"ویٹیکن" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) « '''وویٹیکن''' (Vaticano) جس کا سرکاری نام ریاستِ شہرِ ویٹیکن (Stato della Città del Vaticano) ہے، ایک خودمختار شہری ریاست ہے جو اٹلی کے شہر روم کے اندر واقع ہے۔ ویٹیکن ایک مطلق العنان بادشاہت ہے اور پوپ فرانسس، جو دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا ہیں، ک...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{خانہ معلومات ملکی | |||
| عنوان = پاکستان | |||
| تصویر = واتیکان1.png | |||
| نقشہ کی تصویر = واتیکان.png | |||
| سرکاری نام = ویٹیکن | |||
| پورا نام = ریاستِ شہرِ ویٹیکن | |||
| طرز حکمرانی = مطلق العنان | |||
| دارالحکومت = ویٹیکن سٹی | |||
| آبادی = 1000 | |||
| مذہب = مسیحی | |||
| سرکاری زبان = انگلش | |||
| کرنسی = | |||
}} | |||
'''وویٹیکن''' (Vaticano) جس کا سرکاری نام ریاستِ شہرِ ویٹیکن (Stato della Città del Vaticano) ہے، ایک خودمختار شہری ریاست ہے جو اٹلی کے شہر روم کے اندر واقع ہے۔ ویٹیکن ایک مطلق العنان بادشاہت ہے اور پوپ فرانسس، جو دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا ہیں، کی رہائش گاہ اور رومن کیتھولک کلیسا کا مرکزی صدر مقام ہے۔ تقریباً 0.44 مربع کلومیٹر کے رقبے کے ساتھ، یہ دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے اور تقریباً 1000 افراد کی آبادی کے باعث دنیا کی کم ترین آبادی رکھنے والی آزاد ریاست بھی شمار ہوتا ہے۔ | '''وویٹیکن''' (Vaticano) جس کا سرکاری نام ریاستِ شہرِ ویٹیکن (Stato della Città del Vaticano) ہے، ایک خودمختار شہری ریاست ہے جو اٹلی کے شہر روم کے اندر واقع ہے۔ ویٹیکن ایک مطلق العنان بادشاہت ہے اور پوپ فرانسس، جو دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا ہیں، کی رہائش گاہ اور رومن کیتھولک کلیسا کا مرکزی صدر مقام ہے۔ تقریباً 0.44 مربع کلومیٹر کے رقبے کے ساتھ، یہ دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے اور تقریباً 1000 افراد کی آبادی کے باعث دنیا کی کم ترین آبادی رکھنے والی آزاد ریاست بھی شمار ہوتا ہے۔ | ||
نسخہ بمطابق 14:53، 5 فروری 2026ء
| پاکستان | |
|---|---|
| سرکاری نام | ویٹیکن |
| پورا نام | ریاستِ شہرِ ویٹیکن |
| طرز حکمرانی | مطلق العنان |
| دارالحکومت | ویٹیکن سٹی |
| آبادی | 1000 |
| مذہب | مسیحی |
| سرکاری زبان | انگلش |
وویٹیکن (Vaticano) جس کا سرکاری نام ریاستِ شہرِ ویٹیکن (Stato della Città del Vaticano) ہے، ایک خودمختار شہری ریاست ہے جو اٹلی کے شہر روم کے اندر واقع ہے۔ ویٹیکن ایک مطلق العنان بادشاہت ہے اور پوپ فرانسس، جو دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا ہیں، کی رہائش گاہ اور رومن کیتھولک کلیسا کا مرکزی صدر مقام ہے۔ تقریباً 0.44 مربع کلومیٹر کے رقبے کے ساتھ، یہ دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے اور تقریباً 1000 افراد کی آبادی کے باعث دنیا کی کم ترین آبادی رکھنے والی آزاد ریاست بھی شمار ہوتا ہے۔ ویٹیکن کو ہولی سی (Holy See / سریرِ مقدس) سے الگ سمجھا جاتا ہے، جو اس شہر کی اسقفی ریاست (bishopric) کا نام ہے۔ ویٹیکن ایک خودمختار شہری ریاست ہے جس کی بنیاد 1929ء میں ہولی سی اور اٹلی کے وزیرِ اعظم بینیٹو موسولینیکے درمیان معاہدے کے ذریعے رکھی گئی؛ جبکہ ہولی سی کی تاریخ مسیحیت کے ابتدائی دور تک جاتی ہے۔ ہولی سی رومن کیتھولک کلیسا کی اعلیٰ ترین اسقفی ریاست اور کلیسائی نظام کی مرکزی حکومت ہے، اور بین الاقوامی قانون میں ایک خودمختار اکائی کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس ادارے کے دنیا کے کئی ممالک میں سفارت خانے ہیں اور یہ متعدد بین الاقوامی تنظیموں کا رکن ہے۔ پوپ کے سفیر اور نمائندے باضابطہ طور پر ہولی سی کے سفیر کہلاتے ہیں، نہ کہ ریاستِ شہرِ ویٹیکن کے۔ ویٹیکن کے قوانین اطالوی زبان میں شائع ہوتے ہیں، جبکہ ہولی سی کی سرکاری دستاویزات لاطینی زبان میں ہوتی ہیں۔ یہ دونوں ادارے الگ الگ پاسپورٹ بھی جاری کرتے ہیں: ہولی سی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ جاری کرتی ہے، جبکہ ویٹیکن عام پاسپورٹ جاری کرتا ہے۔ سینٹ پیٹرز باسیلیکا دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر ہے جو ویٹیکن میں واقع ہے۔
تاریخ
ویٹیکن کا نام رومن جمہوریہ کے دور میں (Ager Vaticanus) کے طور پر دریائے ٹائبر کے مغربی کنارے واقع دلدلی علاقوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، جو روم شہر کے باہر واقع تھے۔
یہ علاقہ یانیکولوم اور ویٹیکن کی پہاڑیوں اور مونتے ماریو کے درمیان واقع تھا۔ رومی اس علاقے کو اس کی دلدلی زمین، ٹائبر کی سیلابی کیفیت، اور اتروسکن دشمن شہر (Veii)کی قربت کے باعث منحوس سمجھتے تھے۔
مشہور رومی مؤرخ ٹاسیٹس نے 69ء (چار شہنشاہوں کے سال) کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وِٹِیلیئس کو روم لانے والی شمالی فوج کا بڑا حصہ آگر ویٹیکانوس کے غیر صحت مند علاقے میں قیام کے دوران بیماریوں اور اموات کا شکار ہوا۔
گرمی برداشت نہ کرنے والے گال اور جرمن قبائل کے افراد نے ٹائبر کے قریب آلودہ پانی پیا جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو گئی۔
پہلی صدی عیسوی کے بعد (Vaticanus) کی اصطلاح رائج ہوئی، جس میں ویٹیکن کی پہاڑی، موجودہ سینٹ پیٹر اسکوائر اور ممکنہ طور پر آج کی ویا دِلا کونسیلیاتسیونے شامل تھیں۔
رومی سلطنت کے دور میں، خاص طور پر اگریپینا دی ایلڈر کے زمانے میں، اس علاقے میں ترقی ہوئی؛ زمین کو خشک کیا گیا، مکانات بنے اور باغات قائم کیے گئے۔
ان کے بیٹے کالیگولا نے ان باغات کے درمیان رتھ دوڑ کا میدان بنایا جسے بعد میں نیرو نے مکمل کیا اور یہ نیرو کا سرکس کہلایا۔
کالیگولا مصر کے شہر ہیلیوپولس سے ایک سنگی ستون (Obelisk) لایا جو آج ویٹیکن میں اس دور کی واحد باقی ماندہ یادگار ہے۔
64ء میں روم کی عظیم آگ کے دوران بہت سے مسیحیوں کو قتل کیا گیا، اور روایت کے مطابق سینٹ پیٹر کو اسی میدان میں الٹا صلیب پر چڑھایا گیا۔
اس میدان کے دوسری جانب ایک قبرستان تھا جو ویا کورنیلیا کے ذریعے جدا تھا۔ یہاں مختلف مذاہب کے مقبرے، قبریں اور معبد موجود تھے، جو چوتھی صدی کے اوائل میں قسطنطینی سینٹ پیٹر چرچ کی تعمیر تک قائم رہے۔
یہاں دیوی سیبلاور اس کے ساتھی ایٹس کا معبد بھی تھا، جو طویل عرصے تک استعمال میں رہا۔ ان آثار کی منظم کھدائی 1939ء تا 1941ء کے درمیان پوپ پیئس بارہویں کے حکم پر کی گئی۔ 326ء میں سینٹ پیٹر کے مزار سمجھے جانے والے مقام پر ایک گرجا گھر تعمیر کیا گیا۔
ریاستِ شہرِ ویٹیکن کا قیام 11 فروری 1929ء کو لاتران معاہدے کے تحت عمل میں آیا، جو اٹلی کی حکومت اور پوپسی (Papacy) کے درمیان طویل تنازع کے بعد طے پایا۔ 1984ء میں ایک نیا معاہدہ (Concordat) نافذ ہوا جس نے کلیسا کی مکمل خودمختاری کو برقرار رکھا۔
نظامِ حکومت
ویٹیکن میں حکومت کی نوعیت انتخابی مطلق العنان بادشاہت ہے۔ پوپ کا انتخاب اعلیٰ درجے کے کارڈینلز کرتے ہیں، اور پوپ کو قانون سازی، عدلیہ اور انتظامیہ پر مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔
ویٹیکن کا حکومتی ڈھانچہ منفرد ہے؛ پوپ کے بعد گورنر اور کمیشن کے نمائندے آتے ہیں، جنہیں پوپ خود مقرر اور معزول کرتا ہے۔
