مندرجات کا رخ کریں

"سعودی عرب کے سادات" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 210: سطر 210:


== سادات حسینی ==
== سادات حسینی ==
ساداتِ حسینی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا سلسلۂ نسب حضرت امام حسینؑ تک پہنچاتے ہیں۔ حجاز کے ساداتِ حسینی کے اہم خاندانوں کی بڑی تعداد مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح میں آباد رہی ہے۔
نسب شناسی کے منابع میں ان خاندانوں میں سے متعدد کو امام زین العابدینؑ کے فرزند حسین اصغر کی نسل سے منسوب کیا گیا ہے۔
=== بنی حسین ===
بنی حسین حجاز کے وسیع ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کا سلسلۂ نسب حسین اصغر بن امام زین العابدینؑ تک پہنچتا ہے۔
مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح کے شہر اور دیہات اس خاندان کے قدیم مراکزِ سکونت رہے ہیں۔
بنی حسین کی شاخوں میں طماۃ، مہانی، ہواشم، عیاسا، ملاعبہ، آل سبیع بن مہنا، وحاحدہ، عرمات، شداقمہ اور جمامزہ شامل ہیں۔
=== طماۃ یا آل یحییٰ طامی ===
طماۃ یا آل یحییٰ طامی کو بنی حسین کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو مدینہ منورہ کے گردونواح میں آباد تھے۔
یہ گروہ بنی حسین کی بدوی شاخوں میں سے ایک کے طور پر معروف ہے۔ بعض تاریخی روایات میں ان کے محلِ سکونت کو سویداء بنی حسین کہا گیا ہے۔
=== اشرافِ مہانی ===
اشرافِ مہانی مدینہ منورہ کے نمایاں ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
نسب شناسی کے منابع کے مطابق اس خاندان کے افراد کئی صدیوں تک مدینہ کے امراء میں شامل رہے ہیں۔ مہانی کی اہم شاخوں میں اشرافِ ہواشم اور ملاعبہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اشرافِ ہواشم میں عیاسا کا خاندان شامل ہے، جس کی مزید شاخیں درج ذیل ہیں:
* آل مبارک
* آل برکہ
* آل شمَیسان
* آل عساف
* آل علی
* آل شہیل
* آل زہیر
* شقّارین
* آل عمیرہ
* زرافہ یا آل زرفی
=== آل سبیع بن مہنا ===
آل سبیع بن مہنا خاندانِ مہانی کی دیگر شاخوں میں شامل ہیں، جن سے متعدد خاندان وجود میں آئے ہیں۔
اس خاندان کی اہم شاخیں درج ذیل ہیں:
* آل ذویب: آل سبیع بن مہنا سے وابستہ خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
* آل مقرن: ان میں سے ایک گروہ عراق کے شہر حلہ میں آل رمیح کے نام سے معروف ہے۔
* ظوالم: اس میں آل حیار اور آل طراد شامل ہیں۔
* وحاحدہ یا وحاودہ: اس کی شاخوں میں حمزات، ثللا، آل زاید، آل حزیم اور آل معرعر شامل ہیں۔
* عرمات: یہ آل عرمه بن نکَیثہ بن ثوبہ سے منسوب ہیں۔
* شداقمہ: اس شاخ کے معروف خاندانوں میں آل شدقمی شامل ہیں۔
* جمامزہ: مدینہ کے تاریخی خاندانوں میں سے ہیں، جنہیں بعض منابع میں مدینہ کا آخری حکمران خاندان بھی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک گروہ مصر کے علاقے قنا اور صعید کے دیگر شہروں میں آباد ہے۔ مدینہ میں باقی رہ جانے والی ان کی شاخوں میں آل صقر اور آل طہ شامل ہیں۔
=== آل مدنی ===
آل مدنی مدینہ منورہ کے معروف سادات خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں زیرِ حوالہ نسب شناسی کی رپورٹ میں بنی حسین سے منسوب کیا گیا ہے۔
یہ خاندان مدینہ کے بااثر اور معروف خاندانوں میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔
اس خاندان کی معروف شخصیات میں ادیب اور مورخ عبید مدنی اور ان کے فرزندان، نزار بن عبید مدنی اور غازی بن عبید مدنی شامل ہیں۔ ایاد مدنی بھی اس خاندان سے منسوب سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس خاندان کے افراد مذہبِ جعفری کے پیروکار ہیں۔
=== بنی حسین سے متعلق دیگر خاندان ===
بنی حسین سے منسوب دیگر خاندانوں میں اشرافِ ودمہ اور آل ماردینی شامل ہیں۔
اشرافِ ودمہ ایسے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے قبائلِ حرب اور ظفیر کے ساتھ حلف اور اتحاد کے تعلقات رہے ہیں۔
آل ماردینی ساداتِ حسینی کے خاندانوں میں شامل ہیں، جو حامدیہ کے نام سے بھی معروف ہیں۔
آل نوری کو آل ماردینی سے منسوب شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف، جدہ اور ریاض میں آباد ہے۔
== امام جعفر صادقؑ اور آل باعلوی سے منسوب خاندان ==
حجاز کے نسب شناسی کے منابع میں سادات کے بعض خاندانوں کو حضرت امام جعفر صادقؑ سے منسوب کیا گیا ہے۔
یہ خاندان مکہ، مدینہ اور جدہ میں آباد رہے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض نے مختلف ادوار میں یمن اور حضرموت کی طرف ہجرت بھی کی۔
اس شاخ سے منسوب خاندانوں میں آل شطا، آل حسنین، آل عشقی اور بیت ہاشم شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں مکہ کے بیت ہاشم کو مدینہ کے آل ہاشم خاندان سے الگ قرار دیا گیا ہے۔
### آل باعلوی

