مندرجات کا رخ کریں

"براعظم افریقہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«'''براعظم افریقہ''' یا افریقا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا براعظم ہے جو ایشیا کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً ۳۰٬۲۲۱٬۵۳۲ مربع کلومیٹر ہے، جو زمین کے مجموعی خشکی کے رقبے کا تقریباً ۲۰٫۳ فیصد بنتا ہے۔ اس براعظم کی شمال سے جنوب تک چوڑائی ت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 19: سطر 19:


افریقہ کی آب و ہوا گرم استوائی علاقوں سے لے کر اس کی بلند ترین چوٹیوں پر انتہائی سرد قطبی نوعیت کے موسم تک مختلف ہے۔ اس کے شمالی حصے میں زیادہ تر صحرا اور بنجر علاقے پائے جاتے ہیں، جبکہ وسطی اور جنوبی علاقوں میں گرم استوائی میدان اور نہایت گھنے بارانی جنگلات موجود ہیں۔ اس کے باوجود نباتاتی ساخت اور قدرتی مناظر میں بعض مشترک خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، جن میں ساحلی علاقے اور اسٹیپ یعنی نیم خشک گھاس کے میدان نمایاں ہیں۔
افریقہ کی آب و ہوا گرم استوائی علاقوں سے لے کر اس کی بلند ترین چوٹیوں پر انتہائی سرد قطبی نوعیت کے موسم تک مختلف ہے۔ اس کے شمالی حصے میں زیادہ تر صحرا اور بنجر علاقے پائے جاتے ہیں، جبکہ وسطی اور جنوبی علاقوں میں گرم استوائی میدان اور نہایت گھنے بارانی جنگلات موجود ہیں۔ اس کے باوجود نباتاتی ساخت اور قدرتی مناظر میں بعض مشترک خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، جن میں ساحلی علاقے اور اسٹیپ یعنی نیم خشک گھاس کے میدان نمایاں ہیں۔
== افریقہ کے دس سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ==
* نائجیریا کی آبادی دو سو چھ ملین دو لاکھ تیس ہزار سے زیادہ ہے
* ایتھوپیا کی آبادی ایک سو پندرہ ملین ایک لاکھ سترہ ہزار سے زیادہ ہے
* مصر کی آبادی ایک سو دو ملین چار لاکھ سے زیادہ ہے
* جمہوری جمہوریہ کانگو کی آبادی نواسی ملین ہے
* تنزانیہ کی آبادی انسٹھ ملین نو لاکھ دس ہزار سے زیادہ ہے
* جنوبی افریقہ کی آبادی انسٹھ ملین آٹھ لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ ہے
* کینیا کی آبادی ترپن ملین چار لاکھ تیس ہزار سے زیادہ ہے
* یوگنڈا کی آبادی پینتالیس ملین سے زیادہ ہے
* سوڈان کی آبادی تینتالیس ملین چھ لاکھ بتیس ہزار سے زیادہ ہے
* الجزائر کی آبادی تینتالیس ملین پانچ لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ ہے
افریقہ دنیا کا قدیم ترین براعظم سمجھا جاتا ہے اور اس کی تاریخ ابتدائی قبل از تاریخ اور قبل از پتھر کے زمانوں تک پہنچتی ہے
زمین پر انسانی انواع کی قدیم ترین آبادیوں کے آثار افریقہ میں پائے جاتے ہیں بیسویں صدی کے وسط کے دوران ماہرین بشریات نے فوسلز اور ایسے شواہد دریافت کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان یا انسان نما مخلوقات کی موجودگی ممکنہ طور پر سات ملین سال سے بھی پہلے کی ہے انسانی ارتقا سے متعلق مختلف انسان نما انواع کے فوسلز بھی دریافت ہوئے ہیں۔
جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جدید انسان کی ارتقائی تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں ان میں جنوبی بندر عفاری شامل ہے جس کی عمر تابکاری کے طریقۂ تعیین کے مطابق تقریباً تین سے تین اعشاریہ نو ملین سال بتائی جاتی ہے اسی طرح پرانتھروپس بوئسی اور دیگر قدیم انسانی انواع کے فوسلز بھی دریافت ہوئے ہیں
ایشانگو کی ہڈی تقریباً پچیس ہزار سال پرانی ہے اور اس پر موجود نشانات کو ابتدائی ریاضیاتی حسابات سے متعلق سمجھا جاتا ہے انسانی تاریخ کے بیشتر قبل از تاریخی ادوار میں افریقہ میں بھی دوسرے براعظموں کی طرح باقاعدہ قومی ریاستیں موجود نہیں تھیں بلکہ مختلف شکاری اور خوراک جمع کرنے والے گروہ مثلاً خوئی اور سان یہاں آباد تھے۔
== افریقی اتحاد ==
افریقی اتحاد افریقی ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی تنظیم ہے اس تنظیم کا قیام چھبیس جون دو ہزار ایک کو عمل میں آیا اور اس کا مرکزی انتظامی مرکز ادیس ابابا میں قائم ہوا افریقی اتحاد کے مختلف ادارے اور دفاتر افریقہ کے مختلف ممالک میں موجود ہیں اور اس کی پالیسیوں میں اختیارات اور اداروں کی تقسیم اور مختلف ممالک کی شمولیت کو اہمیت دی جاتی ہے
