مندرجات کا رخ کریں

"تولی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:تولی کو تولی کی جانب منتقل کیا
 
(کوئی فرق نہیں)

حالیہ نسخہ بمطابق 18:22، 31 اگست 2026ء

تولّیٰ دینِ اسلام کے فروع دین میں سے ایک اہم فریضہ ہے اور علمِ کلامِ شیعہ اثنا عشری کی اصطلاح میں اس سے مراد دینی پیشواؤں، ائمہ معصومین کی ولایت کو تسلیم کرنا اور ان سے دلی محبت و الفت رکھنا ہے۔

روایات میں تولّیٰ کو اس کے متضاد مفہوم یعنی تبرّیٰ کے ہمراہ ایک واجب فریضہ، بلکہ اہم ترین واجبات میں سے قرار دیا گیا ہے[1]۔ اسے ایمان کا بنیادی جزو اور اس کا مضبوط ترین ستون کہا گیا ہے[2][3]، اور یہ ان عقائد میں شامل ہے جن کی محتضر (نزع کی حالت میں مبتلا شخص) اور میت کو تلقین کی جاتی ہے[4]۔

مکتبِ تشیع میں تولّیٰ اور تبرّیٰ بارگاہِ الٰہی میں نیک اعمال کی قبولیت کی بنیادی شرط ہیں اور ان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا؛ اس بارے میں اسلامی مآخذ میں کثیر روایات وارد ہوئی ہیں۔

تولّیٰ لغت میں

لفظ "تولّیٰ" باب تفعل کا مصدر ہے جو مادہ "و ل ی" سے نکلا ہے، اور یہ دو طرح (تَوَلِّی اور تَوَلِّی عَنْ) مستعمل ہوتا ہے۔

پہلی صورت (تولّی) کے متعدد معانی بیان کیے گئے ہیں، جن میں کسی سے محبت رکھنا، اس کی پیروی کرنا، اسے ولی و سرپرست ماننا اور اس کی نصرت و مدد کرنا شامل ہیں[5][6][7][8][9][10]؛ یہی معانی اس مقالے کا اصل موضوع ہیں۔ جبکہ دوسری صورت (تولّی عن) منہ پھیرنے اور روگردانی کرنے کے معنی میں آتی ہے۔

تولّیٰ قرآن میں

الف) تولّیٰ، تبرّیٰ کے مقابلے میں ایک کلامی اصطلاح ہے اور شیعہ امامیہ کے بنیادی ترین اعتقادی امور میں شمار ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رسالت کا اجر، آپ کے ذی القربیٰ (اہل بیت) (علیہم السلام) کی مودت و محبت کو قرار دیا گیا ہے[11]۔

ب) قرآن مجید میں لفظِ تولّیٰ اور اس کے مشتقات اکثر مقامات پر—خواہ لفظِ "عن" کے ساتھ ہوں یا اس کے بغیر[12]—منہ موڑنے اور روگردانی کرنے کے معنی میں آئے ہیں[13][14]، لیکن چند آیات میں یہ پہلی قسم کے معانی (دوستی، محبت اور ولایت پذیری) کے لیے بھی استعمال ہوئے ہیں[15][16][17][18][19][20]۔

ج) مزید برآں، قرآن کریم[21][22][23] اور احادیثِ نبوی[24][25][26][27] میں "حُبّ" (محبت)—جو تولّیٰ کے لغوی مفہوم کی اساس ہے—پر بارہا زور دیا گیا ہے اور سچے دین و ایمان کو اسی سے مشروط کیا گیا ہے۔

تولّیٰ اصطلاح میں

تولّیٰ کی اصطلاح مختلف اسلامی فرقوں کے مابین "تبرّیٰ" کے تقابل میں مستعمل ہے۔ شیعی مآخذ کے مطابق، تولّیٰ سے مراد اللہ، رسولِ خدا اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی ولایت کو قبول کرنا، ان سے محبت رکھنا، ان کی تصدیق کرنا اور ان کی مکمل اطاعت و پیروی کرنا ہے۔

