مندرجات کا رخ کریں

"ابراہیم نخعی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
 
{{Infobox person
{{خانہ معلومات ائمہ
| عنوان =  ابراہیم بن مالک اشتر
| عنوان =  ابراہیم بن مالک اشتر
| تصویر =  ابراہیم نخعی.jpg  
| تصویر =  ابراهیم نخعی.jpg  
| تصویر کی وضاحت =  
| تصویر کی وضاحت =  
| نام =  ابونعمان، ابراہیم بن مالک اشتر نخعی
| نام =  ابونعمان، ابراہیم بن مالک اشتر نخعی

نسخہ بمطابق 14:53، 9 ستمبر 2026ء

ابراہیم نخعی
دوسرے نام{{{other_names}}}
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہ{{{birth_place}}}

ابراہیم بن مالک اشتر نخعی مالک اشتر کے فرزند ہیں، جو امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب کے قریبی دوست اور خاص صحابی تھے۔ ابراہیم قبیلہ نخع کے سردار اور ان کے بہادر ترین افراد میں سے تھے، جو شجاعت اور تدبیر کے لیے مشہور تھے۔ بہت سے مورخین نے ان کی شجاعت کی تعریف کی ہے اور جنگ کے میدان میں ان کی بہادریوں کا حیرت انگیز ذکر کیا ہے، جہاں وہ بے رحم بجلی کی طرح دشمن کے دلوں پر ٹوٹ پڑتے تھے اور دائیں بائیں لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے تھے۔ مورخین نے ان کی شجاعت کی ایک اور مثال جنگ صفین میں ان کی موجودگی کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ وہ اس جنگ کے وقت کم عمر نوجوان تھے، لیکن انہوں نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اور اپنے والد مالک اشتر کے ساتھ بہادری کے جوہر دکھائے۔ شیعہ اور سنی دونوں کے روایتی مصادر نے ابراہیم بن مالک اشتر کو حدیث کے راویوں میں شمار کیا ہے۔ وہ اپنے والد مالک بن اشتر سے روایات نقل کرنے والوں میں سے ہیں، جن میں سے ایک روایت ربذہ میں ابوذر کی وفات سے متعلق حدیث ہے۔


پیدائش اور نسب

ابراہیم بن مالک کی پیدائش کے سال کے بارے میں کوئی دقیق معلومات دستیاب نہیں ہیں؛ تاہم، اس بات کی بنیاد پر کہ وہ جنگ صفین کے وقت نوجوان تھے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ 15 سے 21 ہجری کے درمیان پیدا ہوئے۔ وہ قبیلہ نخع سے تعلق رکھتے ہیں، جو قبیلہ مذحج کی ایک شاخ ہے۔ قبیلہ مذحج یمن کے سب سے بڑے اور مشہور قبائل میں سے ایک ہے۔ یہ قبیلہ دشمن کے خلاف تمام دیگر قبائل سے زیادہ سختی سے لڑتا تھا۔ امام علی (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد وہ کوفہ میں آباد ہو گئے[1].


ابراہیم کی خصوصیات

ابراہیم قبیلہ نخع کے سردار اور ان کے بہادر ترین افراد میں سے تھے[2]۔ وہ شریف اور باوقار کمانڈروں میں سے تھے جو شجاعت اور تدبیر کے لیے مشہور تھے[3]۔ بہت سے مورخین نے ان کی شجاعت کی تعریف کی ہے[4]، اور جنگ کے میدان میں ان کی بہادریوں کا حیرت انگیز ذکر کیا ہے، جہاں وہ بے رحم بجلی کی طرح دشمن کے دلوں پر ٹوٹ پڑتے تھے اور دائیں بائیں لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے تھے۔

مورخین نے ان کی شجاعت کی ایک اور مثال جنگ صفین میں ان کی موجودگی کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ وہ اس جنگ کے وقت کم عمر نوجوان تھے، لیکن انہوں نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اور اپنے والد مالک اشتر کے ساتھ بہادری کے جوہر دکھائے[5].

ابراہیم نہ صرف شجاعت اور بہادری میں، بلکہ سخاوت، جوانمردی، ایمان، اخلاق اور اہل بیت (علیہ السلام) سے محبت میں بھی عراق کے بہترین لوگوں میں سے تھے[6].

