"امریکی ریاستوں کی تنظیم" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «'''امریکی ریاستوں کی تنظیم'''، جسے انگریزی میں آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس کہا جاتا ہے اور مختصر طور پر او اے ایس کہا جاتا ہے ایک علاقائی بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا مقصد براعظم امریکہ کے ممالک کے درمیان امن سلامتی تعاون اور یکج...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 38: | سطر 38: | ||
اس کنونشن کو خطے کے تمام ممالک کی طرف سے یکساں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور اس کی توثیق کرنے والے ممالک کی تعداد محدود رہی۔ جنوبی جنوبی امریکہ کے ممالک نے زیادہ تر 1889 اور 1939 میں منظور ہونے والے نجی بین الاقوامی قانون سے متعلق مونٹی ویڈیو معاہدوں کی دفعات کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود ہوانا کنونشن بین الامریکن نظام میں نجی بین الاقوامی قانون کے قواعد کی تدوین کی جانب ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے۔ | اس کنونشن کو خطے کے تمام ممالک کی طرف سے یکساں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور اس کی توثیق کرنے والے ممالک کی تعداد محدود رہی۔ جنوبی جنوبی امریکہ کے ممالک نے زیادہ تر 1889 اور 1939 میں منظور ہونے والے نجی بین الاقوامی قانون سے متعلق مونٹی ویڈیو معاہدوں کی دفعات کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود ہوانا کنونشن بین الامریکن نظام میں نجی بین الاقوامی قانون کے قواعد کی تدوین کی جانب ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے۔ | ||
== بین الامریکن نظام کے خصوصی ادارے == | |||
پان امریکن یونین کے ساتھ ساتھ بتدریج مختلف شعبوں میں امریکی ممالک کے درمیان تعاون کو آسان بنانے کے لیے متعدد خصوصی ادارے قائم کیے گئے۔ | |||
ان میں سے بعض اہم ادارے درج ذیل ہیں: | |||
* پان امریکن صحت تنظیم 1902 | |||
* بین الامریکن قانونی کمیٹی 1906 | |||
* بین الامریکن بچوں کا ادارہ 1927 | |||
* بین الامریکن خواتین کمیشن 1928 | |||
* پان امریکن جغرافیہ اور تاریخ کا ادارہ 1928 | |||
* بین الامریکن انسٹی ٹیوٹ برائے مقامی باشندے 1940 | |||
* بین الامریکن تعاون برائے زراعت کا ادارہ 1942 | |||
* بین الامریکن دفاعی بورڈ 1942 | |||
امریکی ریاستوں کی تنظیم کے قیام کے بعد بھی متعدد دیگر ادارے قائم کیے گئے جن میں بین الامریکن ترقیاتی بینک بین الامریکن انسانی حقوق کمیشن بین الامریکن انسانی حقوق کی عدالت بین الامریکن منشیات کے ناجائز استعمال پر قابو پانے کا کمیشن بین الامریکن مواصلاتی کمیشن بین الامریکن بندرگاہوں کی کمیٹی اور براعظم امریکہ کے عدالتی مطالعات کا مرکز شامل ہیں۔ | |||
ان وسیع اداروں کے قیام سے علاقائی تنظیموں کا ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل پایا جس نے صحت قانون زراعت دفاع انسانی حقوق اقتصادی ترقی اور مواصلات جیسے مختلف شعبوں کا احاطہ کیا۔ | |||
== بین الامریکن عدالت انصاف کے قیام کی کوشش == | |||
1923 میں بین الامریکن عدالت انصاف کے قیام کی تجویز پیش کی گئی لیکن یہ تجویز کبھی عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔ اس سے قبل وسطی امریکی عدالت 1907 سے 1918 تک فعال رہی تھی اور اسے علاقائی عدالتی ادارے کے قیام کے سلسلے میں ایک ابتدائی تجربہ سمجھا جاتا تھا۔ | |||
