مندرجات کا رخ کریں

"شاہ عبد اللطیف بھٹائی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«'''شاہ عبد اللطیف بھٹائی'''، سن 1101 ہجری میں وادیِ مہران کے تاریخی شہر ہالہ میں عراق سے آکر بسنے والے سادات گھرانے میں وہ چراغ روشن ہوا جسے دنیا شاہ عبداللطیف بھٹائی کے نام سے جانتی ہے۔ == سوانح عمری == شاہ عبداللطیف بھٹائی کا شمار بارہویں صدی ہج...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
سطر 45: سطر 45:
ادھر ’ہالا‘ میں شاہ لطیف کی روحانیت کے چرچے عام ہوگئے اور لوگ بڑی تعداد میں ان کے ارادت مندوں میں شامل ہونے لگے۔ ازداواجی زندگی میں منسلک ہونے کے بعدآپ نے کوٹری سے چار پانچ کوس دور ایک پُر فضا لیکن غیر آباد جگہ کو اپنا مسکن بنایا، اِسی جگہ کو اب ’ بھٹ شاہ‘کہا جاتا ہے ۔
ادھر ’ہالا‘ میں شاہ لطیف کی روحانیت کے چرچے عام ہوگئے اور لوگ بڑی تعداد میں ان کے ارادت مندوں میں شامل ہونے لگے۔ ازداواجی زندگی میں منسلک ہونے کے بعدآپ نے کوٹری سے چار پانچ کوس دور ایک پُر فضا لیکن غیر آباد جگہ کو اپنا مسکن بنایا، اِسی جگہ کو اب ’ بھٹ شاہ‘کہا جاتا ہے ۔


شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے ایک بہترین شاعر ثابت ہوئے،آپ نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ سندھی زبان میں آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا، اس زبان کو آپ نے اپنے افکارِ جلیلہ کے ذریعہ منصب اولیٰ تک پہنچا دیا اوریہ زبان زندہ جاوید ہو گئی۔  
شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے ایک بہترین شاعر ثابت ہوئے،آپ نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ سندھی زبان میں آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا، اس زبان کو آپ نے اپنے افکارِ جلیلہ کے ذریعہ منصب اولیٰ تک پہنچا دیا اوریہ زبان زندہ جاوید ہو گئی۔  


آپ کی جدت، ندرت اور اندازِ بیان نے لوگوں کو مسخر کر دیا۔ آپ نے عملی طور پر یہ بات ثابت کی کہ سندھی اور عربی زبان کا ایک ہی مشن ہے کہ اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کی جائے۔
آپ کی جدت، ندرت اور اندازِ بیان نے لوگوں کو مسخر کر دیا۔ آپ نے عملی طور پر یہ بات ثابت کی کہ سندھی اور عربی زبان کا ایک ہی مشن ہے کہ اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کی جائے۔
== مجموعہ کلام  شاہ جو رسالو ==  
== مجموعہ کلام  شاہ جو رسالو ==  
شاہ صاحب کے مجموعہ کلام ’شاہ جو رسالو‘ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کو علم سے بخوبی واقفیت تھی، شاہ صاحب کے زمانے میں سندھ میں فارسی اور عربی کا دور دورہ تھا اور شاہ صاحب کو سندھی کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور متعدد علاقائی زبانوں میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی اور ان زبانوں کے ادب سے بھی واقفیت تھی۔
شاہ صاحب کے مجموعہ کلام ’شاہ جو رسالو‘ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کو علم سے بخوبی واقفیت تھی، شاہ صاحب کے زمانے میں سندھ میں فارسی اور عربی کا دور دورہ تھا اور شاہ صاحب کو سندھی کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور متعدد علاقائی زبانوں میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی اور ان زبانوں کے ادب سے بھی واقفیت تھی۔

نسخہ بمطابق 16:59، 13 جولائی 2026ء

شاہ عبد اللطیف بھٹائی، سن 1101 ہجری میں وادیِ مہران کے تاریخی شہر ہالہ میں عراق سے آکر بسنے والے سادات گھرانے میں وہ چراغ روشن ہوا جسے دنیا شاہ عبداللطیف بھٹائی کے نام سے جانتی ہے۔

