"ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «'''ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم'''، جسے انگریزی میں Asia Pacific Economic Cooperation اور مختصرا APEC کہا جاتا ہے ایک علاقائی اقتصادی تعاون کا فورم ہے جس میں مشرقی ایشیا، اوقیانوسیہ اور بحرالکاہل کے دونوں جانب واقع ممالک اور خطے شامل ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
'''ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم'''، جسے انگریزی میں Asia Pacific Economic Cooperation اور مختصرا APEC کہا جاتا ہے ایک علاقائی اقتصادی تعاون کا فورم ہے جس میں مشرقی ایشیا، اوقیانوسیہ اور بحرالکاہل کے دونوں جانب واقع ممالک اور خطے شامل ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کی ابتدائی بنیاد نومبر 1989 میں آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں ہونے والے مذاکرات سے پڑی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔ آج اس تنظیم کے 21 ارکان ہیں اور اسے ایشیا پیسیفک خطے میں اقتصادی تعاون کے اہم ترین فریم ورک میں شمار کیا جاتا ہے۔ | |||
{{خانہ معلومات تنظیم | |||
| عنوان = ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم | |||
| تصویر = سازمان آسیا اقیانوسیه.webp | |||
| اسم = | |||
| اراکین کی تعداد = آج اس تنظیم کے 21 ارکان ہیں | |||
| سربراہان = ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم | |||
| اهداف = اقتصادی تعاون کو فروغ دینا، تجارت اور سرمایہ کاری کو ترقی دینا، تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا، تجارت کو آسان بنانا اور اقتصادی و فنی تعاون کو مضبوط کرنا | |||
| اصول = | |||
| موقف = | |||
| اقتصادی پوزیشن = | |||
|تبلیغات کے طریقے = | |||
}} | |||
'''ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم''' ، جسے انگریزی میں Asia Pacific Economic Cooperation اور مختصرا APEC کہا جاتا ہے ایک علاقائی اقتصادی تعاون کا فورم ہے جس میں مشرقی ایشیا، اوقیانوسیہ اور بحرالکاہل کے دونوں جانب واقع ممالک اور خطے شامل ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کی ابتدائی بنیاد نومبر 1989 میں آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں ہونے والے مذاکرات سے پڑی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔ آج اس تنظیم کے 21 ارکان ہیں اور اسے ایشیا پیسیفک خطے میں اقتصادی تعاون کے اہم ترین فریم ورک میں شمار کیا جاتا ہے۔ | |||
== پیدائش اور تشکیل == | == پیدائش اور تشکیل == | ||
| سطر 54: | سطر 67: | ||
ماخذ کے متن کے مطابق اپیک کے ارکان دنیا کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد اور عالمی تجارت کے حجم کا تقریباً 47 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ دنیا کی اقتصادی ترقی کا ایک نمایاں حصہ بھی اسی خطے میں واقع ہوتا ہے۔ | ماخذ کے متن کے مطابق اپیک کے ارکان دنیا کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد اور عالمی تجارت کے حجم کا تقریباً 47 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ دنیا کی اقتصادی ترقی کا ایک نمایاں حصہ بھی اسی خطے میں واقع ہوتا ہے۔ | ||
== اقدامات == | |||
اپیک کا بنیادی کام برآمدات کو آسان بنانا، اقتصادی ترقی میں اضافہ کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔ یہ تنظیم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آزاد منڈیوں کی ترقی، تجارتی عمل کو آسان بنانے، انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے اور رکن ممالک کے اقتصادی نظاموں کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ | |||
اپیک ترقی پذیر رکن ممالک میں ادارہ جاتی صلاحیتوں کے قیام میں بھی مدد کرتی ہے اور خطے کے بعض اقتصادی مسائل سے نمٹنے میں بھی کردار ادا کرتی رہی ہے، جن میں ایشیائی اقتصادی بحران کے اثرات بھی شامل ہیں۔ | |||