علامہ سید محسن امین نے بھی اپنی کتاب اعیان الشیعه میں ان کی یوں تعریف کی ہے: "ابراہیم ایک بہادر، جنگجو، دلیر، صفوں کو توڑنے والا اور رہنما شخص تھا، جس کی طبیعت عالی اور ہمت بلند تھی، وہ حق کا حامی تھا، شاعری کا ذوق اور فصیح زبان رکھتا تھا، اور خاندان عصمت و طہارت کا حامی اور دوست تھا؛ بالکل اسی طرح جیسے اس کے والد مالک اشتر بھی ایسی ہی عالی صفات اور امتیازات کے حامل تھے، اور یہی حق ہے کہ ایسا فرزند ایسے باپ کا مجسمہ ہو[7]."

ابراہیم بن اشتر اور مختار کا ساتھ

ابراہیم کے اقدامات نے مختار کی مزید ترقی کے اسباب فراہم کیے اور قیام مختار کو بہت سی کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ جنگ نہر خازر اس بہادر سپہ سالار کی قیادت کی صلاحیتوں کے ظہور کا سب سے نمایاں میدان تھا۔ اس جنگ میں عراقی فوج، جو تعداد میں عبید اللہ بن زیاد کی کمان میں شامی فوج سے کہیں کم تھی، شام کی فوج پر غالب آگئی اور ابن زیاد بھی ابراہیم کے ساتھ ایک ایک لڑائی میں مارا گیا[8]۔

ابراہیم جنگ ختم ہونے کے بعد موصل کا گورنر مقرر ہو کر وہیں مقیم ہو گیا[9]۔ وہ مختار کے حکم سے مکمل اختیارات کے ساتھ اس علاقے کی انتظامیہ چلا رہا تھا۔ جب مختار کی مصعب سے جنگ ہوئی تو وہ اپنے مقررہ مقام پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مصروف تھا۔ ہمارے پاس کوئی مستند دلیل نہیں ہے جو یہ بتائے کہ مختار نے اس سے مدد مانگی ہو اور اس نے اپنی ذمہ داری اور مختار کی مدد میں کوتاہی کی ہو۔

مختار نے مصعب کے خلاف جنگ کی کمان احمر بن شمیط[10] کے سپرد کی، جو ایک بہادر شخص اور اہل بیت کا محب تھا، اور ابراہیم سے نہیں کہا کہ وہ اس جنگ کی کمان سنبھالے۔ شاید یہ موصل کے علاقے کی حساسیت اور اہمیت کی وجہ سے تھا۔ شاید یہ مختار کی غلطی تھی کہ اس نے اس اہم جنگ کی کمان ابراہیم کے سپرد نہیں کی[11]۔ شاید کوئی اور وجوہات بھی رہی ہوں جن کا ہمیں علم نہیں ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی عہد شکنی نہیں کی، نہ ہی کوئی عہد و پیمان تھا، اور تاریخ میں دونوں کا ذکر عظمت کے ساتھ آیا ہے۔

اگرچہ امام حسین (علیہ السلام) کے قاتلوں سے انتقام لینا بھی ابراہیم کی مختار سے بیعت میں ایک عامل تھا، لیکن ابراہیم نے اس سے امارت کا مطالبہ بھی کیا تھا، اور شاید یہی وجہ تھی کہ مختار کے بعد اس نے مصعب (قاتلِ مختار) سے بھی بیعت کر لی۔

ابن اثیر اس بارے میں لکھتے ہیں: جب مختار قیام اور جنگ کے لیے تیار ہوا تو اس کے بعض ساتھیوں نے کہا: کوفہ کے اشراف اور بزرگان ہماری جنگ اور ابن مطیع کی پیروی پر متفق ہیں۔ اگر ابراہیم بن اشتر ہماری دعوت قبول کر لے تو امید ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ہماری طاقت اور صلاحیت بڑھ جائے گی؛ کیونکہ وہ بہادر، سردار اور ایک شریف شخص کا بیٹا ہے اور اس کی قبیلہ تعداد میں بہت زیادہ اور افراد کے لحاظ سے بزرگ ہے۔

