ترکی
ترکی اسلامی ممالک میں سے ایک اہم ملک ہے جس میں سیاسی، سماجی اور مذہبی تحریکوں کا خاص اثر رہا ہے۔ یہ ملک مشرق وسطیٰ میں بحیرۂ روم کے مشرقی حصے میں واقع ہے اور جغرافیائی لحاظ سے بلقان اور قفقاز کے سنگم پر واقع ہے۔
ترکی ایک منفرد جغرافیائی حیثیت رکھنے والا ملک ہے کیونکہ اس کا ایک حصہ ایشیا میں اور دوسرا حصہ یورپ میں واقع ہے۔ اس لحاظ سے اسے ایک یوریشیائی ملک کہا جاتا ہے۔ ملک کا بڑا حصہ یعنی اناطولیہ (یا ایشیائے کوچک) شمال مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں واقع ہے جبکہ ایک چھوٹا حصہ تھریس کے نام سے بلقان (جنوب مشرقی یورپ) میں واقع ہے۔
ترکی کے شمال میں بحیرہ اسود، شمال مشرق میں جارجیا اور آرمینیا، مشرق میں آذربائیجان اور ایران، جنوب مشرق میں عراق اور شام جبکہ جنوب مغرب اور مغرب میں بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن واقع ہیں۔ ترکی کا دارالحکومت انقرہ ہے۔
دو اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہیں باسفورس اور داردانیلز بھی ترکی کے اختیار میں ہیں۔ ترکی کا رقبہ تقریباً 783,356 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ملک زیادہ تر پہاڑی ہے اور نسبتاً بارش بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جغرافیائی طور پر اس کی شکل مشرق سے مغرب تک پھیلے ہوئے مستطیل کی مانند ہے۔
ترکی دنیا کے انتہائی حساس خطوں میں واقع ہونے کی وجہ سے اہم جغرافیائی اور اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے اور شمال مغربی ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک پل اور راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت سے ممالک خصوصاً ایران اپنی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ترکی کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
ترکی اپنی خوشگوار آب و ہوا اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
ترکی کی آبادی تقریباً 84 ملین (2020ء) ہے۔[1] ان میں تقریباً 75 سے 85 فیصد اہل سنت جبکہ 15 سے 25 فیصد علوی ہیں۔
نسلی ترکیب کے اعتبار سے تقریباً:
- 70 تا 75 فیصد ترک
- 18 فیصد کرد
- 7 تا 12 فیصد دیگر قومیتیں
ترکی کی سرکاری زبان ترکی (استانبولی) ہے۔ ماضی میں یہ زبان عربی رسم الخط (عثمانی) میں لکھی جاتی تھی، لیکن 1923 میں جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی اصلاحات کے نتیجے میں 1928 میں لاطینی رسم الخط اختیار کیا گیا۔
ماضی میں سلطنت عثمانیہ کے نام سے ترکی کئی صدیوں تک مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی یورپ کے وسیع علاقوں پر حکمران رہا۔
ترکی کے بڑے شہر
ترکی کے بڑے شہروں میں درج ذیل شہر شامل ہیں:
یہ شہر جدید تجارتی مراکز، صنعتی علاقوں اور قومی پارکوں پر مشتمل ہیں۔
ترکی کی آبادی
2020ء کی مردم شماری کے مطابق ترکی کی آبادی تقریباً 84 ملین ہے۔
مذہبی تقسیم:
ترکی ایک سیکولر ریاست ہے، تاہم عوام کی بڑی اکثریت مسلمان ہے۔
ترکی کی زبان
ترکی زبان ترک زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسے دنیا کی قدیم زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس زبان کی مختلف شاخیں درج ذیل ہیں:
1. وسطی ایشیائی شاخ 2. جنوب مغربی شاخ 3. شمال مغربی شاخ 4. جنوبی سائبیریا کی شاخ 5. شمالی سائبیریا کی شاخ
ترکی زبان میں عربی اور فارسی کے بہت سے الفاظ شامل ہوئے، خاص طور پر عثمانی دور میں۔[2]
حکومت اور سیاسی نظام
حکومت
ترکی کے آئین کی پہلی دفعہ کے مطابق ریاست کی نوعیت جمہوری ہے۔ آئین کی دوسری دفعہ کے مطابق یہ ایک سیکولر، جمہوری اور سماجی ریاست ہے۔
2017ء کے آئینی ریفرنڈم اور 2018ء کے انتخابات کے بعد ترکی کا نظام پارلیمانی سے صدارتی نظام میں تبدیل ہو گیا۔
انتظامیہ
انتظامی اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں جو عوام کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔
مقننہ
قانون سازی کا ادارہ ترکی کی عظیم قومی اسمبلی ہے جس میں 600 ارکان ہوتے ہیں۔
عدلیہ
ترکی میں عدلیہ کو آئینی طور پر آزادی حاصل ہے اور عدالتیں آئین کی دفعہ 138 کے مطابق آزادانہ فیصلے کرتی ہیں۔