مندرجات کا رخ کریں

"بین الاقوامی مالیاتی فنڈ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
ٹیگ: ردِّ ترمیم
سطر 178: سطر 178:
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
[[fa:صندوق بین‌المللی پول]]
[[fa:صندوق بین‌المللی پول]]
[[زمرہ:بین الاقوامی تنظیمیں]]

نسخہ بمطابق 17:16، 20 ستمبر 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ
اسمبین الاقوامی مالیاتی فنڈ
اراکین کی تعداد۴۴ ممالک
اهدافبین الاقوامی مالیاتی تعاون کو فروغ دینا، بین الاقوامی تجارت اور اقتصادی ترقی کی توسیع کی حوصلہ افزائی کرنا،ایسی پالیسیوں کی روک تھام کرنا جو اقتصادی خوشحالی اور ترقی کو نقصان پہنچاتی ہیں ، فنڈ ان مقاصد کے حصول کے لیے رکن ممالک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ،(انگریزی: International Monetary Fund، مخفف: IMF) اہم بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں سے ایک اور اقوام متحدہ سے وابستہ اداروں میں سے ایک ہے، جس کا صدر دفتر واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو مضبوط بنانے، مالیاتی استحکام برقرار رکھنے، بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانے، پائیدار اقتصادی ترقی میں مدد، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی کے مقصد سے کام کرتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ رکن ممالک کی اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے مالیاتی استحکام، مالیاتی تعاون، پیداوار میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی بہبود کے فروغ کے لیے کوشش کرتا ہے۔

تاریخ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قیام کا تصور جولائی ۱۹۴۴ء میں برٹن وڈز کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔ اس کانفرنس میں اتحادی ممالک کے ۴۴ ممالک کے نمائندے ایک نئے اقتصادی نظام کی تشکیل اور ان اقتصادی و مالیاتی بحرانوں کی تکرار کو روکنے کے مقصد سے جمع ہوئے جو عظیم کساد بازاری اور دوسری جنگ عظیم تک منتج ہوئے تھے۔

برٹن وڈز نظام بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور امریکی ڈالر سے منسلک شرح تبادلہ کے نظام کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا تھا۔ اسی تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے لیے تین بنیادی ذمہ داریاں مقرر کی گئیں: بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو فروغ دینا، تجارت کی توسیع اور اقتصادی ترقی کی حمایت کرنا اور ایسی پالیسیوں کی روک تھام کرنا جو اقتصادی ترقی اور خوشحالی کو نقصان پہنچاتی ہوں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ۱۹۴۵ء میں قائم ہوا اور اس کی باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز مارچ ۱۹۴۷ء میں ہوا۔

تاریخی تحولات اور سرگرمیاں

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے لیے بین الاقوامی بحرانوں کے انتظام کے حوالے سے ابتدائی اہم آزمائشوں میں سے ایک بحران سوئز کے دوران پیش آئی۔ اس دور میں فنڈ نے مصرفرانس]برطانیہ، صہیونی حکومت کو قرض فراہم کیا۔

سوویت یونین کے ۱۹۹۱ء میں انہدام کے بعد سابق کمیونسٹ ممالک میں سے تقریباً ۲۰ ممالک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں شامل ہوئے۔ ان ممالک نے مرکزی اور منصوبہ بند معیشتوں سے مارکیٹ پر مبنی معیشتوں کی جانب منتقلی کے عمل میں فنڈ کی پالیسی مشاورت، فنی معاونت اور مالی تعاون سے استفادہ کیا۔

۱۹۹۶ء میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک نے مقروض غریب ممالک کی مدد کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق ۲۰۱۷ء تک ۳۶ ممالک کے قرضوں میں کمی کی مجموعی مالیت تقریباً ۷۷ ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

۱۹۹۷ء میں جنوب مشرقی ایشیا کا مالیاتی بحران تھائی لینڈ کی کرنسی باہت کی قدر میں کمی کے ساتھ شروع ہوا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے تھائی لینڈ کے لیے ۱۷ ارب ڈالر کا پروگرام اور اس کے بعد انڈونیشیا کے لیے ۲۳ ارب ڈالر اور جنوبی کوریا کے لیے ۵۷ ارب ڈالر کے مالیاتی پیکیجز مختص کیے۔ بعد ازاں یہ بحران روس تک بھی پھیل گیا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور بین الاقوامی قرض دہندگان نے روس کے اقتصادی استحکام کی حمایت کے لیے تقریباً ۲۲٫۶ ارب ڈالر مختص کیے۔