مختار نے ان سے کہا: اسے دعوت دو۔ چنانچہ وہ سب شعبی کے ساتھ اس کے پاس گئے، اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا، اس سے مدد اور تعاون کی درخواست کی، اور اسے اس کے والد کی امام علی (علیہ السلام) سے دوستی یاد دلائی کہ وہ (مالک اشتر) علی (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کا حامی اور دوست تھا۔ ابراہیم نے مختار کی دعوت اس شرط پر قبول کی کہ اسے امیر بنایا جائے، لیکن انہوں نے کہا: اگرچہ تم اس کام کے لائق ہو، لیکن یہ ممکن نہیں؛ کیونکہ مختار محمد بن حنفیہ کی طرف سے آیا ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس کی اطاعت اور پیروی کریں۔ ابراہیم خاموش ہو گیا اور انہیں کوئی جواب نہ دیا۔

اس گفتگو کی خبر مختار کو دی گئی اور تین دن بعد وہ کچھ لوگوں کے ساتھ، جن میں شعبی اور اس کے والد بھی شامل تھے، ابراہیم کے پاس گیا۔ ابراہیم نے ان کی مہمان نوازی کی اور مختار نے محمد بن حنفیہ کا خط پڑھا، جس میں ابراہیم سے مختار کی مدد کرنے کی درخواست کی گئی تھی اور اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ مختار کی اس کی طرف سے وزارت کی تقرری ہوئی ہے اور اس کے لیے ریاست اور فوج کی کمان کا عہدہ بھی ثابت ہے۔

ابراہیم جب خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو کہا: ابن حنفیہ اس سے پہلے مجھے خط لکھتے تھے اور اپنے خط میں صرف اپنا نام، اپنے والد کا نام، میرا نام اور میرے والد کا نام لکھتے تھے۔ مختار نے کہا: وہ وقت گزر گیا اور یہ ایک نیا وقت ہے۔ ابراہیم نے کہا: کون جانتا ہے کہ یہ خط اسی کا ہے (تاکہ گواہی دی جا سکے)؟ وہاں موجود لوگوں نے گواہی دی کہ یہ خط خود محمد بن حنفیہ کا ہے[12]۔

ابن اثیر آگے مختار کے قیام کے واقعات اور ابن زیاد کے قتل تک اس کی فتح میں ابراہیم کے کردار کا ذکر کرتے ہیں[13]۔


ابراہیم کے ظہور کا سب سے نمایاں میدان

جنگ نہر خازر اس بہادر سپہ سالار کی قیادت کی صلاحیتوں کے ظہور کا سب سے نمایاں میدان تھا۔ اس جنگ میں بیس ہزار نفری عراق کی فوج نے اسی تین ہزار نفری شام کی فوج پر، جو عبید اللہ بن زیاد کی کمان میں تھی، غلبہ حاصل کیا اور ابن زیاد بھی ابراہیم کے ساتھ ایک ایک لڑائی میں مارا گیا[14]۔

ابراہیم کام ختم ہونے کے بعد موصل سے نصیبین گیا اور اپنے کارگزاروں کو جزیرہ کے مختلف علاقوں میں بھیجا اور وہاں فتح حاصل کی[15]۔

ابراہیم اشتر نخعی کا انجام

مختار کی قیام کے آخری ایام میں دشمن نے مختار اور ابراہیم کے درمیان اختلاف ڈال دیا۔ دشمن کی اس چال کے نتیجے میں ابراہیم اور مختار کے درمیان جدائی اور فاصلہ پیدا ہو گیا، گویا ابراہیم نے مختار کی تحریک سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ اسی وجہ سے مصعب بن زبیر کے حملے کے واقعے کے بعد وہ مختار سے ملنے میں سستی اور تاخیر سے کام لیتا رہا، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ مصعب کے ہاتھوں اپنی ابتدائی شکست کے بعد مختار کے مکرر اور مسلسل خطوط کی بھی اس نے پرواہ نہیں کی اور اس کے پاس واپس نہیں گیا۔ ابراہیم کی یہ مختار سے کنارہ کشی اس بات کا سبب بنی کہ مختار کی شہادت کے بعد ایک طرف مصعب بن زبیر اور دوسری طرف عبدالملک بن مروان دونوں نے اس میں لالچ پیدا کیا، تاکہ اس بااثر اور مدبر شخص کو اپنے ساتھ ملا سکیں۔

