مندرجات کا رخ کریں

"خواجہ نظام الملک" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 26: سطر 26:
وہ خراسان کے حکمران کے دربار میں داخل ہوئے تھے اور خدمت انجام دیتے تھے۔ ان کے خاندان کا اصل مسکن بھی بیهق تھا، لیکن ابوالحسن علی کو دیوانی ملازمتوں میں ترقی کرنے کے بعد علاقہ طوس میں سرکاری املاک کی انتظامیہ کا انچارج مقرر کیا گیا تھا اور وہیں وہ مقیم ہوئے اور شادی کر لی تھی اور ان کے تین بیٹے طوس میں پیدا ہوئے تھے جن میں سب سے بڑے یہی حسن یعنی بعد کے نظام‌الملک تھے۔
وہ خراسان کے حکمران کے دربار میں داخل ہوئے تھے اور خدمت انجام دیتے تھے۔ ان کے خاندان کا اصل مسکن بھی بیهق تھا، لیکن ابوالحسن علی کو دیوانی ملازمتوں میں ترقی کرنے کے بعد علاقہ طوس میں سرکاری املاک کی انتظامیہ کا انچارج مقرر کیا گیا تھا اور وہیں وہ مقیم ہوئے اور شادی کر لی تھی اور ان کے تین بیٹے طوس میں پیدا ہوئے تھے جن میں سب سے بڑے یہی حسن یعنی بعد کے نظام‌الملک تھے۔


جب حسن سنِ تعلیم کو پہنچے تو علوم کے مقدمات حاصل کیے۔ جیسے ہی تقریباً بیس سال کی عمر میں انہوں نے [[فقہ]] اور [[حدیث]] اور دیگر علوم شرعیہ اور فنون ادبی کی تحصیل سے فراغت پائی اور ایک فاضل عالم اور توانا دبیر بن گئے، تو دیوانی امور میں مشغول ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ کی پرورش ایک دہقان کے گھر میں ہوئی۔
جب حسن سنِ تعلیم کو پہنچے تو علوم کے مقدمات حاصل کیے۔ جیسے ہی تقریباً بیس سال کی عمر میں انہوں نے فقہ اور حدیث اور دیگر علوم شرعیہ اور فنون ادبی کی تحصیل سے فراغت پائی اور ایک فاضل عالم اور توانا دبیر بن گئے، تو دیوانی امور میں مشغول ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ کی پرورش ایک دہقان کے گھر میں ہوئی۔


سیاسی قاموس میں دہقان، بعد کے ادوار کے برعکس جب کہ عموماً زمین ہی کاشتکاروں کے لیے کہا جاتا تھا، خواجہ کے زمانے اور اس سے قبل نسب اور مقامی بزرگ زادگی کی علامت تھا۔ ساسانیوں کے دور میں دہقان مقامی مالک تھے جو سماجی اور اقتصادی ترتیب اور نیز قدرت کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ دہقانان یہی مفہوم لے کر [[اسلام]] کی ابتدائی صدیوں میں منتقل ہوئے۔
سیاسی قاموس میں دہقان، بعد کے ادوار کے برعکس جب کہ عموماً زمین ہی کاشتکاروں کے لیے کہا جاتا تھا، خواجہ کے زمانے اور اس سے قبل نسب اور مقامی بزرگ زادگی کی علامت تھا۔ ساسانیوں کے دور میں دہقان مقامی مالک تھے جو سماجی اور اقتصادی ترتیب اور نیز قدرت کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ دہقانان یہی مفہوم لے کر [[اسلام]] کی ابتدائی صدیوں میں منتقل ہوئے۔


خواجہ ۲۱ سال کی عمر میں غزنوی سلطنت کے زوال اور سلجوقی ترکمانوں کے خراسان پر حملے کے وقت سلجوقیوں کی خدمت میں داخل ہوئے۔ ۴۳۲ ہجری میں دندانقان میں مسعود کی شکست کے بعد خواجہ [[ماوراء النهر|ماوراء‌النہر]] میں سلجوقی دربار سے جا ملے لیکن ابن شاذان عمید بلخ کی طرف سے جو اذیتیں انہیں پہنچیں اس کے بعد وہ مرو چلے گئے اور چغری بیگ کے دربار سے منسلک ہو گئے اور ۱۰ سال تک یعنی ۴۴۴ ہجری تک ان کی خدمت میں رہے۔
خواجہ ۲۱ سال کی عمر میں غزنوی سلطنت کے زوال اور سلجوقی ترکمانوں کے خراسان پر حملے کے وقت سلجوقیوں کی خدمت میں داخل ہوئے۔ ۴۳۲ ہجری میں دندانقان میں مسعود کی شکست کے بعد خواجہ ماوراء النهر میں سلجوقی دربار سے جا ملے لیکن ابن شاذان عمید بلخ کی طرف سے جو اذیتیں انہیں پہنچیں اس کے بعد وہ مرو چلے گئے اور چغری بیگ کے دربار سے منسلک ہو گئے اور ۱۰ سال تک یعنی ۴۴۴ ہجری تک ان کی خدمت میں رہے۔