تولّیٰ روایات میں

بے شمار احادیث میں ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) بالخصوص حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام) سے محبت کو واجب قرار دیا گیا ہے اور اس پر بے حد تاکید کی گئی ہے[28][29][30][31][32]؛ بلکہ اسے اسلام کی بنیاد و اساس قرار دیا گیا ہے[33] اور ایمان کی صحت کو اس سے وابستہ سمجھا گیا ہے[34]۔

محبانِ اہل بیت کی فضیلت

سید ہاشم بحرانی نے حضرت علی (علیہ السلام) اور دیگر ائمہ معصومین (علیہم السلام) کے محبین اور موالین کے فضائل کے بارے میں اہل سنت کے طریق سے 95 احادیث[35] اور شیعی طریق سے 52 احادیث[36] نقل کی ہیں۔

اہل سنت کے ہاں تولّیٰ کا تصور

فضل اللہ بن روزبہان کے بقول[37]، اہل سنت کا بھی یہی نظریہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور آپ کی آلِ پاک (علیہم السلام) سے تولّیٰ اور ان کے دشمنوں سے تبرّیٰ ہر مؤمن پر واجب ہے؛ اور جو شخص انہیں اپنا پیشوا و متصرف نہ مانے یا ان کے دشمنوں سے برأت کا اظہار نہ کرے وہ سچا مؤمن نہیں ہے۔

محبتِ اہل بیت کی حقیقت

روایات میں اہل بیت (علیہم السلام) کی جس محبت پر زور دیا گیا ہے، اس سے مراد ان کی امامت و ولایت کو تسلیم کرنا، ان کے احکام کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا، قول و فعل میں ان کی پیروی کرنا اور انہیں اس مقام پر فائز سمجھنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ اسی بنا پر اس دائرے میں دوسروں کو ان پر مقدم رکھنا حقیقت میں دائرۂ محبت سے خارج ہونے کے مترادف ہے[38]۔

شیخ یوسف بحرانی کے مطابق شیعی احادیث کے گہرے مطالعے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ائمہ (علیہم السلام) کی محبت دراصل ان کی امامت کا اقرار اور ان کو ان کے حقیقی منصب پر تسلیم کرنا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں غیر کو ان پر فوقیت دینا محبت کے منافی ہے[39]۔

تبرّیٰ، تولّیٰ کا لازمی جزو

کسی ہستی سے سچی اور مخلصانہ محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے نظریات سے ہم آہنگی ہو اور اس کی مکمل پیروی کی جائے[40]۔ لہٰذا ایسی محبت جو تولّیٰ (یعنی ائمہ کی ولایت پذیری اور اطاعت) اور تبرّیٰ (یعنی ان کے مخالفین سے فکری و عملی بیزاری) پر منتج نہ ہو، وہ حقیقی محبت کہلانے کی مستحق نہیں ہے۔ احادیث کے مطابق آلِ محمد (علیہم السلام) سے مخلصانہ محبت اور کامل ولایت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان کے دور و نزدیک کے تمام دشمنوں سے برأت اختیار نہ کی جائے[41]۔

پس روایات میں حب و بغض اور ولایت و برأت پر جو مکرر تاکید کی گئی ہے، اس کا مفہوم ائمہ اطہار کی ولایت و سرپرستی اور تمام دینی و دنیاوی امور میں ان کی مرجعیت کو تسلیم کرنا ہے۔

تولّیٰ کی ضرورت و اہمیت

دینی متون میں تولّیٰ پر اتنی تاکید کی اصل وجہ یہ ہے کہ اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت اور ان کی ولایت کو ماننا درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے محبت اور ان کی ولایت کا اقرار ہے۔ اسی طرح ان سے عداوت رکھنا، اللہ اور رسول سے دشمنی اور ان کی ولایت کا انکار کرنا، اللہ کی ولایت کے انکار اور ولایتِ شیطان میں داخل ہونے کے مترادف ہے[42][43]۔