آسٹریلیا اپیک کے فعال ارکان میں شامل رہا ہے اور صنعتی رکن ممالک میں 2010 عیسوی تک اور ترقی پذیر ممالک میں 2020 عیسوی تک آزاد تجارت اور آزاد سرمایہ کاری کے حصول کے لیے تنظیم کے اہداف کی حمایت کرتا رہا ہے۔ | |||
== اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس == | |||
اپیک کے اقتصادی رہنماؤں کا پہلا اجلاس نومبر 1993 میں امریکہ کے شہر سیئٹل میں منعقد ہوا۔ رکن ممالک کے رہنماؤں نے اس اجلاس میں خطے میں اقتصادی ہم آہنگی بڑھانے کے لیے اپنے اہداف واضح کیے۔ اسی اجلاس میں امریکہ، میکسیکو اور پاپوا نیو گنی تنظیم کے رکن بنے۔ | |||
اپیک کا دوسرا اجلاس 1994 عیسوی میں انڈونیشیا کے شہر بوگور میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں صنعتی ممالک کے لیے 2010 عیسوی اور دیگر ممالک کے لیے 2020 عیسوی تک محصولات اور غیر محصولاتی رکاوٹوں کے مکمل خاتمے اور تجارت و سرمایہ کاری کو آزاد بنانے کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا۔ اسی اجلاس میں چلی بھی اپیک کا رکن بنا۔ | |||
1995 عیسوی میں جاپان کے شہر اوساکا اور 1996 عیسوی میں فلپائن کے صوبہ سبیک بے میں ہونے والے اجلاسوں میں ارکان نے تجارت اور سرمایہ کاری کو آزاد بنانے کے مقررہ پروگرام کے ایک حصے کی منظوری دی اور تجارت کو آسان بنانے اور فنی و اقتصادی تعاون کو ایجنڈے میں شامل کیا۔ | |||
1995 عیسوی میں اپیک کے رہنماؤں نے اپیک بزنس ایڈوائزری کونسل بھی قائم کی۔ یہ کونسل رکن ممالک کی کمپنیوں اور اقتصادی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ہے اور تنظیم کے اقتصادی اہداف پر عمل درآمد کے حوالے سے سفارشات پیش کرتی ہے۔ | |||
== ایشیائی اقتصادی بحران == | |||
1997 عیسوی کے ایشیائی اقتصادی بحران کے باعث اپیک کے بہت سے رکن ممالک نے اقتصادی آزادی کے معاملے میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کیا۔ یہ بحران تھائی لینڈ سے انڈونیشیا اور جنوبی کوریا تک پھیل گیا اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایشیائی ممالک کے اقتصادی ڈھانچوں کی طرف وسیع توجہ مبذول ہوئی۔ | |||
اس بحران کے دوران رینٹ اور تعلقات پر مبنی سرمایہ داری کے تصور اور امریکہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی حمایت یافتہ پالیسیوں کے بارے میں بحث ہوئی۔ ان مباحث میں پیش کیے گئے ایک نقطہ نظر کے مطابق مناسب حفاظتی نظام قائم کیے بغیر مالیاتی منڈیوں کو آزاد کرنا ایشیائی اقتصادی بحران کے پھیلاؤ کے بنیادی عوامل میں سے ایک تھا۔ بحران کے ردعمل میں اپیک کے بہت سے رکن ممالک نے زیادہ تحفظ پسند پالیسیاں اختیار کیں۔ | |||
== تنظیمی ڈھانچہ == | |||
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کا ادارہ جاتی ڈھانچہ درج ذیل حصوں پر مشتمل ہے۔ | |||
* اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس | |||
* وزارتی اجلاس | |||
* سیکریٹریٹ | |||
* کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس | |||
* مشاورتی کونسل | |||
یورپی یونین جیسی بعض علاقائی تنظیموں کے برخلاف اپیک کا ڈھانچہ نسبتاً کم مربوط ہے اور اس کے فیصلے عموما قانونی طور پر پابند نہیں ہوتے۔ یہ تنظیم زیادہ تر علاقائی تعاون کے ایک فورم کے طور پر کام کرتی ہے۔ | |||
== وزارتی اجلاس == | |||
اپیک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے اقتصادی امور کا اجلاس ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ یہ اجلاس اپیک کے سربراہ کی دعوت پر ہر سال رکن ممالک میں سے کسی ایک ملک میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اپیک کے اعلیٰ سرکاری حکام وزارتی اجلاسوں کے درمیان ضروری رابطہ کاری، بجٹ کے امور اور کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے کام کے پروگراموں کو منظم کرتے ہیں۔ | |||
== کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس == | |||
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کی کئی تخصصی کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس ہیں جو مختلف شعبوں میں سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ | |||
== زرعی فنی تعاون کے ماہرین کا گروپ == | |||
زرعی فنی تعاون کے ماہرین کا گروپ 1996 عیسوی میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد نباتات اور حیوانات کے جینیاتی وسائل کے تحفظ اور مناسب استعمال کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا، زرعی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کا مطالعہ کرنا اور زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینا ہے۔ | |||
== بجٹ اور انتظامی کمیٹی == | |||
بجٹ اور انتظامی کمیٹی 1993 عیسوی میں قائم کی گئی۔ اس کا مقصد بجٹ، انتظامی امور اور انتظامی معاملات کے حوالے سے اپیک کے اعلیٰ حکام کو مشاورت فراہم کرنا ہے۔ | |||
== تجارت اور سرمایہ کاری کمیٹی == | |||
تجارت اور سرمایہ کاری کمیٹی 1993 عیسوی میں اپیک کے وزارتی اجلاس کے اعلامیے کی بنیاد پر قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد ارکان کے درمیان تجارتی تعلقات کی ترقی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو آزاد بنانے کے لیے ضروری بنیادیں فراہم کرنا ہے۔ یہ کمیٹی ایشیا پیسیفک خطے میں اشیا، خدمات اور ٹیکنالوجی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیتی ہے۔ | |||
== اقتصادی کمیٹی == | |||
اقتصادی کمیٹی نومبر 1994 کے اجلاس کے فیصلوں کی بنیاد پر قائم کی گئی۔ اس کی ذمہ داری ایشیا پیسیفک خطے کے ممالک میں اقتصادی رجحانات کا جائزہ لینا ہے۔ یہ کمیٹی رکن ممالک کی اقتصادی صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور ان کے اقتصادی رجحانات کا مطالعہ کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔ | |||
== چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی پالیسی سازی کا گروپ == | |||
چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی پالیسی سازی کا گروپ 1996 عیسوی میں فلپائن کے لاس بانوس اجلاس میں قائم کیا گیا۔ اس گروپ کا مقصد رکن ممالک کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا اور ان کے درمیان تربیت اور فنی تبادلے کے لیے ضروری ماحول فراہم کرنا ہے۔ | |||
یہ گروپ تجارت اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار، انسانی وسائل کی ترقی، علاقائی توانائی تعاون، سمندری وسائل کے تحفظ، مواصلات، نقل و حمل، سیاحت اور ماہی گیری جیسے شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔ | |||
== اقتصادی اور فنی تعاون کمیٹی == | |||
اقتصادی اور فنی تعاون کمیٹی اپیک میں فنی اور اقتصادی تعاون کی ہم آہنگی، تنظیم نو اور انتظام کے حوالے سے اعلیٰ ترین مقام رکھتی ہے۔ | |||
=== روس، پیرو اور ویتنام === | |||
1998 عیسوی کے اجلاس میں پیرو، روس اور ویتنام کو ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کا رکن بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی وقت تنظیم کے ارکان کی تعداد میں اضافے کے لیے دس سال کی مدت بھی مقرر کی گئی۔ | |||
== بارہواں اجلاس == | |||
تنظیم کے ارکان نے 2003 عیسوی میں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہونے والے اپنے بارہویں اجلاس میں 2004 عیسوی کے لیے کام کی ترجیحات کی منظوری دی۔ | |||
ان ترجیحات میں درج ذیل امور شامل تھے۔ | |||
* رکن ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کو آزاد بنانا | |||
* خطے میں ترقی اور انسانی سلامتی میں اضافہ کرنا | |||