افریقی اتحاد کو افریقی اتحاد کمیشن کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کمیشن اس تنظیم کا انتظامی اور اجرائی ادارہ ہے افریقی اتحاد کا مقصد افریقی ممالک کے درمیان سیاسی اقتصادی اور سماجی تعاون کو فروغ دینا اور افریقی براعظم میں اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔
افریقی اتحاد کے مختلف اداروں میں قانون سازی عدالتی اور انتظامی شعبے شامل ہیں افریقی پارلیمنٹ بھی اس تنظیم کے اہم اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا مقصد افریقی ممالک کے عوام اور نمائندوں کو براعظمی سطح پر سیاسی عمل میں شریک کرنا ہے۔
افریقہ کو متعدد اقتصادی سماجی اور سیاسی مشکلات کا سامنا رہا ہے بعض ممالک میں کمزور حکمرانی ناکام اقتصادی پالیسیاں عالمی تجارتی نظام کی ناہمواریاں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے قحط اور غذائی قلت کے مسائل کو شدید بنایا ہے کئی علاقوں میں آبادی کو خوراک اور صاف پانی کی مناسب فراہمی کے مسائل کا سامنا ہے۔
افریقہ قدرتی وسائل سے مالا مال براعظم ہے اور سونے ہیرے تیل گیس اور دیگر معدنی وسائل کے بڑے ذخائر یہاں موجود ہیں تاہم نوآبادیاتی دور اور اس کے بعد کے سیاسی اور اقتصادی مسائل کے باعث اس دولت سے افریقی عوام یکساں طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ نے بھی افریقی ممالک کو شدید متاثر کیا ہے بالخصوص انسانی مدافعتی کمی کے وائرس اور ایڈز نے بعض علاقوں میں ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ پیدا کیا۔
ان بے شمار مشکلات کے باوجود افریقہ کے مستقبل کے لیے امید کی علامات بھی موجود ہیں مختلف ممالک میں جمہوری نظام مضبوط کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں اور بعض ریاستوں نے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور نسبتاً آزاد عدالتی اداروں کے قیام کی جانب پیش رفت کی ہے۔
افریقی ممالک اور تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے جمہوری جمہوریہ کانگو میں ہونے والی خانہ جنگیوں اور تنازعات میں پڑوسی افریقی ممالک بھی مختلف شکلوں میں شامل رہے ہیں دوسری کانگو جنگ جو انیس سو اٹھانوے میں شروع ہوئی ایک وسیع علاقائی تنازع بن گئی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
بعض مبصرین کے مطابق اس قسم کے علاقائی تنازعات اور ان کے بعد تعاون کی ضرورت نے افریقی ممالک کو باہمی اتحاد اور مشترکہ اداروں کی اہمیت کا احساس دلایا افریقی اتحاد جیسی سیاسی تنظیمیں براعظم کے ممالک کے درمیان زیادہ تعاون امن اور استحکام کے قیام کی امید پیدا کرتی ہیں۔
تاہم افریقہ کے بعض حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں اور یہ اکثر سیاسی تنازعات حکومتی کمزوری یا خانہ جنگیوں کے نتیجے میں سامنے آتی ہیں ان ممالک میں جمہوری جمہوریہ کانگو سیرالیون لائبیریا سوڈان اور ساحل عاج جیسے ممالک شامل رہے ہیں جہاں مختلف ادوار میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
افریقی براعظم کی سلامتی کی صورت حال بھی کئی علاقوں میں تشویش ناک رہی ہے لیبیا صومالیہ نائجیریا اور جمہوری جمہوریہ کانگو جیسے ممالک میں داخلی تنازعات اور مسلح جھڑپوں نے سیاسی اور سماجی استحکام کو متاثر کیا ہے ایتھوپیا میں بھی مختلف ادوار میں داخلی کشیدگی اور مسلح تنازعات نے ملک کی سلامتی کو متاثر کیا
داعش بوکو حرام اور الشباب جیسے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے بھی افریقہ کے بعض علاقوں میں عدم استحکام پیدا کیا ہے چاڈ موزمبیق لیبیا جنوبی الجزائر نائجیریا اور دیگر ممالک کے بعض علاقوں میں دہشت گردی اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں نے مقامی آبادیوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کی ہیں ان گروہوں نے بعض مقامات پر ریاستی کمزوریوں اور محدود سکیورٹی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔
صومالیہ کی صورت حال بھی طویل عرصے سے سیاسی اور سلامتی کے مسائل سے دوچار رہی ہے صومالی لینڈ کی خود مختاری اور علیحدگی پسندی کا مسئلہ بھی صومالی حکومت کے اہم چیلنجوں میں شامل رہا ہے۔
بین الاقوامی اداروں نے افریقہ کے مختلف سیاسی اور سلامتی کے بحرانوں کے حل کے لیے متعدد اجلاس اور کوششیں کی ہیں لیکن براعظم کے بعض علاقوں میں جنگ داخلی تنازعات دہشت گردی غربت اور سیاسی عدم استحکام کے مسائل اب بھی موجود ہیں اور ان کے مستقل حل کے لیے افریقی ممالک اور عالمی برادری کے درمیان مؤثر اور مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔

نسخہ بمطابق 14:15، 23 اگست 2026ء

براعظم افریقہ یا افریقا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا براعظم ہے جو ایشیا کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً ۳۰٬۲۲۱٬۵۳۲ مربع کلومیٹر ہے، جو زمین کے مجموعی خشکی کے رقبے کا تقریباً ۲۰٫۳ فیصد بنتا ہے۔ اس براعظم کی شمال سے جنوب تک چوڑائی تقریباً ۸۰۰۰ کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک لمبائی تقریباً ۷۴۰۰ کلومیٹر ہے۔ افریقہ کی آبادی ۱٬۳۳۰٬۰۰۰٬۰۰۰ سے زیادہ ہے اور اس میں ۶۱ ممالک شامل ہیں، جہاں دنیا کی موجودہ آبادی کا تقریباً ساتواں حصہ آباد ہے۔

یہ براعظم شمال میں بحیرۂ روم، شمال مشرق میں نہر سویز اور بحیرۂ احمر، مشرق میں خلیج عدن، جنوب مشرق میں بحرِ ہند اور مغرب میں بحرِ اوقیانوس سے گھرا ہوا ہے۔

افریقہ خطِ استوا کے دونوں جانب واقع ہے اور اس میں مختلف قسم کے موسمی علاقے پائے جاتے ہیں۔ افریقہ واحد براعظم ہے جو شمالی معتدل خطے سے جنوبی معتدل خطے تک پھیلا ہوا ہے۔ قدرتی طور پر باقاعدہ بارشوں اور آبپاشی کی کمی، نیز بعض حد تک برفانی ذخائر اور پہاڑی زیرِ زمین آبی ذخائر کی عدم موجودگی کے باعث ساحلی علاقوں کے علاوہ یہاں آب و ہوا کو معتدل بنانے والے قدرتی عوامل بہت کم ہیں۔