اسی بنا پر اسے ایک نایاب، غیر موروثی، انتخابی مطلق بادشاہت کہا جاتا ہے۔ گورنر کا کردار عملی طور پر ایک میئر یا چیف ایگزیکٹو جیسا ہوتا ہے۔
سیکیورٹی اور عدالتی نظام
ویٹیکن میں کئی حفاظتی ادارے موجود ہیں، جن میں سب سے معروف سوئس گارڈ ہے جو سوئٹزرلینڈ کے رضاکار شہریوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ کورپو دیلا جینڈارمیریا ویٹیکن کی فوج اور پوپ کی ذاتی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔
ویٹیکن میں باقاعدہ جیل موجود نہیں، تاہم پولیس عمارت میں تین حراستی سیل ہیں۔ یہاں ایک عدالتی نظام بھی ہے جسے ویٹیکن ٹربیونل کہا جاتا ہے۔
جغرافیہ
ویٹیکن یورپ کی سب سے چھوٹی خودمختار ریاست ہے، جو روم کے شمال مغرب میں ویٹیکن پہاڑی پر واقع ہے اور چاروں طرف دیوار سے گھری ہوئی ہے۔
اس کا کل رقبہ تقریباً 108.6 ہیکٹر ہے۔ یہاں بحیرۂ روم جیسا موسم پایا جاتا ہے: گرم اور خشک گرمیاں، اور بارش والی سردیاں۔ سینٹ پیٹر باسیلیکا کے عظیم فوارے سے اٹھنے والی بھاپ فضا میں نمی پیدا کرتی ہے۔
یہ چھوٹی مگر بااثر ریاست اپنی تمام شہری ضروریات خود پوری کرتی ہے، جن میں ڈاک خانہ، فائر بریگیڈ، پولیس، ریلوے اسٹیشن، بجلی کا نظام، ریستوران، بینک اور ایک مخصوص انٹرنیٹ نیٹ ورک شامل ہیں۔
معیشت
1981ء سے ویٹیکن اپنے مالی حسابات شائع کر رہا ہے۔ ویٹیکن بینک، جسے انسٹی ٹیوٹ فار ریلیجس ورکس کہا جاتا ہے، 1942ء سے موجودہ شکل میں کام کر رہا ہے۔
شہری سہولیات
ویٹیکن میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں، صرف ایک ہیلی پیڈ موجود ہے۔ اطالوی ریلوے لائن سینٹ پیٹر اسٹیشن سے منسلک ہے۔ میٹرو کے ذریعے پورا شہر تقریباً دس منٹ میں طے کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع ابلاغ
ویٹیکن کے ذرائع ابلاغ میں ریڈیو ویٹیکن، ویٹیکن ٹی وی اور مختلف ویب سائٹس و سوشل میڈیا نیٹ ورکس شامل ہیں۔ روزنامہ L'Osservatore Romano مختلف ممالک میں مختلف ادوار میں شائع ہوتا ہے، جس میں کلیسائی سرکاری معلومات Acta Apostolicae Sedis کے عنوان سے شامل کی جاتی ہیں۔
آبادی
ویٹیکن دنیا کا کم ترین آبادی والا ملک ہے، جس کی آبادی تقریباً 800 افراد پر مشتمل ہے۔ ان میں سے تقریباً 450 شہری ہیں، جبکہ باقی رہائشی اجازت نامہ رکھتے ہیں۔
آدھے سے زیادہ شہری بیرونِ ملک سفارتی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ویٹیکن کی سرکاری زبان اطالوی ہے، جبکہ ہولی سی کی زبان لاطینی اور سفارتی زبان فرانسیسی ہے۔ سوئس گارڈ کی بنیادی زبان جرمن ہے۔
خارجہ پالیسی
ویٹیکن خود سفارتی تعلقات قائم نہیں کرتا؛ یہ ذمہ داری ہولی سی کے پاس ہے۔ ویٹیکن 1990ء میں اقوام متحدہ کے **کنونشن برائے حقوقِ طفل** کا فریق بنا۔
ثقافت
ویٹیکن عالمی مسیحی ثقافت اور سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ مذہبی سیاحت اس کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ سینٹ پیٹر باسیلیکا اور سسٹین چیپل دنیا کے حسین ترین فن پاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
ویٹیکن کے عجائب گھر اور عظیم کتب خانہ نہایت قیمتی تاریخی ذخائر رکھتے ہیں۔ یہاں مائیکل اینجلو اور بوٹیچیلی جیسے عظیم فنکاروں کے شاہکار محفوظ ہیں۔ 1984ء میں یونیسکو نے پورے ویٹیکن کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا، جو اپنی نوعیت کی واحد مثال ہے۔
سائنسی سرگرمیاں
پوپ لیو سیزدہم نے 1891ء میں ویٹیکن آبزرویٹری قائم کی، جو فلکیات کے ممتاز مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ اس طرح سائنسی سرگرمیاں بھی ویٹیکن کی علمی و ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں۔