یہ ایرانی قوم کی آواز ہے(نوٹس)
یہ ایرانی قوم کی آواز ہے تہران کے پرشکوہ اور تاریخ ساز دن کم نہیں رہے ہیں۔ ایسے دن جب لوگوں نے محسوس کیا کہ ضروری ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، اپنی موجودگی سے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں اور غفلت میں مبتلا لوگوں کو بیدار کر دیں۔ تاہم 12 جنوری کی شام کو تہران میں جو کچھ ہوا وہ ماضی کے یادگار تاریخی کارناموں سے کہیں بڑھ کر اور اگر ایک لفظ میں کہا جائے ایک بے مثال "یوم اللہ" تھا۔ وہ لوگ، جن کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں اپنے ملک کا مقدس پرچم تھا، اس بڑے شہر کے ہر کوچہ و بازار سے نکلے اور شہر کے مرکز میں انسانی سیلاب میں بدل گئے، ایسا سیلاب جس نے گردوغبار کو بٹھا دیا اور دلوں کو پرسکون کر دیا۔
تاریخی اور بے نظیر موجودگی
یہ تاریخی اور بے نظیر موجودگی صرف دارالحکومت تک محدود نہیں تھی بلکہ دسیوں لاکھ افراد پر مشتمل ایران کے باشرف اور عزیز عوام نے سیکڑوں چھوٹے بڑے شہروں میں بھی میدان میں آ کر یہ کہا کہ: "یہ ایرانی قوم کی آواز ہے"، ایک بلند آواز جس کے تین مخاطَب تھے:
پہلا مخاطَب
پہلا مخاطَب وہ دہشت گرد تھے جنھوں نے گزشتہ کچھ دنوں میں ملک میں پیدا ہونے والے ماحول اور کچھ اجتماعات کا غلط فائدہ اٹھا کر احتجاج کو تخریب کاری میں اور تخریب کاری کو دہشت گردی میں تبدیل کر دیا۔ اس دوران انھوں نے کون سا جرم تھا جو نہیں کیا۔
12 جنوری کے ایرانی عوام کے کارنامے کا پیغام ان داعشی دہشت گردوں کے لیے واضح اور روشن تھا: قوم کی سلامتی کے محافظ اس قوم کی حمایت سے تمھیں تمھاری اوقات یاد دلا دیں گے۔ ان داخلی دہشت گردوں اور ان کے غدار اور غیر ملکی ساتھیوں کی حقیقت، جو عوام کے دکھوں اور مشکلات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، آج پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گئی ہے۔
دوسرا مخاطَب
دوسرا مخاطَب جو پہلے گروہ سے زیادہ اہم ہے، وہ ان دہشت گردوں کے غیر ملکی آقا ہیں۔ وہی امریکا اور صہیونی حکومت، جو سات ماہ پہلے براہ راست میدان میں آئے تھے اور ایران سے تھپڑ کھایا تھا۔ اس بار انھوں نے اپنے ایجنٹوں اور زرخریدوں کو میدان میں بھیجا ہے تاکہ کوئی اس دوسری سازش کے ذریعے اپنے منحوس اہداف حاصل کر سکیں جو ایران پر تسلط اور اس کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ سے لے کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے تک سے عبارت ہے۔
ایرانی عوام نے اس فتنے کے اصلی غیر ملکی ہدایت کاروں کو یہ سمجھا دیا ہے کہ تمام تر اختلاف رائے اور جائز شکایات کے باوجود، اہم معرکوں میں وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور نہ تو دھمکیوں سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ ہی خیالی وعدوں کے جھانسے میں آتے ہیں۔
اس پرتلاطم قومی سیلاب کا تیسرا مخاطَب ملک کے ذمہ داران ہیں۔ کسی بھی عہدے اور منصب پر موجود ذمہ داروں کو اس عظیم اور باشرف قوم کی دشمن کو کچلنے والی موجودگی کا قدرداں ہونا چاہیے اور عالمانہ مینیجمنٹ اور جہادی کوشش کے ذریعے ان کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔
بارہ جنوری کا عظیم کارنامہ، حضرت موسیٰ کے عصا کی طرح تھا جس نے جادوگروں کے جادو کو نگل لیا تھا اور فرعون اور اس کے کارندوں کو پاگل پن کی حد تک چراغ پا کر دیا۔ یہ عظیم کارنامہ، رہبر انقلاب کے اس جملے کے صرف تین دن بعد رونما ہوا: "ان شاء اللہ جلد ہی خداوند عالم سبھی ایرانی عوام کے دلوں میں فتح کا احساس پیدا کر دے[1]
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ یہ ایرانی قوم کی آواز ہے- شائع شدہ از: 15 جنوری 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جنوری 2026ء