"احمد الحسن" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 51: | سطر 51: | ||
=فرقہ احمد الحسن کی فوجی اور سلامتی کے خلاف کارروائیاں= | =فرقہ احمد الحسن کی فوجی اور سلامتی کے خلاف کارروائیاں= | ||
=احمد الحسن کی تحریک میں پائے جانے والے تضادات= | =احمد الحسن کی تحریک میں پائے جانے والے تضادات= | ||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
نسخہ بمطابق 13:48، 10 ستمبر 2026ء
یہ مضمون فی الحال کچھ عرصے کے لیے بڑی ترمیم کے تحت ہے۔ یہ ٹیگ تصادمی ترمیم سے بچنے کے لیے لگایا گیا ہے، براہ کرم جب تک یہ پیغام ظاہر ہو رہا ہے اس صفحہ میں کوئی ترمیم نہ کریں۔ یہ صفحہ آخری بار 13:48، 10 ستمبر 2026 (سانچہ:کوچکمتناسق عالمی وقتسانچہ:پایان کوچک) (سانچہ:Time ago) میں تبدیل کیا گیا تھا؛ براہ کرم اگر حالیہ چند گھنٹوں میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی تو اس سانچے کو ہٹا دیں۔ اگر آپ وہ مدیر ہیں جس نے یہ سانچہ شامل کیا ہے تو براہ کرم یقینی بنائیں کہ آپ اسے ہٹا دیں یا اسے زیرِ تعمیر سے بدل دیں۔ |
| شخص کا نام | احمد الحسن |
|---|---|
| دیگر نام | احمد الحسن الیمانی |
| سال پیدائش | 1973ء |
| سال وفات | فی الحال فرار |
| بعض آثار | رسالہ فی فقہ الخمس و ضمیمتہ؛ جہاد دروازہ جنت؛ حجت وصی و اوہام مدعی
نامہ ہدایت؛ خدا کی حاکمیت، نہ کہ عوام کی حاکمیت |
| اہم سرگرمیاں | اپنے فرقے کی تبلیغ و ترویج کی سرگرمیاں؛ عراق میں فوجی تربیت اور فساد و قتل کی کوششیں؛ انٹرنیٹ سائٹس اور سیٹلائٹ نیٹ ورک کا قیام۔ |
احمد الحسن (پیدائش ۱۹۶۸ء بصرہ، عراق) جنوبی عراق کے ایک غیر سادات قبیلے کا ایک معمولی فرد ہے۔ الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق احمد الحسن نے ۱۹۹۹ء میں نجف انجینئرنگ کالج سے سول انجینئرنگ میں گریجویشن کیا اور پھر حوزہ علمیہ نجف میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد تین سال بعد اس نے اپنی دعوت کا باقاعدہ آغاز کیا۔[1] احمد الحسن متعدد دعوے کرتا ہے جیسے کہ: امام زمانہ کا بیٹا، وصی اور رسول ہونا، تیرہواں امام اور یمانی ہونا۔ وہ مذہبی علماء، روحانیت اور حوزات علمیہ کی مرجعیت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس راستے میں اس نے حتیٰ کہ مسلح بغاوت بھی کی ہے۔ بہت سے ناقدین کے نزدیک اس کے دعوے انتہائی متضاد ہیں۔ وہ فی الحال عراق میں قومی سلامتی کے خلاف اقدامات، دہشت گردی اور قتل کی وارداتوں کی وجہ سے فرار ہے لیکن اس کے حامیوں کے مطابق: وہ غیبت میں چلا گیا ہے! [2]