وسطی افریقہ میں، جو خطِ استوا کے قریب واقع ہے، سال کا تقریباً نصف حصہ بارشوں کا موسم ہوتا ہے۔ اس دوران موسم گرم اور مرطوب رہتا ہے اور گھنے اور خوب صورت جنگلات وجود میں آتے ہیں۔ تاہم بارشوں کے موسم کے بعد شدید اور سخت گرمی پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں کے سرسبز خطے خشک اور بنجر صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر یہاں دو نمایاں موسم پائے جاتے ہیں، یعنی ایک گرم اور مرطوب موسم اور دوسرا گرم اور خشک موسم۔

اگرچہ افریقہ کے جنوبی علاقوں اور ایتھوپیا کے صحرائی خطوں کے بارے میں یورپیوں کے اندازے اور تحقیقات دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں، تاہم افریقہ کو وہ قدیم ترین براعظم سمجھا جاتا ہے جہاں انسان نے سب سے پہلے سکونت اختیار کی۔

افریقہ کا نام

لفظ افریقہ کی اصل کے بارے میں مختلف آرا بیان کی گئی ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ فونیقی زبان کے لفظ آفِر سے ماخوذ ہے، جس کے معنی گرد و غبار کے ہیں۔ بعض اسے شمالی افریقہ میں قرطاج کے اطراف آباد آفریدی قبیلے کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ ایک اور رائے کے مطابق یہ یونانی لفظ آفریکے سے نکلا ہے، جس کے معنی بے سردی یا ہمیشہ گرم رہنے والے علاقے کے ہیں۔

جغرافیہ

افریقہ کا سب سے بڑا ملک الجزائر ہے، جبکہ اس کا سب سے چھوٹا جزیرہ نما ملک سیشل ہے، جو بحرِ ہند میں واقع ہے۔ خشکی پر واقع سب سے چھوٹا ملک گیمبیا ہے۔

افریقہ کا شمالی ترین مقام رأس انگلہ ہے، جو تیونس میں واقع ہے۔ جنوبی ترین مقام کیپ اگولہاس ہے، جو جنوبی افریقہ میں واقع ہے۔ مشرقی ترین مقام کیپ گوآردافوئی ہے، جو صومالیہ میں واقع ہے، جبکہ مغربی ترین مقام پوانت دے المادی ہے، جو کیپ وردے کے علاقے میں واقع ہے۔

افریقہ کی آب و ہوا گرم استوائی علاقوں سے لے کر اس کی بلند ترین چوٹیوں پر انتہائی سرد قطبی نوعیت کے موسم تک مختلف ہے۔ اس کے شمالی حصے میں زیادہ تر صحرا اور بنجر علاقے پائے جاتے ہیں، جبکہ وسطی اور جنوبی علاقوں میں گرم استوائی میدان اور نہایت گھنے بارانی جنگلات موجود ہیں۔ اس کے باوجود نباتاتی ساخت اور قدرتی مناظر میں بعض مشترک خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، جن میں ساحلی علاقے اور اسٹیپ یعنی نیم خشک گھاس کے میدان نمایاں ہیں۔

افریقہ کے دس سب سے زیادہ آبادی والے ممالک

  • نائجیریا کی آبادی دو سو چھ ملین دو لاکھ تیس ہزار سے زیادہ ہے
  • ایتھوپیا کی آبادی ایک سو پندرہ ملین ایک لاکھ سترہ ہزار سے زیادہ ہے
  • مصر کی آبادی ایک سو دو ملین چار لاکھ سے زیادہ ہے
  • جمہوری جمہوریہ کانگو کی آبادی نواسی ملین ہے
  • تنزانیہ کی آبادی انسٹھ ملین نو لاکھ دس ہزار سے زیادہ ہے
  • جنوبی افریقہ کی آبادی انسٹھ ملین آٹھ لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ ہے
  • کینیا کی آبادی ترپن ملین چار لاکھ تیس ہزار سے زیادہ ہے
  • یوگنڈا کی آبادی پینتالیس ملین سے زیادہ ہے
  • سوڈان کی آبادی تینتالیس ملین چھ لاکھ بتیس ہزار سے زیادہ ہے
  • الجزائر کی آبادی تینتالیس ملین پانچ لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ ہے

