عدل
عدل، مسلمانوں کے بنیادی اعتقادی موضوعات میں سے ایک ہے۔ قرآن کریم کی آیات میں عادل ہونا اور عدل قائم کرنا خداوند کی ایک مثبت صفت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ یعنی قرآن میں صرف خداوند کو ظلم و ستم سے منزّہ قرار دینے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ براہِ راست خداوند کے لیے صفتِ عدالت کو بھی ثابت کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: «شهدالله انه لا اله الا هو والملائکة واولوالعلم قائما بالقسط؛ اللہ، فرشتے اور علم رکھنے والے گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عدل کو قائم رکھنے والا ہے»۔[1] لہٰذا اسلام کی نظر میں عدلِ الٰہی ایک حقیقی امر ہے اور عدالت ان صفات میں سے ہے جن سے یقیناً خداوند کو متصف کرنا چاہیے۔
عدل کے معانی
عربی لغات میں لفظ عدل کے لیے مختلف معانی اور استعمالات ذکر کیے گئے ہیں، جن میں اہم ترین یہ ہیں: توازن اور تناسب، مساوات اور برابری، اعتدال یا امور میں درمیانی حد کی رعایت، اور استواری و استقامت۔[2][3][4][5][6] ان تمام معانی کا جامع مفہوم یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے، اس طرح کہ وہ اپنے وجود اور کمالات میں سے اپنا مناسب اور شایستہ حصہ حاصل کرے اور دوسروں کے حق میں تجاوز نہ کرے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ امام علی (علیہالسلام) کا یہ قول کہ: «العدل یضع الامور مواضعها»[7] اس بارے میں نہایت دقیق تعبیر ہے۔ اسی طرح فلاسفہ کی یہ عبارت بھی: «وضع کل شیء فی موضعه و اعطاء کل ذی حق حقه»[8] اسی معنی کو بیان کرتی ہے۔
مولوی نے اسی مفہوم کو نظم کی صورت میں اور تمثیل کے ذریعے یوں بیان کیا ہے: عدل کیا ہے؟ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنا ظلم کیا ہے؟ کسی چیز کو نامناسب جگہ رکھنا
عدل کیا ہے؟ درختوں کو پانی دینا ظلم کیا ہے؟ کانٹوں کو پانی دینا[9]
حکمت لغت اور اصطلاح میں
لفظ حکمت کے لغوی استعمالات میں استواری اور نقص، خلل اور فساد سے روکنا مراد لیا جاتا ہے۔ چنانچہ گھوڑے کی لگام کو «حکمہ» کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ گھوڑے کو سرکشی اور بے ترتیب حرکتوں سے روکتی ہے۔ شارع کو اس لیے مولیٰ اور حاکم کہا جاتا ہے کہ وہ مکلف کو ناپسندیدہ اعمال سے روکتا ہے۔ قاضی کو اس لیے حاکم کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے حقوق کے ضائع ہونے اور دوسروں کے حقوق پر تعدی کو روکتا ہے۔ علمی تصدیق کو حکم اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ذہن کے شک اور تردید کو دور کر دیتی ہے۔ جب کوئی چیز استواری اور مضبوطی رکھتی ہو تو وہ اختلال سے محفوظ رہتی ہے۔
لہٰذا لفظ حکمت خلل سے محفوظ ہونے، استواری اور استحکام کے ساتھ ملازم ہے، چاہے اس کا تعلق علم سے ہو یا عمل سے۔[10][11][12]
اسلامی حکما کی نظر میں عدلِ الٰہی
مسلم حکما کے نزدیک عدلِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ خداوند موجودات کو وجود اور کمال عطا کرتے وقت ان کی قابلیت اور لیاقت کو نظرانداز نہیں کرتا۔ تناسب اور ہم آہنگی نظامِ آفرینش کی خصوصیات میں سے ہیں۔ اس نظام میں مظاہر کے درمیان توازن اور تناسب ملحوظ رکھا گیا ہے۔ عدل کا معنی محض برابری نہیں ہے۔ دنیا کے مظاہر کے درمیان حکمتِ الٰہی کی بنیاد پر کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں جو برابری کی نشاندہی نہیں کرتے، مگر وہ عادلانہ ہیں۔