سوانح عمری

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا شمار بارہویں صدی ہجری کے عظیم صوفی بزرگوں میں ہوتا ہے۔ آپ کی پیدائش 1101ہجری مطابق 1689سن عیسوی میں ہالا حویلی ضلع مٹیاری سندھ پاکستان میں ہوئی [1]۔

آپ کے والد گرامی کا نام سید حبیب شاہ ہے۔ان کا شمار بھی اپنے زمانے کے برگزیدہ بندوں میں ہوتا تھا۔ سید حبیب شاہ ہالا حویلی، سندھ میں رہتے تھے لیکن شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ولادت کے کچھ ہی دن بعد اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر کوٹری میں آکر رہنے لگے [2]۔

تعلیم

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ محترم سید حبیب شاہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد پانچ سال کی عمر میں آخوند نور محمد کی مشہور درسگاہ میں تحصیل علم کے لئے بھیج دیا گیا جس کے سربراہ نور محمد صاحب تھے اور ان سے آپ نے مزید علوم وفنون کی تعلیم حاصل کی [3]۔

آپ کو نہ صرف اپنی زبان پر عبور حاصل تھا بلکہ عربی، فارسی، ہندی اور دوسری علاقائی زبانوں میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام کی اثر آفرینی ہر سننے والے کو مسحور کردیتی ہے [4]۔

تبلیغی سرگرمیاں

آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل چل کر سفر کرتے اور راستے میں جتنے بھی گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا تو اس کو دین کی دعوت دیا کرتے۔ آپ نے سندھ کے کئی علاقے پیدل گھومے اور لوگوں میں علمی جواہر لُٹائے [5]۔

آپ کے کلام کا مجموعہ ”شاہ جو رسالو“ کے نام سے مشہور ہے جو کہ نہایت عقیدت واخلاص کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔

آپ نے عبادت و ریاضت کے لئے جنگل میں ایک ایسی جگہ کا انتخاب کیا جو ایک ٹیلے کی شکل میں تھی اور چاروں طرف سے خاردار جھاڑیوں سے گھری ہوئی تھی۔ چونکہ سندھی زبان میں چونکہ ٹیلے کو ”بھٹ“ کہا جاتا ہے اس لئے آپ بھٹائی کہلائے[6]۔

وفات

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے 63 سال کی عمر میں 14 صفر المظفر 1165سن ہجری مطابق 1752سن عیسوی میں بھٹ شاہ ضلع مٹیاری میں وصال فرمایا اور وہیں آپ کا مزارِ پُرانوار موجود ہے [7]۔

آپ کا عرس ہر سال نہایت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اور لاکھوں عقیدت مند پاکستان کے کونے کونے سے حاضر ہوکر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور روحانی فیض پاتے ہیں[8]۔

سرزمین سندھ میں تصوف کی جڑیں خاصی پرانی اور گہری ہیں

اسلام نے جو دینی اور دنیوی نعمتیں اپنے ماننے والوں کو بخشیں ان کے حصول میں بھی سرزمین سندھ کا خطہ سب سے پیش پیش رہا۔صوبہ سندھ کی سر زمین صوفیا ئے عظام اور اولیائے کرام کی سرزمین ہے اور اِن بزرگ ہستیوں نے اپنی تعلیمات، اپنی شاعری سے ہمیشہ امن و محبت کا درس دیا ہے ۔

سرزمین سندھ میں تصوف کی جڑیں خاصی پرانی اور گہری ہیں۔ سندھ کی صوفیانہ روایت کی قدامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خطہ سندھ کو صوفیا کا علاقہ کہا جاتا ہے۔

یہ علاقہ متعدد عظیم صوفیا اور پیرانِ طریقت کا مرکز ِارشاد رہا ہے جہاں ان صوفیا نے امن و بھائی چارے کی تعلیم دی۔عوامی روایت کے بموجب سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں واقع مکلی قبرستان125000صوفیا کی آخری آرام گاہ ہے۔ان صوفیا کے سندھ میں طویل قیام کے باعث سندھی زبان کا صوفی ادب بھی خاصا مضبوط اور توانا ہے۔