نسخہ بمطابق 11:44، 4 نومبر 2026ء

سعودی عرب کے سادات، سے مراد وہ خاندان اور گروہ ہیں جو سعودی عرب کے مختلف علاقوں، بالخصوص تاریخی سرزمینِ حجاز میں آباد ہیں اور اپنے نسبی شجرہ ہائے نسب اور نسب شناسی کے منابع کے مطابق اپنا سلسلۂ نسب خاندانِ بنو ہاشم اور اہلِ بیتؑ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ خاندان مختلف شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں سادات حسنی، سادات حسینی، سادات موسوی، سادات جعفری اور سادات رضوی شامل ہیں۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ، طائف، ینبع، تبوک، ضباء اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے سادات کے خاندانوں کے اہم مراکزِ سکونت شمار ہوتے ہیں۔ تاریخِ حجاز میں سادات کے ایک گروہ کو اشراف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مکہ کے اشراف، جنہیں عموماً امام حسن مجتبیٰؑ کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے، کئی صدیوں تک امارتِ مکہ کے منصب پر فائز رہے۔ ان کے علاوہ سادات حسینی اور موسوی کے دیگر خاندان بھی مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح میں آباد رہے ہیں۔ ان خاندانوں میں سے بعض نے مختلف ادوار میں علمی، مذہبی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جبکہ ان میں سے کچھ خاندانوں نے حجاز، عراق اور اردن کی حکومتوں کی تاریخ میں بھی کردار ادا کیا۔ نسب شناسی کے منابع میں حجاز کے متعدد اشرافی خاندانوں کا ذکر ملتا ہے، جن میں ہواشم، قتادیان، عبادیلہ، بنی حسین اور آل باعلوی شامل ہیں [1].

حجاز میں سادات کا تاریخی پس منظر

حجاز اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدیوں ہی سے اہلِ بیتؑ کے خاندانوں کی موجودگی اور سکونت کا مرکز رہا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مذہبی اہمیت اور اس سرزمین کا رسولِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے خاندان سے تعلق اس بات کا سبب بنا کہ بنی ہاشم کی اولاد اور ان کی نسلوں کے متعدد افراد نے اس علاقے کی طرف ہجرت کی۔

مختلف ادوار میں ان میں سے بعض خاندانوں نے سماجی، مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل کیا اور حجاز کے شہروں کے انتظامی امور میں کردار ادا کیا۔ تاریخی منابع میں مکہ کے اشرافِ حسنی اور مدینہ کے سادات حسینی کو علاقے کے اہم علوی خاندانوں میں شمار کیا گیا ہے۔ ان خاندانوں کے بعض افراد مختلف ادوار میں امارت، قضاوت اور مذہبی امور کی سرپرستی جیسے عہدوں پر فائز رہے۔

