مندرجات کا رخ کریں

"سید خضر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 19: سطر 19:
}}
}}
'''سید خضر''' اخوان المسلمین کی پہلی نسل کے ارکان میں سے ایک ہیں جو اٹھارہ سال کی عمر میں شوق سے اخوان المسلمین کی تمام سرگرمیوں میں حاضر ہوتے تھے۔ وہ اس وقت کے دیہاتیوں کی طرح ایک غریب گھر میں دیہہ «القنایت» _اس سے پہلے کہ یہ شرقیہ کا ایک ضلع بنے_ میں پرورش پائے۔ ان کی پیدائش 1931ء میں ہوئی، انہوں نے پرائمری تعلیم حاصل کی اور پھر 1946ء میں ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور وہاں [[اخوان المسلمین]] کی دعوت سے واقف ہوئے۔ وہ لیبیا گئے اور 1960ء سے 1965ء کے اوائل تک بطور معلم کام کیا، وہ کام کے لیے [[سعودی عرب]] بھی گئے۔
'''سید خضر''' اخوان المسلمین کی پہلی نسل کے ارکان میں سے ایک ہیں جو اٹھارہ سال کی عمر میں شوق سے اخوان المسلمین کی تمام سرگرمیوں میں حاضر ہوتے تھے۔ وہ اس وقت کے دیہاتیوں کی طرح ایک غریب گھر میں دیہہ «القنایت» _اس سے پہلے کہ یہ شرقیہ کا ایک ضلع بنے_ میں پرورش پائے۔ ان کی پیدائش 1931ء میں ہوئی، انہوں نے پرائمری تعلیم حاصل کی اور پھر 1946ء میں ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور وہاں [[اخوان المسلمین]] کی دعوت سے واقف ہوئے۔ وہ لیبیا گئے اور 1960ء سے 1965ء کے اوائل تک بطور معلم کام کیا، وہ کام کے لیے [[سعودی عرب]] بھی گئے۔


== اخوان میں شمولیت ==
== اخوان میں شمولیت ==

نسخہ بمطابق 14:51، 18 جولائی 2026ء

سید خضر
پورا نامسید خضر
ذاتی معلومات
پیدائش1931ء)
پیدائش کی جگہمصر
یوم وفات2022
وفات کی جگہمصر
مذہباسلام، سنی
مناصباخوان المسلمین کے ساته همکاری

سید خضر اخوان المسلمین کی پہلی نسل کے ارکان میں سے ایک ہیں جو اٹھارہ سال کی عمر میں شوق سے اخوان المسلمین کی تمام سرگرمیوں میں حاضر ہوتے تھے۔ وہ اس وقت کے دیہاتیوں کی طرح ایک غریب گھر میں دیہہ «القنایت» _اس سے پہلے کہ یہ شرقیہ کا ایک ضلع بنے_ میں پرورش پائے۔ ان کی پیدائش 1931ء میں ہوئی، انہوں نے پرائمری تعلیم حاصل کی اور پھر 1946ء میں ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور وہاں اخوان المسلمین کی دعوت سے واقف ہوئے۔ وہ لیبیا گئے اور 1960ء سے 1965ء کے اوائل تک بطور معلم کام کیا، وہ کام کے لیے سعودی عرب بھی گئے۔

