"آپریشن نصر 2" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 4: | سطر 4: | ||
| واقعہ کا نام = نصرآپریشن | | واقعہ کا نام = نصرآپریشن | ||
| واقعہ کی تاریخ = 22 تیر 1405 ہجری شمسی، بمطابق 13 جولائی 2026ء، 28 محرم الحرام 1448 ہجری قمری | | واقعہ کی تاریخ = 22 تیر 1405 ہجری شمسی، بمطابق 13 جولائی 2026ء، 28 محرم الحرام 1448 ہجری قمری | ||
| واقعہ کا دن اور مقام = بروز اتوار، | | واقعہ کا دن اور مقام = بروز اتوار، [[بحرین]]، [[کویت]]، اور [[خلیج فارس]] کے علاقے میں واقع [[ریاستہائے متحدہ امریکا|ریاستہائے متحدہ امریکہ]] کے فوجی اڈے | ||
| عوامل = سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کا امریکی جاریحیت کا جواب | | عوامل = [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی]] کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کا امریکی جاریحیت کا جواب | ||
|اہمیت کی وجہ= جنوبی ایران پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے فوجی حملوں کا | |اہمیت کی وجہ= جنوبی ایران پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے فوجی حملوں کا جواب، خطے میں امریکہ کے تزویراتی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا۔ | ||
| نتائج = {{hlist|ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم کے دائرۂ کار میں وسعت| امریکہ کے لاجسٹک اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا جانا۔}} | | نتائج = {{hlist|ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم کے دائرۂ کار میں وسعت| امریکہ کے لاجسٹک اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا جانا۔}} | ||
}} | }} | ||
| سطر 111: | سطر 111: | ||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
[[fa:عملیات نصر 2]] | |||
نسخہ بمطابق 15:22، 16 جولائی 2026ء
| نصر آپریشن 2 | |
|---|---|
| واقعہ کی معلومات | |
| واقعہ کا نام | نصرآپریشن |
| واقعہ کی تاریخ | 22 تیر 1405 ہجری شمسی، بمطابق 13 جولائی 2026ء، 28 محرم الحرام 1448 ہجری قمری |
| عوامل | سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کا امریکی جاریحیت کا جواب |
| اہمیت کی وجہ | جنوبی ایران پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے فوجی حملوں کا جواب، خطے میں امریکہ کے تزویراتی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا۔ |
| نتائج |
|
آپریشن نصر 2 اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی جانب سے بحرین اور کویت میں موجود ریاستہائے متحدہ امریکہ کے فوجی مراکز کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کا ایک سلسلہ تھا۔ یہ کارروائیاں آپریشن نصر 1 کے تسلسل میں اور جنوبی ایران میں امریکی فوج کی جانب سے فوجی تنصیبات اور دفاعی بنیادی ڈھانچے پر کیے گئے حملوں کے جواب میں انجام دی گئیں۔ یہ آپریشن متعدد مسلسل مراحل میں کیا گیا، جن میں امریکی افواج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اسلحہ گوداموں، مواصلاتی مراکز، لاجسٹک تنصیبات اور ڈرون اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن کا پس منظر
تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافے کے بعد، امریکی فوج نے جنوبی ایران کے ساحلی مراکز، فوجی تنصیبات اور دفاعی بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی دفاعی اور بازدارندگی کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
اس کے جواب میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے آپریشن نصر2 کے نام سے کارروائیوں کا ایک سلسلہ ترتیب دیا، جس کی حکمتِ عملی جنگ کے میدان کو خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز تک منتقل کرنا تھی۔ اسی مقصد کے تحت بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن کا وقت اور مقام
آپریشن نصر2 سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کی جانب سے متعدد مراحل اور پانچ مسلسل لہروں کی صورت میں انجام دیا گیا۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے تھے، جن پر بیلسٹک میزائلوں، بحری کروز میزائلوں اور جنگی ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔
پہلی لہر
آپریشن نصر 2 کی پہلی لہر جنوبی ایران پر امریکی فوج کے مسلسل حملوں کے جواب میں شروع کی گئی۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے اعلان کے مطابق اس مرحلے کا مقصد امریکی جارحیت کا متناسب جواب دینا اور آئندہ حملوں کے خلاف بازدارندگی پیدا کرنا تھا۔
آپریشن نصر 2 کا آغاز ان حملوں کے سلسلے کی ابتدا تھا، جس کے تحت بعد کے مراحل میں خطے میں امریکہ کے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری لہر
آپریشن نصر2 کی دوسری لہر میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ نے "یا لثارات الحسین" کے نعرۂ جنگ کے ساتھ بحرین کے الجفیر فوجی اڈے میں واقع متعدد اسلحہ سپورٹ گوداموں، سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی فوجیوں کی رہائش گاہ کو میزائلوں اور جنگی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا[1]۔
سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے اعلامیہ نمبر 6 کے مطابق، یہ کارروائی امریکی فوج کی جانب سے جنوبی ایران کے ساحلی مراکز اور فوجی تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں انجام دی گئی، اور یہ بھی اعلان کیا گیا کہ امریکی جارحیت کے مکمل خاتمے تک جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اعلامیے کے اختتام پر قرآنِ کریم کی یہ آیت بطور استشہاد پیش کی گئی: "وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ" [2]۔ "اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔"
تیسری لہر
آپریشن نصر 2 کی تیسری لہر میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کے مجاہدین نے ایک ہم وقت میزائل اور ڈرون کارروائی کے ذریعے بحرین کے شیخ عیسیٰ فوجی اڈے میں امریکی فوج کے اسلحہ ذخیرہ کرنے والے متعدد ہینگرز، بحری جہازوں کے پرزہ جات اور فوجی طیاروں کی دیکھ بھال کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
اسی دوران کویت کے علی السالم فوجی اڈے پر موجود MQ-9 ڈرونز کی تعیناتی کے ریمپ پر بھی حملہ کیا گیا اور سپاہ کے مطابق ان میں سے متعدد ڈرون تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے [3]۔
سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے **آپریشن نصر ۲** کے اعلامیہ نمبر 10 میں بتایا کہ یہ مرحلہ **"یا زین العابدینؑ"** کے رمز کے ساتھ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی مسلح افواج کے ساحلی مراکز پر دوبارہ کیے گئے حملوں کے جواب میں انجام دیا گیا۔ اعلامیے میں زور دے کر کہا گیا کہ جب تک امریکہ کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں گی، ایران کی جوابی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کی مسلسل فوجی کارروائیاں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی میں تاخیر کا سبب بنیں گی۔
چوتھی لہر
آپریشن نصر 2 کی چوتھی لہر میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے مغربی ایشیا میں امریکی فوج کے مرکزی رسد و سپورٹ مرکز، جو کویت کے مینا عبداللہ علاقے میں واقع ہے، کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی "یا اباعبداللہ الحسینؑ" کے رمز کے ساتھ انجام دی گئی۔
سپاہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے اعلامیے میں اس مرکز کی تباہی کو جنوبی ایران کے صوبوں پر امریکی حملوں کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جوابی کارروائی کا حصہ قرار دیا گیا[4]۔
اس اعلامیے میں سپاہ نے آبنائے ہرمز میں اپنے مقاصد کے حصول میں امریکہ کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکہ کی دشمنانہ کارروائیاں جاری رہیں گی، انتقامی آپریشن بھی جاری رہیں گے۔ مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کا بند رہنا امریکہ کے فوجی طرزِ عمل پر منحصر ہوگا۔
=
پانچویں لہر ===
آپریشن نصر 2 کی پانچویں لہر میں بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے (Fifth Fleet) کے کمانڈ اور لاجسٹک مراکز کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے اعلامیہ نمبر 12 کے مطابق NSI مینجمنٹ سینٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، فوجی پرزہ جات اور سازوسامان کے گوداموں کے علاوہ امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ایندھن کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا[5]۔
سپاہ نے اس اعلامیے میں زور دیا کہ خطے میں جہازرانی اور توانائی کی تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کی امریکی پالیسی کا اسلامی جمہوریہ ایران بھرپور جواب دے گا۔ مزید خبردار کیا گیا کہ اگر امریکہ نے اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھی تو تیل اور گیس کی دیگر برآمدی راہیں، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو تقویت دیتی ہیں، بھی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
اعلامیے کے اختتام پر یہ نعرہ آپریشن کے ایک اہم تزویراتی پیغام کے طور پر پیش کیا گیا:"خطے سے تیل اور گیس کی برآمد یا سب کے لیے ہوگی یا کسی کے لیے نہیں۔"
حملوں کے اہداف
آپریشن نصر 2 کی پانچ مسلسل لہروں میں بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوج کے متعدد عسکری اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اعلامیوں کے مطابق اہم اہداف درج ذیل تھے:
- بحرین میں امریکی اسلحہ سپورٹ گودام۔
- الجفیر فوجی اڈے کا سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز۔
- بحرین میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہ۔
- شیخ عیسیٰ فوجی اڈے میں اسلحہ، بحری جہازوں اور فوجی طیاروں کی دیکھ بھال کے ہینگرز۔