چوتھی صدی ہجری کے بعد مکہ میں حسنی خاندانوں کی حکومت وسعت اختیار کرنے لگی اور بعد کے ادوار میں اشراف کی مختلف شاخوں نے اس شہر کا انتظام سنبھالا۔ حجاز کی سیاسی تاریخ میں خاندان‌های جعفری، ہواشم، قتادیان اور عبادیلہ کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان خاندانوں نے مختلف ادوار میں مکہ اور اس کے گردونواح پر حکومت کی اور اسلامی سلطنتوں کے ساتھ حجاز کے سیاسی تعلقات پر اثر ڈالا۔

سادات حسنی

سادات حسنی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا نسب امام حسن مجتبیٰؑ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ حجاز کے اہم ترین سادات خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں اور مکہ کی سیاسی تاریخ سمیت سعودی عرب کے بعض دیگر علاقوں میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ حجاز سے متعلق نسب شناسی کے منابع میں سادات حسنی کے متعدد خاندانوں کا ذکر ملتا ہے، جو مکہ، طائف، ینبع، مدینہ اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں آباد رہے ہیں۔ اس گروہ کے مشہور خاندانوں میں ہواشم، قتادیان، آل فضل اللہ، آل جعفر، آل شرف الدین، آل صدرالدین، آل صفی الدین، آل فحص اور آل برکات شامل ہیں۔

ہواشم

ہواشم یا ہواشمِ امراء کو سادات حسنی سے منسوب خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نسب شناسی کے شجرہ ہائے نسب کے مطابق اس خاندان کا سلسلۂ نسب ابو ہاشم بن حسین بن محمد الثائر بن موسیٰ دوم بن عبداللہ دوم بن موسیٰ الجون بن عبداللہ المحض بن حسن مثنیٰ کے ذریعے امام حسن مجتبیٰؑ تک پہنچتا ہے۔

ہواشم حجاز کے تاریخی خاندانوں میں سے ہیں جن کا تعلق امارتِ مکہ سے رہا ہے۔ بعض منابع کے مطابق اس خاندان کے گروہ مکہ اور وادی فاطمہ میں آباد تھے۔ نسب شناسی کے منابع میں ہواشمِ امراء اور حجاز کے مختلف علاقوں میں موجود اسی نام کے دیگر خاندانوں کے درمیان فرق بھی بیان کیا گیا ہے۔

اشرافِ قتادی

اشرافِ قتادی یا قتادیان کو مکہ کے بڑے سادات حسنی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا سلسلۂ نسب قتادہ بن ادریس بن مطاعن بن عبدالکریم بن عیسیٰ بن حسین بن سلیمان بن علی بن عبداللہ بن محمد الثائر تک پہنچتا ہے۔ یہ خاندان مکہ کے اشراف کی سابقہ شاخوں کے بعد اقتدار میں آیا اور قتادہ کی اولاد نے کئی صدیوں تک حجاز کے سیاسی نظام میں اہم کردار ادا کیا۔

قتادہ بن ادریس کے پانچ صاحبِ نسل فرزند بیان کیے گئے ہیں:

  • ادریس
  • راجح
  • علی اکبر
  • حسین
  • حسن

اس خاندان کی بعد کی نسلوں سے متعدد شاخیں اور خاندان وجود میں آئے، جو حجاز کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے۔

ذو ہجار

ذو ہجار قتادیان کی ایک شاخ ہے، جس کا سلسلۂ نسب شریف ہجار بن وبیر بن مخباز بن محمد بن عقیل بن راجح بن ادریس بن حسن بن قتادہ تک پہنچتا ہے۔ یہ خاندان ینبع النخل، ینبع البحر، مدینہ منورہ، املج اور ضباء کے علاقوں میں آباد رہا ہے۔

حجران یا آل غیث

حجران یا آل غیث بھی قتادیان سے منسوب شاخوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا نسب شریف عبدالکریم بن ابوسعید حسن بن علی اکبر بن قتادہ تک پہنچایا جاتا ہے۔

ذو عنان

ذو عنان کو شریف عنان بن مغامس بن رمیثہ بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ کے شمال میں واقع گاؤں خوار، شہر مکہ اور علاقے خلیص میں آباد رہا ہے۔ نسب شناسی کے منابع میں اشرافِ عنانی اور جدہ و مصر میں موجود اسی نام کے دیگر خاندانوں کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ذو عراد

ذو عراد کو شریف عراد بن عجل بن حازم بن عبدالکریم بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان قتادیان سے وابستہ شاخوں میں شمار ہوتا ہے۔

