"جمادی الاول" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «جمادی الاول، جسے جمادی الاولی بھی کہا جاتا ہے، قمری مہینوں میں پانچواں مہینہ ہے۔ اس مہینے اور جمادی الثانی کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ عربی مہینوں کے نام رکھنے کے وقت یہ دونوں مہینے سردی اور سخت ٹھنڈ کے موسم میں آتے تھے، اس لیے انہیں جمادی کہا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 193: | سطر 193: | ||
۲۔ شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ماہ کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو حضرت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زیارت پڑھنے کو مستحب اور مناسب قرار دیا ہے۔ | ۲۔ شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ماہ کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو حضرت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زیارت پڑھنے کو مستحب اور مناسب قرار دیا ہے۔ | ||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:قمری مهینے ]] | |||
[[fa:جمادی الاول ]] | |||
نسخہ بمطابق 10:11، 31 جنوری 2026ء
جمادی الاول، جسے جمادی الاولی بھی کہا جاتا ہے، قمری مہینوں میں پانچواں مہینہ ہے۔ اس مہینے اور جمادی الثانی کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ عربی مہینوں کے نام رکھنے کے وقت یہ دونوں مہینے سردی اور سخت ٹھنڈ کے موسم میں آتے تھے، اس لیے انہیں جمادی کہا گیا، جس کا مطلب جم جانا اور برف جمنا ہے۔
اس مہینے میں بہت سے اہم واقعات پیش آئے ہیں، جن میں سب سے اہم جنگ جمل ہے۔ یہ جنگ 36 ہجری میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور عائشہ، طلحہ اور زبیر کے درمیان ہوئی، جس کا انجام لشکر جمل کی شکست کی صورت میں ہوا۔
اس مہینے کے دیگر اہم واقعات میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت شیعہ روایت کے مطابق، اور اہل سنت کے مطابق بیماری کے باعث ان کا انتقال شامل ہے، جو ایک روایت کے مطابق 11 ہجری میں پیش آیا۔
اسی مہینے کے دیگر واقعات میں محمد بن ابی بکر، جو مصر کے علوی گورنر تھے، کو معاویہ کے کارندوں کے ذریعے جلایا جانا بھی شامل ہے، جو 38 ہجری میں پیش آیا۔
اصطلاحی تعریف پانچویں مہینے کا نام جمادی الاول، جمادی خمسه، جمادی اول، جمادی یا جمادی الاولی ہے۔ اسلام سے پہلے عربستان میں اس مہینے کا نام حنتم، حنین یا حنّین تھا، اور اس کی مدت تیس دن سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کی مدت انتیس دن ہوتی تھی۔
آغاز اور اختتام اسلامی شرعی تقویم کے مطابق جمادی کے ہر مہینے کا آغاز، دوسرے قمری مہینوں کی طرح، اس وقت ہوتا ہے جب غروبِ آفتاب کے بعد نئے چاند یعنی ہلال کو پہلی مرتبہ دیکھا جائے، جو ماہِ محاق کے بعد پہلی نظر آنے والی رات ہوتی ہے۔ ہر مہینے کی مدت اسی لمحے سے لے کر اگلے ہلال کے نظر آنے تک شمار کی جاتی ہے۔
مہینے کی مدت مقرر کرنے کے اس طریقے کو ہلالی طریقہ یا برحسب رؤیت کہا جاتا ہے۔ لہٰذا مہینے کا آغاز اور اختتام ہلال کی رؤیت پر موقوف ہوتا ہے، نہ کہ اس حساب پر جو منجّمین حسابی طریقہ یا امرِ اوسط کے نام سے بیان کرتے ہیں۔
ہر مہینے کے آغاز کے مشترک اعمال
۱۔ دعا
نئے چاند کو دیکھنے کے وقت دعائے ہلال پڑھنا مستحب ہے۔ کم از کم یہ ہے کہ تین مرتبہ اللہ اکبر اور تین مرتبہ لا إله إلا الله کہا جائے، پھر یہ کہا جائے:
الحمد لله الذي أذهب شهر كذا وجاء بشهر كذا
ہلال دیکھنے کے وقت سب سے بہترین دعا صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر 43 ہے۔
۲۔ قرآن
سورہ حمد کو سات مرتبہ پڑھنا۔
۳۔ روزہ
ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا ان امور میں سے ہے جن پر بہت تاکید کی گئی ہے۔ مرحوم علامہ مجلسی رحمہ اللہ نے کتاب زاد المعاد میں فرمایا ہے کہ مشہور قول کے مطابق یہ تین دن یہ ہیں:
