مندرجات کا رخ کریں

مکه

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 14:39، 16 مئی 2026ء از Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («‘’‘مکہ’‘’ سعودی عرب کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور صوبۂ حجاز کا حصہ ہے جو جزیرۂ عرب کے مغربی حصے میں واقع ہے<ref>فرہنگ اصطلاحات حج، ص ۱۸۷.</ref>۔ کعبہ اسی شہر میں واقع ہے اور یہ شہر آغازِ تخلیق سے ہی ایک خاص تقدس رکھتا ہے، لیکن اس کی جغرافیا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

‘’‘مکہ’‘’ سعودی عرب کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور صوبۂ حجاز کا حصہ ہے جو جزیرۂ عرب کے مغربی حصے میں واقع ہے[1]۔ کعبہ اسی شہر میں واقع ہے اور یہ شہر آغازِ تخلیق سے ہی ایک خاص تقدس رکھتا ہے، لیکن اس کی جغرافیائی تاریخ اور آبادکاری کا آغاز حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی یہاں سکونت سے ہوتا ہے۔ اسلام سے پہلے بھی کعبہ کی وجہ سے یہ شہر جزیرۂ عرب کی تجارت کا مرکز تھا[2]۔ مکہ مکرمہ کی خصوصی اہمیت صرف کعبہ کی موجودگی تک محدود نہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ رسولِ اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی بعثت اسی شہر میں ہوئی اور دینِ اسلام کا ظہور بھی یہیں سے ہوا۔

مکہ شہر اور مسجد الحرام کا جغرافیائی منظر

مکہ کا عرضِ جغرافیائی ۲۱ درجے اور ۲۵ منٹ ہے اور طولِ جغرافیائی گرینویچ سے ۳۹ درجے اور ۵۰ منٹ ہے[3]۔ یہ شہر وادیٔ ابراہیم میں واقع ہے اور ایک تنگ اور ہلالی شکل کی وادی میں واقع ہے جسے ابطح کہا جاتا ہے، اور یہ مشرق و مغرب کی جانب بلند پہاڑی سلسلوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ سطحِ سمندر سے اس کی بلندی تقریباً ۳۳۰ میٹر بیان کی گئی ہے۔ مکہ بحرِ احمر کے مشرق میں واقع ہے اور بندرگاہ جدہ سے تقریباً ۶۲ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کی حدود شمال میں مدینہ، مغرب میں جدہ، مشرق میں ریاض اور نجد، اور جنوب میں یمن اور عسیر سے ملتی ہیں[4]۔

مکہ ایک پہاڑی شہر ہے اور اس کا موسم نہایت خشک اور گرم ہے۔ گرمیوں میں درجۂ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے، تاہم رات کے وقت موسم نسبتاً بہتر ہو جاتا ہے۔ مکہ میں پانی کا اصل ذریعہ بارش ہے۔ یہاں قدرتی طور پر کوئی دریا یا بہتا ہوا چشمہ موجود نہیں، اس لیے پانی کنوؤں اور زیرِ زمین ذخائر سے نکالا جاتا ہے۔ جوں جوں حرمِ مکہ سے دور ہوتے جائیں، چشمے، کنویں، کھیت اور کھجور کے باغات زیادہ نظر آتے ہیں، اور شہر کی غذائی ضروریات زیادہ تر دیگر علاقوں سے پوری کی جاتی ہیں[5]۔

مکہ سال بھر مختلف سمتوں سے آنے والی ہواؤں کے زیرِ اثر رہتا ہے، جیسے شمال مغربی، شمال مشرقی اور جنوب مغربی ہوائیں۔ یہ ہوائیں عموماً خشک ہوتی ہیں، تاہم کبھی کبھار موسمِ سرما میں بارش کا باعث بھی بنتی ہیں[6]۔

مکہ کا نام اور شہرت

لفظ مکہ قرآن کریم میں صرف ایک مرتبہ سورۂ فتح کی آیت ۲۴ میں آیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«وَ هُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا»

یعنی: وہی ہے جس نے مکہ کے اندر تمہیں ان پر غالب کرنے کے بعد ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔

البتہ قرآن میں اس شہر کو دوسرے ناموں سے بھی چودہ آیات میں یاد کیا گیا ہے، جیسے: بکہ، اُمّ القریٰ، البلد، البلد الامین، البلدة، الحرم اور اسی طرح کے دیگر تعبیری نام جیسے: قریتک، من القریتین اور وادٍ غیر ذی زرع[7]۔

مکہ نام رکھنے کی وجہ

بعض علماء اسلام کے مطابق مکہ کا نام اس جگہ پانی کی کمی کی وجہ سے رکھا گیا۔ ان کے مطابق لغت میں آیا ہے: اِمتَکَّ الفصیلُ ضرعَ أمّه یعنی بچہ اپنی ماں کے تھن سے دودھ چوستا ہے۔ اس بنا پر لفظ مک کے معنی دودھ پینے والے بچے کے ماں کے تھن سے دودھ چوسنے کے ہیں، اور امتصاص کے معنی ہیں کسی چیز کو چوس کر اپنی طرف کھینچ لینا۔

بعض دوسرے علماء کہتے ہیں کہ مکہ اس لیے کہلاتا ہے کہ یہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے؛ یعنی تَذهبُ بها یعنی انہیں ختم کر دیتا ہے۔ یا یہ کہ یہ بدکار شخص کو اپنے سے دور کر دیتا ہے: تُخرجه منها۔ اسی طرح کہا گیا ہے کہ اسے بکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس شہر میں لوگ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں: یَدفع بعضهم بعضاً[8]۔

  1. فرہنگ اصطلاحات حج، ص ۱۸۷.
  2. سفرنامۂ ناصر خسرو، ص ۲۸۸.
  3. تعیین سمتِ قبلہ و تشخیصِ ظہرِ حقیقی مدینہ منورہ بہ اعجازِ رسول اللہ (ص)، حسن حسن زادہ آملی، نشر قیام، ۱۳۷۹، ص۷.
  4. فرہنگ اصطلاحات حج، ص ۱۸۸.
  5. آثار البلاد و اخبار العباد، ص ۱۶۳.
  6. مکہ و مدینہ؛ تصویری جائزہ برائے ترقی و جدید تعمیر، ص ۱۴۸.
  7. حج و عمرہ در قرآن و حدیث.
  8. تاریخ مکہ از آغاز تا پایان دولت شرفای مکہ، ص ۴۶.