۱۹۹۹ء میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک نے ایشیائی مالیاتی بحران کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے مالیاتی شعبے کی تشخیصی پروگرام (FSAP) قائم کیا، جس کا مقصد رکن ممالک کے مالیاتی نظاموں کی لچک اور استحکام کا جائزہ لینا تھا۔

عالمی مالیاتی بحران

ستمبر ۲۰۰۸ء میں سرمایہ کاری بینک لیمن برادرز کے انہدام کے بعد عالمی مالیاتی بحران پھیل گیا۔ ماخذ میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بحران کے آغاز کے بعد تقریباً ایک دہائی کے دوران ۹۰ ممالک کو تقریباً ۵۰۰ ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کی اور عالمی مالیاتی نظام میں تقریباً ۲۵۰ ارب ڈالر کی مالی معاونت کے ذریعے شدید تر اقتصادی کساد سے بچاؤ میں کردار ادا کیا۔

نومبر ۲۰۰۸ء میں گروپ ۲۰ کے رہنماؤں نے عالمی مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی بنیاد فراہم کی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بعد کے برسوں میں مالیاتی اداروں کی نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے معیارات مرتب کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کیا، جبکہ گروپ ۲۰ کے ممالک نے فنڈ کی جانب سے کیے جانے والے لازمی جائزوں سے اتفاق کیا۔

۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۳ء کے درمیان یورپ میں قرضوں کا بحران اور بعض ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے یورپی مرکزی بینک اور یورپی کمیشن کے ساتھ مل کر قبرص ، یونان، آئرلینڈ اور پرتگال کو ہنگامی مالی امداد فراہم کرنے میں حصہ لیا۔

۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۴ء کے دوران بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کے اقتصادی استحکام میں مدد کے لیے تقریباً ۳۷ ارب ڈالر کے قرضے فراہم کیے اور ٹیکس نظام، مالیاتی پالیسی اور سرکاری مالیات کے شعبوں میں فنی معاونت بھی فراہم کی۔

۲۰۲۰ء کی دہائی کے آغاز میں کووڈ ۱۹ کی عالمی وبا کے پھیلنے کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رکن ممالک کی حمایت اور وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اقتصادی کساد کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف مالیاتی اور امدادی پروگرام نافذ کیے۔

شرائط رکنیت

ہر ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رکنیت کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ فنڈ کی سرگرمیوں کے ابتدائی برسوں میں رکنیت کی شرائط نسبتاً آسان تھیں لیکن بعد کے ادوار میں رکن ممالک اور بالخصوص مالی امداد حاصل کرنے کے خواہش مند ممالک کے لیے مزید تقاضے اور ضوابط وضع کیے گئے۔

وہ ممالک جو ۱۹۴۵ سے ۱۹۷۱ تک کے عرصے میں فنڈ میں شامل ہوئے انہوں نے برٹن وڈز کے مالیاتی نظام کے تحت اپنی شرح مبادلہ کو برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا اور شرح مبادلہ میں تبدیلی صرف ادائیگیوں کے توازن میں بنیادی عدم توازن کی صورت میں اور فنڈ کی منظوری سے ممکن تھی۔

مقاصد

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تین بنیادی مقاصد ہیں:

  • بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو فروغ دینا
  • بین الاقوامی تجارت اور اقتصادی ترقی کی توسیع کی حوصلہ افزائی کرنا
  • ایسی پالیسیوں کی روک تھام کرنا جو اقتصادی خوشحالی اور ترقی کو نقصان پہنچاتی ہیں
  • فنڈ ان مقاصد کے حصول کے لیے رکن ممالک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

فرائض اور اقدامات

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ رکن ممالک کے مالیاتی اور اقتصادی استحکام کی حمایت کے لیے بنیادی طور پر تین شعبوں میں سرگرم عمل ہے۔

پالیسی مشاورت

فنڈ کے بنیادی فرائض میں سے ایک رکن ممالک کی اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی نگرانی اور پالیسی سے متعلق سفارشات پیش کرنا ہے۔

یہ سرگرمی عالمی علاقائی اور ملکی سطح پر انجام دی جاتی ہے اور فنڈ ممکنہ اقتصادی خطرات کی نشاندہی کرنے اور اقتصادی ترقی اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب پالیسیوں کی تجویز دینے کی کوشش کرتا ہے۔

مالی امداد

ترقیاتی بینکوں کے برعکس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ عموماً مخصوص منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے قرض فراہم نہیں کرتا بلکہ ان ممالک کی مدد کرتا ہے جو اقتصادی اور مالیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہوں تاکہ اصلاحی پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے اپنے اقتصادی استحکام اور ترقی کو بحال کر سکیں۔