اسی بنیاد پر، بارہ ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی امامت کی تصدیق—جس کے لوازمات میں ان کی عصمت کا عقیدہ، ان کا منصوص من اللہ ہونا، اور ان کا دنیا و آخرت کی مصلحتوں سے آگاہ ہونا شامل ہے—ایمان کے بنیادی ارکان اور مذہبِ امامیہ کی ضروریات میں سے ہے[44]۔ اس بنا پر:

الف) ولایت (اور اس کی قبولیت یعنی تولّیٰ) کو نماز، زکوٰۃ، حج اور روزے کے ساتھ اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل کیا گیا ہے، بلکہ اسے تمام ارکان میں سب سے برتر رکن قرار دیا گیا ہے[45][46]۔

ب) ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی جانب سے صحیح دین اور عقیدے کے اظہار کے لیے سکھائے گئے تمام متون میں تولّیٰ کو تبرّیٰ کے ہمراہ ایمان کا بنیادی حصہ قرار دیا گیا ہے[47][48][49]۔

ادلۂ نقلیہ شیعہ میں ولایت

مفہومِ ولایت اور تولّیٰ کے بارے میں شیعہ نقطہ نظر قرآن مجید کی متعدد آیات اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی احادیث پر مبنی ہے جو فریقین کے حدیثی، تفسیری اور کلامی مآخذ میں موجود ہیں۔

سورہ مائدہ کی آیت 55

شیخ طوسی[50] نے سورہ مائدہ کی آیت 55 (آیت ولایت) کو حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کی سب سے مضبوط دلیل قرار دیا ہے[51]۔ ان کے نزدیک[52] اس آیت میں «ولی» سے مراد وہ متولی اور حاکم ہے جس کے ہاتھ میں امور کا انتظام ہو اور جس کی اطاعت واجب ہو۔ انہوں نے شیعہ و سنی روایات سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ آیت میں «الَّذِینَ آمَنُوا» سے مراد عام مؤمنین نہیں بلکہ صرف اور صرف حضرت علی (علیہ السلام) کی ذاتِ گرامی ہے[53]۔

چنانچہ شیخ طوسی نے اس آیت سے عام دوستی و نصرت سے بڑھ کر منصبِ امامت کا مفہوم اخذ کیا ہے[54]۔ نیز بعض روایات میں تصریح ہے کہ اس آیت میں ولی سے مراد تمام ائمہ معصومین ہیں[55]۔

حدیثِ غدیر

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی متعدد احادیث بالخصوص مشہور حدیث غدیر میں حضرت علی (علیہ السلام) کو نبی اکرم کے جانشین کے طور پر متعارف کرایا گیا اور لوگوں کو ان کی اسی طرح ولایت قبول کرنے کا حکم دیا گیا جیسے رسول اللہ کی ولایت ہے[56]۔ اس حدیث میں مستعمل لفظ «مولیٰ» اسی معنی میں ہے جس میں آیتِ ولایت کا لفظ «ولی» وارد ہوا ہے[57]۔

شیخ طوسی[58] نے ادبی و لغوی دلائل سے واضح کیا کہ حدیثِ غدیر کا لفظ «مولیٰ» دراصل اسی معنی میں ہے جو حدیث کے ابتدائی جملے «أَلَسْتُ أَوْلَىٰ بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ» میں لفظ «أَوْلَىٰ» کا تھا۔

ان کے مطابق لفظ «أولىٰ» امامت کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ یہ اس ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جو معاملات کے انتظام و تدبیر کی مجاز ہو[59]۔ یوں علمائے شیعہ نے متعدد نقلی دلائل سے ائمہ اطہار کی ولایت اور بندوں کے دینی و دنیاوی امور میں ان کے تصرف کے شرعی حق کو ثابت کیا ہے۔

ائمہ کے لیے تولّیٰ کی ضرورت

شیعہ عقیدے کے مطابق امام کے وجود اور اس کے تولّیٰ کا سب سے بڑا مقصد اور ضرورت یہ ہے کہ انسان دین کے معاملے میں ظن، تخمینے، قیاس اور وہم کے گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہے۔