مہینے کا پہلا جمعرات، مہینے کا آخری جمعرات، اور مہینے کے درمیانی عشرے کا پہلا بدھ۔۔
ماہِ جمادی الاول کے مخصوص اعمال
۱۔ سید بن طاؤس رحمہ اللہ نے ماہِ جمادی الاولی کا ہلال دیکھنے کے لیے یہ دعا نقل کی ہے:
اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ وَ أَنْتَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیمُ وَ أَنْتَ الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ وَ أَنْتَ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ وَ أَنْتَ الْمُهَیْمِنُ۔ اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تو ہی نہایت رحم کرنے والا، بے حد مہربان ہے۔ تو ہی بادشاہ ہے، نہایت پاک ہے، سلامتی دینے والا، امن عطا کرنے والا اور پوری نگہبانی کرنے والا ہے۔ وَ أَنْتَ الْعَزِیزُ وَ أَنْتَ الْجَبَّارُ وَ أَنْتَ الْمُتَکَبِّرُ وَ أَنْتَ الْخَالِقُ وَ أَنْتَ الْبَارِئُ وَ أَنْتَ الْمُصَوِّرُ وَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ۔ اور تو ہی غالب ہے، تو ہی زبردست ہے، تو ہی بڑی شان والا ہے، تو ہی پیدا کرنے والا ہے، تو ہی عدم سے وجود میں لانے والا ہے، تو ہی صورت بنانے والا ہے، اور تو ہی عزت والا، حکمت والا ہے۔ وَ أَنْتَ الْأَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ لَکَ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَی.اور تو ہی اوّل ہے اور تو ہی آخر، تو ہی ظاہر ہے اور تو ہی باطن۔ تمام اسماء حسنی (اچھے اور نیک نام) تیرے ہی لیے ہیں۔ أَسْأَلُکَ یَا رَبِّ بِحَقِّ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ وَ بِحَقِّ أَسْمَائِکَ کُلِّهَا أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ عَلَی آلِ مُحَمَّدٍ۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے ان ناموں کے حق کے واسطے اور تیرے تمام ناموں کے حق کے واسطے سوال کرتا ہوں کہ تو محمد اور آلِ محمد پر درود نازل فرما۔
وَ آتِنَا اللَّهُمَّ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَ فِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ اخْتِمْ لَنَا بِالسَّعَادَةِ وَ الشَّهَادَةِ فِی سَبِیلِکَ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی نصیب کر، اور ہمارے انجام کو سعادت اور تیری راہ میں شہادت پر ختم فرما۔
وَ عَرِّفْنَا بَرَکَةَ شَهْرِنَا هَذَا وَ يُمْنَهُ وَ ارْزُقْنَا خَيْرَهُ وَ اصْرِفْ عَنَّا شَرَّهُ اور ہمیں اس مہینے کی برکت اور خوش بختی سے آشنا فرما، اس کی بھلائی ہمیں عطا کر، اور اس کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ۔
وَ اجْعَلْنَا فِيهِ مِنَ الْفَائِزِينَ وَ قِنَا بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ النَّارِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اور ہمیں اس مہینے میں کامیاب ہونے والوں میں شامل فرما، اور اپنی رحمت سے ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُماتِ وَ النُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَضى أَجَلًا وَ أَجَلٌ مُسَمًّى عِنْدَهُ ثُمَّ أَنْتُمْ تَمْتَرُونَ، وَ هُوَ اللَّهُ فِي السَّماواتِ وَ فِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ يَعْلَمُ ما تَكْسِبُونَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ وَ لَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجاً قَيِّماً لِيُنْذِرَ بَأْساً شَدِيداً مِنْ لَدُنْهُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ ما فِي السَّماواتِ وَ ما فِي الْأَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَ هُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ جاعِلِ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنى وَ ثُلاثَ وَ رُباعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ ما يَشاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَ ما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدانا لِهذا وَ ما كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لا أَنْ هَدانَا اللَّهُ لَقَدْ جاءَتْ رُسُلُ رَبِّنا بِالْحَقِّ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَ إِسْحاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْلَمُونَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنا عَلى كَثِيرٍ مِنْ عِبادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آياتِهِ فَتَعْرِفُونَها وَ ما رَبُّكَ بِغافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنا لَغَفُورٌ شَكُورٌ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنا وَعْدَهُ وَ أَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعامِلِينَ، وَ تَرَى الْمَلائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ
فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّماواتِ وَ رَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعالَمِينَ، وَ لَهُ الْكِبْرِياءُ فِي السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَداً وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيراً
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِي وَ تَدَارَكْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِي وَ قَوِّ ضَعْفِي لِلَّذِي خَلَقْتَنِي لَهُ وَ حَبِّبْ إِلَيَّ الْإِيمَانَ وَ زَيِّنْهُ فِي قَلْبِي وَ قَدْ دَعَوْتُكَ كَمَا أَمَرْتَنِي فَاسْتَجِبْ لِي كَمَا وَعَدْتَنِي
اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ لَكَ عَبْداً لَا أَسْتَطِيعُ دَفْعَ مَا أَكْرَهُ وَ لَا أَمْلِكُ مَا أَرْجُو وَ أَصْبَحْتُ مُرْتَهَناً بِعَمَلِي فَلَا فَقِيرَ أَفْقَرُ مِنِّي يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي عَمَلَ مَنِ اسْتَيْقَنَ حُضُورَ أَجَلِهِ لَا بَلْ عَمَلَ مَنْ قَدْ مَاتَ فَرَأَى عَمَلَهُ وَ نَظَرَ إِلَى ثَوَابِ عَمَلِهِ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اللَّهُمَّ هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ بِرَحْمَتِكَ مِنْ عَذَابِكَ وَ هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ غَضَبِكَ
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِمَّنْ دَعَاكَ فَأَجَبْتَهُ وَ سَأَلَكَ فَأَعْطَيْتَهُ وَ آمَنَ بِكَ فَهَدَيْتَهُ وَ تَوَكَّلَ عَلَيْكَ فَكَفَيْتَهُ وَ تَقَرَّبَ إِلَيْكَ فَأَدْنَيْتَهُ وَ افْتَقَرَ إِلَيْكَ فَأَغْنَيْتَهُ وَ اسْتَغْفَرَكَ فَغَفَرْتَ لَهُ وَ رَضِيتَ عَنْهُ وَ أَرْضَيْتَهُ وَ هَدَيْتَهُ إِلَى مَرْضَاتِكَ وَ اسْتَعْمَلْتَهُ بِطَاعَتِكَ وَ لِذَلِكَ فَرَّغْتَهُ أَبَداً مَا أَحْيَيْتَهُ فَتُبْ عَلَيَّ يَا رَبِّ وَ أَعْطِنِي سُؤْلِي وَ لَا تَحْرِمْنِي شَيْئاً مِمَّا سَأَلْتُكَ وَ اكْفِنِي شَرَّ مَا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ فِي الْأَرْضِ وَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الَّذِي لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَعِنِّي عَلَى الدُّنْيَا وَ ارْزُقْنِي خَيْرَهَا وَ كَرِّهْ إِلَيَّ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْيَانَ وَ اجْعَلْنِي مِنَ الرَّاشِدِينَ
