مندرجات کا رخ کریں

"سورۂ غافر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:سوره غافر.jpg|تصغیر|بائیں|]]
'''سورۂ غافر''' [[قرآن]] کی چالیسویں سورت اور مکی سورتوں میں سے ہے، جو قرآن کے چوبیسویں پارہ میں واقع ہے۔ اس سورت کو غافر (آمرزش دینے والا) اس لیے نام دیا گیا ہے کہ اس کا یہ لفظ تیسری آیت میں آیا ہے۔ اس سورت میں مؤمن آلِ فرعون کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے، اسی وجہ سے اسے سورۂ مؤمن بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کا بنیادی موضوع کفار کی اس باطل کوشش کو بے نقاب کرنا ہے جو وہ حق (قرآن) کو مٹانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس سورت میں [[حضرت موسی|حضرت موسیٰؑ]] اور فرعون کا واقعہ، توحید کے ثبوت پر دلالت کرنے والی نشانیوں اور شرک کے باطل ہونے سے متعلق گفتگو بھی آئی ہے۔   
'''سورۂ غافر''' [[قرآن]] کی چالیسویں سورت اور مکی سورتوں میں سے ہے، جو قرآن کے چوبیسویں پارہ میں واقع ہے۔ اس سورت کو غافر (آمرزش دینے والا) اس لیے نام دیا گیا ہے کہ اس کا یہ لفظ تیسری آیت میں آیا ہے۔ اس سورت میں مؤمن آلِ فرعون کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے، اسی وجہ سے اسے سورۂ مؤمن بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کا بنیادی موضوع کفار کی اس باطل کوشش کو بے نقاب کرنا ہے جو وہ حق (قرآن) کو مٹانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس سورت میں [[حضرت موسی|حضرت موسیٰؑ]] اور فرعون کا واقعہ، توحید کے ثبوت پر دلالت کرنے والی نشانیوں اور شرک کے باطل ہونے سے متعلق گفتگو بھی آئی ہے۔   
اس سورت کی مشہور آیات میں سے ایک آیت ۶۰ ہے، جس میں خداوند اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اسے پکاریں تاکہ وہ ان کی پکار کو قبول کرے۔ تفسیری کتابوں میں اس آیت کے ذیل میں دعا کی اہمیت اور عبادت پر اس کی برتری کے بارے میں بہت سی روایات منقول ہیں، اور ان روایات میں دعا کی عدمِ استجابت کے موانع کا بھی تذکرہ ہوا ہے۔
اس سورت کی مشہور آیات میں سے ایک آیت ۶۰ ہے، جس میں خداوند اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اسے پکاریں تاکہ وہ ان کی پکار کو قبول کرے۔ تفسیری کتابوں میں اس آیت کے ذیل میں دعا کی اہمیت اور عبادت پر اس کی برتری کے بارے میں بہت سی روایات منقول ہیں، اور ان روایات میں دعا کی عدمِ استجابت کے موانع کا بھی تذکرہ ہوا ہے۔
سطر 31: سطر 32:


== مؤمن آلِ فرعون ==
== مؤمن آلِ فرعون ==
سورۂ غافر کی آیات ۲۸ تا ۴۵ میں مؤمن آلِ فرعون کی داستان بیان ہوئی ہے۔ 
مؤمن آلِ فرعون، فرعون کا چچا زاد بھائی اور اس کا خزانے کا داروغہ تھا، جس نے اپنی طویل عمر کے دوران اپنا ایمان فرعون سے پوشیدہ رکھا <ref>محلاتی، ''ریاحین الشریعة''، ج ۵، ص ۱۵۳.</ref>.


سورۂ غافر کی آیات ۲۸ تا ۴۵ میں **مؤمن آلِ فرعون** کی داستان بیان ہوئی ہے۔ 
جب فرعون کو اس پر شک ہوا تو وہ تقیہ کرتا اور اشاروں کنایوں (توریہ) کے ذریعے اپنا ایمان چھپا کر اپنی جان بچاتا تھا <ref>مجلسی، ''بحار الانوار''، ۱۳۶۲ ش، ج ۷۵، ص ۴۰۲.</ref>.
مؤمن آلِ فرعون، فرعون کا چچا زاد بھائی اور اس کا خزانے کا داروغہ تھا، جس نے اپنی طویل عمر کے دوران اپنا ایمان فرعون سے پوشیدہ رکھا[۱۰]۔ جب فرعون کو اس پر شک ہوا تو وہ **تقیہ** کرتا اور اشاروں کنایوں (توریہ) کے ذریعے اپنا ایمان چھپا کر اپنی جان بچاتا تھا[۱۱]۔