صرف سلجوقی ہی تھے جنہوں نے اپنے متصرفات کی توسیع کے ذریعے ایران کی قومی وحدت کو ممکن بنایا۔ طغرل بیگ نے ری کو اپنا دارالحکومت بنایا اور پانچویں صدی کے وسط میں [[بغداد]] پر قبضے کے ذریعے اپنی سلطنت کو سلطنت کے روحانی قدرت کے مرکز تک پھیلا دیا اور آل بویہ کا بغداد میں خلافت سے ہاتھ کھینچوا لیا۔
صرف سلجوقی ہی تھے جنہوں نے اپنے متصرفات کی توسیع کے ذریعے ایران کی قومی وحدت کو ممکن بنایا۔ طغرل بیگ نے ری کو اپنا دارالحکومت بنایا اور پانچویں صدی کے وسط میں بغداد پر قبضے کے ذریعے اپنی سلطنت کو سلطنت کے روحانی قدرت کے مرکز تک پھیلا دیا اور آل بویہ کا بغداد میں خلافت سے ہاتھ کھینچوا لیا۔


سلجوقیوں کے پاس اپنے وسیع متصرفات کی انتظامیہ کے لیے دانش اور تجربے کا فقدان تھا اور انہیں مجبوراً ایرانی دانشوروں اور تجربہ کار کارگزاروں کو خدمت میں لینا پڑا جن کی سربراہی میں خواجہ نظام‌الملک تھے، جنہوں نے دو مقتدر سلجوقی بادشاہوں کی وزارت قبول کر کے عملی اور نظریاتی طور پر ایران کی سیاسی اور قومی وحدت کے مرکزیت کی کوشش کی۔
سلجوقیوں کے پاس اپنے وسیع متصرفات کی انتظامیہ کے لیے دانش اور تجربے کا فقدان تھا اور انہیں مجبوراً ایرانی دانشوروں اور تجربہ کار کارگزاروں کو خدمت میں لینا پڑا جن کی سربراہی میں خواجہ نظام‌الملک تھے، جنہوں نے دو مقتدر سلجوقی بادشاہوں کی وزارت قبول کر کے عملی اور نظریاتی طور پر ایران کی سیاسی اور قومی وحدت کے مرکزیت کی کوشش کی۔


جس دس سالہ دور میں خواجہ چغری بیگ کی خدمت میں تھے، طغرل نے ایران کے مرکزی علاقوں میں لشکر کشی کی اور ۴۵۵ ہجری میں انتقال کر گیا اور چونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا، آلپ ارسلان ان کا جانشین بنا۔ آلپ ارسلان کی بادشاہی میں نظام‌الملک کو سلطنت کی کارروائی کی نگرانی کے لیے کھلا ہاتھ حاصل تھا۔
جس دس سالہ دور میں خواجہ چغری بیگ کی خدمت میں تھے، طغرل نے [[ایران]] کے مرکزی علاقوں میں لشکر کشی کی اور ۴۵۵ ہجری میں انتقال کر گیا اور چونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا، آلپ ارسلان ان کا جانشین بنا۔ آلپ ارسلان کی بادشاہی میں نظام‌الملک کو سلطنت کی کارروائی کی نگرانی کے لیے کھلا ہاتھ حاصل تھا۔


اس کے علاوہ، انہوں نے کافی وقت فوجی امور پر صرف کیا۔ وہ اپنے فرمانروا کے ہمراہ جنگی مہموں میں جاتے تھے اور خود بھی سپاہیوں کی قیادت کر کے جنگوں میں حصہ لیتے تھے، جن میں [[فارس]] کے سفر بھی شامل ہیں جن دونوں جنگوں میں ان کی فتوحات نے ان کی شہرت اور اعتبار میں بہت اضافہ کیا۔
اس کے علاوہ، انہوں نے کافی وقت فوجی امور پر صرف کیا۔ وہ اپنے فرمانروا کے ہمراہ جنگی مہموں میں جاتے تھے اور خود بھی سپاہیوں کی قیادت کر کے جنگوں میں حصہ لیتے تھے، جن میں فارس کے سفر بھی شامل ہیں جن دونوں جنگوں میں ان کی فتوحات نے ان کی شہرت اور اعتبار میں بہت اضافہ کیا۔


