مندرجات کا رخ کریں

"امریکی ریاستوں کی تنظیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 11: سطر 11:
| اقتصادی پوزیشن =  
| اقتصادی پوزیشن =  
|تبلیغات کے طریقے =  
|تبلیغات کے طریقے =  
|ویب سائٹ[https://www.apec.org/ APEC.org]
}}
}}



نسخہ بمطابق 17:49، 15 ستمبر 2026ء

امریکی ریاستوں کی تنظیم
اسمامریکی ریاستوں کی تنظیم
اراکین کی تعدادبراعظم امریکہ کے 35 آزاد ممالک
اهدافامن اور سلامتی کا تحفظ، امریکی ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانا، اختلافات کا پرامن حل، جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت اور اقتصادی و سماجی ترقی

امریکی ریاستوں کی تنظیم، جسے انگریزی میں آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس کہا جاتا ہے اور مختصر طور پر او اے ایس کہا جاتا ہے ایک علاقائی بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا مقصد براعظم امریکہ کے ممالک کے درمیان امن سلامتی تعاون اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ بین الامریکن نظام کے قیام کی ابتدائی بنیادیں سیمون بولیوار کی کوششوں اور 1826 میں منعقد ہونے والی پاناما کانگریس تک پہنچتی ہیں تاہم اس نظام کی منظم اور ادارہ جاتی تشکیل 1889 اور 1890 میں منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس سے شروع ہوئی۔ امریکی ریاستوں کی تنظیم 1948 میں کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں منعقد ہونے والی نویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس میں اس تنظیم کے منشور کی منظوری کے بعد قائم ہوئی۔

تاریخی پس منظر

بعض محققین بین الامریکن نظام کی تاریخ کو 1826 میں سیمون بولیوار کی کوششوں سے منعقد ہونے والی پاناما کانگریس تک پہنچاتے ہیں۔ تاہم براعظم امریکہ کے ممالک کے درمیان مشترکہ قواعد اور اداروں کے قیام کے لیے منظم تعاون 1889 سے شروع ہوا۔

پاناما کانگریس اور پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس کے درمیان علاقائی تعاون کا نظام قائم کرنے کے لیے مختلف اجلاس اور کانفرنسیں منعقد ہوئیں لیکن اس عمل کا اہم موڑ اس وقت آیا جب ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت نے پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس منعقد کرنے کی دعوت دی۔ 1889 سے آج تک بین الامریکن نظام کے ڈھانچے اور اداروں میں وسیع تبدیلیوں کے باوجود یہ عمل جاری رہا ہے۔

پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس

پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس اکتوبر 1889 سے اپریل 1890 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد امریکی ممالک کے درمیان اختلافات کے ثالثی اور حل کے لیے طریقہ کار کا جائزہ لینا اور تجاویز پیش کرنا تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا خطے کے ممالک کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینا اور باہمی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا تھا۔

اس کانفرنس میں امریکہ کے 18 ممالک نے شرکت کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک ادارہ قائم کیا جائے جس کا نام تجارتی معلومات کو جمع کرنے اور تیزی سے تقسیم کرنے کے لیے امریکی جمہوریاؤں کی بین الاقوامی یونین ہو۔

اس یونین کا صدر دفتر واشنگٹن میں قائم کیا گیا۔ بعد میں یہ ادارہ پان امریکن یونین میں تبدیل ہوا اور اپنی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں میں توسیع کے ساتھ آخرکار امریکی ریاستوں کی تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ میں تبدیل ہوگیا۔

واشنگٹن کانفرنس نے بین الاقوامی قانون کے میدان میں بھی مجرموں کی حوالگی سے متعلق قوانین کے بارے میں سفارشات پیش کیں اور اعلان کیا کہ کسی سرزمین کو فتح کرنا فاتح حکومت کے لیے کوئی حق پیدا نہیں کرتا۔

