"تبرا" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:تبرا کو تبرا کی جانب منتقل کیا |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 6: | سطر 6: | ||
== اصطلاحی مفہوم == | == اصطلاحی مفہوم == | ||
اصطلاح میں تبرّیٰ کی جڑیں [[قرآن مجید]] میں پیوست ہیں۔ قرآن کریم میں نہ صرف ایک سورت کا نام «برائت» (توبہ) ہے، بلکہ تقریباً 20 سورتوں میں 27 مقامات پر «برائت» کا مادہ اور اس کے مشتقات 30 بار استعمال ہوئے ہیں۔<ref>مصطفوی، ''التحقیق فی کلمات القرآن الکریم''؛ عبدالباقی، ''المعجم المفہرس''، ذیل «برء»۔</ref> | اصطلاح میں تبرّیٰ کی جڑیں [[قرآن |قرآن مجید]] میں پیوست ہیں۔ قرآن کریم میں نہ صرف ایک سورت کا نام «برائت» (توبہ) ہے، بلکہ تقریباً 20 سورتوں میں 27 مقامات پر «برائت» کا مادہ اور اس کے مشتقات 30 بار استعمال ہوئے ہیں۔<ref>مصطفوی، ''التحقیق فی کلمات القرآن الکریم''؛ عبدالباقی، ''المعجم المفہرس''، ذیل «برء»۔</ref> | ||
اس میں درج ذیل مثالیں قابلِ ذکر ہیں: | اس میں درج ذیل مثالیں قابلِ ذکر ہیں: | ||
* قیامت کے دن گمراہ اماموں کا اپنے پیروکاروں سے تبرّیٰ کا اظہار۔<ref>سورہ قصص: 41، 42، 63؛ سورہ بقرہ: 166۔</ref> | * قیامت کے دن گمراہ اماموں کا اپنے پیروکاروں سے تبرّیٰ کا اظہار۔<ref>سورہ قصص: 41، 42، 63؛ سورہ بقرہ: 166۔</ref> | ||
* پیروکاروں کی دنیا میں واپس جانے کی آرزو تاکہ وہ ان اماموں سے بیزاری کا اظہار کر سکیں۔<ref>سورہ بقرہ: 167۔</ref> | * پیروکاروں کی دنیا میں واپس جانے کی آرزو تاکہ وہ ان اماموں سے بیزاری کا اظہار کر سکیں۔<ref>سورہ بقرہ: 167۔</ref> | ||
* [[حضرت ابراہیم (علیہ السلام)]] کا آزر اور ان کی قوم سے تبرّیٰ۔<ref>سورہ توبہ: 114؛ سورہ ممتحنہ: 4۔</ref> | * [[حضرت ابراہیم |حضرت ابراہیم (علیہ السلام)]] کا آزر اور ان کی قوم سے تبرّیٰ۔<ref>سورہ توبہ: 114؛ سورہ ممتحنہ: 4۔</ref> | ||
* شرک سے بیزاری۔<ref>سورہ انعام: 19، 78۔</ref> | * شرک سے بیزاری۔<ref>سورہ انعام: 19، 78۔</ref> | ||
* [[پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)]] کا اپنے مخالفین سے اظہارِ برائت۔<ref>سورہ یونس: 41؛ سورہ شعراء: 216۔</ref> | * [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)]] کا اپنے مخالفین سے اظہارِ برائت۔<ref>سورہ یونس: 41؛ سورہ شعراء: 216۔</ref> | ||
== تبرّیٰ کے محرکات == | == تبرّیٰ کے محرکات == | ||
| سطر 22: | سطر 22: | ||
== مختلف فرقوں کے ہاں تبرّیٰ == | == مختلف فرقوں کے ہاں تبرّیٰ == | ||
اسلامی فرقوں کے مابین «تبرّیٰ» کے قرآنی مفہوم میں اختلاف نہیں ہے، مگر اس کے «مصداق» اور «معیار» پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہر گروہ نے اپنی حقانیت کے دعوے کے ساتھ دوسروں کو دشمنِ خدا گردانا اور ان سے تبرّیٰ کو واجب قرار دیا۔ | [[اسلامی فرقے|اسلامی فرقوں]] کے مابین «تبرّیٰ» کے قرآنی مفہوم میں اختلاف نہیں ہے، مگر اس کے «مصداق» اور «معیار» پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہر گروہ نے اپنی حقانیت کے دعوے کے ساتھ دوسروں کو دشمنِ خدا گردانا اور ان سے تبرّیٰ کو واجب قرار دیا۔ | ||