خاندانِ عنقاوی

عنقاویہ یا آل عنقاوی قتادیان سے منسوب خاندانوں میں شامل ہیں۔ ان کا سلسلۂ نسب شریف عنقا بن وبیر بن محمد بن عاطف بن ابو دعیج بن محمد ابو نمی اول تک پہنچتا ہے۔ یہ خاندان مکہ، مدینہ اور مصر کے بالائی علاقے صعید میں واقع قنا میں آباد رہا ہے۔ آل بصری عنقاوی کو مدینہ میں اس خاندان کی معروف شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ذو حسن

ذو حسن کو شریف علی اور ابراہیم، فرزندانِ حسن بن عجلان بن رمیثہ بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف کے جنوب میں واقع علاقوں لیث اور شواق میں آباد رہا ہے۔

آل برکات

آل برکات کو شریف برکات بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان متعدد شاخوں پر مشتمل ہے اور اس کے افراد مختلف ادوار میں جموم اور وادی فاطمہ کے علاقوں میں بااثر رہے ہیں۔ آل برکات کی شاخوں میں نواصرہ، برکاتی، کریمی، ذو رضا، ذو سرور، رباعنہ، شواکرہ اور آل غیث شامل ہیں۔ نسب شناسی کے منابع میں ان شاخوں کو شریف موسیٰ بن برکات کی نسل سے منسوب کیا گیا ہے۔

شریف ابراہیم بن برکات کی نسل سے بھی ذو حسین، مفالحہ، ذو عبداللہ اور ذو ابراہیم جیسے خاندان وجود میں آئے۔ اسی طرح شریف عمرو بن برکات کی نسل سے عمور، عرامطہ اور علوات کے خاندان منسوب کیے جاتے ہیں۔

ذو حراز اور ماندیل

ذو حراز کو شریف حراز بن احمد بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ماندیل یا مندیلی کو شریف مندیل بن حیدر بن احمد بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔

آل خیرات

آل خیرات کو شریف خیرات بن بشیر بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس خاندان کی شاخوں میں آل حمود ابومسمار، آل مسعود، آل حیدر، آل بشیر، آل ناصر، آل ظافر اور آل علی فارس شامل ہیں۔ زربان، مکارمہ، آل ابو طالب، آل نش، آل حوذان، آل ابو ذیاب، آل حسین، آل فواز، آل عقیل اور آل یحییٰ کے خاندان بھی اس خاندان سے منسوب شاخوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان خاندانوں کے مراکزِ سکونت صامطہ، ابو عریش، جیزان اور خر مہ کے بعض علاقوں میں بتائے گئے ہیں۔

آل مغامس

آل مغامس قتادیان سے منسوب خاندانوں میں شامل ہیں۔ ان کا سلسلۂ نسب شریف مغامس بن ابو نمی بن زامل بن ثقَبہ بن محمد ابو نمی دوم تک پہنچتا ہے۔

عبادیلہ

عبادیلہ حجاز کے اہم سادات حسنی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں شریف عبداللہ بن حسن بن محمد ابو نمی دوم سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس خاندان کی متعدد شاخیں ہیں، جو مکہ، طائف، جدہ، مدینہ، خرمہ، تربہ اور حجاز کے دیگر علاقوں میں آباد ہیں۔

ذو حمود

ذو حمود عبادیلہ کی شاخوں میں سے ایک ہے۔ آل ابو بطین، عرجان، آل ابو جمال، آل حوذان اور آل فاخر کو اس شاخ سے منسوب خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آل ابو بطین مزید کئی شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں آل عبداللہ، آل عبدالملک، آل لباس اور کرماء شامل ہیں۔ اس خاندان کی معروف شخصیات میں شریف شاکر بن ہزاع حمودی عبدلی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کے فرزند شریف ہزاع بن شاکر بھی اس شاخ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

ذو عون

ذو عون عبادیلہ کی نمایاں شاخوں میں سے ایک اور حجاز کی سیاسی تاریخ کے بااثر خاندانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس خاندان نے مختلف ادوار میں مکہ اور حجاز کی امارت سنبھالی اور ایک صدی سے زیادہ عرصے تک علاقے کے سیاسی حالات میں کردار ادا کیا۔

ذو عون کی تین بنیادی شاخیں ہیں:

  1. ذو محمد العونیہ
  2. ذو ناصر العونیہ
  3. ذو ہزاع العونیہ

خاندانِ ذو محمد اس مجموعے کی اہم شاخوں میں سے ہے۔ نسب شناسی کے منابع میں اردن کے شاہی خاندان اور عراق کے سابق شاہی خاندان کو بھی اسی شاخ سے منسوب کیا گیا ہے۔

صوامله

صوامله عبادیلہ کی دیگر شاخوں میں شامل ہیں۔ آل زید، آل سرور، آل سعد، آل سالم، آل عبدالمعین، آل عبداللہ، آل مبارک، آل محمد اور آل سعد کو اس خاندان کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آل صامل

آل صامل کو شریف صامل کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان حجاز کے مشرق میں واقع شہر رنیہ میں آباد رہا ہے۔ نسب شناسی کے منابع میں رنیہ کی مقامی امارت بھی اسی خاندان سے منسوب کی گئی ہے۔

فعور

فعور عبادیلہ کی شاخوں میں سے ایک ہے، جو دو بنیادی شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے:

  • ذو حسین
  • ذو زید

ذو حسین کی شاخوں میں ذو سلطان اور ذو محمد ابو شرین شامل ہیں۔ جبکہ ذو زید کی شاخوں میں ذو حمزہ، ذو مستور، ذو جابر، ذو برکات اور ذو زید اصغر شامل ہیں۔ آل ملبس اور آل محسن بن حسن، جو آل ابو حریق کے نام سے مشہور ہیں، بھی فعور کی دیگر شاخوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ذو سلطان

ذو سلطان مکہ کے مشرق میں واقع علاقے تربہ میں آباد رہے ہیں۔ مقامی تاریخی منابع میں انہیں تربہ کی قدیم امارت کے بااثر خاندانوں میں شمار کیا گیا ہے۔ راشد بن راجح کو اس خاندان کی معروف شخصیات میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔

عبادیلہ کی دیگر شاخیں

عبادیلہ کی دیگر شاخوں میں ذو حسن، آل حامد، ذو حازم، ذو لؤی، ذو عبدالملک، ذو مبارک اور آل شاہین شامل ہیں۔ ذو حسن میں ذو دخیل اللہ، ذو فہید، ذو مستور اور ذو عبداللہ جیسے خاندان شامل ہیں۔ آل حامد کی شاخوں میں آل فتن، آل سلیم اور آل سعید شامل ہیں۔

ذو حازم میں ذو شرف، جو آل ہاشم کے نام سے مشہور ہیں، ذو برکات اور ذو مہنا شامل ہیں۔ ذو برکات مکہ، جدہ اور طائف میں جبکہ ذو مہنا جدہ میں آباد رہے ہیں۔ ذو مبارک کی شاخوں میں آل جاراللہ، آل عبداللہ، آل ہاشم، آل بن یحییٰ، آل حماد، آل سعید، آل ثابت اور آل مساعد شامل ہیں۔ یہ خاندان وادی الاحسبہ میں آباد ہیں۔ آل شاہین بھی متعدد شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں سے بعض خرمہ، تربہ اور مکہ میں آباد ہیں۔

مناعمہ

مناعمه عبادیلہ کی شاخوں میں شامل ہیں، جنہیں شریف عبدالمنعم بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔

شنابرہ

شنابرہ یا آل شنبر کو شریف شنبر بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف، مکہ، وادی لیہ اور وادی سعیا میں آباد رہے ہیں۔ اس خاندان کی شاخوں میں ذو عمرو، ذو شنبر، ذو عبداللہ، ذو طالب، ذو دخیل اللہ، ذو غیث، ذو سلیمان، سلامین، ذو ابراہیم، ذو باز، ذو ثقَبہ، ذو حسین اور ذو ہندی شامل ہیں۔

ذو جوداللہ

ذو جوداللہ یا جوادا کو شریف جوداللہ بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور طائف میں آباد رہا ہے۔ طائف سے ریاض جانے والے راستے پر واقع ایک علاقے کا نام جودیہ بھی اسی خاندان سے منسوب کیا جاتا ہے۔

حرث یا آل حارث

حرث یا آل حارث کو شریف محمد حارث بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور اس کے شمال میں واقع وادی مضیق میں آباد رہا ہے۔ نسب ناموں کے ایک ماخذ میں اس خاندان کو طائف کے بنی حارث اور جنوبی عربستان کے بلحارث قبائل سے الگ قرار دیا گیا ہے۔