* عالمگیریت کے عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام اور معاشروں کے مفادات میں اضافہ کرنا | |||
== عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ تعلق == | |||
اپیک بعض اہم اور تخصصی تجارتی معاملات میں عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او پر انحصار کرتی ہے۔ ان معاملات میں اقتصادی شعبوں پر حکومتی نگرانی میں کمی بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کو بین الاقوامی تجارت کے بعض شعبوں میں قواعد اور پابند فیصلے منظور کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ | |||
اس کے مقابلے میں اپیک بنیادی طور پر رکن ممالک کے درمیان تعاون اور اقتصادی پالیسیوں کے نفاذ کو آسان بنانے پر قائم ہے اور اس کے فیصلے عالمی تجارتی تنظیم کے فیصلوں کی طرح قانونی طور پر پابند نہیں ہوتے۔ | |||
== اقتصادی کارکردگی == | |||
ماخذ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک تقریبا 63 اعشاریہ 7 ملین مربع کلومیٹر کے رقبے اور 2580 ملین سے زیادہ آبادی کے ساتھ دنیا کی تقریبا 41 اعشاریہ 6 فیصد آبادی پر مشتمل تھے۔ اسی طرح ماخذ میں رکن ممالک کی مجموعی مجموعی قومی پیداوار تقریبا 19 اعشاریہ 14 ٹریلین ڈالر بتائی گئی ہے جو دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا 59 اعشاریہ 3 فیصد بنتی ہے<ref>[https://www.onlinewords.ir/product/21695/%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%84%D9%88%D8%AF-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82-%D8%B3%D8%A7%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86-%D9%87%D9%85%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%A2%D8%B3%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%87-%D8%A7%D9%BE%DA%A9 تحقیق سازمان همکاری اقتصادی آسیا ـ اقیانوسیه (اپک)]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 15ستمبر 2026ء</ref>۔ | |||
== حوالہ جات == | |||
[[fa:سازمان آسیا اقیانوسیه]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 17:47، 15 ستمبر 2026ء
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم ، جسے انگریزی میں Asia Pacific Economic Cooperation اور مختصرا APEC کہا جاتا ہے ایک علاقائی اقتصادی تعاون کا فورم ہے جس میں مشرقی ایشیا، اوقیانوسیہ اور بحرالکاہل کے دونوں جانب واقع ممالک اور خطے شامل ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کی ابتدائی بنیاد نومبر 1989 میں آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں ہونے والے مذاکرات سے پڑی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔ آج اس تنظیم کے 21 ارکان ہیں اور اسے ایشیا پیسیفک خطے میں اقتصادی تعاون کے اہم ترین فریم ورک میں شمار کیا جاتا ہے۔
پیدائش اور تشکیل
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے قیام کی ابتدائی بنیاد نومبر 1989 میں کینبرا میں ہونے والے مذاکرات سے پڑی۔ یہ مذاکرات مشاورتی نوعیت کے تھے اور 12 ممالک پر مشتمل ایک غیر رسمی گروپ کی جانب سے منعقد کیے گئے تھے۔
ان میں سے چھ ممالک اس وقت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے رکن تھے جبکہ دیگر چھ ممالک بحرالکاہل کے ساحلی ممالک میں شامل تھے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔
اس عمل کے نتیجے میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم وجود میں آئی اور اس کے ابتدائی 18 ارکان میں آسٹریلیا، برونائی، کینیڈا، چلی، چین، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، میکسیکو، نیوزی لینڈ، پاپوا نیو گنی، فلپائن، سنگاپور، تائیوان، تھائی لینڈ اور امریکہ شامل تھے۔
اس کے بعد اپیک خطے کے اہم ترین اقتصادی اداروں میں شامل ہوگئی اور اس کا جغرافیائی دائرہ شمالی و جنوبی امریکہ، مشرقی ایشیا اور اوقیانوسیہ تک پھیل گیا۔