== امریکی ریاستوں کی تنظیم کا قیام == | |||
1948 میں نویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس کولمبیا کے شہر بوگوٹا میں 21 ممالک کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس امریکی ریاستوں کی تنظیم کے قیام کے عمل کا سب سے اہم مرحلہ تھی۔ | |||
اس کانفرنس میں اہم دستاویزات منظور کی گئیں جن میں درج ذیل شامل تھیں | |||
* امریکی ریاستوں کی تنظیم کا منشور | |||
* اختلافات کے پرامن حل سے متعلق امریکی معاہدہ جسے بوگوٹا معاہدہ کہا جاتا ہے | |||
* انسان کے حقوق اور فرائض کا امریکی اعلامیہ | |||
== بوگوٹا اقتصادی معاہدہ == | |||
بوگوٹا اقتصادی معاہدہ امریکی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا لیکن یہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا۔ | |||
=== ارکان === | |||
امریکی ریاستوں کی تنظیم کے 35 رکن ممالک ہیں جو تمام براعظم امریکہ کی آزاد ریاستیں ہیں۔ تنظیم کے ارکان شمالی امریکہ وسطی امریکہ جنوبی امریکہ اور بحیرہ کیریبین کے ممالک پر مشتمل ہیں۔ | |||
کیوبا بھی تنظیم کے 35 رکن ممالک کی فہرست میں شامل ہے تاہم بین الامریکن نظام میں اس کی شرکت ایک خاص طریقۂ کار کے تابع ہے جو 2009 کی قرارداد کے بعد امریکی ریاستوں کی تنظیم نے مقرر کیا تھا۔ | |||
== تنظیم کے رکن ممالک درج ذیل ہیں == | |||
{{کالم کی فہرست|4}} | |||
* اینٹیگوا اور باربوڈا | |||
* ارجنٹینا | |||
* بہاماس | |||
* بارباڈوس | |||
* بیلیز | |||
* بولیویا | |||
* برازیل | |||
* کینیڈا | |||
* چلی | |||
* کولمبیا | |||
* کوسٹا ریکا | |||
* کیوبا | |||
* ڈومینیکا | |||
* جمہوریہ ڈومینیکن | |||
* ایکواڈور | |||
* ایل سلواڈور | |||
* گریناڈا | |||
* گوئٹے مالا | |||
* گیانا | |||
* ہیٹی | |||
* ہونڈوراس | |||
* جمائیکا | |||
* میکسیکو | |||
* نکاراگوا | |||
* پاناما | |||
* پیراگوئے | |||
* پیرو | |||
* سینٹ کٹس اینڈ نیوس | |||
* سینٹ لوسیا | |||
* سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز | |||
* سورینام | |||
* ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو | |||
* ریاستہائے متحدہ امریکہ | |||
* یوراگوئے | |||
* وینزویلا | |||
{{اختتام}} | |||
نسخہ بمطابق 11:17، 15 ستمبر 2026ء
امریکی ریاستوں کی تنظیم، جسے انگریزی میں آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس کہا جاتا ہے اور مختصر طور پر او اے ایس کہا جاتا ہے ایک علاقائی بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا مقصد براعظم امریکہ کے ممالک کے درمیان امن سلامتی تعاون اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ بین الامریکن نظام کے قیام کی ابتدائی بنیادیں سیمون بولیوار کی کوششوں اور 1826 میں منعقد ہونے والی پاناما کانگریس تک پہنچتی ہیں تاہم اس نظام کی منظم اور ادارہ جاتی تشکیل 1889 اور 1890 میں منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس سے شروع ہوئی۔ امریکی ریاستوں کی تنظیم 1948 میں کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں منعقد ہونے والی نویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس میں اس تنظیم کے منشور کی منظوری کے بعد قائم ہوئی۔