اس کانفرنس نے امریکی ممالک کے درمیان ثالثی کے معاہدے کی تدوین کے لیے ایسے اصول بھی تجویز کیے جن کا مقصد اختلافات کے حل کے لیے جنگ سے رجوع کرنے کو روکنا تھا۔ واشنگٹن کانفرنس نے بین الامریکن نظام کی بنیادی بنیادیں قائم کیں جن میں تجارتی تعاون کی ترقی حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان قانونی تعلقات کو مضبوط بنانا علاقائی تعاون کے لیے پرامن ماحول پیدا کرنا اور مختلف شعبوں میں خصوصی اداروں کا قیام شامل تھا۔

امریکی ریاستوں کی کانفرنسیں

امریکی ریاستوں کی کانفرنسیں مختلف اوقات میں منعقد ہوتی رہیں یہاں تک کہ 1970 میں بوئنوس آئرس میں منظور کیے گئے امریکی ریاستوں کی تنظیم کے منشور کے ترمیمی پروٹوکول کے نافذ ہونے کے بعد امریکی ریاستوں کی تنظیم کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں نے ان کانفرنسوں کی جگہ لے لی۔

ان کانفرنسوں کے علاوہ وزرائے خارجہ کے اجلاس اور خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوتے تھے۔ ان میں اہم ترین اجلاسوں میں 1945 میں میکسیکو سٹی میں بین الامریکن جنگ اور امن کے مسائل سے متعلق کانفرنس اور 1947 میں ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والی بین الامریکن براعظمی امن اور سلامتی کے تحفظ کی کانفرنس شامل ہیں۔

امریکی باہمی امداد کا معاہدہ

1947 میں ریو ڈی جنیرو کی کانفرنس کے نتیجے میں بین الامریکن باہمی امداد کے معاہدے یا ریو معاہدے کی منظوری ہوئی۔ یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اور سرد جنگ کے آغاز کے موقع پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد اس صورت میں اجتماعی دفاع کے لیے ایک قانونی اور منظم فریم ورک فراہم کرنا تھا جب خطے سے باہر کی کوئی بیرونی طاقت کسی رکن ملک پر حملہ کرے۔ اس معاہدے میں معاہدے کے دو رکن ممالک کے درمیان تنازع پیدا ہونے کی صورت میں رکن ممالک کی مشترکہ کارروائی کے لیے بھی طریقہ کار مقرر کیے گئے تھے۔

بین الامریکن نظام کی قانونی پیش رفت

بین الامریکن نظام کے قیام کی ابتدائی دہائیوں کے دوران خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کے اصولوں کے تعین کے لیے متعدد معاہدے اور سمجھوتے منظور کیے گئے۔ 1923 میں چلی کے دارالحکومت سانتیاگو میں منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس نے امریکی ممالک کے درمیان تنازعات کو روکنے یا ان کی پیش بندی کے لیے گونڈرا معاہدہ منظور کیا۔

1933 میں یوراگوئے کے دارالحکومت مونٹی ویڈیو میں منعقد ہونے والی ساتویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس نے ریاستوں کے حقوق اور فرائض سے متعلق کنونشن منظور کیا۔

اس کنونشن نے ریاستوں کی قانونی برابری کے اصول پر زور دیا اور مقرر کیا کہ تمام ریاستیں مساوی حقوق رکھتی ہیں اور ان حقوق کے استعمال کے لیے یکساں قانونی صلاحیت کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری ریاستوں کے داخلی یا خارجی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر بھی زور دیا گیا اور ریاستوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے اختلافات کو معروف پرامن طریقوں سے حل کریں۔

نجی بین الاقوامی قانون

بین الامریکن نظام کی سرگرمیوں کی ابتدائی دہائیوں میں نجی بین الاقوامی قانون کے شعبے میں بھی متعدد کنونشن منظور کیے گئے۔ ان میں سب سے اہم نجی بین الاقوامی قانون سے متعلق کنونشن تھا جو کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں منعقد ہونے والی چھٹی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس میں منظور کیا گیا۔ اس کنونشن کے ساتھ نجی بین الاقوامی قانون کا بوستامانتے قانون بھی منسلک تھا جو نجی بین الاقوامی قانون کے قواعد کی تدوین اور بتدریج ترقی کی ایک اہم کوشش شمار ہوتا ہے۔