ذو نامی اور قتادی

ذو نامی کو شریف نامی بن عبدالطلب بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خاندان قتادی کو اس شاخ کا رشتہ دار اور شریف عبدالطلب بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے شمار کیا گیا ہے۔

آل زید اور ذو سرور

آل زید کو شریف زید بن محسن بن حسین بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ، طائف اور جدہ میں آباد رہا ہے اور اس کی شاخوں میں آل غالب، آل عبداللہ، آل یحییٰ اور ذو مساعد شامل ہیں۔ ذو سرور کو شریف سرور بن باز بن احمد بن علی بن باز بن حسین بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور طائف میں آباد ہے۔

جوازین اور آل راجح

جوازین یا آل جازان کو شریف جازان بن قایتبای بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح آل راجح یا رواجحہ کو شریف راجح بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور وادی فاطمہ میں واقع خیف الرواجحہ میں آباد رہا ہے۔

حجاز کے دیگر حسنی خاندان

حجاز کے اشراف سے متعلق نسب شناسی کے منابع میں ہواشم، قتادیان اور عبادیلہ کے علاوہ دیگر متعدد خاندانوں کو بھی سادات حسنی سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان میں درج ذیل خاندان شامل ہیں:

  • اشراف عیایشہ: ینبع اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • اشراف قرون: ینبع میں سکونت رکھنے والے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
  • محمودیہ یا محامید: ینبع اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • اشراف وکلا: علاقے موَیلح میں سکونت رکھتے تھے۔
  • آل بدوی بن حسین: وجہ، تبوک اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • آل نامی: علاقے بدر میں سکونت رکھتے تھے۔
  • آل کتبی حسنی: مکہ اور جدہ میں آباد رہے ہیں۔
  • آل دحلان: حجاز کے سادات سے منسوب خاندانوں میں شامل ہیں۔
  • آل دباغ: ادریسی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں اور مکہ و مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • آل رضوان: ادریسی خاندانوں میں شامل ہیں اور مکہ، مدینہ اور جدہ میں سکونت رکھتے ہیں۔
  • آل یمانی: سادات حسنی رسی سے منسوب ہیں اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔ ہاشم بن عبداللہ یمانی اس خاندان کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
  • آل غوث: مدینہ میں آباد سادات کے خاندانوں میں شامل ہیں۔
  • آل مالکی حسنی: مکہ کے علمی اور مذہبی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ادریسی شاخوں سے منسوب ہیں۔
  • آل تونسی: مکہ میں آباد ہیں۔
  • آل فاسی: ادریسی خاندانوں میں شامل ہیں اور مکہ و جدہ میں سکونت رکھتے ہیں۔
  • آل عیسیٰ وفائی: سادات حسنی سے منسوب ہیں اور طائف و وادی العرج میں آباد رہے ہیں۔

آل عیسیٰ وفائی کی تین بنیادی شاخیں ہیں: آل قصیر، منادحہ اور ذو عوض۔ آل سلیمان کو ذو عوض کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سادات حسینی

ساداتِ حسینی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا سلسلۂ نسب حضرت امام حسینؑ تک پہنچاتے ہیں۔ حجاز کے ساداتِ حسینی کے اہم خاندانوں کی بڑی تعداد مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح میں آباد رہی ہے۔

نسب شناسی کے منابع میں ان خاندانوں میں سے متعدد کو امام زین العابدینؑ کے فرزند حسین اصغر کی نسل سے منسوب کیا گیا ہے۔

بنی حسین

بنی حسین حجاز کے وسیع ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کا سلسلۂ نسب حسین اصغر بن امام زین العابدینؑ تک پہنچتا ہے۔ مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح کے شہر اور دیہات اس خاندان کے قدیم مراکزِ سکونت رہے ہیں۔ بنی حسین کی شاخوں میں طماۃ، مہانی، ہواشم، عیاسا، ملاعبہ، آل سبیع بن مہنا، وحاحدہ، عرمات، شداقمہ اور جمامزہ شامل ہیں۔