تاریخی پس منظر
بعض محققین بین الامریکن نظام کی تاریخ کو 1826 میں سیمون بولیوار کی کوششوں سے منعقد ہونے والی پاناما کانگریس تک پہنچاتے ہیں۔ تاہم براعظم امریکہ کے ممالک کے درمیان مشترکہ قواعد اور اداروں کے قیام کے لیے منظم تعاون 1889 سے شروع ہوا۔
پاناما کانگریس اور پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس کے درمیان علاقائی تعاون کا نظام قائم کرنے کے لیے مختلف اجلاس اور کانفرنسیں منعقد ہوئیں لیکن اس عمل کا اہم موڑ اس وقت آیا جب ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت نے پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس منعقد کرنے کی دعوت دی۔ 1889 سے آج تک بین الامریکن نظام کے ڈھانچے اور اداروں میں وسیع تبدیلیوں کے باوجود یہ عمل جاری رہا ہے۔
پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس
پہلی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس اکتوبر 1889 سے اپریل 1890 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد امریکی ممالک کے درمیان اختلافات کے ثالثی اور حل کے لیے طریقہ کار کا جائزہ لینا اور تجاویز پیش کرنا تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا خطے کے ممالک کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینا اور باہمی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا تھا۔
اس کانفرنس میں امریکہ کے 18 ممالک نے شرکت کی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک ادارہ قائم کیا جائے جس کا نام تجارتی معلومات کو جمع کرنے اور تیزی سے تقسیم کرنے کے لیے امریکی جمہوریاؤں کی بین الاقوامی یونین ہو۔
اس یونین کا صدر دفتر واشنگٹن میں قائم کیا گیا۔ بعد میں یہ ادارہ پان امریکن یونین میں تبدیل ہوا اور اپنی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں میں توسیع کے ساتھ آخرکار امریکی ریاستوں کی تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ میں تبدیل ہوگیا۔
واشنگٹن کانفرنس نے بین الاقوامی قانون کے میدان میں بھی مجرموں کی حوالگی سے متعلق قوانین کے بارے میں سفارشات پیش کیں اور اعلان کیا کہ کسی سرزمین کو فتح کرنا فاتح حکومت کے لیے کوئی حق پیدا نہیں کرتا۔
اس کانفرنس نے امریکی ممالک کے درمیان ثالثی کے معاہدے کی تدوین کے لیے ایسے اصول بھی تجویز کیے جن کا مقصد اختلافات کے حل کے لیے جنگ سے رجوع کرنے کو روکنا تھا۔ واشنگٹن کانفرنس نے بین الامریکن نظام کی بنیادی بنیادیں قائم کیں جن میں تجارتی تعاون کی ترقی حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان قانونی تعلقات کو مضبوط بنانا علاقائی تعاون کے لیے پرامن ماحول پیدا کرنا اور مختلف شعبوں میں خصوصی اداروں کا قیام شامل تھا۔
امریکی ریاستوں کی کانفرنسیں
امریکی ریاستوں کی کانفرنسیں مختلف اوقات میں منعقد ہوتی رہیں یہاں تک کہ 1970 میں بوئنوس آئرس میں منظور کیے گئے امریکی ریاستوں کی تنظیم کے منشور کے ترمیمی پروٹوکول کے نافذ ہونے کے بعد امریکی ریاستوں کی تنظیم کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں نے ان کانفرنسوں کی جگہ لے لی۔
ان کانفرنسوں کے علاوہ وزرائے خارجہ کے اجلاس اور خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوتے تھے۔ ان میں اہم ترین اجلاسوں میں 1945 میں میکسیکو سٹی میں بین الامریکن جنگ اور امن کے مسائل سے متعلق کانفرنس اور 1947 میں ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والی بین الامریکن براعظمی امن اور سلامتی کے تحفظ کی کانفرنس شامل ہیں۔