جب حضرت موسیٰؑ نے علانیہ دعوت شروع کی اور جادوگروں نے موسیٰؑ پر ایمان لے آیا، تو مؤمن آلِ فرعون نے بھی اپنا ایمان ظاہر کیا اور جادوگروں کی طرح فرعون کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے ہاتھ اور انگلیاں سولی پر خشک اور بے حرکت ہو گئی تھیں اور وہ اسی حالت میں اپنی قوم کی طرف اشارہ کر کے کہتا تھا:   
جب حضرت موسیٰؑ نے علانیہ دعوت شروع کی اور جادوگروں نے موسیٰؑ پر ایمان لے آیا، تو مؤمن آلِ فرعون نے بھی اپنا ایمان ظاہر کیا اور جادوگروں کی طرح فرعون کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے ہاتھ اور انگلیاں سولی پر خشک اور بے حرکت ہو گئی تھیں اور وہ اسی حالت میں اپنی قوم کی طرف اشارہ کر کے کہتا تھا:   
“میری پیروی کرو، میں تمہیں رشد اور کمال کے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا”[۱۲]۔ 
“میری پیروی کرو، میں تمہیں رشد اور کمال کے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا”<ref>قمی، ''تفسیر قمی''، ۱۳۶۳ ش، ج ۲، ص ۲۵۸؛ مجلسی، ''بحارالانوار''، ۱۳۶۲ ش، ج ۱۳، ص ۱۶۲.</ref>.


بعض روایات کے مطابق، مؤمن آلِ فرعون کے ہاتھ سولی پر لٹکائے جانے سے پہلے ہی معیوب (ناقص) تھے۔ امام صادقؑ سے مروی ایک روایت میں، جہاں آپؑ نے اس کے ایمان کی تصدیق فرمائی، یہ بھی فرمایا:   
بعض روایات کے مطابق، مؤمن آلِ فرعون کے ہاتھ سولی پر لٹکائے جانے سے پہلے ہی معیوب (ناقص) تھے۔ امام صادقؑ سے مروی ایک روایت میں، جہاں آپؑ نے اس کے ایمان کی تصدیق فرمائی، یہ بھی فرمایا:   
“گویا میں ابھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے شَل (چُلاق) ہاتھ کے ساتھ اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں نصیحت کر رہا تھا، پھر جب اگلے دن وہ دوبارہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا”[۱۳]۔


---
“گویا میں ابھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے شَل (چُلاق) ہاتھ کے ساتھ اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں نصیحت کر رہا تھا، پھر جب اگلے دن وہ دوبارہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا” <ref>کلینی، ''کافی''،۱۴۰۷ ق، ج ۲، ص ۲۵۴.</ref>.
== فضائل و خواصِ سورت ==
'''1.''' رسولِ خدا ﷺ سے روایت ہے کہ جو شخص سورۂ غافر کی تلاوت کرے، قیامت کے دن اس کی امید ٹوٹے گی نہیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو دنیا میں خدا سے ڈرتے تھے۔


### فضائل و خواصِ سورت
نیز آیا ہے کہ اگر کوئی اس سورت کو لکھ کر باغ کی دیوار پر لٹکا دے تو وہ باغ سرسبز و شاداب ہو جاتا ہے اور نشوونما پاتا ہے، اور اگر کوئی اسے لکھ کر اپنی دکان پر آویزاں کرے تو اس کی تجارت میں برکت اور رونق پیدا ہوتی ہے<ref>بحرانی، ''البرهان فی تفسیر القرآن''، ۱۳۸۹ ش، ج ۴، ص ۷۴۱.</ref>.