فنڈ کے پاس ایسے احتیاطی طریقہ کار بھی موجود ہیں جن کے ذریعے ممالک کو بحران پیدا ہونے سے پہلے مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

فنڈ کے قرض دینے کی شرائط اور مالیاتی ذرائع رکن ممالک کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق اصلاح اور نظر ثانی کیے جاتے ہیں۔

صلاحیت سازی

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ فنی معاونت اور تربیت فراہم کرکے رکن ممالک کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے۔

ان اقدامات میں ٹیکسوں کی وصولی سرکاری مالیات مالیاتی پالیسی شرح مبادلہ کی پالیسی قانونی نظام اور اقتصادی اعداد و شمار کی تیاری اور اشاعت جیسے شعبے شامل ہیں۔

تنظیمی ڈھانچہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تنظیمی ڈھانچے میں سب سے اعلی ادارہ بورڈ آف گورنرز ہے۔

یہ بورڈ ہر رکن ملک کے ایک گورنر اور ایک متبادل گورنر پر مشتمل ہوتا ہے جو عموماً ممالک کے مرکزی بینک یا وزارت خزانہ کے اعلی حکام میں سے منتخب کیے جاتے ہیں۔

بورڈ آف گورنرز عموماً بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے مشترکہ اجلاس میں سالانہ اجلاس منعقد کرتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی اور مالیاتی کمیٹی جسے آئی ایم ایف سی کہا جاتا ہے ۲۴ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کو مشورہ دیتی ہے۔

فنڈ کے روزمرہ امور کی ذمہ داری ایگزیکٹو بورڈ پر ہوتی ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر فنڈ کے عملے کے سربراہ اور ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین بھی ہوتے ہیں اور نائب سربراہان ادارے کے انتظام و انصرام میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تنظیمی ڈھانچے میں درج ذیل ارکان شامل ہیں:

  • بورڈ آف گورنرز
  • وزارتی کمیٹیاں
  • ایگزیکٹو بورڈ
  • بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی انتظامیہ
  • بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ارکان

ایران اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ

ایران ان ۴۴ ممالک میں شامل تھا جنہوں نے برٹن وڈز کانفرنس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قیام کے عمل میں شرکت کی۔

فنڈ میں ایران کا ابتدائی کوٹہ ۲۵ ملین ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔ ایران ۲۹ دسمبر ۱۹۴۵ کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں شامل ہوا۔ استعمال کیے گئے ماخذ کی معلومات کے مطابق ایران نے دو ادوار میں فنڈ کے مالی وسائل سے استفادہ کیا۔

پہلا معاہدہ ۱۸ مئی ۱۹۵۶ کو ہوا اور فنڈ نے ایران کے لیے ۱۷ اعشاریہ ۵۰ ملین خصوصی حقوق برداشت یعنی ایس ڈی آر کے برابر قرض کی منظوری دی اور ایران نے اس پوری رقم سے استفادہ کیا۔

دوسرا معاہدہ ۱۰ اکتوبر ۱۹۶۰ کو ہوا اور منظور شدہ رقم ۳۵ ملین ایس ڈی آر تھی تاہم ایران نے اس رقم میں سے صرف ۲۲ اعشاریہ ۵۰ ملین ایس ڈی آر حاصل کیے۔

اسی ماخذ کے مطابق مضمون کی اشاعت کے وقت ایران کے ذمے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا کوئی بقایا قرض یا زیر التوا خریداری موجود نہیں تھی۔

ایران کی معیشت سے متعلق فنڈ کی رپورٹس میں بینکوں کی ساختی اصلاحات اقتصادی پالیسیوں اور ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے جیسے موضوعات پر بھی توجہ دی گئی ہے

ووٹ کا اختیار اور ممالک کا کوٹہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے رکن ممالک کے ووٹ کا اختیار یکساں نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار فنڈ میں ہر ملک کے کوٹے پر ہوتا ہے۔

ماخذ میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق متعلقہ دور میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے پاس تقریباً ۱۶ اعشاریہ ۵۱ فیصد ووٹنگ پاور جبکہ ایران کے پاس تقریباً ۰ اعشاریہ ۷۴ فیصد ووٹنگ پاور تھی۔

بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کی زیادہ ووٹنگ پاور کے باعث فنڈ کے فیصلوں میں ان ممالک کا کردار زیادہ ہوتا ہے