امریکی باہمی امداد کا معاہدہ
1947 میں ریو ڈی جنیرو کی کانفرنس کے نتیجے میں بین الامریکن باہمی امداد کے معاہدے یا ریو معاہدے کی منظوری ہوئی۔ یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اور سرد جنگ کے آغاز کے موقع پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد اس صورت میں اجتماعی دفاع کے لیے ایک قانونی اور منظم فریم ورک فراہم کرنا تھا جب خطے سے باہر کی کوئی بیرونی طاقت کسی رکن ملک پر حملہ کرے۔ اس معاہدے میں معاہدے کے دو رکن ممالک کے درمیان تنازع پیدا ہونے کی صورت میں رکن ممالک کی مشترکہ کارروائی کے لیے بھی طریقہ کار مقرر کیے گئے تھے۔
بین الامریکن نظام کی قانونی پیش رفت
بین الامریکن نظام کے قیام کی ابتدائی دہائیوں کے دوران خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات کے اصولوں کے تعین کے لیے متعدد معاہدے اور سمجھوتے منظور کیے گئے۔ 1923 میں چلی کے دارالحکومت سانتیاگو میں منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس نے امریکی ممالک کے درمیان تنازعات کو روکنے یا ان کی پیش بندی کے لیے گونڈرا معاہدہ منظور کیا۔
1933 میں یوراگوئے کے دارالحکومت مونٹی ویڈیو میں منعقد ہونے والی ساتویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس نے ریاستوں کے حقوق اور فرائض سے متعلق کنونشن منظور کیا۔
اس کنونشن نے ریاستوں کی قانونی برابری کے اصول پر زور دیا اور مقرر کیا کہ تمام ریاستیں مساوی حقوق رکھتی ہیں اور ان حقوق کے استعمال کے لیے یکساں قانونی صلاحیت کی حامل ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری ریاستوں کے داخلی یا خارجی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر بھی زور دیا گیا اور ریاستوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے اختلافات کو معروف پرامن طریقوں سے حل کریں۔
نجی بین الاقوامی قانون
بین الامریکن نظام کی سرگرمیوں کی ابتدائی دہائیوں میں نجی بین الاقوامی قانون کے شعبے میں بھی متعدد کنونشن منظور کیے گئے۔ ان میں سب سے اہم نجی بین الاقوامی قانون سے متعلق کنونشن تھا جو کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں منعقد ہونے والی چھٹی بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس میں منظور کیا گیا۔ اس کنونشن کے ساتھ نجی بین الاقوامی قانون کا بوستامانتے قانون بھی منسلک تھا جو نجی بین الاقوامی قانون کے قواعد کی تدوین اور بتدریج ترقی کی ایک اہم کوشش شمار ہوتا ہے۔
اس کنونشن کو خطے کے تمام ممالک کی طرف سے یکساں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور اس کی توثیق کرنے والے ممالک کی تعداد محدود رہی۔ جنوبی جنوبی امریکہ کے ممالک نے زیادہ تر 1889 اور 1939 میں منظور ہونے والے نجی بین الاقوامی قانون سے متعلق مونٹی ویڈیو معاہدوں کی دفعات کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود ہوانا کنونشن بین الامریکن نظام میں نجی بین الاقوامی قانون کے قواعد کی تدوین کی جانب ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے۔
بین الامریکن نظام کے خصوصی ادارے