اللَّهُمَّ قَوِّنِي لِعِبَادَتِكَ وَ اسْتَعْمِلْنِي فِي طَاعَتِكَ وَ بَلِّغْنِيَ الَّذِي أَرْجُو مِنْ رَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّيَّ يَوْمَ الظَّمَاءِ وَ النَّجَاةَ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَ الْفَوْزَ يَوْمَ الْحِسَابِ وَ الْأَمْنَ مِنْ يَوْمِ الْخَوْفِ وَ أَسْأَلُكَ النَّظَرَ إِلَى وَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَ الْخُلُودَ فِي جَنَّتِكَ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِكَ وَ السُّجُودَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ وَ الظِّلَّ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّكَ وَ مُرَافَقَةَ أَنْبِيَائِكَ وَ رُسُلِكَ وَ أَوْلِيَائِكَ
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ مِنْ ذُنُوبِي وَ مَا أَخَّرْتُ وَ مَا أَسْرَرْتُ وَ مَا أَعْلَنْتُ وَ مَا أَسْرَفْتُ عَلَى نَفْسِي وَ مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي وَ ارْزُقْنِي التُّقَى وَ الْهُدَى وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنَى وَ وَفِّقْنِي لِلْعَمَلِ بِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضَى
اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِيَ الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَ أَصْلِحْ لِي آخِرَتِيَ الَّتِي إِلَيْهَا مُنْقَلَبِي وَ اجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ وَ اجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ سُوءٍ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا رَبَّ الْأَرْبَابِ وَ يَا سَيِّدَ السَّادَاتِ وَ يَا مَالِكَ الْمُلُوكِ أَنْ تَرْحَمَنِي وَ تَسْتَجِيبَ لِي وَ تُصْلِحَنِي فَإِنَّهُ لَا يُصْلِحُ مَنْ صَلَحَ مِنْ عِبَادِكَ إِلَّا أَنْتَ فَإِنَّكَ أَنْتَ رَبِّي وَ ثِقَتِي وَ رَجَائِي وَ مَوْلَايَ وَ مَلْجَئِي وَ لَا رَاحِمَ لِي غَيْرُكَ وَ لَا مُغِيثَ لِي سِوَاكَ وَ لَا مَالِكَ سِوَاكَ وَ لَا مُجِيبَ إِلَّا أَنْتَ أَنَا عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدِكَ وَ ابْنُ أَمَتِكَ الْخَاطِئُ الَّذِي وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ وَ أَنْتَ الْعَالِمُ بِحَالِي وَ حَاجَتِي وَ كَثْرَةِ ذُنُوبِي وَ الْمُطَّلِعُ عَلَى أُمُورِي كُلِّهَا فَأَسْأَلُكَ يَا لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَ مَا تَأَخَّرَ
اللَّهُمَّ لَا تَدَعْ لِي ذَنْباً إِلَّا غَفَرْتَهُ وَ لَا هَمّاً إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَ لَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا وَ لَا عَيْباً إِلَّا أَصْلَحْتَهُ
اللَّهُمَّ وَ آتِنِي فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنِي عَذَابَ النَّارِ
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى أَهْوَالِ الدُّنْيَا وَ بَوَائِقِ الدُّهُورِ وَ مُصِيبَاتِ اللَّيَالِي وَ الْأَيَّامِ
اللَّهُمَّ وَ احْرُسْنِي مِنْ شَرِّ مَا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَاناً ثَابِتاً وَ عَمَلًا مَقْبُولًا وَ دُعَاءً مُسْتَجَاباً وَ يَقِيناً صَادِقاً وَ قَوْلًا طَيِّباً وَ قَلْباً شَاكِراً وَ بَدَناً صَابِراً وَ لِسَاناً ذَاكِراً
اللَّهُمَّ انْزِعْ حُبَّ الدُّنْيَا وَ مَعَاصِيهَا وَ ذِكْرَهَا وَ شَهْوَتَهَا مِنْ قَلْبِي
اللَّهُمَّ إِنَّكَ بِكَرَمِكَ تَشْكُرُ الْيَسِيرَ مِنْ عَمَلِي فَاعْفُ لِيَ الْكَثِيرَ مِنْ ذُنُوبِي وَ كُنْ لِي وَلِيّاً وَ نَصِيراً وَ مُعِيناً وَ حَافِظاً
اللَّهُمَّ هَبْ لِي قَلْباً أَشَدَّ رَهْبَةً لَكَ مِنْ قَلْبِي وَ لِسَاناً أَدْوَمَ لَكَ ذِكْراً مِنْ لِسَانِي وَ جِسْماً أَقْوَى عَلَى طَاعَتِكَ وَ عِبَادَتِكَ مِنْ جِسْمِي
