"جلال الدین حقانی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) ٹیگ: ردِّ ترمیم |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) ٹیگ: دستی ردِّ ترمیم |
||
| سطر 113: | سطر 113: | ||
[[زمرہ:شخصیات]] | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[زمرہ: [[افغانستان]] | [[زمرہ:[[افغانستان]]]] | ||
نسخہ بمطابق 14:53، 1 مئی 2026ء
| جلال الدین حقانی | |
|---|---|
| ذاتی معلومات | |
| یوم پیدائش | 26مئی |
| پیدائش کی جگہ | افغانستان کے صوبہ خوست |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | حقانی نیٹ ورک کے بانی |
جلالالدین حقانی کو حقانی نیٹ ورک کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ طالبان کے اعلیٰ سطحی کمانڈروں میں سے ایک تھے اور اسی نیٹ ورک کے بانی بھی تھے۔
زندگینامہ
جلالالدین حقانی ۱۳۲۲ ہجری شمسی / ۱۹۳۹ عیسوی میں افغانستان کے صوبہ خوست میں پیدا ہوئے۔ وہ پشتون قوم کے زیران (زدران/خدران) قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک مالدار اور دولت مند زمین دار تھے جو اسی قبیلے سے وابستہ تھے۔
انہوں نے اپنی دینی تعلیم افغانستان میں مدرسہ حقانیہ فَرہ کے اندر واقع مدرسہ علومِ اسلامی میں حاصل کی اور اسے ’’ڈاکٹریٹ‘‘ کی سند کے ساتھ مکمل کیا۔ حقانی نے ۱۹۷۰ میں پشاور پاکستان میں مجتہدانہ لقب ’’مولوی‘‘ حاصل کیا۔
حقانی کی دو بیویاں تھیں—ایک افغان اور دوسری عرب۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی عرب بیوی متحدہ عرب امارات میں زندگی گزار رہی ہیں۔
ایک بیان میں—جو طالبان کے سرکاری ویب سائٹ پر ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے—ملا اختر محمد منصور کو ملا عمر کا مناسب جانشین قرار دیا گیا اور ان کی حمایت کی گئی ہے۔ ان کا نام امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہے۔
ایک اور بیان میں بھی—جو طالبان کے سرکاری ویب سائٹ پر ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے—ملا اختر منصور کو ملا عمر کا مناسب جانشین کہا گیا اور ان کی حمایت کی گئی ہے۔ جلالالدین حقانی کو طالبان کی ملا محمد عمر کے بعد دوسری اہم شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں خودکش بم دھماکوں کی حکمتِ عملی کے موجد تھے۔
فوجی اور سماجی سرگرمیاں
داؤد خان کے اقتدار میں آنے والی بغاوت (کودتا) اور محمد ظاہر شاہ (افغانستان کے آخری بادشاہ) کی جلاوطنی کے بعد، ۱۹۷۳ میں جلالالدین حقانی اٹلی چلے گئے
انہیں دولتِ داؤد خان کے خلاف کارروائی میں ملوث ہونے کے الزام کی وجہ سے پاکستان کے شہر میران شاہ جانے پر مجبور ہونا پڑا، اور وہیں سے وہ حزب اسلامی میں مولوی یونس خلص کی قیادت میں شامل ہوئے، جو پہلے سوویت فوجوں اور پھر ان کے حمایت یافتہ افغان حکومتی قوتوں کے خلاف برسرپیکار تھی۔
انہوں نے ۱۹۷۵ سے افغانستان کی حکومت کے خلاف منظم سرگرمیاں شروع کیں۔ ۱۹۷۸ میں افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب/کودتا (حزبِ جمہوری خلق) کے دوران، وہ افغانستان کی حزب اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔
سوویت افواج کے افغانستان پر حملے اور ۱۹۷۹ میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے زمانے میں، وہ حکومتِ کمیونسٹہ کی مدد کے لیے افغانستان میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
انہیں مجاہدین کے نیٹ ورک میں ایک انتہائی قیمتی فرد سمجھا جاتا تھا اور انہیں امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے لیے اہم ترین عناصر میں شمار کیا جاتا تھا۔ اسی طرح وہ پاکستان کے آئی ایس آئی اور سعودی عرب کی انٹیلیجنس سروسز کے ساتھ بھی رابطے میں تھے۔