افریقہ دنیا کا قدیم ترین براعظم سمجھا جاتا ہے اور اس کی تاریخ ابتدائی قبل از تاریخ اور قبل از پتھر کے زمانوں تک پہنچتی ہے

زمین پر انسانی انواع کی قدیم ترین آبادیوں کے آثار افریقہ میں پائے جاتے ہیں بیسویں صدی کے وسط کے دوران ماہرین بشریات نے فوسلز اور ایسے شواہد دریافت کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان یا انسان نما مخلوقات کی موجودگی ممکنہ طور پر سات ملین سال سے بھی پہلے کی ہے انسانی ارتقا سے متعلق مختلف انسان نما انواع کے فوسلز بھی دریافت ہوئے ہیں۔

جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جدید انسان کی ارتقائی تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں ان میں جنوبی بندر عفاری شامل ہے جس کی عمر تابکاری کے طریقۂ تعیین کے مطابق تقریباً تین سے تین اعشاریہ نو ملین سال بتائی جاتی ہے اسی طرح پرانتھروپس بوئسی اور دیگر قدیم انسانی انواع کے فوسلز بھی دریافت ہوئے ہیں

ایشانگو کی ہڈی تقریباً پچیس ہزار سال پرانی ہے اور اس پر موجود نشانات کو ابتدائی ریاضیاتی حسابات سے متعلق سمجھا جاتا ہے انسانی تاریخ کے بیشتر قبل از تاریخی ادوار میں افریقہ میں بھی دوسرے براعظموں کی طرح باقاعدہ قومی ریاستیں موجود نہیں تھیں بلکہ مختلف شکاری اور خوراک جمع کرنے والے گروہ مثلاً خوئی اور سان یہاں آباد تھے۔

افریقی اتحاد

افریقی اتحاد افریقی ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی تنظیم ہے اس تنظیم کا قیام چھبیس جون دو ہزار ایک کو عمل میں آیا اور اس کا مرکزی انتظامی مرکز ادیس ابابا میں قائم ہوا افریقی اتحاد کے مختلف ادارے اور دفاتر افریقہ کے مختلف ممالک میں موجود ہیں اور اس کی پالیسیوں میں اختیارات اور اداروں کی تقسیم اور مختلف ممالک کی شمولیت کو اہمیت دی جاتی ہے

افریقی اتحاد کو افریقی اتحاد کمیشن کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کمیشن اس تنظیم کا انتظامی اور اجرائی ادارہ ہے افریقی اتحاد کا مقصد افریقی ممالک کے درمیان سیاسی اقتصادی اور سماجی تعاون کو فروغ دینا اور افریقی براعظم میں اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔

افریقی اتحاد کے مختلف اداروں میں قانون سازی عدالتی اور انتظامی شعبے شامل ہیں افریقی پارلیمنٹ بھی اس تنظیم کے اہم اداروں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا مقصد افریقی ممالک کے عوام اور نمائندوں کو براعظمی سطح پر سیاسی عمل میں شریک کرنا ہے۔

افریقہ کو متعدد اقتصادی سماجی اور سیاسی مشکلات کا سامنا رہا ہے بعض ممالک میں کمزور حکمرانی ناکام اقتصادی پالیسیاں عالمی تجارتی نظام کی ناہمواریاں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے قحط اور غذائی قلت کے مسائل کو شدید بنایا ہے کئی علاقوں میں آبادی کو خوراک اور صاف پانی کی مناسب فراہمی کے مسائل کا سامنا ہے۔