بغدادی کے مطابق، مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ شیعہ (زیدیہ، امامیہ، کیسانیہ، غلات) کو گمراہ اور کافر سمجھتا تھا اور ان سے تبرّیٰ کرتا تھا۔<ref>بغدادی، ''الفرق بین الفرق''، ص 16، 278، 281۔</ref> البتہ تمام علمائے اسلام اس نظر سے متفق نہیں ہیں۔<ref>ایجی، ''المواقف فی علم الکلام''، ص 394-395۔</ref> | بغدادی کے مطابق، مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ [[شیعہ]] (زیدیہ، امامیہ، کیسانیہ، غلات) کو گمراہ اور کافر سمجھتا تھا اور ان سے تبرّیٰ کرتا تھا۔<ref>بغدادی، ''الفرق بین الفرق''، ص 16، 278، 281۔</ref> البتہ تمام علمائے اسلام اس نظر سے متفق نہیں ہیں۔<ref>ایجی، ''المواقف فی علم الکلام''، ص 394-395۔</ref> | ||
== خوارج اور تبرّیٰ == | == خوارج اور تبرّیٰ == | ||
خوارج نے واقعہ تحکیم کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) اور حضرت عثمان (رض) سے تبرّیٰ کو واجب قرار دیا۔ اس کے برعکس، شیعیانِ اہل بیت نے تبرّیٰ کو «تولّیٰ» کے ساتھ ملا کر فروعِ دین میں شمار کیا اور اس کا مفہوم دشمنانِ اہلِ بیت سے بیزاری اختیار کرنا قرار دیا۔<ref>شیخ صدوق، ''الاعتقادات''، ص 78-81؛ لاہیجی، ''سرمایہ ایمان''، ص 154-155۔</ref> | خوارج نے واقعہ تحکیم کے بعد [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی]] (علیہ السلام) اور [[عثمان بن عفان|حضرت عثمان]] (رض) سے تبرّیٰ کو واجب قرار دیا۔ اس کے برعکس، شیعیانِ اہل بیت نے تبرّیٰ کو «تولّیٰ» کے ساتھ ملا کر فروعِ دین میں شمار کیا اور اس کا مفہوم دشمنانِ اہلِ بیت سے بیزاری اختیار کرنا قرار دیا۔<ref>شیخ صدوق، ''الاعتقادات''، ص 78-81؛ لاہیجی، ''سرمایہ ایمان''، ص 154-155۔</ref> | ||
== شیعی نقطہ نظر == | == شیعی نقطہ نظر == | ||
| سطر 33: | سطر 33: | ||
== تاریخی تناظر == | == تاریخی تناظر == | ||
تاریخی طور پر خوارج نے سب سے پہلے تبرّیٰ کو بطور شرطِ طاعت استعمال کیا۔ بعد ازاں، | تاریخی طور پر خوارج نے سب سے پہلے تبرّیٰ کو بطور شرطِ طاعت استعمال کیا۔ بعد ازاں، بنی امیہ کے دور میں امیر معاویہ اور دیگر اموی حکمرانوں نے حضرت علی (علیہ السلام) پر سبّ و شتم اور تبرّیٰ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جو عمر بن عبدالعزیز کے دور تک جاری رہا۔<ref>مسعودی، ''مروج الذہب''، ج 4، ص 17؛ ابن ابی الحدید، ''شرح نہجالبلاغہ''، ج 4، ص 58-59۔</ref> | ||
== تبرّیٰ اور وحدتِ اسلامی == | == تبرّیٰ اور وحدتِ اسلامی == | ||
| سطر 39: | سطر 39: | ||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{ | {{حوالہ جات}} | ||
== بیرونی روابط == | == بیرونی روابط == | ||
| سطر 47: | سطر 47: | ||