شیعہ نظریے کے تحت امام کا علم ذاتی رائے یا قیاسی اجتہاد پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ قطعی اور یقینی ہوتا ہے؛ کیونکہ امام یہ علم براہِ راست خدا کی طرف سے (علمِ لدنی) یا اپنے نفسِ قدسی کے ذریعے رسول اللہ اور سابقہ ائمہ (علیہم السلام) سے حاصل کرتا ہے[60]۔ پس تولّیٰ یعنی امام کی ولایت کا اقرار، دینی معاملات میں یقین حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ایک حدیث کے مطابق امام محمد بن علی الباقر (علیہ السلام) نے توحید و رسالت کے اقرار کے ساتھ ساتھ ائمہ کے تولّیٰ اور ان کے دشمنوں سے تبرّیٰ کو معرفتِ الٰہی کے بنیادی ارکان میں شمار کیا ہے جو حقیقی عبادت کا پیش خیمہ ہے[61][62][63]۔

روایات میں محبت و تولائے اہل بیت کے آثار

حدیثی ذخائر میں ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی محبت اور تولّیٰ کے دنیاوی اور اخروی دونوں جہانوں کے گوناگوں ثمرات اور برکات وارد ہوئی ہیں[64][65]۔

دنیاوی آثار

دنیا میں محبتِ اہل بیت کے آثار اور علامات درج ذیل ہیں:

  1. دنیا سے بے رغبتی (زہد)
  2. نیک اعمال کا شوق
  3. دین میں پرہیزگاری و تقویٰ (ورع)
  4. عبادت کی رغبت
  5. موت سے پہلے توبہ کی توفیق
  6. شب بیداری اور مناجات میں نشاط
  7. سخاوت اور فیاضی
  8. اوامر و نواہیِ الٰہی کی پاسداری[66]۔

اخروی آثار

آخرت میں اس محبت کے ثمرات درج ذیل ہیں:

  1. محبِ اہل بیت آگ (جہنم) سے امان پائے گا۔
  2. اس کا چہرہ روشن و سفید ہوگا۔
  3. اس کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
  4. وہ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوگا[67][68]۔

ایمان کے ساتھ تولّیٰ اور تبرّیٰ کا تعلق

خواجہ نصیر الدین طوسی نے اپنی کتاب اخلاقِ محتشمی میں ایک مستقل باب حب و بغض اور تولّیٰ و تبرّیٰ کے لیے مخصوص کیا ہے جس میں انہوں نے آیات، روایات اور حکماء کے اقوال درج کیے ہیں[69]۔

علاوہ ازیں، ان سے منسوب ایک مختصر تحریر بنام «رسالہ در تولا و تبرا» موجود ہے جس میں فلسفیانہ زاویے سے ایمان کے حصول کو تولّیٰ و تبرّیٰ سے وابستہ بتایا گیا ہے۔ ان کے مطابق: جب نفسِ بہیمی، نفسِ ناطقہ کے ماتحت آتا ہے تو شہوت اور غضب کی قوتیں لطیف ہو کر "شوق" اور "اعراض" میں بدل جاتی ہیں؛ اور جب نفسِ ناطقہ عقل کے تابع ہو جاتا ہے تو شوق و اعراض مزید لطیف ہو کر "ارادت" اور "کراہت" کی شکل اختیار کر لیتے ہیں؛ اور بالآخر جب عقل حقیقت کے فرمانروا (اللہ) کے سامنے سرنگوں ہوتی ہے تو ارادت و کراہت، "تولّیٰ" اور "تبرّیٰ" میں تبدیل ہو جاتی ہیں[70]۔