اخوان میں شمولیت

سید خضر کہتے ہیں: «اواخر 1946ء میں میں نے اسکول «ملک فاروق» میں مڈل اسکول کی تعلیم حاصل کی اور وہاں تعلیمی دورانیہ پانچ سال تھا۔ اس دیہہ میں اخوان المسلمین کے دو سیکشن تھے اور یہاں سے اس تحریک کے ساتھ میرے تعلقات مضبوط اور بڑھ گئے» وہ اخوان کے ساتھ تعلق اور شمولیت کے بارے میں کہتے ہیں: «اس دوران آزادی عمل اور حرکت کے لحاظ سے اخوان المسلمین کی صورتحال انتہائی بہترین تھی برخلاف اس کے جو اب ہو رہا ہے، اس چھوٹے دیہہ میں جہاں ہم رہتے تھے، مجھے یاد ہے کہ ہم نے ایک خاتون «خضراء ابولبن» کے گھر کی کرائے پر لی تھی تاکہ یہ لشکر کا ہیڈکوارٹر بنے، اور اس کے اوپر ایک بڑا «بورڈ» تھا جس پر لکھا تھا: «مرکز لشکر اخوان المسلمین» اور صنعتکار، اساتذہ اور دیگر، سب جمع ہوتے تھے اور صبر اور محنت سے کام کرتے تھے اور وقت کی پابندی اور احتیاط ان میں ایسی چیز تھی جو ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔

اخوان المسلمین کی تحلیل

اس دور میں سیاسی اتار چڑھاؤ شروع ہوا، 1948ء میں، اخوان المسلمین کو تحلیل کرنے کے فیصلے کے بعد، پولیس فورسز نے لشکر کے ہیڈکوارٹر پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود تمام کتابیں، کاغذات، دستاویزات اور آلات ضبط کر لیے اور امن و امان نہ رہا۔ احتیاطی اقدامات کیے گئے اور متعدد اجلاس ہوئے۔ سید خضر کہتے ہیں: اس کے بعد ہمارے تمام اجلاس کام کی جگہ پر اور خفیہ قید میں ہوئے، اخوان کی سرگرمیاں کسی بھی حالت میں بند نہیں ہوئیں، حتیٰ کہ تحلیل کے فیصلے، مقدمہ، سزائے موت وغیرہ کے باوجود اور یہ لوگوں کے لیے مشکل دور تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بھائی عبدالمنعم خضر کو گرفتار کیا گیا اور انہیں دس سال کی سزا سنائی گئی اور اسی طرح بھائی علی مرعی کو بھی، اور کچھ عرصہ بعد بھائی ابراہیم الاشقر کو گرفتار کیا گیا۔ چونکہ دونوں گرفتار ہو چکے تھے اور شدید تشدد کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ کہیں سید خضر طلباء کا نمائندہ ہے، میں نے اپنے والد کو اطلاع دی اور خود کو گرفتاری کے لیے تیار کر لیا۔ لیکن الحمدللہ کچھ نہیں ہوا، کچھ عرصہ بعد مجھے بلایا گیا اور کچھ سوالات پوچھے گئے اور پوچھ گچھ کے بعد کام ختم ہو گیا۔

یونیورسٹی میں سرگرمی

انقلاب کے بعد اس دور میں، وہ قاہرہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سائنس میں شامل ہوئے اور وہاں اخوان کی طالب علم سرگرمیوں کے گواہ تھے اور اخوان کا کمیونسٹ وں کے ساتھ فیصلہ کن موقف تھا۔ جہاں اخوان کے نوجوان بھائیوں کی موجودگی مضبوط تھی اور یہ تمام مصر کے لیے ایک نازک مرحلہ تھا۔ اخوان کے نوجوان فرنٹ لائن پر تھے اور مجھے یاد ہے کہ انقلاب کے بعد نہر کے علاقے میں انگریزوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قاہرہ یونیورسٹی کے اندر طلباء کو چھاپہ مار تربیت دینے کے لیے تربیتی کیمپ تھے۔ ان کے ساتھ بھائی محمد سلیم جبارہ بھی تھے، وہ فیکلٹی آف آرٹس کے طالب علم تھے اور طاقتور تھے اور وہ «البرم» توپ اٹھاتے تھے جو ایک بھاری توپ ہے جو ایک ہاتھ سے زمین پر رکھی جاتی ہے اور گولی سے ہوا میں اڑائی جاتی ہے۔

حوالہ جات

  • دیکھیں: ویکی اخوان میں سید خضر کا مدخل؛ ikhwanwiki.com.