طماۃ یا آل یحییٰ طامی

طماۃ یا آل یحییٰ طامی کو بنی حسین کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو مدینہ منورہ کے گردونواح میں آباد تھے۔ یہ گروہ بنی حسین کی بدوی شاخوں میں سے ایک کے طور پر معروف ہے۔ بعض تاریخی روایات میں ان کے محلِ سکونت کو سویداء بنی حسین کہا گیا ہے۔

اشرافِ مہانی

اشرافِ مہانی مدینہ منورہ کے نمایاں ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ نسب شناسی کے منابع کے مطابق اس خاندان کے افراد کئی صدیوں تک مدینہ کے امراء میں شامل رہے ہیں۔ مہانی کی اہم شاخوں میں اشرافِ ہواشم اور ملاعبہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔

اشرافِ ہواشم میں عیاسا کا خاندان شامل ہے، جس کی مزید شاخیں درج ذیل ہیں:

  • آل مبارک
  • آل برکہ
  • آل شمَیسان
  • آل عساف
  • آل علی
  • آل شہیل
  • آل زہیر
  • شقّارین
  • آل عمیرہ
  • زرافہ یا آل زرفی

آل سبیع بن مہنا

آل سبیع بن مہنا خاندانِ مہانی کی دیگر شاخوں میں شامل ہیں، جن سے متعدد خاندان وجود میں آئے ہیں۔

اس خاندان کی اہم شاخیں درج ذیل ہیں:

  • آل ذویب: آل سبیع بن مہنا سے وابستہ خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
  • آل مقرن: ان میں سے ایک گروہ عراق کے شہر حلہ میں آل رمیح کے نام سے معروف ہے۔
  • ظوالم: اس میں آل حیار اور آل طراد شامل ہیں۔
  • وحاحدہ یا وحاودہ: اس کی شاخوں میں حمزات، ثللا، آل زاید، آل حزیم اور آل معرعر شامل ہیں۔
  • عرمات: یہ آل عرمه بن نکَیثہ بن ثوبہ سے منسوب ہیں۔
  • شداقمہ: اس شاخ کے معروف خاندانوں میں آل شدقمی شامل ہیں۔
  • جمامزہ: مدینہ کے تاریخی خاندانوں میں سے ہیں، جنہیں بعض منابع میں مدینہ کا آخری حکمران خاندان بھی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک گروہ مصر کے علاقے قنا اور صعید کے دیگر شہروں میں آباد ہے۔ مدینہ میں باقی رہ جانے والی ان کی شاخوں میں آل صقر اور آل طہ شامل ہیں۔

آل مدنی

آل مدنی مدینہ منورہ کے معروف سادات خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں زیرِ حوالہ نسب شناسی کی رپورٹ میں بنی حسین سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ خاندان مدینہ کے بااثر اور معروف خاندانوں میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔ اس خاندان کی معروف شخصیات میں ادیب اور مورخ عبید مدنی اور ان کے فرزندان، نزار بن عبید مدنی اور غازی بن عبید مدنی شامل ہیں۔ ایاد مدنی بھی اس خاندان سے منسوب سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس خاندان کے افراد مذہبِ جعفری کے پیروکار ہیں۔

بنی حسین سے متعلق دیگر خاندان

بنی حسین سے منسوب دیگر خاندانوں میں اشرافِ ودمہ اور آل ماردینی شامل ہیں۔ اشرافِ ودمہ ایسے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے قبائلِ حرب اور ظفیر کے ساتھ حلف اور اتحاد کے تعلقات رہے ہیں۔ آل ماردینی ساداتِ حسینی کے خاندانوں میں شامل ہیں، جو حامدیہ کے نام سے بھی معروف ہیں۔ آل نوری کو آل ماردینی سے منسوب شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف، جدہ اور ریاض میں آباد ہے۔

امام جعفر صادقؑ اور آل باعلوی سے منسوب خاندان

حجاز کے نسب شناسی کے منابع میں سادات کے بعض خاندانوں کو حضرت امام جعفر صادقؑ سے منسوب کیا گیا ہے۔

یہ خاندان مکہ، مدینہ اور جدہ میں آباد رہے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض نے مختلف ادوار میں یمن اور حضرموت کی طرف ہجرت بھی کی۔

اس شاخ سے منسوب خاندانوں میں آل شطا، آل حسنین، آل عشقی اور بیت ہاشم شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں مکہ کے بیت ہاشم کو مدینہ کے آل ہاشم خاندان سے الگ قرار دیا گیا ہے۔

      1. آل باعلوی