ان کے نزدیک تولّیٰ اور تبرّیٰ کا کمال تب حاصل ہوتا ہے جب ان کے چاروں عناصر یعنی معرفت، محبت، ہجرت اور جہاد وجود میں آئیں[71]۔ تاہم کمالِ دینداری کا اس سے بھی اعلیٰ درجہ رضا اور تسلیم کا ہے، اور یہ تب حاصل ہوتا ہے جب تولّیٰ اور تبرّیٰ یکجا ہو جائیں یعنی تبرّیٰ، تولّیٰ کے اندر مستغرق ہو جائے[72]۔

خواجہ نصیر الدین طوسی کے مطابق حقیقی ایمان اسی وقت متحقق ہوتا ہے جب انسان کے اندر تولّیٰ، تبرّیٰ، رضا اور تسلیم بیک وقت جمع ہو جائیں اور اسی صورت میں انسان سچا مؤمن کہلانے کا حقدار بنتا ہے[73]۔

شرعی حکم

تولّیٰ اور اس کے ساتھ تبرّیٰ اسلامی شریعت کے واجبات میں سے ہیں[74][75][76][77]؛ بلکہ یہ اسلام کے سب سے اہم ستون[78] اور حقیقتِ ایمان کا سبب ہیں[79]، اور ان کا شمار ان عقائد میں ہوتا ہے جن کی میت کو تلقین کی جاتی ہے[80][81]۔

فرقہ اباضیہ کے ہاں تولّیٰ

تولّیٰ کا موضوع شیعہ اور اہل سنت کے علاوہ دیگر اسلامی فرقوں منجملہ اباضیہ کے ہاں بھی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ولایت، تولّیٰ، برأت اور تبرّیٰ کا تصور اباضی عقائد کے نمایاں ترین اصولوں میں سے ہے، یہاں تک کہ بعض اباضی علماء نے اس موضوع پر باقاعدہ کتب تحریر کی ہیں[82]۔

نظامِ ولایت کے ابعاد

اباضیہ کے نزدیک نظامِ ولایت کے دو بنیادی پہلو ہیں:

  1. پہلا پہلو توحید سے وابستہ ہے جو ان بنیادی ارکان پر ایمان لائے بغیر مکمل نصیر الدین طوسی کے مطابق حقیقی ایمان اسی وقت متحقق ہوتا ہے جب انسان کے اندر تولّیٰ، تبرّیٰ، رضا اور تسلیم بیک وقت جمع ہو جائیں اور اسی صورت میں انسان سچا مؤمن کہلانے کا حقدار بنتا ہے[83]۔

شرعی حکم

تولّیٰ اور اس کے ساتھ تبرّیٰ اسلامی شریعت کے واجبات میں سے ہیں[84][85][86][87]؛ بلکہ یہ اسلام کے سب سے اہم ستون[88] اور حقیقتِ ایمان کا سبب ہیں[89]، اور ان کا شمار ان عقائد میں ہوتا ہے جن کی میت کو تلقین کی جاتی ہے[90][91]۔

فرقہ اباضیہ کے ہاں تولّیٰ

تولّیٰ کا موضوع شیعہ اور اہل سنت کے علاوہ دیگر اسلامی فرقوں منجملہ اباضیہ کے ہاں بھی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ولایت، تولّیٰ، برأت اور تبرّیٰ کا تصور اباضی عقائد کے نمایاں ترین اصولوں میں سے ہے، یہاں تک کہ بعض اباضی علماء نے اس موضوع پر باقاعدہ کتب تحریر کی ہیں[92]۔

فرقہ اباضیہ کے ہاں تولّیٰ

تولّیٰ کا موضوع شیعہ اور اہل سنت کے علاوہ دیگر اسلامی فرقوں منجملہ اباضیہ کے ہاں بھی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ولایت، تولّیٰ، برأت اور تبرّیٰ کا تصور اباضی عقائد کے نمایاں ترین اصولوں میں سے ہے، یہاں تک کہ بعض اباضی علماء نے اس موضوع پر باقاعدہ کتب تحریر کی ہیں[93]۔