چنانچہ مصعب نے ابراہیم کو ایک خط لکھا اور اس سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ابن زبیر کی حکومت کو قبول کر لے تو اسے عراق کے شمالی علاقوں کی امارت سونپ دی جائے گی۔ اسی طرح کا ایک خط اموی خلیفہ شام، عبدالملک بن مروان کی طرف سے بھی ابراہیم کے پاس پہنچا۔ ابراہیم نے اس بارے میں اپنے ساتھیوں اور مشیروں سے مشاورت کی اور آخرکار مصعب بن زبیر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس نے مصعب کو خط لکھا اور اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ موصل یا نصیبین سے – جو اس کی حکومت کا مرکز تھا – روانہ ہو کر کوفہ پہنچا اور مصعب سے ملاقات کی۔ آخرکار ابراہیم 72 ہجری میں، جب عراقی فوج عبدالملک بن مروان کے سپاہیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئی (جنہیں عراق پر قبضے کے لیے مصعب بن عمیر کے خلاف بھیجا گیا تھا)، 13 جمادی الاولی کو چالیس سال کی عمر میں[16] مارا گیا[17] اور سامراء کے قریب دفن کیا گیا[18]۔


حوالہ جات

  1. ↑ اعیان الشیعه، ج 9، ص 41 اور ج 2، ص 249
  2. ↑ امین؛ محسن؛ اعیان الشیعه، پہلا ایڈیشن 1983، ج2، ص200
  3. ↑ ذہبی؛ تاریخ اسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، دوسرا ایڈیشن، 1993، ج5، ص344
  4. ↑ بلاذری؛ انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار اور ریاض زرکلی، ج6، ص389 اور تاریخ الطبری، سابقہ، ج6، ص19 اور مسکویہ، ابوالعلی؛ تجارت الامم، تحقیق ابوالقاسم امامی، ج2، ص148
  5. ↑ منقری، نصر بن مزاحم؛ وقعة صفین، تحقیق عبدالسلام محمد ہارون، ص441 اور ابن ابی الحدید؛ شرح نہج‌البلاغہ، ج8، ص81
  6. ↑ اعیان الشیعه، سابقہ، ص200
  7. ↑ اعیان الشیعه، سابقہ، ج2، ص200
  8. ↑ ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل، ج 4، ص 261 – 264، دار صادر، بیروت، 1385ق
  9. ↑ الکامل، ج 4، ص 265
  10. ↑ الکامل، ج 4، ص 268؛ ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق، سلمی، محمد بن صامل، خامسة 2، ص 83، مکتبة الصدیق، طائف، چاپ اول، 1414ق
  11. ↑ ماہیت قیام مختار، ص 604 – 605
  12. ↑ الکامل فی التاریخ، ج 4، ص 215 – 216
  13. ↑ الکامل فی التاریخ، ج 4، ص 216 - 259
  14. ↑ الکامل، پیشین، ص261 و تاریخ الطبری، پیشین، ص86
  15. ↑ انساب الاشراف، پیشین، ص447 و تاریخ الطبری، پیشین، ص92 و اخبار الطوال، پیشین، ص296 و تجارب الامم، پیشین، ص236
  16. ↑ البته یہ عمر منقری اور ابن ابی الحدید کی روایت کے مطابق مشکوک معلوم ہوتی ہے، کیونکہ وہ کم سنی کے باوجود اسے جنگ صفین میں موجود افراد میں شمار کرتے ہیں۔ وقعة صفین، سابقہ، ص 441 اور شرح نہج البلاغہ، سابقہ، ص 81
  17. ↑ انساب الاشراف، سابقہ، ج 7، ص 91؛ الکامل، سابقہ، ج 4، ص 326؛ تجارب الامم، سابقہ، ص 236
  18. ↑ زرکلی، خیرالدین؛ 1986ء، ج 1، ص 58