اس کنونشن کو خطے کے تمام ممالک کی طرف سے یکساں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور اس کی توثیق کرنے والے ممالک کی تعداد محدود رہی۔ جنوبی جنوبی امریکہ کے ممالک نے زیادہ تر 1889 اور 1939 میں منظور ہونے والے نجی بین الاقوامی قانون سے متعلق مونٹی ویڈیو معاہدوں کی دفعات کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود ہوانا کنونشن بین الامریکن نظام میں نجی بین الاقوامی قانون کے قواعد کی تدوین کی جانب ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے۔

بین الامریکن نظام کے خصوصی ادارے

پان امریکن یونین کے ساتھ ساتھ بتدریج مختلف شعبوں میں امریکی ممالک کے درمیان تعاون کو آسان بنانے کے لیے متعدد خصوصی ادارے قائم کیے گئے۔

ان میں سے بعض اہم ادارے درج ذیل ہیں:

  • پان امریکن صحت تنظیم 1902
  • بین الامریکن قانونی کمیٹی 1906
  • بین الامریکن بچوں کا ادارہ 1927
  • بین الامریکن خواتین کمیشن 1928
  • پان امریکن جغرافیہ اور تاریخ کا ادارہ 1928
  • بین الامریکن انسٹی ٹیوٹ برائے مقامی باشندے 1940
  • بین الامریکن تعاون برائے زراعت کا ادارہ 1942
  • بین الامریکن دفاعی بورڈ 1942

امریکی ریاستوں کی تنظیم کے قیام کے بعد بھی متعدد دیگر ادارے قائم کیے گئے جن میں بین الامریکن ترقیاتی بینک بین الامریکن انسانی حقوق کمیشن بین الامریکن انسانی حقوق کی عدالت بین الامریکن منشیات کے ناجائز استعمال پر قابو پانے کا کمیشن بین الامریکن مواصلاتی کمیشن بین الامریکن بندرگاہوں کی کمیٹی اور براعظم امریکہ کے عدالتی مطالعات کا مرکز شامل ہیں۔

ان وسیع اداروں کے قیام سے علاقائی تنظیموں کا ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل پایا جس نے صحت قانون زراعت دفاع انسانی حقوق اقتصادی ترقی اور مواصلات جیسے مختلف شعبوں کا احاطہ کیا۔

بین الامریکن عدالت انصاف کے قیام کی کوشش

1923 میں بین الامریکن عدالت انصاف کے قیام کی تجویز پیش کی گئی لیکن یہ تجویز کبھی عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔ اس سے قبل وسطی امریکی عدالت 1907 سے 1918 تک فعال رہی تھی اور اسے علاقائی عدالتی ادارے کے قیام کے سلسلے میں ایک ابتدائی تجربہ سمجھا جاتا تھا۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم کا قیام

1948 میں نویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس کولمبیا کے شہر بوگوٹا میں 21 ممالک کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس امریکی ریاستوں کی تنظیم کے قیام کے عمل کا سب سے اہم مرحلہ تھی۔

اس کانفرنس میں اہم دستاویزات منظور کی گئیں جن میں درج ذیل شامل تھیں

  • امریکی ریاستوں کی تنظیم کا منشور
  • اختلافات کے پرامن حل سے متعلق امریکی معاہدہ جسے بوگوٹا معاہدہ کہا جاتا ہے
  • انسان کے حقوق اور فرائض کا امریکی اعلامیہ

بوگوٹا اقتصادی معاہدہ

بوگوٹا اقتصادی معاہدہ امریکی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا لیکن یہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا۔

ارکان

امریکی ریاستوں کی تنظیم کے 35 رکن ممالک ہیں جو تمام براعظم امریکہ کی آزاد ریاستیں ہیں۔ تنظیم کے ارکان شمالی امریکہ وسطی امریکہ جنوبی امریکہ اور بحیرہ کیریبین کے ممالک پر مشتمل ہیں۔

