاں، ٹینک، بکتر بند نقل و حمل کی گاڑیاں، توپ خانہ، مارٹر اور سینکڑوں گاڑیاں اور ٹرک بھی موجود تھے، جن کا بڑا حصہ عراقی حکومت نے انہیں فراہم کیا تھا۔ ابتدائی پیش قدمی کے باوجود کرمانشاہ کے محور میں فوجی اور عوامی دستوں کی مزاحمت اور علاقے میں سپاہ، فوج اور ہوانیروز کے یونٹوں کے ارتکاز نے شہید سپہبد علی صیاد شیرازی کی کمان میں مرصاد آپریشن کے نفاذ کی راہ ہموار کی اور حملہ آور دستوں کی پیش قدمی مکمل طور پر روک دی گئی۔
حملہ آور افواج کی تعداد اور صلاحیت
ایران کی مجاہدین خلق کے دستوں نے عراق کی فوج کی وسیع حمایت پر انحصار کرتے ہوئے فروغ جاویدان آپریشن شروع کیا۔ شائع شدہ ذرائع کے مطابق، ان دستوں نے تقریباً ۲۵ جنگی بریگیڈوں کی تنظیم اور چار سے پانچ ہزار عملیاتی اہلکاروں کے ساتھ ایران کی مغربی سرحدوں سے کارروائی کا آغاز کیا۔ حملہ آور دستوں کے پاس موجود سازوسامان میں مختلف قسم کی بکتر بند گاڑیاں، ٹینک، بکتر بند نقل و حمل کی گاڑیاں، توپ خانہ، مارٹر، امدادی گاڑیاں اور انفرادی ہتھیار شامل تھے، جن کا بڑا حصہ عراقی حکومت نے فراہم کیا تھا۔ اسی طرح آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں عراقی فضائیہ نے فضائی حملے کرکے تنظیم کے بکتر بند فوجی دستوں کی پیش قدمی میں مدد فراہم کی۔