[[زمرہ:اسلامی مفاہیم اور اصطلاحات]] | [[زمرہ:اسلامی مفاہیم اور اصطلاحات]] | ||
[[زمرہ:فروع دین]] | [[زمرہ:فروع دین]] | ||
[[fa: تبری]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 12:53، 1 ستمبر 2026ء
تَبَرّی ایک اسلامی کلامی اصطلاح اور اعتقادی و عملی تعلیم ہے، جس کا مفہوم خدا کے دشمنوں سے دوری اور بیزاری اختیار کرنا ہے۔ یہ لفظ عربی زبان کے مادہ «ب ر ء» سے مشتق ہے اور «تفعّل» کے وزن پر ہے؛ اس کا اصل تلفظ «تبرّؤ» ہے، تاہم فارسی اور اردو میں اسے عام طور پر «تبرّیٰ» یا «تبرّا» کہا جاتا ہے۔
لغوی مفہوم
لغت میں «تبرّی» کا مطلب کسی ایسی چیز سے دوری اختیار کرنا ہے جس کے ساتھ رہنا ناپسندیدہ ہو، یا کسی سے بیزاری ظاہر کرنا ہے۔ اردو/فارسی میں «تبرّی جستن» کا مطلب بھی بیزاری اور لاتعلقی ظاہر کرنا ہے۔[1]
اصطلاحی مفہوم
اصطلاح میں تبرّیٰ کی جڑیں قرآن مجید میں پیوست ہیں۔ قرآن کریم میں نہ صرف ایک سورت کا نام «برائت» (توبہ) ہے، بلکہ تقریباً 20 سورتوں میں 27 مقامات پر «برائت» کا مادہ اور اس کے مشتقات 30 بار استعمال ہوئے ہیں۔[2] اس میں درج ذیل مثالیں قابلِ ذکر ہیں:
- قیامت کے دن گمراہ اماموں کا اپنے پیروکاروں سے تبرّیٰ کا اظہار۔[3]
- پیروکاروں کی دنیا میں واپس جانے کی آرزو تاکہ وہ ان اماموں سے بیزاری کا اظہار کر سکیں۔[4]
- حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا آزر اور ان کی قوم سے تبرّیٰ۔[5]
- شرک سے بیزاری۔[6]
- پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا اپنے مخالفین سے اظہارِ برائت۔[7]
تبرّیٰ کے محرکات
تاریخِ اسلام میں تبرّیٰ کے محرکات اکثر کلامی و اعتقادی (جیسے مسئلہ امامت) رہے ہیں، تاہم کبھی کبھی سیاسی تنازعات اور ذاتی اختلافات بھی اس کا سبب بنے ہیں۔[8] شیعہ مکتبِ فکر میں «تولّیٰ» کے ساتھ «تبرّیٰ» ایک بنیادی اور اساسی رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔
تبرّیٰ احادیث کی روشنی میں
احادیثِ نبوی میں بھی تبرّیٰ پر خاص اہمیت دی گئی ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے «البغض فی اللہ» (اللہ کی خاطر بغض رکھنا) کو ایمان کے مضبوط ترین رشتوں (اوثق عری الایمان) میں سے قرار دیا ہے۔[9] امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے بھی دینِ خدا کے مخالفین، دشمنانِ دوستانِ خدا، اور دوستانِ دشمنانِ خدا سے بیزاری کو واجب قرار دیا ہے۔[10]
مختلف فرقوں کے ہاں تبرّیٰ
اسلامی فرقوں کے مابین «تبرّیٰ» کے قرآنی مفہوم میں اختلاف نہیں ہے، مگر اس کے «مصداق» اور «معیار» پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہر گروہ نے اپنی حقانیت کے دعوے کے ساتھ دوسروں کو دشمنِ خدا گردانا اور ان سے تبرّیٰ کو واجب قرار دیا۔ بغدادی کے مطابق، مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ شیعہ (زیدیہ، امامیہ، کیسانیہ، غلات) کو گمراہ اور کافر سمجھتا تھا اور ان سے تبرّیٰ کرتا تھا۔[11] البتہ تمام علمائے اسلام اس نظر سے متفق نہیں ہیں۔[12]