1. رسولِ خدا ﷺ سے روایت ہے کہ جو شخص سورۂ غافر کی تلاوت کرے، قیامت کے دن اس کی امید ٹوٹے گی نہیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو دنیا میں خدا سے ڈرتے تھے۔ نیز آیا ہے کہ اگر کوئی اس سورت کو لکھ کر باغ کی دیوار پر لٹکا دے تو وہ باغ سرسبز و شاداب ہو جاتا ہے اور نشوونما پاتا ہے، اور اگر کوئی اسے لکھ کر اپنی دکان پر آویزاں کرے تو اس کی تجارت میں برکت اور رونق پیدا ہوتی ہے[۱۴]۔ 
'''2.''' ایک اور روایت میں رسولِ اکرم ﷺ سے منقول ہے کہ جو شخص چاہتا ہو کہ جنت کے باغوں میں گھومے پھرے، اسے چاہیے کہ نمازِ شب میں ان سورتوں کی تلاوت کرے جو “حم” سے شروع ہوتی ہیں <ref>طبرسی، ''مجمع البیان''، ۱۳۵۸ ش، ج ۲۱، ص ۲۲۴.</ref>.


2. ایک اور روایت میں رسولِ اکرم ﷺ سے منقول ہے کہ جو شخص چاہتا ہو کہ جنت کے باغوں میں گھومے پھرے، اسے چاہیے کہ نمازِ شب میں ان سورتوں کی تلاوت کرے جو **“حم”** سے شروع ہوتی ہیں[۱۵]۔
== داستانیں اور تاریخی روایات ==
* قومِ نوح کا ذکر اور امتوں کی اپنے انبیاء کی مخالفت (آیت ۵)؛ 
* حضرت موسیٰؑ کی رسالت: فرعون، ہامان اور قارون کو دعوت؛ موسیٰؑ پر جادوگر ہونے کا الزام؛ مؤمنین کے قتل کا حکم؛ 
* مؤمن آلِ فرعون کی داستان: فرعون کا موسیٰؑ کے قتل کا فیصلہ؛ مؤمن آلِ فرعون کا فرعون کو جواب اور قومِ نوح، عاد اور ثمود کے انجام سے ڈرانا؛ آیاتِ الٰہی کی مخالفت کے انجام سے انذار؛ فرعون کا ہامان کو حکم دینا کہ ایک اونچا مینار بنائے تاکہ وہ (بظاہر) خدا کو دیکھ سکے؛ مؤمن آلِ فرعون کی جانب سے ایمان اور رسولوں کی پیروی کی دعوت؛ 
* موسیٰؑ پر کتاب نازل ہونا (آیات ۲۳ تا ۵۴)۔
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}


---
[[fa:سوره هود]]
 
### داستانیں اور تاریخی روایات
 
- قومِ نوح کا ذکر اور امتوں کی اپنے انبیاء کی مخالفت (آیت ۵)؛ 
- حضرت موسیٰؑ کی رسالت: فرعون، ہامان اور قارون کو دعوت؛ موسیٰؑ پر جادوگر ہونے کا الزام؛ مؤمنین کے قتل کا حکم؛ 
- مؤمن آلِ فرعون کی داستان: فرعون کا موسیٰؑ کے قتل کا فیصلہ؛ مؤمن آلِ فرعون کا فرعون کو جواب اور قومِ نوح، عاد اور ثمود کے انجام سے ڈرانا؛ آیاتِ الٰہی کی مخالفت کے انجام سے انذار؛ فرعون کا ہامان کو حکم دینا کہ ایک اونچا مینار بنائے تاکہ وہ (بظاہر) خدا کو دیکھ سکے؛ مؤمن آلِ فرعون کی جانب سے ایمان اور رسولوں کی پیروی کی دعوت؛ 
- موسیٰؑ پر کتاب نازل ہونا (آیات ۲۳ تا ۵۴)۔

نسخہ بمطابق 18:52، 24 اپريل 2026ء

سورۂ غافر قرآن کی چالیسویں سورت اور مکی سورتوں میں سے ہے، جو قرآن کے چوبیسویں پارہ میں واقع ہے۔ اس سورت کو غافر (آمرزش دینے والا) اس لیے نام دیا گیا ہے کہ اس کا یہ لفظ تیسری آیت میں آیا ہے۔ اس سورت میں مؤمن آلِ فرعون کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے، اسی وجہ سے اسے سورۂ مؤمن بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کا بنیادی موضوع کفار کی اس باطل کوشش کو بے نقاب کرنا ہے جو وہ حق (قرآن) کو مٹانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس سورت میں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا واقعہ، توحید کے ثبوت پر دلالت کرنے والی نشانیوں اور شرک کے باطل ہونے سے متعلق گفتگو بھی آئی ہے۔ اس سورت کی مشہور آیات میں سے ایک آیت ۶۰ ہے، جس میں خداوند اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اسے پکاریں تاکہ وہ ان کی پکار کو قبول کرے۔ تفسیری کتابوں میں اس آیت کے ذیل میں دعا کی اہمیت اور عبادت پر اس کی برتری کے بارے میں بہت سی روایات منقول ہیں، اور ان روایات میں دعا کی عدمِ استجابت کے موانع کا بھی تذکرہ ہوا ہے۔