اپیک کے ارکان دنیا کی آبادی، پیداوار اور تجارت کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر سنگاپور میں واقع ہے اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس، وزارتی اجلاس، سیکریٹریٹ، کمیٹیاں، ورکنگ گروپس اور مشاورتی کونسل شامل ہیں۔
اہداف
قیام کے ابتدائی مرحلے میں اپیک کا بنیادی مقصد یوروگوئے راؤنڈ کے مذاکرات کی کامیابی میں مدد کرنا تھا۔ تاہم بعد میں مالی استحکام اور علاقائی اقتصادی تعاون کی ترقی بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل ہوگئی۔
تنظیم کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں۔
- خطے میں علاقائی ترقی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا
- عالمی معیشت میں زیادہ سے زیادہ شرکت اور ارکان کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تبادلات میں اضافہ کرنا
- خطے کے ممالک کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کی ترقی میں مدد کرنا
- اشیا اور خدمات کی تجارت میں محصولات اور غیر محصولاتی رکاوٹوں کو کم کرنا
- اشیا، خدمات اور پیداواری عوامل کی نقل و حرکت کے لیے ایک محفوظ اور مؤثر ماحول پیدا کرنا
- تکنیکی علم اور سرمائے کے تبادلے کو فروغ دینا
- تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا
- اپیک کا طویل مدتی مقصد ایشیا پیسیفک خطے میں ایک مشترکہ منڈی کا قیام اور خطے میں اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری کی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بتدریج ختم کرنا قرار دیا گیا ہے۔
ارکان
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے 21 ارکان ہیں۔ ان کے نام درج ذیل ہیں۔
- آسٹریلیا
- برونائی
- کینیڈا
- چلی
- چین
- ہانگ کانگ
- انڈونیشیا
- جاپان
- جنوبی کوریا
- ملائیشیا
- میکسیکو
- نیوزی لینڈ
- پاپوا نیو گنی
- فلپائن
- سنگاپور
- تائیوان
- تھائی لینڈ
- امریکہ
- روس
- پیرو
- ویتنام
ماخذ کے متن کے مطابق اپیک کے ارکان دنیا کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد اور عالمی تجارت کے حجم کا تقریباً 47 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ دنیا کی اقتصادی ترقی کا ایک نمایاں حصہ بھی اسی خطے میں واقع ہوتا ہے۔
اقدامات
اپیک کا بنیادی کام برآمدات کو آسان بنانا، اقتصادی ترقی میں اضافہ کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔ یہ تنظیم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آزاد منڈیوں کی ترقی، تجارتی عمل کو آسان بنانے، انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے اور رکن ممالک کے اقتصادی نظاموں کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔
اپیک ترقی پذیر رکن ممالک میں ادارہ جاتی صلاحیتوں کے قیام میں بھی مدد کرتی ہے اور خطے کے بعض اقتصادی مسائل سے نمٹنے میں بھی کردار ادا کرتی رہی ہے، جن میں ایشیائی اقتصادی بحران کے اثرات بھی شامل ہیں۔
آسٹریلیا اپیک کے فعال ارکان میں شامل رہا ہے اور صنعتی رکن ممالک میں 2010 عیسوی تک اور ترقی پذیر ممالک میں 2020 عیسوی تک آزاد تجارت اور آزاد سرمایہ کاری کے حصول کے لیے تنظیم کے اہداف کی حمایت کرتا رہا ہے۔
اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس
اپیک کے اقتصادی رہنماؤں کا پہلا اجلاس نومبر 1993 میں امریکہ کے شہر سیئٹل میں منعقد ہوا۔ رکن ممالک کے رہنماؤں نے اس اجلاس میں خطے میں اقتصادی ہم آہنگی بڑھانے کے لیے اپنے اہداف واضح کیے۔ اسی اجلاس میں امریکہ، میکسیکو اور پاپوا نیو گنی تنظیم کے رکن بنے۔
اپیک کا دوسرا اجلاس 1994 عیسوی میں انڈونیشیا کے شہر بوگور میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں صنعتی ممالک کے لیے 2010 عیسوی اور دیگر ممالک کے لیے 2020 عیسوی تک محصولات اور غیر محصولاتی رکاوٹوں کے مکمل خاتمے اور تجارت و سرمایہ کاری کو آزاد بنانے کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا۔ اسی اجلاس میں چلی بھی اپیک کا رکن بنا۔