خوارج اور تبرّیٰ
خوارج نے واقعہ تحکیم کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) اور حضرت عثمان (رض) سے تبرّیٰ کو واجب قرار دیا۔ اس کے برعکس، شیعیانِ اہل بیت نے تبرّیٰ کو «تولّیٰ» کے ساتھ ملا کر فروعِ دین میں شمار کیا اور اس کا مفہوم دشمنانِ اہلِ بیت سے بیزاری اختیار کرنا قرار دیا۔[13]
شیعی نقطہ نظر
شیعہ امامیہ کے نزدیک امامت اصولِ دین میں سے ہے اور امامِ معصوم، دین کے محافظ ہیں۔ اس عقیدے کی بنا پر جو لوگ امامت کے راستے میں رکاوٹ بنے یا اہل بیت کے خلاف دشمنی رکھی، وہ دشمنانِ خدا ہیں اور ان سے تبرّیٰ واجب ہے۔[14] اہم نکتہ یہ ہے کہ شیعہ نقطہ نظر میں ہر مسلمانِ غیر شیعہ واجبِ تبرّیٰ نہیں ہے؛ صرف وہ افراد جو علمی حقانیت کے باوجود عترتِ پیغمبر (ص) کے خلاف «نصبِ عداوت» کرتے ہیں، یا غالیانہ عقائد رکھتے ہیں، اس حکم میں آتے ہیں۔[15]
تاریخی تناظر
تاریخی طور پر خوارج نے سب سے پہلے تبرّیٰ کو بطور شرطِ طاعت استعمال کیا۔ بعد ازاں، بنی امیہ کے دور میں امیر معاویہ اور دیگر اموی حکمرانوں نے حضرت علی (علیہ السلام) پر سبّ و شتم اور تبرّیٰ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جو عمر بن عبدالعزیز کے دور تک جاری رہا۔[16]
تبرّیٰ اور وحدتِ اسلامی
اگرچہ تبرّیٰ شیعہ عقائد کا حصہ ہے، لیکن علمائے شیعہ (جیسے شیخ مفید، سید مرتضیٰ، شیخ طوسی سے لے کر امام خمینی اور آیت اللہ بروجردی تک) کی غالب سیرت ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان وحدت و تقریبِ مذاہب کے تحفظ کی رہی ہے۔ روایات میں بھی ایسے اقدامات سے پرہیز کی تلقین کی گئی ہے جو عاطفی اشتعال کا باعث بنیں۔[17] تاہم، آلِ بویہ، فاطمیوں اور صفویوں جیسے ادوار میں تبرّیٰ کے اظہار کے واقعات بھی تاریخ میں درج ہیں۔
حوالہ جات
- ↑ رجوع کریں: راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن؛ ابن منظور، لسان العرب؛ صفی پوری، منتہی الارب فی لغۃ العرب، ذیل مادہ «برء»؛ نفیسی، فرہنگ نفیسی؛ داعی الاسلام، فرہنگ نظام، ذیل «تبرّا»۔
- ↑ مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم؛ عبدالباقی، المعجم المفہرس، ذیل «برء»۔
- ↑ سورہ قصص: 41، 42، 63؛ سورہ بقرہ: 166۔
- ↑ سورہ بقرہ: 167۔
- ↑ سورہ توبہ: 114؛ سورہ ممتحنہ: 4۔
- ↑ سورہ انعام: 19، 78۔
- ↑ سورہ یونس: 41؛ سورہ شعراء: 216۔
- ↑ ابن ابی الحدید، شرح نہجالبلاغہ، ج 4، ص 54، 56-58۔
- ↑ متقی ہندی، کنزالعمال، ج 1، ص 257؛ مجلسی، بحار الانوار، ج 66، ص 242۔
- ↑ شیخ صدوق، الاعتقادات فی دین الامامیہ، 1412ھ، ص 86۔
- ↑ بغدادی، الفرق بین الفرق، ص 16، 278، 281۔
- ↑ ایجی، المواقف فی علم الکلام، ص 394-395۔
- ↑ شیخ صدوق، الاعتقادات، ص 78-81؛ لاہیجی، سرمایہ ایمان، ص 154-155۔
- ↑ شیخ صدوق، الاعتقادات، ص 81۔
- ↑ طباطبائی یزدی، العروۃ الوثقی، ج 1، ص 67-68۔
- ↑ مسعودی، مروج الذہب، ج 4، ص 17؛ ابن ابی الحدید، شرح نہجالبلاغہ، ج 4، ص 58-59۔
- ↑ شیخ صدوق، الاعتقادات، ص 82۔