ان کے نزدیک حقانی ایک بہت بہادر، مؤثر اور سخت مزاج جنگجو تھے، جس کے نتیجے میں انہیں ان کی طرف سے مجاہدین کو ملنے والی امداد میں سے قابلِ توجہ حصہ—یعنی لاکھوں ڈالر کی نقد رقم اور فوجی سازوسامان—حاصل ہوا۔
۱۹۸۰ میں، امریکہ کی جانب سے مالی مدد اور دنیاِ اسلام کے چند مالی حامیوں کی سرپرستی کے ساتھ، افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف آپریشنز اور چریکی حملے شروع کرنے کے لیے حقانی نیٹ ورک قائم کیا گیا۔
۲۰۰۱ میں جب امریکی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ پاکستان فرار ہوگئے اور شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ان کے تحت طالبان کا بنیادی ٹھکانہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ہے۔
انہیں طالبان کی ان اہم حملہ آور منصوبہ ساز شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا جو افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے خلاف کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ القاعدہ کے ابتدائی ٹھکانے ۱۹۸۸ میں حقانی کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اور خود ان کی ذاتی نگرانی کے تحت تعمیر کیے گئے۔
سوویت افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد نجیب اللہ کی حکومت کے دور میں مجاہدین کے قبضے میں آنے والا پہلا شہر خوست تھا، جسے حقانی نے ۱۳۷۰ ہجری شمسی میں پاکستانیوں کی وسیع پیمانے پر مدد کے ساتھ فتح کیا۔
جلالالدین حقانی بلاشبہ سوویت فوج کے سابقہ دورِ موجودگی میں ان کی غیرملکی اشغال کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے جہادِ افغانستان کی تاریخ کا حصہ ہیں؛ تاہم آخر کار انہیں ان کے سابقہ حامیوں کی جانب سے ایسے طریقے سے استعمال کیا گیا کہ وہ بدنام و منفور اور خونریز دہشت گردی کی صورت اختیار کر گئے،
جس کی وجہ سے آج ان کی موت سے افغانستان کے لوگوں میں خوشی اور مسرت پیدا نہیں ہوتی۔ اور اس منصوبے کی مسلسل قیادت ان کی اولاد—خصوصاً ان کے بیٹے سراجالدین حقانی اور اس کے بعد نوجوان دہشت گردوں کی نسل—کو سونپی گئی۔
عہدے اور سرگرمیاں
- حقانی نیٹ ورک کی تاسیس اور قیادت؛
- افغانستان میں طالبان کی فوجی قوتیں؛
- طالبان کے فوجی کمانڈر؛
- جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا؛
- افغانستان میں مولوی یونس خلص کی حزب اسلامی میں شمولیت؛
- جہاد کے دوران مولوی یونس خلص کی قیادت میں حزب اسلامی کے کمانڈر؛
- 1989 میں عبوری حکومت میں منصوبہ بندی کے ذمہ دار اور وزیرِ سرحدات مقرر ہوئے؛
- 1990 میں احمد شاہ مسعود کی طرف سے قائم کردہ کمانڈروں کی مجلس میں فعال شرکت؛
- ۱۹۹۴ میں اس کمیشن کے چیئرمین رہے جو کابل میں مجاہدین کے درمیان جنگ بندی کا خواہاں تھا؛
- افغانستان میں خودکش بم دھماکوں کی حکمتِ عملی کے موجد ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
- ۱۹۹۶ میں ملا محمد عمر کی کابینہ میں ’’وزیر قبائل و سرحدات‘‘ (کابل)؛
- طالبان کی فتح کے بعد ’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ کی حکومت میں وزیرِ عدلیہ۔
اولاد
- سراجالدین حقانی: ان کے بیٹے اور طالبان پاکستان کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک؛
- انس حقانی: ان کے دوسرے بیٹے؛
- نصیر حقانی۔
وفات
گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، جلالالدین حقانی پچھلے دس برسوں سے شدید بیمار تھے اور ۲۰۱۲ تک ان کی کوئی تصویر یا پیغام شائع نہیں ہوا۔ تاہم اخباری ذرائع کے مطابق، وہ تقریباً ۱۳۹۳ ہجری شمسی (۲۰۱۴ عیسوی) میں، ۷۵ برس کی عمر میں بیماری اور دماغی خون ریزی کے باعث وفات پا گئے۔