کیوبا بھی تنظیم کے 35 رکن ممالک کی فہرست میں شامل ہے تاہم بین الامریکن نظام میں اس کی شرکت ایک خاص طریقۂ کار کے تابع ہے جو 2009 کی قرارداد کے بعد امریکی ریاستوں کی تنظیم نے مقرر کیا تھا۔

تنظیم کے رکن ممالک درج ذیل ہیں

  • اینٹیگوا اور باربوڈا
  • ارجنٹینا
  • بہاماس
  • بارباڈوس
  • بیلیز
  • بولیویا
  • برازیل
  • کینیڈا
  • چلی
  • کولمبیا
  • کوسٹا ریکا
  • کیوبا
  • ڈومینیکا
  • جمہوریہ ڈومینیکن
  • ایکواڈور
  • ایل سلواڈور
  • گریناڈا
  • گوئٹے مالا
  • گیانا
  • ہیٹی
  • ہونڈوراس
  • جمائیکا
  • میکسیکو
  • نکاراگوا
  • پاناما
  • پیراگوئے
  • پیرو
  • سینٹ کٹس اینڈ نیوس
  • سینٹ لوسیا
  • سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز
  • سورینام
  • ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو
  • ریاستہائے متحدہ امریکہ
  • یوراگوئے
  • وینزویلا

بوگوٹا معاہدہ

بوگوٹا معاہدہ رکن ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پرامن طریقوں سے حل کریں۔ اس معاہدے میں اختلافات کے حل کے لیے مختلف طریقے مقرر کیے گئے ہیں جن میں ثالثی تحقیق اور مفاہمت مساعی جمیلہ اور ثالثی کے ذریعے فیصلہ شامل ہیں۔

اگر یہ طریقے کامیاب نہ ہوں تو معاملہ ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ امریکی ممالک کے درمیان بعض اختلافات بھی انہی طریقہ کار کی بنیاد پر بین الاقوامی عدالت انصاف کو بھیجے گئے ہیں۔

انسان کے امریکی اعلامیہ حقوق اور فرائض

انسان کے امریکی اعلامیہ حقوق اور فرائض جو 1948 میں منظور ہوا براعظم امریکہ میں انسانی حقوق کے علاقائی نظام کی اہم دستاویزات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اعلامیہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے سے چند ماہ قبل منظور کیا گیا تھا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی طریقہ کار قائم کرنے کے پابند تھے۔

بعد میں اسی اعلامیے نے امریکی کنونشن برائے انسانی حقوق کی تدوین اور منظوری کی راہ ہموار کی جسے سان خوسے کوسٹاریکا معاہدے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ کنونشن 1969 میں منظور ہوا اور 1978 میں نافذ العمل ہوا۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم کا منشور

امریکی ریاستوں کی تنظیم کا منشور طویل مذاکراتی عمل کا نتیجہ تھا جو 1945 میں شروع ہوا۔ مذاکرات کے دوران نئی تنظیم کے لیے مختلف نام تجویز کیے گئے جن میں یونین علاقائی برادری اور تنظیم شامل تھے۔ تنظیم کا عنوان منتخب کرنے کے بعد ریاستوں اقوام یا جمہوریاؤں کے الفاظ کے استعمال پر بھی بحث ہوئی۔

جمہوریاؤں کا لفظ اس لیے منتخب نہیں کیا گیا کیونکہ اس سے خطے میں موجود یا مستقبل میں قائم ہونے والے دوسرے نظام حکومت تنظیم کی رکنیت سے باہر ہوسکتے تھے۔ اقوام کا لفظ بھی قانونی مفہوم کے بجائے زیادہ تر ثقافتی اور معاشرتی مفہوم رکھتا تھا۔ آخرکار امریکی ریاستوں کی تنظیم کا عنوان منتخب کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ساتھ تعلق