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَ مِنْ فَجْأَةِ نَقِمَتِكَ وَ مِنْ تَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَ مِنْ هَوْلِ غَضَبِكَ وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَ مِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَ سُوءِ الْقَضَاءِ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْكَرِيمِ وَ عَرْشِكَ الْعَظِيمِ وَ مُلْكِكَ الْقَدِيمِ يَا وَهَّابَ الْعَطَايَا وَ يَا مُطْلِقَ الْأُسَارَى وَ يَا فَكَّاكَ الرِّقَابِ وَ يَا كَاشِفَ الْعَذَابِ أَسْأَلُكَ أَنْ تُخْرِجَنِي مِنَ الدُّنْيَا سَالِماً غَانِماً وَ أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ آمِناً وَ أَنْ تَجْعَلَ أَوَّلَ شَهْرِي هَذَا صَلَاحاً وَ أَوْسَطَهُ فَلَاحاً وَ آخِرَهُ نَجَاحاً إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ .
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی بنائے۔ پھر وہ لوگ جو اپنے رب سے کفر کرتے ہیں، اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ تمهارا خالق) وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک مدت مقرر کی اور ایک معین مدت اس کے پاس ہے۔ پھر تم اس میں شک کرتے ہو، اور وہی اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ وہ تمہارے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کماتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی، بلکہ اسے درست اور مضبوط بنایا تاکہ اپنی طرف سے سخت عذاب سے ڈرائے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے لیے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اسی کا ہے، اور آخرت میں بھی تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور وہی حکمت والا، خبردار ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے فرشتوں کو پیغام رساں بنایا، دو دو، تین تین، چار چار پر لگے ہوئے، وہ مخلوق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
جو رحمت اللہ لوگوں کے لیے کھولتا ہے، اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو وہ روک لے، اس کے بعد کوئی چھوڑنے والا نہیں، اور وہی غالب، حکمت والا ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس (ہدایت) کی طرف راہنمائی کی، اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ بے شک ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔ بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ جلد ہی تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انہیں پہچان لو گے، اور تمہارا رب اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بے شک ہمارا رب بخشنے والا، شکر گزار ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا، ہم جنت میں جہاں چاہیں ٹھہریں گے۔ پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے! اور تم فرشتوں کو دیکھو گے جو عرش کے گرد حلقہ بنا کر کھڑے ہوں گے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہوئے، اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا، اور کہا جائے گا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
پس اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا رب، تمام جہانوں کا رب۔ اور آسمانوں اور زمین میں بڑائی اسی کے لیے ہے، اور وہی غالب، حکمت والا ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے نہ کوئی بیٹا بنایا اور نہ ہی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک ہے، اور نہ ہی اس کی عزت میں کوئی نقص هے تا که کسی مددگار کا محتاج هو، اور همیشه کمال کی بالاترین صفات سےاس کی ستایش کرو۔