نام‌ گذاری (نام رکھنے کی وجہ)

اس سورت کو غافر اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ لفظ آیتِ سوم ﴿غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ﴾ میں آیا ہے [1]. غافر، خداوند کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کے معنی ہیں:

گناہ معاف کرنے والا [2].سورۂ غافر کو سورۂ مؤمن بھی کہا گیا ہے، کیونکہ اس میں مؤمن آلِ فرعون کی داستان بیان ہوئی ہے [3]. اس سورت کے دو اور نام بھی ذکر کیے گئے ہیں:

  • حم اولیٰ (حا میم اُولیٰ)
  • طَول [4]».

محل و ترتیب نزول

سورۂ غافر، قرآن کی مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیبِ نزول کے اعتبار سے یہ وہ ساٹھویں سورت ہے جو رسولِ اکرم ﷺ پر نازل ہوئی [5]. موجودہ مصحف کی ترتیب میں یہ قرآن کی چالیسویں سورت ہے اور ۲۴ویں پارہ میں واقع ہے

آیات کی تعداد اور دیگر خصوصیات

سورۂ غافر میں ۸۵ آیات، ۱۲۲۸ کلمات اور ۵۱۰۹ حروف ہیں۔ یہ سورت قرآن کی سورۂ مثانی میں شمار ہوتی ہے

مضمون (محتوا)

تفسیر المیزان کے مطابق، اس سورت کا بنیادی محور یہ ہے کہ خداوند کافروں کی اس جھوٹی اور باطل جدال کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے جو وہ اس حق (قرآن) کے خاتمے کے لیے کرتے ہیں جو ان پر نازل ہوا ہے۔

اسی لیے خداوند اس سورت میں ان لوگوں کے انجام کا ذکر کرتا ہے جو انبیاء اور آیاتِ الٰہی کو جھٹلاتے ہیں، اور ان عذابوں کو یاد دلاتا ہے جو ان سے وعدہ کیے گئے ہیں [6].

اس سورت کے مباحث کو اجمالاً پانچ حصوں میں بیان کیا جا سکتا ہے:

  • ابتدائی آیات میں خداوند کی ذات اور اس کے کچھ حسین و بابرکت ناموں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے؛
  • کافروں کو دنیا اور آخرت کے عذابوں سے ڈرایا گیا ہے؛
  • حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی داستان، اور مؤمن آلِ فرعون کا واقعہ بیان ہوا ہے؛
  • توحید کے ثبوت اور شرک کے باطل ہونے کی دلیلیں ذکر ہوئی ہیں؛
  • پیغمبر اکرم ﷺ کو صبر کی دعوت اور خدا کی نعمتوں کے ایک حصے کا بیان

مؤمن آلِ فرعون

سورۂ غافر کی آیات ۲۸ تا ۴۵ میں مؤمن آلِ فرعون کی داستان بیان ہوئی ہے۔ مؤمن آلِ فرعون، فرعون کا چچا زاد بھائی اور اس کا خزانے کا داروغہ تھا، جس نے اپنی طویل عمر کے دوران اپنا ایمان فرعون سے پوشیدہ رکھا [7].

جب فرعون کو اس پر شک ہوا تو وہ تقیہ کرتا اور اشاروں کنایوں (توریہ) کے ذریعے اپنا ایمان چھپا کر اپنی جان بچاتا تھا [8].

جب حضرت موسیٰؑ نے علانیہ دعوت شروع کی اور جادوگروں نے موسیٰؑ پر ایمان لے آیا، تو مؤمن آلِ فرعون نے بھی اپنا ایمان ظاہر کیا اور جادوگروں کی طرح فرعون کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اس کے ہاتھ اور انگلیاں سولی پر خشک اور بے حرکت ہو گئی تھیں اور وہ اسی حالت میں اپنی قوم کی طرف اشارہ کر کے کہتا تھا: “میری پیروی کرو، میں تمہیں رشد اور کمال کے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا”[9].