نظامِ ولایت کے ابعاد

اباضیوں کے نزدیک نظامِ ولایت کے دو بنیادی پہلو ہیں: ۱) پہلا پہلو توحید سے وابستہ ہے جو ان بنیادوں پر ایمان لائے بغیر مکمل نہیں ہوتا: اللہ کی ولایت، اس کے اوامر کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب، تمام مسلمانوں کی ولایت، معصومین اور ان افراد کی ولایت جو قرآن کی نص کے مطابق اہل بہشت ہیں۔ ۲) اس نظام کا دوسرا پہلو مؤمنین کے آپس کے باہمی حقوق پر مشتمل ہے[94]۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ الْحُبُ فِی اللَّهِ وَ الْبُغْضُ فِی اللَّهِ۔ مشکاۃ الانوار فی غرر الاخبار، ص 125۔
  2. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): إِنَّ أَوْثَقَ عُرَی الْإِیمَانِ الْحُبُ فِی اللَّهِ وَ الْبُغْضُ فِی اللَّهِ تَوَالِی وَلِیِّ اللَّهِ وَ تَعَادِی عَدُوِّ اللَّهِ۔ محاسن برقی، ج 1، ص 165۔
  3. الحدائق الناضرہ، ج 18، ص 423۔
  4. کاشف الغطاء، کشف الغطاء، ج 2، ص 251۔
  5. المصادر، ج 2، ص 821۔
  6. شعب الایمان، ج 2، ص 818۔
  7. لسان العرب، ج 15، ص 408۔
  8. لسان العرب، ج 15، ص 410۔
  9. لسان العرب، ج 15، ص 407۔
  10. تاج العروس من جواہر القاموس، ج 20، ص 316۔
  11. سورہ شوریٰ: 42، آیت 23۔
  12. المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم، ذیل مادہ «ولی»۔
  13. المفردات فی غریب القرآن، ص 534۔
  14. لسان العرب، ج 15، ص 407۔
  15. سورہ مائدہ: 5، آیت 51۔
  16. سورہ مائدہ: 5، آیت 80۔
  17. سورہ ہود: 11، آیت 52۔
  18. سورہ نحل: 16، آیت 100۔
  19. سورہ ممتحنہ: 60، آیت 9۔
  20. سورہ ممتحنہ: 60، آیت 13۔
  21. سورہ بقرہ: 2، آیت 165۔
  22. سورہ آل عمران: 3، آیت 31۔
  23. سورہ توبہ: 9، آیت 24۔
  24. الکافی، ج 2، ص 124–127۔
  25. شعب الایمان، ج 1، ص 363–364۔
  26. شعب الایمان، ج 1، ص 366–367۔
  27. بحار الانوار، ج 66، ص 236–253۔
  28. بصائر الدرجات، ص 384–385۔
  29. کامل الزیارات، ص 356۔
  30. علل الشرائع، ج 1، ص 141۔
  31. وسائل الشیعہ، ج 24، ص 299۔
  32. مستدرک الوسائل، ج 1، ص 151۔
  33. وسائل الشیعہ، ج 15، ص 184۔
  34. بحار الانوار، ج 66، ص 241۔
  35. غایۃ المرام و حجۃ الخصام فی تعیین الامام من طریق الخاص و العام، ج 6، ص 46–71۔
  36. غایۃ المرام و حجۃ الخصام فی تعیین الامام من طریق الخاص و العام، ج 6، ص 72–91۔
  37. وسیلۃ الخادم الی المخدوم (در شرح صلوات چهارده معصوم)، ص 300۔
  38. الشہاب الثاقب فی بیان معنی الناصب، ص 144۔
  39. الشہاب الثاقب فی بیان معنی الناصب، ص 144۔
  40. مصباح الہدایۃ فی اثبات الولایۃ، ص 298–299۔
  41. بحار الانوار، ج 27، ص 58–59۔
  42. بحار الانوار، ج 27، ص 88۔