اے اللہ! میرے گزشتہ گناہوں کو بخش دے، اور میرے باقی عمر میں میری مدد فرما، اور مجھے اس کام کے لیے طاقت دے جس کے لیے تو نے مجھے پیدا کیا ہے، اور ایمان کو میرے لیے محبوب بنا اور اسے میرے دل میں زینت بخش۔ اور میں نے تیری دعوت پر لبیک کہا جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیا تھا، پس میری دعا قبول فرما جیسا کہ تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔
اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، میں نہ تو اس چیز کو روک سکتا ہوں جو مجھے ناپسند ہے اور نہ ہی اس چیز کا مالک ہوں جس کی میں امید رکھتا ہوں، اور میں اپنے عمل کے ساتھ گروی رکھا گیا ہوں۔ پس مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں، اے جہانوں کے رب! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس شخص کے عمل پر لگا دے جو اپنی موت کے وقت کے حاضر ہونے پر یقین رکھتا ہو، بلکہ اس شخص کے عمل پر جو مر چکا ہو اور اپنے عمل کو دیکھ چکا ہو اور اپنے عمل کے ثواب کو دیکھ چکا ہو۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اے اللہ! یہ تیری رحمت سے تیرے عذاب کی پناہ مانگنے والے کی جگہ ہے، اور یہ تیری معافی سے تیرے غضب کی پناہ مانگنے والے کی جگہ ہے۔
اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جنہوں نے تجھے پکارا تو تو نے انہیں جواب دیا، تجھ سے مانگا تو تو نے انہیں عطا کیا، تجھ پر ایمان لائے تو تو نے انہیں ہدایت دی، تجھ پر بھروسہ کیا تو تو نے انہیں کافی ہو لیا، تیری طرف قریب ہوئے تو تو نے انہیں قریب کر لیا، تیری طرف محتاج ہوئے تو تو نے انہیں غنی کر دیا، تجھ سے بخشش مانگی تو تو نے انہیں بخش دیا اور ان سے راضی ہوا اور انہیں راضی کیا، اور انہیں اپنی رضا کی طرف ہدایت دی، اور انہیں اپنی اطاعت پر لگایا، اور اس کے لیے تو نے انہیں ہمیشہ کے لیے فارغ کر دیا جب تک تو انہیں زندہ رکھے۔ پس اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میری دعا قبول فرما، اور مجھے اس چیز سے محروم نہ کر جو میں نے تجھ سے مانگی ہے، اور مجھے زمین پر ظالموں کے شر سے بچا، اور میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہے جو گناہوں کو بخشتا ہے سوائے اس کے۔
اے اللہ! محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما، اور مجھے دنیا پر مدد فرما، اور مجھے اس کی بھلائی عطا فرما، اور میرے دل میں کفر، فسق اور نافرمانی کو ناپسند بنا، اور مجھے ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔
اے اللہ! مجھے اپنی عبادت کے لیے طاقت عطا فرما، اور مجھے اپنی اطاعت میں لگا، اور مجھے اپنی رحمت سے وہ پہنچا دے جس کی میں امید رکھتا ہوں، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے!
اے اللہ! میں تجھ سے پیاس کے دن سیرابی مانگتا ہوں، اور بڑے خوف کے دن نجات مانگتا ہوں، اور حساب کے دن کامیابی مانگتا ہوں، اور خوف کے دن امن مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے تیرے کریم چہرے کی زیارت مانگتا ہوں، اور تیری جنت میں ہمیشہ رہنے کی جگہ مانگتا ہوں تیرے فضل سے، اور اس دن سجدہ مانگتا ہوں جب پنڈلی کھولی جائے گی، اور اس دن سایہ مانگتا ہوں جب تیرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اور تیرے انبیاء، رسولوں اور اولیاء کی رفاقت مانگتا ہوں۔
اے اللہ! میرے گزشتہ گناہوں کو بخش دے، اور میرے بعد کے گناہوں کو، اور میرے چھپے ہوئے گناہوں کو، اور میرے ظاہر گناہوں کو، اور جو میں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے، اور وہ جسے تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، اور مجھے تقویٰ، ہدایت، پاکدامنی اور بے نیازی عطا فرما، اور مجھے اس عمل کی توفیق دے جو تو پسند کرتا ہے اور جس سے تو راضی ہوتا ہے۔