خواجہ نظام‌الملک نے تقریباً انتیس سال، سات مہینے اور کچھ عرصہ تک آلپ ارسلان اور ملک شاہ کے تحت وزارت کے فرائض انجام دیے اور ان دو بادشاہوں کے امور کی انتظامیہ، ممالک کی فتح اور مخالفین کے سرکوب کرنے میں ایسی کفایت اور حسن تدبیر کا مظاہرہ کیا کہ حلب سے کاشغر تک ایک وسیع ریاست کو ان کے تحت لا دیا اور ان دو سلاطین کا نام و نشان اس زمانے کے مشرق و مغرب میں جاری کر دیا، یہاں تک کہ آلپ ارسلان اور ملک شاہ کو جو شہرت اور ترقی نصیب ہوئی اس کا بڑا حصہ خواجہ کی دانائی اور کارسازی کی برکت سے تھا۔
خواجہ نظام‌الملک نے تقریباً انتیس سال، سات مہینے اور کچھ عرصہ تک آلپ ارسلان اور ملک شاہ کے تحت وزارت کے فرائض انجام دیے اور ان دو بادشاہوں کے امور کی انتظامیہ، ممالک کی فتح اور مخالفین کے سرکوب کرنے میں ایسی کفایت اور حسن تدبیر کا مظاہرہ کیا کہ حلب سے کاشغر تک ایک وسیع ریاست کو ان کے تحت لا دیا اور ان دو سلاطین کا نام و نشان اس زمانے کے مشرق و مغرب میں جاری کر دیا، یہاں تک کہ آلپ ارسلان اور ملک شاہ کو جو شہرت اور ترقی نصیب ہوئی اس کا بڑا حصہ خواجہ کی دانائی اور کارسازی کی برکت سے تھا۔


انہوں نے ایران کی حکومت کے قلمرو کو اتنا وسیع کر دیا کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور اس علاقے میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں ان کے حکم کی تعمیل میں ذرا سی بھی تاخیر کی جاتی۔
انہوں نے [[ایران]] کی حکومت کے قلمرو کو اتنا وسیع کر دیا کہ [[اسلام]] کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور اس علاقے میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں ان کے حکم کی تعمیل میں ذرا سی بھی تاخیر کی جاتی۔


خواجہ نظام‌الملک بلند ہمت تھے اور انہیں ایران سے محبت تھی اور ہمیشہ وطن کی ترقی اور ایسے مدارس کی تعمیر کے راستے تلاش کرتے رہتے تھے جو ان کے ہم وطنوں کے لیے علم کو دوبارہ رونق بخش سکیں۔
خواجہ نظام‌الملک بلند ہمت تھے اور انہیں ایران سے محبت تھی اور ہمیشہ وطن کی ترقی اور ایسے مدارس کی تعمیر کے راستے تلاش کرتے رہتے تھے جو ان کے ہم وطنوں کے لیے علم کو دوبارہ رونق بخش سکیں۔


[[آلپ ارسلان]] نے خواجہ کو اپنا وزیر منتخب کیا اور انہیں ایک شفقت شعار اور مہربان باپ سمجھتے تھے اور کوئی کام ان کے مشورے کے بغیر نہیں کرتے تھے اور ان کے حکم کی خلاف ورزی پسند نہیں کرتے تھے؛ جب آلپ ارسلان اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے تھے، تو انہوں نے اپنے بیٹے ملک شاہ کو [[وصیت]] کی کہ حکومتی امور کی انتظامیہ میں خواجہ کی رائے کی نافرمانی نہ کرے اور انہیں ایک شفقت شعار اور مہربان باپ جانے، اور ملک شاہ نے بھی یہ قبول کیا اور انہیں وزارت کے عہدے پر برقرار رکھا۔
آلپ ارسلان نے خواجہ کو اپنا وزیر منتخب کیا اور انہیں ایک شفقت شعار اور مہربان باپ سمجھتے تھے اور کوئی کام ان کے مشورے کے بغیر نہیں کرتے تھے اور ان کے حکم کی خلاف ورزی پسند نہیں کرتے تھے؛ جب آلپ ارسلان اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے تھے، تو انہوں نے اپنے بیٹے ملک شاہ کو وصیت کی کہ حکومتی امور کی انتظامیہ میں خواجہ کی رائے کی نافرمانی نہ کرے اور انہیں ایک شفقت شعار اور مہربان باپ جانے، اور ملک شاہ نے بھی یہ قبول کیا اور انہیں وزارت کے عہدے پر برقرار رکھا۔


خواجہ نظام‌الملک نے اپنی وزارت کے دور میں بہت عظیم ثقافتی خدمات انجام دیں کہ بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ میں اس کی سابقہ نہیں ملتی۔ انہوں نے مدارس کی ایجاد اور تاسیس کی جو تاریخ میں ان کے نام سے [[مدارس نظامیہ]] کے نام سے مشہور ہیں۔
خواجہ نظام‌الملک نے اپنی وزارت کے دور میں بہت عظیم ثقافتی خدمات انجام دیں کہ بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ میں اس کی سابقہ نہیں ملتی۔ انہوں نے مدارس کی ایجاد اور تاسیس کی جو تاریخ میں ان کے نام سے مدارس نظامیہ کے نام سے مشہور ہیں۔


یہی وہ مدارس ہیں جو جامعات کے لیے نمونہ بنے اور ان میں سے اہم ترین یہ ہیں:
یہی وہ مدارس ہیں جو جامعات کے لیے نمونہ بنے اور ان میں سے اہم ترین یہ ہیں:


[[بغداد]]، موصل، [[نیشاپور]]، بلخ، ہرات، مرو، [[آمل]]، [[گرگان]]، [[بصرہ]]، [[شیراز]] اور [[اصفہان]] کی نظامیہ۔ جس تحریک کا آغاز نظام‌الملک نے متعدد نظامیہ مدارس کی تعمیر سے کیا، وہ جلد ہی اور حیرت انگیز رفتار سے ایران کے تمام نقاط اور دیگر بہت سے [[اسلامی ممالک]] کے علاقوں میں پھیل گئی، یہاں تک کہ پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں کوئی ایسا شہر نہیں تھا جہاں متعدد مدارس موجود نہ ہوں۔
بغداد، موصل، نیشاپور، بلخ، ہرات، مرو، آمل، گرگان، بصرہ، شیراز اور اصفہان کی نظامیہ۔ جس تحریک کا آغاز نظام‌الملک نے متعدد نظامیہ مدارس کی تعمیر سے کیا، وہ جلد ہی اور حیرت انگیز رفتار سے ایران کے تمام نقاط اور دیگر بہت سے [[عالم اسلام|اسلامی ممالک]] کے علاقوں میں پھیل گئی، یہاں تک کہ پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں کوئی ایسا شہر نہیں تھا جہاں متعدد مدارس موجود نہ ہوں۔


ان مدارس میں ادبیات، ریاضیات، طب اور [[حکمت]]، [[فقہ]]، [[حدیث]]، تفسیر جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے اور نیز تمام مدارس کے پاس معتبر کتاب خانے تھے۔ خواجہ نے حکم دیا کہ ہر کتاب خانے کے لیے کاتب حکیم طوس [[فردوسی]] کی جاودان کلام شاہنامہ کی پانچ نقلیں تیار کریں اور محفوظ رکھیں۔
ان مدارس میں ادبیات، ریاضیات، طب اور حکمت، فقہ، حدیث، تفسیر جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے اور نیز تمام مدارس کے پاس معتبر کتاب خانے تھے۔ خواجہ نے حکم دیا کہ ہر کتاب خانے کے لیے کاتب حکیم طوس فردوسی کی جاودان کلام شاہنامہ کی پانچ نقلیں تیار کریں اور محفوظ رکھیں۔


== ایرانیوں کے لیے ابدی تحائف ==
== ایرانیوں کے لیے ابدی تحائف ==

نسخہ بمطابق 15:01، 16 جون 2026ء

خواجہ نظام الملک
پورا نامابوعلی حسن بن علی بن اسحاق طوسی
دوسرے نامنظام الملک طوسی، خواجہ نظام الملک
ذاتی معلومات
پیدائش408 ق
پیدائش کی جگہایران، خراسان، طوس، نوغان
وفات485 ق
وفات کی جگہکرمانشاه نهاوند
مذہباسلام، شافعیه
اثراتتقویم جلالی سیاست نامہ(یا سیر الملوک)

ابوعلی حسن بن علی بن اسحاق طوسی بن علی بن اسحاق طوسی جو خواجہ نظام الملک طوسی کے نام سے معروف ہیں، دورِ سلجوقیان میں ایران کے دو بادشاہوں کے طاقتور وزیر تھے۔ وہ سلجوقی خاندان کے سب سے طاقتور وزیر تھے اور سلجوقیان بھی ان کے عہد میں عروج پر پہنچے۔ انہوں نے انتیس سال تک سلجوقی کی داخلی اور خارجی سیاست کو سنبھالا۔

خواجہ نظام الملک طوسی سن ۴۰۸ ہجری میں شہر نوقان طوس، خراسان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علی بن اسحاق کا پیشہ دہقانی تھا اور وہ محمود سبک تکین کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ خواجہ نظام الملک نے بھی بچپن میں اپنے والد کے ساتھ دہقانی کی اور اسی دوران ان سے قرآن کا ختم کیا اور اس کے بعد ان کے والد نے انہیں علم و دانش حاصل کرنے اور لغت و نحو سیکھنے پر آمادہ کیا۔

سوانح حیات

نام اصلی خواجه نظام‌الملک، ابوعلی حسن تھا اور ان کے والد کا نام ابوالحسن علی تھا، اور ان کے دادا کا نام علی بن اسحاق بن عباس تھا جو بیهق کے دہقان زادگان میں سے تھے۔ علی بن اسحاق جن کی کنیت ابوالحسن تھی، نویسندگی اور حساب کتاب میں مہارت رکھتے تھے۔

وہ خراسان کے حکمران کے دربار میں داخل ہوئے تھے اور خدمت انجام دیتے تھے۔ ان کے خاندان کا اصل مسکن بھی بیهق تھا، لیکن ابوالحسن علی کو دیوانی ملازمتوں میں ترقی کرنے کے بعد علاقہ طوس میں سرکاری املاک کی انتظامیہ کا انچارج مقرر کیا گیا تھا اور وہیں وہ مقیم ہوئے اور شادی کر لی تھی اور ان کے تین بیٹے طوس میں پیدا ہوئے تھے جن میں سب سے بڑے یہی حسن یعنی بعد کے نظام‌الملک تھے۔

جب حسن سنِ تعلیم کو پہنچے تو علوم کے مقدمات حاصل کیے۔ جیسے ہی تقریباً بیس سال کی عمر میں انہوں نے فقہ اور حدیث اور دیگر علوم شرعیہ اور فنون ادبی کی تحصیل سے فراغت پائی اور ایک فاضل عالم اور توانا دبیر بن گئے، تو دیوانی امور میں مشغول ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ کی پرورش ایک دہقان کے گھر میں ہوئی۔

سیاسی قاموس میں دہقان، بعد کے ادوار کے برعکس جب کہ عموماً زمین ہی کاشتکاروں کے لیے کہا جاتا تھا، خواجہ کے زمانے اور اس سے قبل نسب اور مقامی بزرگ زادگی کی علامت تھا۔ ساسانیوں کے دور میں دہقان مقامی مالک تھے جو سماجی اور اقتصادی ترتیب اور نیز قدرت کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ دہقانان یہی مفہوم لے کر اسلام کی ابتدائی صدیوں میں منتقل ہوئے۔

خواجہ ۲۱ سال کی عمر میں غزنوی سلطنت کے زوال اور سلجوقی ترکمانوں کے خراسان پر حملے کے وقت سلجوقیوں کی خدمت میں داخل ہوئے۔ ۴۳۲ ہجری میں دندانقان میں مسعود کی شکست کے بعد خواجہ ماوراء النهر میں سلجوقی دربار سے جا ملے لیکن ابن شاذان عمید بلخ کی طرف سے جو اذیتیں انہیں پہنچیں اس کے بعد وہ مرو چلے گئے اور چغری بیگ کے دربار سے منسلک ہو گئے اور ۱۰ سال تک یعنی ۴۴۴ ہجری تک ان کی خدمت میں رہے۔

صرف سلجوقی ہی تھے جنہوں نے اپنے متصرفات کی توسیع کے ذریعے ایران کی قومی وحدت کو ممکن بنایا۔ طغرل بیگ نے ری کو اپنا دارالحکومت بنایا اور پانچویں صدی کے وسط میں بغداد پر قبضے کے ذریعے اپنی سلطنت کو سلطنت کے روحانی قدرت کے مرکز تک پھیلا دیا اور آل بویہ کا بغداد میں خلافت سے ہاتھ کھینچوا لیا۔

سلجوقیوں کے پاس اپنے وسیع متصرفات کی انتظامیہ کے لیے دانش اور تجربے کا فقدان تھا اور انہیں مجبوراً ایرانی دانشوروں اور تجربہ کار کارگزاروں کو خدمت میں لینا پڑا جن کی سربراہی میں خواجہ نظام‌الملک تھے، جنہوں نے دو مقتدر سلجوقی بادشاہوں کی وزارت قبول کر کے عملی اور نظریاتی طور پر ایران کی سیاسی اور قومی وحدت کے مرکزیت کی کوشش کی۔

جس دس سالہ دور میں خواجہ چغری بیگ کی خدمت میں تھے، طغرل نے ایران کے مرکزی علاقوں میں لشکر کشی کی اور ۴۵۵ ہجری میں انتقال کر گیا اور چونکہ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا، آلپ ارسلان ان کا جانشین بنا۔ آلپ ارسلان کی بادشاہی میں نظام‌الملک کو سلطنت کی کارروائی کی نگرانی کے لیے کھلا ہاتھ حاصل تھا۔

اس کے علاوہ، انہوں نے کافی وقت فوجی امور پر صرف کیا۔ وہ اپنے فرمانروا کے ہمراہ جنگی مہموں میں جاتے تھے اور خود بھی سپاہیوں کی قیادت کر کے جنگوں میں حصہ لیتے تھے، جن میں فارس کے سفر بھی شامل ہیں جن دونوں جنگوں میں ان کی فتوحات نے ان کی شہرت اور اعتبار میں بہت اضافہ کیا۔

خواجہ نظام‌الملک نے تقریباً انتیس سال، سات مہینے اور کچھ عرصہ تک آلپ ارسلان اور ملک شاہ کے تحت وزارت کے فرائض انجام دیے اور ان دو بادشاہوں کے امور کی انتظامیہ، ممالک کی فتح اور مخالفین کے سرکوب کرنے میں ایسی کفایت اور حسن تدبیر کا مظاہرہ کیا کہ حلب سے کاشغر تک ایک وسیع ریاست کو ان کے تحت لا دیا اور ان دو سلاطین کا نام و نشان اس زمانے کے مشرق و مغرب میں جاری کر دیا، یہاں تک کہ آلپ ارسلان اور ملک شاہ کو جو شہرت اور ترقی نصیب ہوئی اس کا بڑا حصہ خواجہ کی دانائی اور کارسازی کی برکت سے تھا۔

انہوں نے ایران کی حکومت کے قلمرو کو اتنا وسیع کر دیا کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور اس علاقے میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں ان کے حکم کی تعمیل میں ذرا سی بھی تاخیر کی جاتی۔

خواجہ نظام‌الملک بلند ہمت تھے اور انہیں ایران سے محبت تھی اور ہمیشہ وطن کی ترقی اور ایسے مدارس کی تعمیر کے راستے تلاش کرتے رہتے تھے جو ان کے ہم وطنوں کے لیے علم کو دوبارہ رونق بخش سکیں۔

آلپ ارسلان نے خواجہ کو اپنا وزیر منتخب کیا اور انہیں ایک شفقت شعار اور مہربان باپ سمجھتے تھے اور کوئی کام ان کے مشورے کے بغیر نہیں کرتے تھے اور ان کے حکم کی خلاف ورزی پسند نہیں کرتے تھے؛ جب آلپ ارسلان اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے تھے، تو انہوں نے اپنے بیٹے ملک شاہ کو وصیت کی کہ حکومتی امور کی انتظامیہ میں خواجہ کی رائے کی نافرمانی نہ کرے اور انہیں ایک شفقت شعار اور مہربان باپ جانے، اور ملک شاہ نے بھی یہ قبول کیا اور انہیں وزارت کے عہدے پر برقرار رکھا۔

خواجہ نظام‌الملک نے اپنی وزارت کے دور میں بہت عظیم ثقافتی خدمات انجام دیں کہ بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ میں اس کی سابقہ نہیں ملتی۔ انہوں نے مدارس کی ایجاد اور تاسیس کی جو تاریخ میں ان کے نام سے مدارس نظامیہ کے نام سے مشہور ہیں۔

یہی وہ مدارس ہیں جو جامعات کے لیے نمونہ بنے اور ان میں سے اہم ترین یہ ہیں:

بغداد، موصل، نیشاپور، بلخ، ہرات، مرو، آمل، گرگان، بصرہ، شیراز اور اصفہان کی نظامیہ۔ جس تحریک کا آغاز نظام‌الملک نے متعدد نظامیہ مدارس کی تعمیر سے کیا، وہ جلد ہی اور حیرت انگیز رفتار سے ایران کے تمام نقاط اور دیگر بہت سے اسلامی ممالک کے علاقوں میں پھیل گئی، یہاں تک کہ پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں کوئی ایسا شہر نہیں تھا جہاں متعدد مدارس موجود نہ ہوں۔

ان مدارس میں ادبیات، ریاضیات، طب اور حکمت، فقہ، حدیث، تفسیر جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے اور نیز تمام مدارس کے پاس معتبر کتاب خانے تھے۔ خواجہ نے حکم دیا کہ ہر کتاب خانے کے لیے کاتب حکیم طوس فردوسی کی جاودان کلام شاہنامہ کی پانچ نقلیں تیار کریں اور محفوظ رکھیں۔

ایرانیوں کے لیے ابدی تحائف

  • سب سے پہلے حکم دیا کہ خورشیدی تقویم ترتیب دی جائے تاکہ قمری تقویم کو ختم کیا جا سکے۔
  • دوسرا یہ کہ حکم دیا کہ دانشمند فردوسی کی کتاب شاهنامه فردوسی ہزاروں بار نقل کی جائے تاکہ ایرانیوں کی زبان بچائی جا سکے۔
  • تیسرا نظامیہ یونیورسٹیوں کا قیام تھا جو آج کی یونیورسٹیوں کی جڑ اور بنیاد ہے۔

خواجہ نظام الملک نے یونیورسٹیوں کی تعمیر کے علاوہ، آب انبار، حمام، بازار اور ہسپتالوں جیسی بہت سی دیگر خدمات عالم کو پیش کیں اور پانچویں صدی کو اسلام کے ثقافتی لحاظ سے سب سے پھلتی پھولتی صدیوں میں تبدیل کر دیا۔

حکومت داری کا نقطہ نظر اور طریقہ کار

خواجہ نظام الملک نے کتاب سیاست نامہ میں ساسانی دور کی حکومت کی مانند متحدہ حکومت کے نمونے کی حمایت کی، اور اسلام کے بعد کی ریاستوں نے اس ریاست سے نقل کیا جیسے بوییان، سامانیان اور یہاں تک کہ غزنویان نے ایک مثالی نظام کے نمونے کے طور پر دفاع کیا۔

وہ اس دور کے جاگیردارانہ رجحان کا سخت دشمن تھا جو اس کی نظر میں ملک کی پراکندگی کا باعث بنتا تھا، اگرچہ خود زمینوں کے پھیلاؤ میں اپنے دور کے سب سے بڑے زمینداروں سے بازی لے جاتا تھا۔

وہ غز سرداروں کا سخت دشمن تھا جو اپنے لیے مرکزی حکومت کی نظر سے دور ایک خود مختار علاقہ چاہتے تھے اور اس نے جہاں تک ہو سکا شاہی خاندان اور ان سے متعلق ترکوں کی طاقت کو روکنے کی کوشش کی اور اسی راستے میں انہی کے دباؤ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

خواجہ نظام الملک سنی اور شافعی مذہب کا پیروکار تھا۔ مورخین خواجہ نظام الملک کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہیں جو آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے تھے اور ہمیشہ مذہبی علماء کی محفلوں میں موجود رہتے تھے۔ مشہور ہے کہ خواجہ جب بھی اذان کی آواز سنتے تھے جو بھی کام کر رہے ہوتے تھے چھوڑ دیتے تھے اور نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے اور اگر موذن اذان کہنے میں سستی کرتا تو اسے تنبیہ کرتے تھے۔ خواجہ کے دور میں ایران میں نعمتوں کی فراوانی کا عروج تھا یہاں تک کہ ایک سیاح کہتا ہے کہ ایران میں روٹی کثرت سے اور سستے داموں ملتی تھی، جبکہ اس وقت پاپ اربن کے قول کے مطابق اروپا کے لوگ بھوک سے ایک دوسرے کے پیٹ پھاڑ رہے تھے۔

خواجہ جهاد کو بھی سنجیدگی سے لیتے تھے یہاں تک کہ سلجوقی حکومت مشرق میں آج کے چین کے شہر کاشغر تک اور مغرب میں آج کے ترکیه کے ایشیائی حصے کے آخر تک پھیل گئی تھی اور ان کی بحریہ نے بیزانس سلطنت کے شہر کو شدید خطرہ بنایا ہوا تھا۔

خواجہ نظام الملک طوسی کے آثار

وہ کتاب سیاست نامه (سیر الملوک) کے مصنف ہیں۔ یہ اثر ہبرٹ ڈارک کی تصحیح کے ساتھ ادارہ ترجمہ و نشر کتاب نے سال ۱۳۴۰ میں ۳۷۲ صفحات میں شائع کیا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے تقویم جلالی کی ترتیب میں خیام جیسے سائنسدانوں کے ساتھ تعاون کیا، یہ تقویم سن ۴۵۱ ہجری میں مکمل ہوا۔

اس کے علاوہ بغداد کی جامعہ نظامیہ جو امام محمد غزالی اس کے اساتذہ میں سے تھے، ان کے حکم سے قائم ہوئی۔ نظامیہ کے مشہور دیگر مراکز اصفهان، نیشابور (نظامیہ نیشابور)، بصره، موصل اور هرات میں تھے۔

خواجہ نظام الملک طوسی کے القاب

خواجہ نظام الملک کو تاریخی کتابوں میں سات القاب سے یاد کیا گیا ہے:

  • وزیر کبیر: چون سلجوقی دربار میں ان جیسی بڑائی والا وزیر نہیں ملا تھا؛
  • خواجہ بزرگ: ولی عہدی کے دوران ملک شاہ کی استادی کی وجہ سے؛
  • تاج الحضرتین: دو بادشاہوں کی وزارت کی وجہ سے؛
  • قوام الدین: یہ ایک مذہبی لقب تھا جو اس دور کے فقیهان نے انہیں دیا تھا؛
  • نظام الملک: وہ لقب جس سے عام لوگ انہیں زیادہ پکارتے تھے۔ ان کے بعد تاریخ کے بعد کے ادوار میں ایران اور هند کے بادشاہوں کے بہت سے معتمد وزیروں کو اس لقب سے پکارا جاتا تھا؛
  • اتابک: وہ لقب جو ملک شاہ نے بادشاہت کے بعد انہیں دیا تھا؛
  • رضی امیرالمؤمنین: وہ لقب جو خلیفہ المقتدی بامراللہ نے سن ۴۷۵ میں انہیں دیا تھا۔ نیز نظام الملک کی مہر پر یہ جملہ لکھا تھا: الحمدلله علی نعمه۔

خواجہ نظام الملک طوسی کا قتل

ملک شاہ کی بادشاہت کے آخری سالوں میں ان اور خواجہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے جس کے نتیجے میں انہیں وزارت سے ہٹا دیا گیا اور پھر خواجہ نظام الملک کا مشکوک ترور ہوا۔

وہ ۱۲ رمضان ۴۸۵ ہجری قمری کو جب شاہی فوج کے ساتھ اصفهان سے بغداد جا رہے تھے تو بروجرد میں نهاوند کے قریب ایک شخص نے جس نے صوفیان کا لباس پہنا ہوا تھا، چھری سے سینے پر وار کیا اور ان کی رگ زخمی ہو گئی اور ایک دن بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

اس وقت ان کے قتل کا تعلق اسماعیلیوں سے جوڑا گیا۔ ان کی موت کے پینتیس دن بعد ۱۵ شوال کو ملک شاہ بھی انتقال کر گیا اور مورخین کے بعض اندازوں کے مطابق خواجہ کے حمایتیوں نے انہیں زہر دیا تھا۔

بعض مورخین ان کی برطرفی اور موت کو ملک شاہ کی بیوی "ترکان خاتون" کی سازش کا نتیجہ مانتے ہیں کیونکہ نظام الملک ان کے بیٹے محمود کی ولی عہدی کے مخالف تھے۔ ملک شاہ نے انہیں ہٹانے کے بعد تاج الملک قمی کو ان کا جانشین بنایا۔

بعض اس شخص کو بھی خواجہ کے قتل کا محرک مانتے ہیں۔ ان کے قاتل کا نام بوطاہر ارانی لکھا ہے جو عمل انجام دینے کے فوراً بعد خواجہ کے محافظوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

مقبرہ خواجہ نظام الملک طوسی

مقبرہ خواجہ نظام الملک عمارت دار البطیخ، محلہ احمد آباد اصفهان میں واقع ہے اور یہ خواجہ نظام الملک کے نام سے منسوب ایک گلی میں ہے۔ یہ چھوٹی اور سادہ عمارت سلجوقی دور کا ایک مزار ہے اور اس میں تقریباً دس قبریں ہیں جو سلجوقی شہزادوں اور بزرگوں سے منسوب کی جاتی ہیں۔

زیادہ تر مقبروں پر قیمتی سنگ مرمر رکھے گئے ہیں اور خواجہ کی مدفن پر بھی ایک بہت خوبصورت سنگ مرمر رکھا ہے جس کے ارد گرد آیت الکرسی اور دیگر الفاظ سے مزین ایک کتبہ موجود ہے۔ مشہور ہے کہ خواجہ نظام الملک اور سلطان ملک شاہ بھی اسی مقام پر دفن ہیں۔ اگرچہ یہ عمارت ایران کی آثار ملی کی فہرست میں نمبر 99 پر درج ہے، لیکن اصفهان کی تاریخی یادگاروں میں سے یہ فراموش شدہ اور سنسان پڑی ہے۔

ماخذ

ماخوذ از ویب سائٹ خواجہ نظام الملک طوسی - میڈیا سافٹhttps://mediasoft.ir