  43. بحار الانوار، ج 27، ص 136۔
  44. المصنفات الاربعہ، ص 404–405۔
  45. المحاسن، ج 1، ص 286۔
  46. وسائل الشیعہ، ج 1، ص 18۔
  47. بحار الانوار، ج 66، ص 2۔
  48. بحار الانوار، ج 66، ص 45۔
  49. بحار الانوار، ج 66، ص 14۔
  50. اخلاق محتشمی، ج 1، حصہ 2، ص 10۔
  51. سورہ مائدہ: 5، آیت 55۔
  52. اخلاق محتشمی، ج 1، حصہ 2، ص 10۔
  53. اخلاق محتشمی، ج 1، حصہ 2، ص 18۔
  54. اخلاق محتشمی، ج 1، حصہ 2، ص 17–18۔
  55. بحار الانوار، ج 35، ص 206۔
  56. بحار الانوار، ج 37، ص 108–253۔
  57. اخلاق محتشمی، ج 1، حصہ 2، ص 179۔
  58. اخلاق محتشمی، ج 1، حصہ 2، ص 175–185۔
  59. اخلاق محتشمی، ج 1، حصہ 2، ص 185۔
  60. المصنفات الاربعہ، ص 405۔
  61. الکافی، ج 1، ص 180۔
  62. بحار الانوار، ج 23، ص 83۔
  63. بحار الانوار، ج 23، ص 93۔
  64. بحار الانوار، ج 27، ص 74–75۔
  65. بحار الانوار، ج 27، ص 78۔
  66. بحار الانوار، ج 27، ص 78۔
  67. بحار الانوار، ج 27، ص 78–79۔
  68. بحار الانوار، ج 27، ص 158۔
  69. اخلاق محتشمی، ص 26–33۔
  70. اخلاق محتشمی، ص 563۔
  71. اخلاق محتشمی، ص 565۔
  72. اخلاق محتشمی، ص 566۔
  73. اخلاق محتشمی، ص 567۔
  74. بدائع الکلام، ص 264۔
  75. مرآۃ العقول، ج 8، ص 259۔
  76. وسائل الشیعہ، ج 16، ص 176۔
  77. التعلیقۃ علی المکاسب، ج 1، ص 232۔
  78. الحدائق الناضرہ، ج 18، ص 423۔
  79. البیان، ص 241۔
  80. کشف الغطاء، ج 2، ص 251۔
  81. کشف الغطاء، ج 2، ص 289۔
  82. دراسات عن الاباضیہ، ص 242 (پانویس 4)۔
  83. اخلاق محتشمی، ص 567۔
  84. بدائع الکلام، ص 264۔
  85. مرآۃ العقول، ج 8، ص 259۔
  86. وسائل الشیعہ، ج 16، ص 176۔
  87. التعلیقۃ علی المکاسب، ج 1، ص 232۔
  88. الحدائق الناضرہ، ج 18، ص 423۔
  89. البیان، ص 241۔
  90. کشف الغطاء، ج 2، ص 251۔
  91. کشف الغطاء، ج 2، ص 289۔
  92. دراسات عن الاباضیہ، ص 242 (پانویس 4)۔
  93. دراسات عن الاباضیہ، ص 242 (پانویس 4)۔
  94. دراسات عن الاباضیة، ص 243۔

منابع و مآخذ

  • فضل اللہ بن روزبہان، وسیلۃ الخادم الی المخدوم (شرح صلوات چہاردہ معصوم)، تحقیق: رسول جعفریان، قم، 1375ش۔
  • محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، تحقیق: علی اکبر غفاری، بیروت، 1401ھ۔
  • محمد باقر بن محمد تقی مجلسی، بحار الانوار، بیروت، 1403ھ۔
  • محمد بن محمد مرتضیٰ زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس، تحقیق: علی شیری، بیروت، 1414ھ/1994ء۔
  • عمرو خلیفہ نامی، دراسات عن الاباضیہ، ترجمہ: میخائیل خوری، بیروت، 2001ء۔
  • محمد بن محمد نصیر الدین طوسی، اخلاقِ محتشمی مع رسائل ملحقہ، تحقیق: محمد تقی دانش پژوہ، تہران، 1361ش۔