1995 عیسوی میں جاپان کے شہر اوساکا اور 1996 عیسوی میں فلپائن کے صوبہ سبیک بے میں ہونے والے اجلاسوں میں ارکان نے تجارت اور سرمایہ کاری کو آزاد بنانے کے مقررہ پروگرام کے ایک حصے کی منظوری دی اور تجارت کو آسان بنانے اور فنی و اقتصادی تعاون کو ایجنڈے میں شامل کیا۔
1995 عیسوی میں اپیک کے رہنماؤں نے اپیک بزنس ایڈوائزری کونسل بھی قائم کی۔ یہ کونسل رکن ممالک کی کمپنیوں اور اقتصادی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ہے اور تنظیم کے اقتصادی اہداف پر عمل درآمد کے حوالے سے سفارشات پیش کرتی ہے۔
ایشیائی اقتصادی بحران
1997 عیسوی کے ایشیائی اقتصادی بحران کے باعث اپیک کے بہت سے رکن ممالک نے اقتصادی آزادی کے معاملے میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کیا۔ یہ بحران تھائی لینڈ سے انڈونیشیا اور جنوبی کوریا تک پھیل گیا اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایشیائی ممالک کے اقتصادی ڈھانچوں کی طرف وسیع توجہ مبذول ہوئی۔
اس بحران کے دوران رینٹ اور تعلقات پر مبنی سرمایہ داری کے تصور اور امریکہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی حمایت یافتہ پالیسیوں کے بارے میں بحث ہوئی۔ ان مباحث میں پیش کیے گئے ایک نقطہ نظر کے مطابق مناسب حفاظتی نظام قائم کیے بغیر مالیاتی منڈیوں کو آزاد کرنا ایشیائی اقتصادی بحران کے پھیلاؤ کے بنیادی عوامل میں سے ایک تھا۔ بحران کے ردعمل میں اپیک کے بہت سے رکن ممالک نے زیادہ تحفظ پسند پالیسیاں اختیار کیں۔
تنظیمی ڈھانچہ
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کا ادارہ جاتی ڈھانچہ درج ذیل حصوں پر مشتمل ہے۔
- اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس
- وزارتی اجلاس
- سیکریٹریٹ
- کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس
- مشاورتی کونسل
یورپی یونین جیسی بعض علاقائی تنظیموں کے برخلاف اپیک کا ڈھانچہ نسبتاً کم مربوط ہے اور اس کے فیصلے عموما قانونی طور پر پابند نہیں ہوتے۔ یہ تنظیم زیادہ تر علاقائی تعاون کے ایک فورم کے طور پر کام کرتی ہے۔
وزارتی اجلاس
اپیک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے اقتصادی امور کا اجلاس ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ یہ اجلاس اپیک کے سربراہ کی دعوت پر ہر سال رکن ممالک میں سے کسی ایک ملک میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اپیک کے اعلیٰ سرکاری حکام وزارتی اجلاسوں کے درمیان ضروری رابطہ کاری، بجٹ کے امور اور کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے کام کے پروگراموں کو منظم کرتے ہیں۔
کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس
ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کی کئی تخصصی کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس ہیں جو مختلف شعبوں میں سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
زرعی فنی تعاون کے ماہرین کا گروپ
زرعی فنی تعاون کے ماہرین کا گروپ 1996 عیسوی میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد نباتات اور حیوانات کے جینیاتی وسائل کے تحفظ اور مناسب استعمال کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا، زرعی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کا مطالعہ کرنا اور زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینا ہے۔
بجٹ اور انتظامی کمیٹی
بجٹ اور انتظامی کمیٹی 1993 عیسوی میں قائم کی گئی۔ اس کا مقصد بجٹ، انتظامی امور اور انتظامی معاملات کے حوالے سے اپیک کے اعلیٰ حکام کو مشاورت فراہم کرنا ہے۔
تجارت اور سرمایہ کاری کمیٹی
