توریت(تورات)
تورات ایک معرّب لفظ ہے جو عبرانی لفظ تورا سے ماخوذ ہے۔ [1] یہودی اس لفظ کو ناموس یا شریعت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا اصل اور دقیق مفہوم تعلیم یا ہدایت ہے۔ [2] بعض بصری اور کوفی اہلِ لغت کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ علماء اسے اصل میں عربی لفظ بھی سمجھتے تھے۔
کلیات تورات
تورات بائبل یا کتاب مقدس کے پہلے پانچ اسفار کا نام ہے۔ ان کتابوں کو اسفار خمسہ کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ لفظ توسعاً پورے عہد قدیم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
قاموس کتاب مقدس میں پنج سفر موسیٰ کے تحت ذکر کیا گیا ہے کہ یہ وہ پانچ کتابیں ہیں جو عہد قدیم کے ابتدائی حصے میں واقع ہیں۔ یہودیوں اور مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق یہ کتاب کوہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر عبرانی زبان میں الواح کی صورت میں نازل ہوئی۔
یہ پانچ کتابیں درج ذیل ہیں۔
سفر پیدائش (تکوین)
اس کتاب میں تخلیق کائنات سے لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں تخلیق عالم، انسان کی نسل، حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی نسل، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خدا کے عہد کا ذکر موجود ہے۔
سفر خروج
اس کتاب میں بنی اسرائیل کے مصر سے خروج، غلامی سے نجات، اور کوہ سینا پر شریعت کے نزول کا بیان ہے۔ اسی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے گئے دس احکام کا ذکر ملتا ہے۔ [3]
سفر لاویان
اس کتاب میں سبط لاوی سے متعلق مذہبی قوانین، عبادات، قربانی کے احکام، کاہنوں کی تقدیس، طہارت اور نجاست کے قوانین، اور مذہبی اعیاد کا بیان موجود ہے۔
سفر اعداد
اس کتاب میں بنی اسرائیل کے چالیس سالہ صحرائی سفر، کنعان کی سرزمین کی طرف پیش قدمی، اور حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
سفر تثنیہ
یہ کتاب سابقہ شرعی احکام کا خلاصہ اور تکرار پیش کرتی ہے، اسی وجہ سے اسے تکرار تورات کہا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ پانچوں اسفار شریعت موسوی کے بنیادی نظام کو واضح کرتے ہیں۔
تورات کی نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف
یہودیت اور مسیحیت میں تورات کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم وہ اسے لفظ بہ لفظ وحی نہیں سمجھتے بلکہ الہامی تعلیمات کا مجموعہ قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اصل تورات اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی تھی، جس طرح قرآن مجید۔
متن شناسی تورات
جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسفار خمسہ میں اسلوب اور الفاظ کے لحاظ سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر ایسے اشخاص اور واقعات کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس بنا پر بعض محققین نے تورات کی براہ راست نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔ [4]
کچھ محققین کے مطابق تورات کے بعض حصوں کی تالیف دسویں صدی قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ [5]
قرآن میں تورات
قرآن مجید میں تورات کا ذکر دو انداز میں آیا ہے۔ ایک وہ الواح جنہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیا گیا، اور دوسرا لفظ تورات بطور کتاب شریعت۔
یہودی تفاسیر کے مطابق الواح میں دس بنیادی اخلاقی احکام درج تھے، جبکہ موجودہ تورات میں ان احکام کے ساتھ دیگر تاریخی اور قانونی روایات بھی شامل ہیں۔ تلمود دراصل تورات کی تشریحی روایت ہے۔
نسخ موجودہ تورات
خزائلی کے مطابق موجودہ زمانے میں تورات کے تین مشہور نسخے ہیں۔ [6]
- تورات عبری
- تورات سامری
- تورات یونانی یا سبعینی
ترجمہ سبعینی
یہ ترجمہ 72 یہودی علماء نے اسکندریہ میں بطلیموس فیلادلفوس کی سرپرستی میں تقریباً 285 قبل مسیح میں تیار کیا۔ [7] بعد میں اسی یونانی متن سے لاطینی ترجمہ بھی کیا گیا۔
دیگر تراجم
تورات کے ارمنی، حبشی، لاطینی، عربی اور فارسی تراجم بھی مختلف ادوار میں کیے گئے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں بعض یہودی علماء جو مسلمان ہوگئے تھے، جیسے وہب بن منبہ، عبداللہ بن سلام اور کعب الاحبار، انہوں نے توراتی روایات نقل کیں جنہیں اسرائیلیات کہا جاتا ہے۔
دیگر نام
یہودی اپنی مقدس کتابوں کے مجموعے کو تنخ کہتے ہیں جس میں تورات، نبیئیم اور کتوبیم شامل ہیں۔ مسیحی روایت میں کتاب مقدس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
- عہد قدیم
- عہد جدید
مطالب محل اعتراض
تورات کے بعض مقامات میں ایسے بیانات موجود ہیں جنہیں مسلمان علماء انبیاء کے مقام کے خلاف سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیدائش باب 3 میں خدا کے باغ میں چلنے کا بیان، خروج باب 32 میں گوسالہ سازی کی نسبت حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف، پیدائش باب 32 میں حضرت یعقوب علیہ السلام سے کشتی کا واقعہ، اور پیدائش باب 19 میں حضرت لوط علیہ السلام سے متعلق بیان۔
اسی طرح تثنیہ باب 34 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور تدفین کا ذکر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حصہ بعد میں تحریر کیا گیا ہوگا۔
المیزان فی تفسیر القرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ بخت نصر کے حملے کے دوران تورات ضائع ہوگئی تھی اور بعد میں حضرت عزیر علیہ السلام نے اسے دوبارہ جمع کیا۔ [8]
قاموس کتاب مقدس کے مطابق موجودہ بائبل تقریباً 39 مصنفین نے تقریباً 1500 سال کے عرصے میں مرتب کی۔
حوالہ جات
- ↑ وہ لفظ جسے عربی قالب یا ساخت دی گئی ہو۔
- ↑ Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 1001
- ↑ دکالوگ موسیٰ علیہ السلام
- ↑ Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 772
- ↑ Encyclopaedia Britannica، مقالہ Biblical Literature، طبع 1990، جلد 14، صفحہ 773
- ↑ اعلام قرآن، صفحہ 264
- ↑ اعلام قرآن، صفحہ 266
- ↑ المیزان فی تفسیر القرآن، جلد 3، صفحہ 339