بعض محققین کے مطابق سندھ میں تصوف کے اصل بانی تیرہویں صدی عیسوی کے بزرگ خواجہ عثمان مروندی تھے جو’ لعل شہباز‘ کے نام سے معروف ہیں۔ ان محققین کا خیال ہے کہ سندھ میں تصوف ہرات، قندھاراور ملتان کے راستوں سے پہنچا۔

اٹھارویں صدی عیسوی میں سندھی تصوف اپنے عروج پر تھا جس کے واضح اثرات شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور سچل سرمست درازائی، شاہ عنایت جیسے صوفیا کی شاعری میں ملتا ہے۔

شاعری

اس سرزمین کے نامور مشہور صوفی شاعرشاہ عبد اللطیف بھٹائی بھی ہیں جن کا شہرت کا ڈنکا نہ صرف سرزمین سندھ بلکہ زمانے بھر میں بج رہا ہے۔ آپ’ہالا‘ کو خیرآباد کہہ کر’کوٹری ‘میں آکر مقیم ہوئے، ہالا، حویلی بھٹ سے نو کوس (ایک کوس تین ہزار گز یعنی 2743.2میٹر کے برابر ہوتا ہے) اور کوٹری سے چار میل دور ہے۔

سلسلہ نسب

آپ کا سلسلۂ نسب مولائے کائنات سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت کے کچھ دنوں بعد ان کے والد اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر کوٹری میں رہنے لگے۔ پانچ سال کی عمر میں شاہ لطیف کو آخوند نور محمد کی درس گاہ میں تحصیل علم کے لیے بھیجا گیا۔

لیکن انھوں نے ’الف‘ سے آگے ’ب‘اور اس کے بعد کے الفاظ پڑھنے سے انکار کردیا۔ایسی ایک حکایت بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی صداقت کہیں سے نظر نہیں آتی۔آپ کا تمام علوم سے واقف ہونے کا سب سے بڑا ثبوت آپ کا مجموعہ کلام ہی ہے جس میں عربی اور فارسی کا استعمال بڑے سلیقے سے کیا گیا ہے ۔

سن شعور کو پہنچے تو وہ جوہر قابل بھی نمایاں ہونے لگا جو شاعرانہ مزاج کو نئی تب وتاب عطا کرنے کے لیے قدرت کی طرف سے ودیعت کیا گیا تھاپھر ایک واقعہ نے شاعرانہ مزاج کو جو سوز وساز بخشا ، وہ بھی کسی نئے ذہنی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔

آپ کو سندھی زبان سے گہری انسیت تھی۔صحرا نوردی سے فارغ ہوکر ٹھٹھہ جا پہنچے۔وہاں ایک صوفی بزرگ مخدوم محمد معین ٹھٹھوی علیہ الرحمۃ سے ملاقات ہوئی۔ان کی صحبت نے شاہ صاحب کے دل میں عبادت الٰہی،ریاضت کی لگن، اولیاء اللہ سے محبت، والدین کی اطاعت، انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔

اسی جذبے نے شاہ صاحب کو والد کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ اپنے والد سے ملے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ ادھر ’ہالا‘ میں شاہ لطیف کی روحانیت کے چرچے عام ہوگئے اور لوگ بڑی تعداد میں ان کے ارادت مندوں میں شامل ہونے لگے۔ ازداواجی زندگی میں منسلک ہونے کے بعدآپ نے کوٹری سے چار پانچ کوس دور ایک پُر فضا لیکن غیر آباد جگہ کو اپنا مسکن بنایا، اِسی جگہ کو اب ’ بھٹ شاہ‘کہا جاتا ہے ۔

شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے ایک بہترین شاعر ثابت ہوئے،آپ نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ سندھی زبان میں آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا، اس زبان کو آپ نے اپنے افکارِ جلیلہ کے ذریعہ منصب اولیٰ تک پہنچا دیا اوریہ زبان زندہ جاوید ہو گئی۔

آپ کی جدت، ندرت اور اندازِ بیان نے لوگوں کو مسخر کر دیا۔ آپ نے عملی طور پر یہ بات ثابت کی کہ سندھی اور عربی زبان کا ایک ہی مشن ہے کہ اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کی جائے۔

مجموعہ کلام شاہ جو رسالو

شاہ صاحب کے مجموعہ کلام ’شاہ جو رسالو‘ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کو علم سے بخوبی واقفیت تھی، شاہ صاحب کے زمانے میں سندھ میں فارسی اور عربی کا دور دورہ تھا اور شاہ صاحب کو سندھی کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور متعدد علاقائی زبانوں میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی اور ان زبانوں کے ادب سے بھی واقفیت تھی۔

شاہ صاحب کے مجموعہ کلام میں عربی اور فارسی کا استعمال بڑے سلیقے سے کیا گیا ہے، نوجوانی میں اس زمانے کے انقلابات نے بھی شاہ عبدللطیف کو بہت متأثر کیا۔شاہ صاحب کے کلام میں محبت، وحدت اور اخوت کا پیغام ہے، شاہ صاحب کا مطالعہ اتنا گہراتھا کہ اپنے آس پاس جو دیکھا، جو محسوس کیا اسے اپنے شعر کے قالب میں ڈھال لیا۔

شاہ صاحب نے اپنی شاعری میں انسان کو مالک حقیقی کی یاد دلائی ہے۔’ شاہ جو رسالو ‘شاہ عبدالطیف بھٹائی کی صوفیانہ شاعری کا مجموعہ ہے جسے ایک روایت کے مطابق شاہ صاحب نے کرار جھیل کے کنارے بیٹھ کر لکھا ہے۔

شاہ جو رسالو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ کی سرزمین پر قرآن و حدیث کے بعد اسے سب سے زیادہ مانا جاتا ہے، شاہ جو رسالو میں اشعار اس طرح کہے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کہ شاعر نے ان اشعار کو روحانی وجد کی حالت میں گایا ہے۔

آپ کی شاعرانہ حیثیت بھی شہرت ِ دوام کی حامل ہے ،بالجملہ بحیثیت ایک انسان حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ انتہائی سادگی پسند ، پاک طینت ، سنجیدہ ، بردبار ، حلیم اور منکسر المزاج تھے۔

ہمدردی وایثار، بے لوث رواداری وسیع الخیالی ، خوش آئند دور اندیشی ، مشفقانہ رحم دِلی اور ایسی ہی متعدد خوبیاں آپ کی سیرت کو ’ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری ‘‘ کی حدوں سے ملاتی ہیں ۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی علیہ الرحمۃ کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں 14 صفر 1165ھ بمطابق 1176 عیسوی کو بھٹ شاہ میں ہوا۔ اس زمانے کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو نے شاہ صاحب کے مزار پر ایک دیدہ زیب مقبرہ تعمیر کروایا جو سندھی تعمیرات کا ایک شاہکار ہے۔

شاہ صاحب کی دینی اور ملی خدمات اور آپ کے کلام پر آج پاکستان بھر کی جامعا ت میں تحقیقی مقالات تحریر کیے جارہے ہیں۔ جو کہ آپ کی شہرت کا منہ بولتا ثبوت ہے[9]۔

  1. تذکرہ صوفیائے سندھ، ص 175
  2. تذکرہ اولیائے سندھ، ص 196
  3. تذکرۂ عبداللطیف بھٹائی، ص 25
  4. تذکرۂ عبداللطیف بھٹائی، ص 25
  5. تذکرۂ عبداللطیف بھٹائی، ص 33
  6. تذکرہ اولیائے پاکستان، ص162
  7. تذکرہ سید عبداللطیف بھٹائی، ص41
  8. محمد عمر فیاض عطاری مدنی ، سیرتِ حضرت سیدنا شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ-شائع شدہ از: 19 اگست 2024ء
  9. حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ-اخذ شدہ بہ تاریخ: 12جولائی 2026ء