پان امریکن یونین کے ساتھ ساتھ بتدریج مختلف شعبوں میں امریکی ممالک کے درمیان تعاون کو آسان بنانے کے لیے متعدد خصوصی ادارے قائم کیے گئے۔
ان میں سے بعض اہم ادارے درج ذیل ہیں:
- پان امریکن صحت تنظیم 1902
- بین الامریکن قانونی کمیٹی 1906
- بین الامریکن بچوں کا ادارہ 1927
- بین الامریکن خواتین کمیشن 1928
- پان امریکن جغرافیہ اور تاریخ کا ادارہ 1928
- بین الامریکن انسٹی ٹیوٹ برائے مقامی باشندے 1940
- بین الامریکن تعاون برائے زراعت کا ادارہ 1942
- بین الامریکن دفاعی بورڈ 1942
امریکی ریاستوں کی تنظیم کے قیام کے بعد بھی متعدد دیگر ادارے قائم کیے گئے جن میں بین الامریکن ترقیاتی بینک بین الامریکن انسانی حقوق کمیشن بین الامریکن انسانی حقوق کی عدالت بین الامریکن منشیات کے ناجائز استعمال پر قابو پانے کا کمیشن بین الامریکن مواصلاتی کمیشن بین الامریکن بندرگاہوں کی کمیٹی اور براعظم امریکہ کے عدالتی مطالعات کا مرکز شامل ہیں۔
ان وسیع اداروں کے قیام سے علاقائی تنظیموں کا ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل پایا جس نے صحت قانون زراعت دفاع انسانی حقوق اقتصادی ترقی اور مواصلات جیسے مختلف شعبوں کا احاطہ کیا۔
بین الامریکن عدالت انصاف کے قیام کی کوشش
1923 میں بین الامریکن عدالت انصاف کے قیام کی تجویز پیش کی گئی لیکن یہ تجویز کبھی عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔ اس سے قبل وسطی امریکی عدالت 1907 سے 1918 تک فعال رہی تھی اور اسے علاقائی عدالتی ادارے کے قیام کے سلسلے میں ایک ابتدائی تجربہ سمجھا جاتا تھا۔
امریکی ریاستوں کی تنظیم کا قیام
1948 میں نویں بین الاقوامی امریکی ریاستوں کی کانفرنس کولمبیا کے شہر بوگوٹا میں 21 ممالک کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس امریکی ریاستوں کی تنظیم کے قیام کے عمل کا سب سے اہم مرحلہ تھی۔
اس کانفرنس میں اہم دستاویزات منظور کی گئیں جن میں درج ذیل شامل تھیں
- امریکی ریاستوں کی تنظیم کا منشور
- اختلافات کے پرامن حل سے متعلق امریکی معاہدہ جسے بوگوٹا معاہدہ کہا جاتا ہے
- انسان کے حقوق اور فرائض کا امریکی اعلامیہ
بوگوٹا اقتصادی معاہدہ
بوگوٹا اقتصادی معاہدہ امریکی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا لیکن یہ کبھی نافذ العمل نہیں ہوا۔
ارکان
امریکی ریاستوں کی تنظیم کے 35 رکن ممالک ہیں جو تمام براعظم امریکہ کی آزاد ریاستیں ہیں۔ تنظیم کے ارکان شمالی امریکہ وسطی امریکہ جنوبی امریکہ اور بحیرہ کیریبین کے ممالک پر مشتمل ہیں۔
کیوبا بھی تنظیم کے 35 رکن ممالک کی فہرست میں شامل ہے تاہم بین الامریکن نظام میں اس کی شرکت ایک خاص طریقۂ کار کے تابع ہے جو 2009 کی قرارداد کے بعد امریکی ریاستوں کی تنظیم نے مقرر کیا تھا۔
تنظیم کے رکن ممالک درج ذیل ہیں
- اینٹیگوا اور باربوڈا
- ارجنٹینا
- بہاماس
- بارباڈوس
- بیلیز
- بولیویا
- برازیل
- کینیڈا
- چلی
- کولمبیا
- کوسٹا ریکا
- کیوبا
- ڈومینیکا
- جمہوریہ ڈومینیکن
- ایکواڈور
- ایل سلواڈور
- گریناڈا
- گوئٹے مالا
- گیانا
- ہیٹی
- ہونڈوراس
- جمائیکا
- میکسیکو
- نکاراگوا
- پاناما
- پیراگوئے
- پیرو
- سینٹ کٹس اینڈ نیوس
- سینٹ لوسیا
- سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز
- سورینام
- ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو
- ریاستہائے متحدہ امریکہ
- یوراگوئے
- وینزویلا