افریقہ قدرتی وسائل سے مالا مال براعظم ہے اور سونے ہیرے تیل گیس اور دیگر معدنی وسائل کے بڑے ذخائر یہاں موجود ہیں تاہم نوآبادیاتی دور اور اس کے بعد کے سیاسی اور اقتصادی مسائل کے باعث اس دولت سے افریقی عوام یکساں طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ نے بھی افریقی ممالک کو شدید متاثر کیا ہے بالخصوص انسانی مدافعتی کمی کے وائرس اور ایڈز نے بعض علاقوں میں ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ پیدا کیا۔

ان بے شمار مشکلات کے باوجود افریقہ کے مستقبل کے لیے امید کی علامات بھی موجود ہیں مختلف ممالک میں جمہوری نظام مضبوط کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں اور بعض ریاستوں نے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور نسبتاً آزاد عدالتی اداروں کے قیام کی جانب پیش رفت کی ہے۔

افریقی ممالک اور تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے جمہوری جمہوریہ کانگو میں ہونے والی خانہ جنگیوں اور تنازعات میں پڑوسی افریقی ممالک بھی مختلف شکلوں میں شامل رہے ہیں دوسری کانگو جنگ جو انیس سو اٹھانوے میں شروع ہوئی ایک وسیع علاقائی تنازع بن گئی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔

بعض مبصرین کے مطابق اس قسم کے علاقائی تنازعات اور ان کے بعد تعاون کی ضرورت نے افریقی ممالک کو باہمی اتحاد اور مشترکہ اداروں کی اہمیت کا احساس دلایا افریقی اتحاد جیسی سیاسی تنظیمیں براعظم کے ممالک کے درمیان زیادہ تعاون امن اور استحکام کے قیام کی امید پیدا کرتی ہیں۔

تاہم افریقہ کے بعض حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں اور یہ اکثر سیاسی تنازعات حکومتی کمزوری یا خانہ جنگیوں کے نتیجے میں سامنے آتی ہیں ان ممالک میں جمہوری جمہوریہ کانگو سیرالیون لائبیریا سوڈان اور ساحل عاج جیسے ممالک شامل رہے ہیں جہاں مختلف ادوار میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

افریقی براعظم کی سلامتی کی صورت حال بھی کئی علاقوں میں تشویش ناک رہی ہے لیبیا صومالیہ نائجیریا اور جمہوری جمہوریہ کانگو جیسے ممالک میں داخلی تنازعات اور مسلح جھڑپوں نے سیاسی اور سماجی استحکام کو متاثر کیا ہے ایتھوپیا میں بھی مختلف ادوار میں داخلی کشیدگی اور مسلح تنازعات نے ملک کی سلامتی کو متاثر کیا

داعش بوکو حرام اور الشباب جیسے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے بھی افریقہ کے بعض علاقوں میں عدم استحکام پیدا کیا ہے چاڈ موزمبیق لیبیا جنوبی الجزائر نائجیریا اور دیگر ممالک کے بعض علاقوں میں دہشت گردی اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں نے مقامی آبادیوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کی ہیں ان گروہوں نے بعض مقامات پر ریاستی کمزوریوں اور محدود سکیورٹی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔

صومالیہ کی صورت حال بھی طویل عرصے سے سیاسی اور سلامتی کے مسائل سے دوچار رہی ہے صومالی لینڈ کی خود مختاری اور علیحدگی پسندی کا مسئلہ بھی صومالی حکومت کے اہم چیلنجوں میں شامل رہا ہے۔

بین الاقوامی اداروں نے افریقہ کے مختلف سیاسی اور سلامتی کے بحرانوں کے حل کے لیے متعدد اجلاس اور کوششیں کی ہیں لیکن براعظم کے بعض علاقوں میں جنگ داخلی تنازعات دہشت گردی غربت اور سیاسی عدم استحکام کے مسائل اب بھی موجود ہیں اور ان کے مستقل حل کے لیے افریقی ممالک اور عالمی برادری کے درمیان مؤثر اور مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