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور غیر قانونی مالیاتی بہاؤ

غیر قانونی مالیاتی بہاؤ سے مراد بین الاقوامی سرحدوں کے پار مالی وسائل کی ایسی منتقلی ہے جس کا ذریعہ منتقلی یا استعمال بدعنوانی اسمگلنگ ٹیکس چوری یا دہشت گردی کی مالی معاونت جیسی غیر قانونی سرگرمیوں سے وابستہ ہو۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ان مالیاتی بہاؤ سے نمٹنے کو بین الاقوامی مالیاتی نظام کے استحکام کو برقرار رکھنے کی اپنی کوششوں کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔

فنڈ منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے ٹیکس چوری ٹیکس سے بچنے کے غیر قانونی طریقوں کی روک تھام حکمرانی کو مضبوط بنانے اور مالیاتی نگرانی جیسے شعبوں میں سرگرم عمل ہے۔

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ رکن ممالک کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کرتا ہے۔ اس موضوع کو پالیسی مشاورت، صلاحیت سازی کے پروگراموں اور مالیاتی شعبے کے جائزہ پروگرام میں بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد اور ٹیکس کی تعمیل کو بہتر بنانے کے لیے ممالک کو فنی معاونت فراہم کرتا ہے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر ٹیکس سے متعلق معلومات کے تبادلے کے لیے قانونی اور انتظامی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون کرتا ہے۔

ٹیکس سے بچنے کے خلاف اقدامات

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ممالک کے ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے اور ٹیکس سے بچنے کے خلاف اقدامات کے لیے فنی معاونت کے پروگرام رکھتا ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی ٹیکس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم، عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے ساتھ بھی تعاون کرتا ہے۔

حکمرانی کو مضبوط بنانا

چونکہ بدعنوانی غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کے ایک اہم حصے سے منسلک ہے، اس لیے فنڈ رکن ممالک میں حکمرانی اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات سے متعلق امور میں بھی حصہ لیتا ہے۔

مالیاتی بہاؤ کی نگرانی اور سراغ رسانی

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ممالک کو غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کی شناخت اور پیمائش میں مدد دینے کے لیے فنی معاونت فراہم کرتا ہے اور غیر ظاہر شدہ دولت کے اندراج اور بدعنوانی و لوٹ مار سے حاصل ہونے والے اثاثوں کی بازیابی کے حوالے سے بھی رہنما اصول تیار کرتا ہے۔

تنقیدیں

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو بعض حکومتوں، ماہرین اقتصادیات اور محققین کی جانب سے مختلف تنقیدوں کا سامنا رہا ہے۔ ایک تنقید اس ادارے میں طاقت کے ڈھانچے سے متعلق ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک، بالخصوص بڑی معیشتوں کے حامل ممالک، فنڈ کے فیصلوں میں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

بعض ناقدین فنڈ سے قرض حاصل کرنے سے متعلق شرائط کو بھی بہت سخت سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ شرائط قرض حاصل کرنے والے ممالک کی اقتصادی اور حتیٰ کہ سیاسی خود مختاری کو محدود کر سکتی ہیں۔

بعض ناقدین کے نقطہ نظر سے فنڈ کی حمایت یافتہ معاشی ایڈجسٹمنٹ اور اصلاحات کی پالیسیاں بعض حالات میں کم آمدنی والے ممالک میں قلیل مدت کے دوران پیداوار یا روزگار میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔

بعض سرکاری خدمات کی تیز رفتار نجکاری بھی فنڈ کی پالیسیوں پر ہونے والی تنقید کا ایک موضوع ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ضروری بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کے بغیر نجکاری سماجی اور اقتصادی طور پر نامطلوب نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

فنڈ کے ارکان

استعمال کیے گئے ماخذ کی معلومات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ۱۹۰ ارکان ہیں جن میں اقوام متحدہ کے ۱۸۹ رکن ممالک اور کوسوو شامل ہیں۔ فنڈ کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں ممالک کی نمائندگی کی قوت ان کی اقتصادی اہمیت اور کوٹے سے وابستہ ہے اور بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کو زیادہ ووٹنگ پاور حاصل ہے۔

فنڈ کے مالی وسائل کی فراہمی

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مالی وسائل تین بنیادی ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں:

  • رکن ممالک کے کوٹے
  • قرض دینے کے انتظامات
  • دو طرفہ قرض کے معاہدے

فنڈ کے زیادہ تر مالی وسائل رکن ممالک کے کوٹے سے حاصل ہوتے ہیں اور ہر ملک کے حصے کا تعلق اس ملک کے حجم اور اقتصادی صورتحال سے ہوتا ہے۔

قرض دینے کی صلاحیت

استعمال کیے گئے ماخذ کی معلومات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی قرض دینے کی صلاحیت تقریباً ایک ٹریلین امریکی ڈالر بیان کی گئی ہے۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات