"ادریس اول" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{Infobox person | |||
| title = | |||
| image = ادریس اول.jpg | |||
| name = ادریس بن عبدالله ابن حسن مثنی ابن حسن ابن علی بن ابی طالب | |||
| | | other names = ادریس اول | ||
| brith year = ۱۲۷ ق | |||
| brith date = | |||
| | | birth place = مغرب | ||
| | | death year = | ||
| | | death dat | ||
| | | death place = | ||
| | | teachers = | ||
| | | students = | ||
| | | religion = [[اسلام]] | ||
| | | faith = [[سنی ]] | ||
| | | works = | ||
| | | known for = مراکش کی ادریسی سلسله کا بانی اور سربراه }} | ||
| | اِدریس اوّل (پورا نام: ادریس بن عبد اللہ بن حسن مثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب) (۱۲۷–۱۷۷ قمری) مراکش اور موجودہ الجزائر کے ایک حصّے میں ادریسی حکومت کے بانی تھے۔ غالب گمان ہے کہ ادریس اوّل نے شہر فاس کی بنیاد رکھی۔ یہ شہر اندلس کے مسلمان مہاجرین اور افریقیہ کے لوگوں کے لیے مرکز بنا، وہ یہاں آکر آباد ہوئے، شہر آباد اور گنجان آباد ہوا اور ادریسی حکومت کا دار الحکومت بن گیا۔ ادریسیوں کی حکومت کا زمانہ نومسلم بربر قبائل میں اسلامی ثقافت کے فروغ کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے <ref>کلیفورد ادموند بوسورث (۱۳۷۱)، سلسلههای اسلامی، ترجمہ فریدون بدرهای، مؤسسه مطالعات و تحقیقات فرهنگی (پژوهشگاه)</ref>۔ | ||
| | |||
== تعارف == | == تعارف == | ||
ادریس، محمد نفس زکیہ کا بھائی تھا۔ محمد نفس زکیہ کے ساتھ همکاری اور حسین فخّی کے ساتھ شریک ہو کر قیامِ فخ میں شرکت کے بعد جب یہ قیام شکست سے دوچار ہوا تو ادریس مغربِ دور کی طرف بھاگ آئے اور ۱۷۲ قمری میں وہاں کے قبائل کی دعوت اور ان کی بیعت کے بعد اپنی حکومت قائم کی۔ ادریس کی دعوت کے بارے میں منقول ہے کہ پہلے مرحلے میں وہ اپنے بھائی محمد نفس زکیہ کے داعی تھے، دوسرے مرحلے میں حسین فخّی کے داعی بنے اور تیسرے مرحلے میں اپنے ایک اور بھائی یحیی کے داعی رہے۔ آخر کار جب انہیں یحیی کے انجام کار کی خبر ملی تو انہوں نے خود اپنی بیعت اور اپنی حکومت کی دعوت شروع کی اور حکومت کے قیام کے لیے طنجه کا رخ کیا اور اسی طرح مراکش کی پہلی مستقل حکومت کی بنیاد رکھی۔ چند سال حکومت کرنے کے بعد ۱۷۷ قمری میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی سازش کے نتیجے میں سلیمان نامی شخص کے ہاتھوں ادریس کو زہر دیا گیا، وہ زہر خورانی سے شہید ہوگئے اور سلیمان خود وہاں سے فرار ہو گیا <ref>زرکلی، خیرالدین، الاعلام، ج۱، ص۲۷۹</ref> <ref>مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۲، ص۲۳۸</ref> <ref>ابن عذاری مراکشی، احمد بن محمد، البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب، ج۱، ص۸۲</ref> <ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۸، ص۱۹۸</ref> <ref>ابن عذاری مراکشی، احمد بن محمد، البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب، ج۱، ص۲۱۰، منقول از ویکی فقه، مدخل ادریس اول علوی</ref>۔ | |||
ان کے بعد ان کے بیٹے ادریس بن ادریس (پیدائش ۱۷۵–وفات ۲۱۴ قمری)، پھر محمد بن ادریس بن ادریس اور اس کے بعد ادریس کے دیگر نوادگان ایک کے بعد ایک مغرب پر حکومت کرتے رہے۔ ادریسی حکومت ۳۷۵ قمری تک برقرار رہی <ref>http://askdin.com/thread/ادریسیان</ref>۔ | |||
نسخہ بمطابق 12:49، 24 مئی 2026ء
| ادریس اول | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | ادریس بن عبدالله ابن حسن مثنی ابن حسن ابن علی بن ابی طالب |
| دوسرے نام | ادریس اول |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | ۱۲۷ ق |
| پیدائش کی جگہ | مغرب |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | مراکش کی ادریسی سلسله کا بانی اور سربراه |
اِدریس اوّل (پورا نام: ادریس بن عبد اللہ بن حسن مثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب) (۱۲۷–۱۷۷ قمری) مراکش اور موجودہ الجزائر کے ایک حصّے میں ادریسی حکومت کے بانی تھے۔ غالب گمان ہے کہ ادریس اوّل نے شہر فاس کی بنیاد رکھی۔ یہ شہر اندلس کے مسلمان مہاجرین اور افریقیہ کے لوگوں کے لیے مرکز بنا، وہ یہاں آکر آباد ہوئے، شہر آباد اور گنجان آباد ہوا اور ادریسی حکومت کا دار الحکومت بن گیا۔ ادریسیوں کی حکومت کا زمانہ نومسلم بربر قبائل میں اسلامی ثقافت کے فروغ کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے [1]۔
تعارف
ادریس، محمد نفس زکیہ کا بھائی تھا۔ محمد نفس زکیہ کے ساتھ همکاری اور حسین فخّی کے ساتھ شریک ہو کر قیامِ فخ میں شرکت کے بعد جب یہ قیام شکست سے دوچار ہوا تو ادریس مغربِ دور کی طرف بھاگ آئے اور ۱۷۲ قمری میں وہاں کے قبائل کی دعوت اور ان کی بیعت کے بعد اپنی حکومت قائم کی۔ ادریس کی دعوت کے بارے میں منقول ہے کہ پہلے مرحلے میں وہ اپنے بھائی محمد نفس زکیہ کے داعی تھے، دوسرے مرحلے میں حسین فخّی کے داعی بنے اور تیسرے مرحلے میں اپنے ایک اور بھائی یحیی کے داعی رہے۔ آخر کار جب انہیں یحیی کے انجام کار کی خبر ملی تو انہوں نے خود اپنی بیعت اور اپنی حکومت کی دعوت شروع کی اور حکومت کے قیام کے لیے طنجه کا رخ کیا اور اسی طرح مراکش کی پہلی مستقل حکومت کی بنیاد رکھی۔ چند سال حکومت کرنے کے بعد ۱۷۷ قمری میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی سازش کے نتیجے میں سلیمان نامی شخص کے ہاتھوں ادریس کو زہر دیا گیا، وہ زہر خورانی سے شہید ہوگئے اور سلیمان خود وہاں سے فرار ہو گیا [2] [3] [4] [5] [6]۔
ان کے بعد ان کے بیٹے ادریس بن ادریس (پیدائش ۱۷۵–وفات ۲۱۴ قمری)، پھر محمد بن ادریس بن ادریس اور اس کے بعد ادریس کے دیگر نوادگان ایک کے بعد ایک مغرب پر حکومت کرتے رہے۔ ادریسی حکومت ۳۷۵ قمری تک برقرار رہی [7]۔
- ↑ کلیفورد ادموند بوسورث (۱۳۷۱)، سلسلههای اسلامی، ترجمہ فریدون بدرهای، مؤسسه مطالعات و تحقیقات فرهنگی (پژوهشگاه)
- ↑ زرکلی، خیرالدین، الاعلام، ج۱، ص۲۷۹
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۲، ص۲۳۸
- ↑ ابن عذاری مراکشی، احمد بن محمد، البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب، ج۱، ص۸۲
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۸، ص۱۹۸
- ↑ ابن عذاری مراکشی، احمد بن محمد، البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب، ج۱، ص۲۱۰، منقول از ویکی فقه، مدخل ادریس اول علوی
- ↑ http://askdin.com/thread/ادریسیان