امریکی ریاستوں کی تنظیم نے ابتدا ہی سے اقوام متحدہ کے تحت قائم عالمی نظام کے ساتھ اپنے تعلق کو متعین کیا۔ امریکی ریاستوں کی تنظیم کے منشور کی دفعہ ایک کے مطابق یہ تنظیم اقوام متحدہ کے نظام کے اندر ایک علاقائی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے اور اس کی سرگرمیاں اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہشتم کے تحت علاقائی انتظامات کے دائرے میں آتی ہیں۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم نے علاقائی امن اور سلامتی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ اس تعاون کی ایک اہم مثال ہیٹی کے بحران کے مختلف ادوار میں دونوں تنظیموں کا باہمی تعاون اور مشترکہ مشن انجام دینا ہے۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم کے منشور میں ترمیم

امریکی ریاستوں کی تنظیم کا ابتدائی منشور 1948 میں منظور کیا گیا اور اس میں چار مراحل میں ترمیمی پروٹوکول کے ذریعے تبدیلیاں کی گئیں۔

  • بوئنوس آئرس پروٹوکول 1967
  • کارتاخینا دے ایندیاس پروٹوکول 1985
  • واشنگٹن پروٹوکول 1992
  • ماناگوا پروٹوکول 1993

ان ترامیم کا مقصد براعظم امریکہ کے ممالک میں ہونے والی سیاسی سلامتی اور قانونی تبدیلیوں کے مطابق تنظیم کے ڈھانچے اور ذمہ داریوں کو ہم آہنگ کرنا تھا۔

براعظم امریکہ کے ممالک کے سربراہان کا اجلاس

اگرچہ براعظم امریکہ کے ممالک کے سربراہان کا اجلاس امریکی ریاستوں کی تنظیم کے منشور میں پیش نہیں کیا گیا تھا تاہم 1994 سے براعظم امریکہ کے ممالک کے سربراہان حکومت اور ریاست کے سربراہوں کی شرکت کے ساتھ اہم سیاسی اجلاس منعقد ہوتے رہے ہیں۔

یہ اجلاس عموما اپنے فیصلے اور سفارشات اعلامیے اور عملی اقدامات کے پروگرام کی صورت میں جاری کرتے ہیں اور بین الامریکن نظام اور بالخصوص امریکی ریاستوں کی تنظیم کے اہداف اور پالیسیوں کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں۔

وزارتی اجلاس

امریکی ریاستوں کی تنظیم براعظم امریکہ کے ممالک کے بہت سے وزارتی اجلاسوں کے سیکریٹریٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ ان میں اہم ترین اجلاس درج ذیل وزرا کے اجلاس ہیں۔

  1. وزرائے انصاف
  2. وزرائے محنت
  3. وزرائے سائنس اور ٹیکنالوجی
  4. وزرائے تعلیم

یہ اجلاس مختلف شعبوں میں رکن ممالک کی پالیسیوں میں ہم آہنگی اور تجربات کے تبادلے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرتے ہیں۔

امریکی ریاستوں کی تنظیم کی اہمیت

امریکی ریاستوں کی تنظیم دنیا کی قدیم ترین علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تنظیم ایک صدی سے زیادہ عرصے کے دوران امریکی ممالک کے درمیان تجارتی ہم آہنگی کے ایک ابتدائی طریقہ کار سے ترقی کرکے سیاسی قانونی اقتصادی سلامتی سماجی اور انسانی حقوق کے شعبوں میں علاقائی اداروں کے ایک وسیع نیٹ ورک میں تبدیل ہوگئی ہے۔

اختلافات کے پرامن حل ریاستوں کی قانونی برابری عدم مداخلت علاقائی تعاون اجتماعی دفاع اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اصول ان اہم اصولوں میں شامل ہیں جن پر بین الامریکن نظام کے قیام اور ارتقا کے دوران توجہ دی گئی ہے۔

متعلقہ موضوعات

ریاستہائے متحدہ امریکہ

اقوام متحدہ

انسانی حقوق

حوالہ جات