- کویت کے علی السالم فوجی اڈے پر MQ-9 ڈرونز کی تعیناتی کا ریمپ۔
- کویت کے مینا عبداللہ میں امریکی فوج کا مرکزی رسد و سپورٹ مرکز۔
- بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کا NSI مینجمنٹ سینٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، فوجی پرزہ جات کے گودام اور ایندھن کے ذخائر۔
نتائج و اثرات
آپریشن نصر 2 محض ایک وقتی فوجی جوابی کارروائی نہیں تھا، بلکہ اس نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تصادم کا دائرہ ایران کی سرزمین سے نکل کر خلیج فارس میں موجود ریاستہائے متحدہ امریکہ کے فوجی اڈوں تک منتقل ہو چکا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے کئی تزویراتی کامیابیاں بیان کی گئیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں:
علاقائی بازدارندگی کا فروغ: بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے سے یہ پیغام دیا گیا کہ ایران کے فوجی مراکز اور بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کا براہِ راست جواب خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر دیا جا سکتا ہے۔ امریکی لاجسٹک نیٹ ورک پر دباؤ: اسلحہ گوداموں، مواصلاتی مراکز، ایندھن کے ذخائر اور رسد و سپورٹ کے مراکز پر حملوں نے امریکی افواج کی لاجسٹک صلاحیت کو خطرے سے دوچار کیا اور یہ ظاہر کیا کہ خطے میں امریکہ کا سپورٹ نیٹ ورک میزائل اور ڈرون حملوں کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے۔ فوجی کارروائیوں کو توانائی کے معاملات سے جوڑنا: سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے تیسرے سے پانچویں مرحلے تک جاری کیے گئے اپنے اعلامیوں میں امریکی جارحیت کے تسلسل کو آبنائے ہرمز اور خطے سے تیل و گیس کی برآمدات کی صورتحال سے منسلک کیا، جس کے ذریعے بازدارندگی کی حکمتِ عملی میں اقتصادی اور توانائی کے پہلو کو بھی شامل کیا گیا۔ بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کے درمیان ہم آہنگی کا مظاہرہ: تیسرے اور پانچویں مرحلے میں بیک وقت میزائل اور ڈرون حملوں کا نفاذ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کے درمیان مؤثر عملیاتی ہم آہنگی اور ایران کی مشترکہ عسکری کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافے کی علامت قرار دیا گیا۔ جوابی حکمتِ عملی کا استحکام: پانچ مسلسل مراحل میں کارروائیوں کے تسلسل نے یہ ظاہر کیا کہ ایران کا ردِعمل صرف ایک علامتی اقدام تک محدود نہیں، بلکہ اگر امریکی حملے جاری رہیں تو یہ مرحلہ وار اور بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔
ردِ عمل
سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی
سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے مسلسل اعلامیے جاری کرتے ہوئے **آپریشن نصر ۲** کی مختلف لہروں کی تفصیلات بیان کیں اور اعلان کیا کہ یہ حملے جنوبی ایران کے خلاف امریکی فوج کی جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
ان اعلامیوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جب تک امریکہ اپنی دشمنانہ کارروائیاں بند نہیں کرتا، جوابی آپریشن بھی جاری رہیں گے۔
علاقائی ذرائع ابلاغ
خطے کے ذرائع ابلاغ اور بعض عرب خبر رساں اداروں نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو نمایاں طور پر نشر کیا اور انہیں خلیج فارس کے خطے میں امریکی فوجی مراکز کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کی براہِ راست اور وسیع ترین کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ
سپاہ کے اعلامیوں کے اجرا کے ابتدائی گھنٹوں میں امریکی حکام نے ممکنہ نقصانات کی تفصیلات کے بارے میں محدود سرکاری مؤقف اختیار کیا، تاہم ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ خلیج فارس میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ہائی الرٹ کی سطح بڑھا دی گئی۔
متعلقہ تلاشیں
- امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ (2026)
- سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی
- آپریشن نصر 1
- آبنائے ہرمز
- بحرین
- کویت
حوالہ جات
- ↑ موج دوم عملیات نصر ۲،حمله به مرکز ارتباطات ماهوارهای و اقامتگاه نیروهای آمریکایی در بحرین-شائع شدہ از: 14 جولائی 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 25 جولائی 2026ء
- ↑ سورۂ آلِ عمران، آیت 126
- ↑ موج سوم عملیات نصر ۲ سپاه اجرا شد-شائع شدہ از: 15 جولائی 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جولائی 2026ء
- ↑ موج چهارم حملات نصر۲؛ عملیات شدید ایران | مرکزKJL ارتش آمریکا در غرب آسیا به آتش کشیده شد-شائع شدہ از: 15 جولائی 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جولائی 2026ء
- ↑ اطلاعیه شماره ۱۲ عملیات نصر ۲ سپاه | صادرات نفت و گاز منطقه یا برای همه یا برای هیچکس-شائع شدہ از: 15 جولائی 2026ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 جولائی 2026ء