علامہ طباطبائی کا نظریہ
علامہ طباطبائی نے حقیقتِ عدل کی تحلیل کرتے ہوئے فرمایا: حقیقتِ عدل یہ ہے: «اقامة المساواة و الموازنة بین الامور بان یعطی کل من السهم ما ینبغی ان یعطاه. فیتساوی فی ان کلا منها واقع فی موضعه الذی یستحقه؛[13] عدل کی حقیقت یہ ہے کہ امور کے درمیان مساوات اور توازن قائم کیا جائے، اس طرح کہ ہر ایک کو اس کا مناسب حصہ دیا جائے۔ نتیجتاً سب اس لحاظ سے برابر ہوتے ہیں کہ ہر ایک اپنے شایستہ مقام پر واقع ہوتا ہے۔»
پھر مزید فرماتے ہیں: «جو کچھ بیان ہوا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ عدل حسن کے ساتھ ملازم ہے، کیونکہ امور میں حسن و زیبائی اس میں ہے کہ ہر چیز ایسی ہو جسے انسانی نفس پسند کرے اور اس کی طرف مائل ہو۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا اپنے مناسب مقام پر قرار پانا اسی قسم کی زیبائی کو لازم قرار دیتا ہے۔»[14]
استاد مطہری کا نظریہ
استاد مطہری عدل کے مختلف معانی بیان کرنے کے بعد اس کے کلامی مفہوم کو یوں بیان کرتے ہیں: «وجود عطا کرنے میں استحقاق کا لحاظ رکھنا اور جس چیز میں وجود یا کمالِ وجود کی قابلیت ہو اسے فیض اور رحمت سے محروم نہ کرنا۔»[15]
دیگر متکلمینِ عدلیہ نے بھی عدل کی اصطلاحی تعریف میں اسی قسم کے تعبیرات استعمال کیے ہیں۔[16]
متکلمین کی اصطلاح میں عدل
علم کلام میں عدل کا موضوع خداوند کا فعل ہے اور اس کی حقیقت حسن اور نیکی ہے۔ یعنی خداوند کے تمام افعال حسن اور پسندیدہ ہیں، اور خداوند کبھی کوئی قبیح یا ناپسندیدہ فعل انجام نہیں دیتا اور جو چیز واجب اور نیک ہو اسے ترک نہیں کرتا۔ اس سلسلے میں بعض متکلمین کے اقوال ذکر کیے جاتے ہیں:
قاضی عبدالجبار کا نظریہ
معتزلی عالم قاضی عبدالجبار (متوفی ۴۱۵ھ) کہتے ہیں: «جب ہم خداوند کو عدل اور حکمت سے متصف کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ خداوند کوئی قبیح فعل انجام نہیں دیتا، نہ ہی اسے اختیار کرتا ہے، اور جو چیز اس پر واجب ہو اسے ترک نہیں کرتا، اور اس کے تمام افعال حسن ہیں۔» (نحن اذا وصفنا القدیم تعالی بانه عدل حکیم، فالمراد به انه لایفعل القبیح، او لا یختاره، و لا یخل بما هو واجب علیه، و ان افعاله کلها حسنة.)[17]
- ↑ آل عمران/سورہ۳، آیت۱۸.
- ↑ معجم مقاییس اللغة، ابن فارس، ج ۴، ص ۲۴۶.
- ↑ شرتونی، سعید، اقرب الموارد، ج۲، ص۷۵۳.
- ↑ شرتونی، سعید، اقرب الموارد، ج۳، ص۴۹۴.
- ↑ فیومی، احمد بن محمد، المصباح المنیر، ص۵۱-۵۲.
- ↑ راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص۳۲۵.
- ↑ دشتی، محمد، نہج البلاغہ، ج۱، ص۳۸۲، حکمت ۴۳۷.
- ↑ حکیم سبزواری، ملا ہادی، شرح الاسماء الحسنی، ص۵۴.
- ↑ مثنوی معنوی، ص۱۱۶۹، چاپ نہم، دفتر ششم.
- ↑ فیومی، احمد بن محمد، المصباح المنیر، ج۱، ص۱۷۸.
- ↑ راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص۱۳۶.
- ↑ طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ج۷، ص۲۵۴.
- ↑ طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ج۱۲، ص۳۳۱.
- ↑ طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ج۱۲، ص۳۳۱.
- ↑ مطہری، مرتضیٰ، مجموعہ آثار، ج۱، ص۸۱-۸۲.
- ↑ عقائد استدلالی (۱)، ص۱۶۶.
- ↑ معتزلی، عبدالجبار بن احمد، شرح الاصول الخمسة، ص۲۰۳.