بعض روایات کے مطابق، مؤمن آلِ فرعون کے ہاتھ سولی پر لٹکائے جانے سے پہلے ہی معیوب (ناقص) تھے۔ امام صادقؑ سے مروی ایک روایت میں، جہاں آپؑ نے اس کے ایمان کی تصدیق فرمائی، یہ بھی فرمایا:

“گویا میں ابھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے شَل (چُلاق) ہاتھ کے ساتھ اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں نصیحت کر رہا تھا، پھر جب اگلے دن وہ دوبارہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے قتل کر دیا” [10].

فضائل و خواصِ سورت

1. رسولِ خدا ﷺ سے روایت ہے کہ جو شخص سورۂ غافر کی تلاوت کرے، قیامت کے دن اس کی امید ٹوٹے گی نہیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو دنیا میں خدا سے ڈرتے تھے۔

نیز آیا ہے کہ اگر کوئی اس سورت کو لکھ کر باغ کی دیوار پر لٹکا دے تو وہ باغ سرسبز و شاداب ہو جاتا ہے اور نشوونما پاتا ہے، اور اگر کوئی اسے لکھ کر اپنی دکان پر آویزاں کرے تو اس کی تجارت میں برکت اور رونق پیدا ہوتی ہے[11].

2. ایک اور روایت میں رسولِ اکرم ﷺ سے منقول ہے کہ جو شخص چاہتا ہو کہ جنت کے باغوں میں گھومے پھرے، اسے چاہیے کہ نمازِ شب میں ان سورتوں کی تلاوت کرے جو “حم” سے شروع ہوتی ہیں [12].

داستانیں اور تاریخی روایات

  • قومِ نوح کا ذکر اور امتوں کی اپنے انبیاء کی مخالفت (آیت ۵)؛
  • حضرت موسیٰؑ کی رسالت: فرعون، ہامان اور قارون کو دعوت؛ موسیٰؑ پر جادوگر ہونے کا الزام؛ مؤمنین کے قتل کا حکم؛
  • مؤمن آلِ فرعون کی داستان: فرعون کا موسیٰؑ کے قتل کا فیصلہ؛ مؤمن آلِ فرعون کا فرعون کو جواب اور قومِ نوح، عاد اور ثمود کے انجام سے ڈرانا؛ آیاتِ الٰہی کی مخالفت کے انجام سے انذار؛ فرعون کا ہامان کو حکم دینا کہ ایک اونچا مینار بنائے تاکہ وہ (بظاہر) خدا کو دیکھ سکے؛ مؤمن آلِ فرعون کی جانب سے ایمان اور رسولوں کی پیروی کی دعوت؛
  • موسیٰؑ پر کتاب نازل ہونا (آیات ۲۳ تا ۵۴)۔

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ ش، ج ۲۰، ص ۵.
  2. راغب اصفهانی، مفردات الفاظ قرآن، ذیل واژۀ غفر، ص ۶۰۹.
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ ش، ج ۲۰، ص ۵.
  4. دانشنامه قرآن و قرآن‌پژوهی، ۱۳۷۷ ش، ج ۲ ، ص ۱۲۴۹.
  5. محمد هادی معرفت، علوم قرآنی، ۱۳۷۱ ش، ص ۱۶.
  6. طباطبایی، ترجمه تفسیر المیزان، ۱۳۷۰ ش، ج ۱۷، ص ۴۸۰.
  7. محلاتی، ریاحین الشریعة، ج ۵، ص ۱۵۳.
  8. مجلسی، بحار الانوار، ۱۳۶۲ ش، ج ۷۵، ص ۴۰۲.
  9. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۳ ش، ج ۲، ص ۲۵۸؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۲ ش، ج ۱۳، ص ۱۶۲.
  10. کلینی، کافی،۱۴۰۷ ق، ج ۲، ص ۲۵۴.
  11. بحرانی، البرهان فی تفسیر القرآن، ۱۳۸۹ ش، ج ۴، ص ۷۴۱.
  12. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۵۸ ش، ج ۲۱، ص ۲۲۴.