اے اللہ! میرے دین کو درست فرما جو میرے معاملے کی حفاظت ہے، اور میری دنیا کو درست فرما جس میں میری زندگی ہے، اور میری آخرت کو درست فرما جس کی طرف میرا لوٹنا ہے، اور زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی میں اضافہ بنا، اور موت کو میرے لیے ہر برائی سے آرام بنا۔
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے ربوبیت کے رب، اے سرداروں کے سردار، اے بادشاہوں کے مالک! کہ تو مجھ پر رحم فرما، میری دعا قبول فرما، اور مجھے درست کر دے، کیونکہ تیرے بندوں میں سے جو درست ہوتا ہے اسے تو ہی درست کرتا ہے۔ پس بے شک تو ہی میرا رب ہے، میرا بھروسہ، میری امید، میرا مولیٰ، میری پناہ گاہ، اور میرے لیے تیرے سوا کوئی رحم کرنے والا نہیں، اور تیرے سوا کوئی مددگار نہیں، اور تیرے سوا کوئی مالک نہیں، اور تیرے سوا کوئی جواب دینے والا نہیں۔ میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری بندی کا بیٹا ہوں، خطا کار ہوں جسے تیری رحمت نے گھیر رکھا ہے، اور تو میری حالت، میری حاجت، میرے گناہوں کی کثرت اور میرے تمام معاملات سے آگاہ ہے۔ پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے وہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کہ تو میرے گزشتہ گناہوں کو بخش دے اور میرے بعد کے گناہوں کو۔
اے اللہ! میرے لیے کوئی گناہ نہ چھوڑ جسے تو نہ بخشے، اور کوئی پریشانی نہ چھوڑ جسے تو نہ دور کرے، اور کوئی حاجت جو تیری رضا کے لیے ہو اسے پورا کر دے، اور کوئی عیب نہ چھوڑ جسے تو درست نہ کرے۔
اے اللہ! اور مجھے دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور مجھے آگ کے عذاب سے بچا۔
اے اللہ! مجھے دنیا کے ہولناک حالات، زمانے کے مصائب، اور رات دن کی آفتوں پر مدد فرما۔
اے اللہ! اور مجھے زمین پر ظالموں کے شر سے بچا، کیونکہ تیرے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں۔
اے اللہ! میں تجھ سے ثابت قدم ایمان، قبول شدہ عمل، مستجاب دعا، سچا یقین، پاکیزہ بات، شکر گزار دل، صبر کرنے والا جسم، اور یاد کرنے والی زبان مانگتا ہوں۔
اے اللہ! دنیا کی محبت، اس کی نافرمانیوں، اس کے ذکر، اور اس کی خواہش کو میرے دل سے نکال دے۔
اے اللہ! بے شک تو اپنے کرم سے میرے تھوڑے سے عمل کا بھی شکر ادا کرتا ہے، پس میرے بہت سے گناہوں کو معاف فرما، اور میرا ولی، ناصر، مددگار اور محافظ بن۔
اے اللہ! مجھے ایسا دل عطا فرما جو میرے دل سے تجھ سے زیادہ ڈرنے والا ہو، اور ایسی زبان عطا فرما جو میری زبان سے تیرا زیادہ ذکر کرنے والی ہو، اور ایسا جسم عطا فرما جو میرے جسم سے تیری اطاعت اور عبادت پر زیادہ قوی ہو۔
اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری ناراضگی کے اچانک آنے سے، تیری عافیت کے بدل جانے سے، اور تیرے غضب کے ہول سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے آزمائش کی سختی، بدبختی کے پہنچنے، دشمنوں کی خوشی، اور دنیا و آخرت میں برے فیصلے سے پناہ مانگتا ہوں۔
اے اللہ! میں تجھ سے تیرے کریم نام، تیرے عظیم عرش، اور تیری قدیم بادشاہت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں، اے عطاؤں کے دینے والے، اے قیدیوں کو چھوڑنے والے، اے گردنوں کو آزاد کرانے والے، اے عذاب کو دور کرنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا سے سلامت، فائدہ اٹھاتے ہوئے نکالے، اور مجھے اپنی رحمت سے جنت میں امن کے ساتھ داخل کرے، اور میرے اس مہینے کے آغاز کو صلاح، درمیان کو فلاح، اور آخر کو کامیابی بنا دے۔ بے شک تو ہی غیبوں کا جاننے والا ہے۔
۲۔ شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ماہ کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو حضرت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زیارت پڑھنے کو مستحب اور مناسب قرار دیا ہے۔