ان کی وفات کی خبر پاکستانی اخبار ’’ڈان‘‘ میں اُن طالبان سے قریب ’’معتبر ذرائع‘‘ کے حوالے سے شائع ہوئی۔ ان کی لاش افغانستان کے مشرقی صوبہ خوست میں سپردِ خاک کی گئی۔
حقانی نیٹ ورک طالبان کے خاتمے کے بعد
حقانی نیٹ ورک اسلامی جنگجوؤں کا ایک گروہ ہے، جو ابتدا میں ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کچھ عرب ممالک کی مالی مدد سے قائم ہوا۔ تاہم، اس وقت یہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے خلاف ہے۔
یہ نیٹ ورک افغان فوج، پاکستانی فوج اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور ’’عرب-افغان‘‘ نامی مسلمان جنگجو گروہوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، اور اسی ذریعے سے ’’اسامہ بن لادن‘‘، جو القاعدہ نیٹ ورک کے بانی ہیں، سے بھی قریبی رابطہ رکھتا ہے۔
۹/۱۱ حملوں کے بعد، جب امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملے ہوئے اور نیٹو افواج نے افغانستان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا، تو حقانی نیٹ ورک نے دوبارہ ہتھیار اٹھائے اور افغانستان-پاکستان سرحد پر نیٹو افواج کے خلاف لڑائی شروع کر دی۔
حالیہ برسوں میں، حقانی گروہ نے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف سب سے بڑی کارروائیاں کی ہیں۔
جولائی ۲۰۱۱ میں کابل کے ’’انٹرکانٹینینٹل ہوٹل‘‘ پر حملہ، ستمبر ۲۰۱۱ میں کابل میں امریکی سفارت خانے پر حملہ، اور اسی طرح ۲۰۱۲ میں کابل شہر کے کئی اہم اہداف پر بیک وقت حملے وہ اقدامات ہیں جن کی ذمہ داری حقانی گروہ نے قبول کی ہے، اور نیٹو اور افغان حکام کا بھی کہنا ہے کہ یہ حملے حقانی گروہ کے تھے۔
حالیہ برسوں میں، حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں خودکش حملوں کا الزام لگایا گیا ہے، اور امریکہ نے ۲۰۱۲ میں اس نیٹ ورک کو غیر قانونی اور دہشت گرد گروہ قرار دیا۔ حقانی نیٹ ورک ۲۰۱۲ سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے۔
یہ نیٹ ورک ۲۰۰۱ سے جلالالدین حقانی کے بیٹے، سراجالدین حقانی کی قیادت میں ہے۔ وہ فی الحال طالبان کے رہنما ملا ہبت اللہ آخوندزادہ کے نائب ہیں۔
حقانی نیٹ ورک افغان حکومت اور نیٹو افواج کے لیے سب سے زیادہ چیلنجنگ گروہوں میں سے ایک تھا اور ہے۔ اس گروہ نے ۲۰۰۸ میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی،
اور ۲۰۱۱ میں کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ اس ۱۹ گھنٹے طویل حملے میں نیٹو کے تین فوجی ہلاک ہوئے۔ انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر حملہ بھی اسی گروہ نے کیا تھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک گزشتہ سال کابل میں ہونے والے سب سے مہلک دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک کا ذمہ دار تھا، جس میں ایک بمبار گاڑی کے دھماکے سے ۱۵۰ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
افغان نیشنل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے اس حملے کی ذمہ داری، جو کابل کے سفارتی علاقے وزیر اکبر خان میں ہوا تھا، حقانی نیٹ ورک پر عائد کی اور اعلان کیا کہ اس گروہ نے اپنی کارروائی ’’پاکستانی انٹیلی جنس کے براہ راست تعاون اور ہم آہنگی‘‘ سے انجام دی تھی۔
حقانی نیٹ ورک کا مرکزی ٹھکانہ
مرکزی ٹھکانہ واضح نہیں ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا شمالی وزیرستان اس نیٹ ورک کے سب سے اہم اڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ گروہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی سرگرم ہے۔ اور امریکہ اس سلسلے میں پاکستان کو حقانی نیٹ ورک جیسے جنگجو گروہوں سے نمٹنے میں کمزوری کا الزام بھی دیتا ہے۔
حوالہ جات
[[زمرہ:افغانستان]]