تجارت اور سرمایہ کاری کمیٹی 1993 عیسوی میں اپیک کے وزارتی اجلاس کے اعلامیے کی بنیاد پر قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد ارکان کے درمیان تجارتی تعلقات کی ترقی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو آزاد بنانے کے لیے ضروری بنیادیں فراہم کرنا ہے۔ یہ کمیٹی ایشیا پیسیفک خطے میں اشیا، خدمات اور ٹیکنالوجی کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیتی ہے۔
اقتصادی کمیٹی
اقتصادی کمیٹی نومبر 1994 کے اجلاس کے فیصلوں کی بنیاد پر قائم کی گئی۔ اس کی ذمہ داری ایشیا پیسیفک خطے کے ممالک میں اقتصادی رجحانات کا جائزہ لینا ہے۔ یہ کمیٹی رکن ممالک کی اقتصادی صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور ان کے اقتصادی رجحانات کا مطالعہ کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔
چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی پالیسی سازی کا گروپ
چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی پالیسی سازی کا گروپ 1996 عیسوی میں فلپائن کے لاس بانوس اجلاس میں قائم کیا گیا۔ اس گروپ کا مقصد رکن ممالک کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا اور ان کے درمیان تربیت اور فنی تبادلے کے لیے ضروری ماحول فراہم کرنا ہے۔
یہ گروپ تجارت اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار، انسانی وسائل کی ترقی، علاقائی توانائی تعاون، سمندری وسائل کے تحفظ، مواصلات، نقل و حمل، سیاحت اور ماہی گیری جیسے شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔
اقتصادی اور فنی تعاون کمیٹی
اقتصادی اور فنی تعاون کمیٹی اپیک میں فنی اور اقتصادی تعاون کی ہم آہنگی، تنظیم نو اور انتظام کے حوالے سے اعلیٰ ترین مقام رکھتی ہے۔
روس، پیرو اور ویتنام
1998 عیسوی کے اجلاس میں پیرو، روس اور ویتنام کو ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کا رکن بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی وقت تنظیم کے ارکان کی تعداد میں اضافے کے لیے دس سال کی مدت بھی مقرر کی گئی۔
بارہواں اجلاس
تنظیم کے ارکان نے 2003 عیسوی میں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہونے والے اپنے بارہویں اجلاس میں 2004 عیسوی کے لیے کام کی ترجیحات کی منظوری دی۔
ان ترجیحات میں درج ذیل امور شامل تھے۔
- رکن ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کو آزاد بنانا
- خطے میں ترقی اور انسانی سلامتی میں اضافہ کرنا
- عالمگیریت کے عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام اور معاشروں کے مفادات میں اضافہ کرنا
عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ تعلق
اپیک بعض اہم اور تخصصی تجارتی معاملات میں عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او پر انحصار کرتی ہے۔ ان معاملات میں اقتصادی شعبوں پر حکومتی نگرانی میں کمی بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کو بین الاقوامی تجارت کے بعض شعبوں میں قواعد اور پابند فیصلے منظور کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس کے مقابلے میں اپیک بنیادی طور پر رکن ممالک کے درمیان تعاون اور اقتصادی پالیسیوں کے نفاذ کو آسان بنانے پر قائم ہے اور اس کے فیصلے عالمی تجارتی تنظیم کے فیصلوں کی طرح قانونی طور پر پابند نہیں ہوتے۔
اقتصادی کارکردگی
ماخذ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک تقریبا 63 اعشاریہ 7 ملین مربع کلومیٹر کے رقبے اور 2580 ملین سے زیادہ آبادی کے ساتھ دنیا کی تقریبا 41 اعشاریہ 6 فیصد آبادی پر مشتمل تھے۔ اسی طرح ماخذ میں رکن ممالک کی مجموعی مجموعی قومی پیداوار تقریبا 19 اعشاریہ 14 ٹریلین ڈالر بتائی گئی ہے جو دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا 59 اعشاریہ 3 فیصد بنتی ہے[1]۔
حوالہ جات
- ↑ تحقیق سازمان همکاری اقتصادی آسیا ـ اقیانوسیه (اپک)-اخذ شدہ بہ تاریخ: 15ستمبر 2026ء