مندرجات کا رخ کریں

"خلیفه" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 32: سطر 32:


== خلیفہ کون ہے؟ ==
== خلیفہ کون ہے؟ ==
ان دو آیات اور اسی نوعیت کی دیگر آیات، مثلاً: {{متن قرآن |وَهُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ |سوره = انعام |آیه = 165 }} میں "مستخلَف عنہ" (جس کی جگہ لی گئی ہو) کا صراحتاً ذکر نہیں ہوا۔ چنانچہ جو بات زیادہ قرینِ قیاس نظر آتی ہے اور مفہومِ خلافت کے ساتھ بھی سازگار ہے، وہ یہ ہے کہ پہلی آیت کے معاملے میں مستخلَف عنہ زمین کے سابقہ باشندے، آدم سے پہلے کی انسانی نسل یا مختلف آراء کے مطابق مخلوقات کی کوئی اور قسم (جیسے جنات یا نسناس) ہو سکتے ہیں؛ کیونکہ اس آیت میں خلیفہ سے مراد محض شخصِ آدم نہیں بلکہ ان کی پوری نسل ہے، جیسا کہ فرشتوں کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے: «أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ» (کیا تو زمین میں اسے خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد برپا کرے اور خون بہائے؟)۔
ان دو آیات اور اسی نوعیت کی دیگر آیات، مثلاً: وَهُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ. سوره = انعام، آیه = 165 میں "مستخلَف عنہ" (جس کی جگہ لی گئی ہو) کا صراحتاً ذکر نہیں ہوا۔ چنانچہ جو بات زیادہ قرینِ قیاس نظر آتی ہے اور مفہومِ خلافت کے ساتھ بھی سازگار ہے، وہ یہ ہے کہ پہلی آیت کے معاملے میں مستخلَف عنہ زمین کے سابقہ باشندے، آدم سے پہلے کی انسانی نسل یا مختلف آراء کے مطابق مخلوقات کی کوئی اور قسم (جیسے جنات یا نسناس) ہو سکتے ہیں؛ کیونکہ اس آیت میں خلیفہ سے مراد محض شخصِ آدم نہیں بلکہ ان کی پوری نسل ہے، جیسا کہ فرشتوں کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے: «أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ» (کیا تو زمین میں اسے خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد برپا کرے اور خون بہائے؟)۔


جبکہ دوسری آیت کے معاملے میں، مستخلَف عنہ حضرت داؤد سے پہلے والے انبیاء ہو سکتے ہیں جو لوگوں کے درمیان فیصلے اور حکومت کیا کرتے تھے۔
جبکہ دوسری آیت کے معاملے میں، مستخلَف عنہ حضرت داؤد سے پہلے والے انبیاء ہو سکتے ہیں جو لوگوں کے درمیان فیصلے اور حکومت کیا کرتے تھے۔
سطر 40: سطر 40:
یہاں تک کہ بعض مفسرین اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ:
یہاں تک کہ بعض مفسرین اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ:


نہ صرف [[آدم|حضرت آدم]] اور [[داؤد|حضرت داؤد]]، بلکہ عمومِ بنی نوع انسان "خلیفۃ اللہ" ہیں؛ جس کی دلیل کے طور پر وہ ان دونوں آیات کے علاوہ درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں: {{متن قرآن |وَهُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ |سوره = انعام |آیه = 165 }} اور {{متن قرآن |ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلَائِفَ فِی الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ.... |سوره = یونس|آیه = 14 }}۔
نہ صرف [[حضرت آدم]] اور [[داؤد|حضرت داؤد]]، بلکہ عمومِ بنی نوع انسان "خلیفۃ اللہ" ہیں؛ جس کی دلیل کے طور پر وہ ان دونوں آیات کے علاوہ درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں:وَهُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ . سوره = انعام ،آیه = 165 اور ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلَائِفَ فِی الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ....سوره = یونس،آیه = 14 ۔


اس دعوے کی وضاحت میں وہ مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں:
اس دعوے کی وضاحت میں وہ مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں:

نسخہ بمطابق 12:07، 29 اگست 2026ء

خلیفہ، کسی سلطنتِ خلافت کے سربراہ اور حاکم کو کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عنوان و لقب ہے جو اسلامی معاشرے کے قوانین یا شریعت میں امتِ مسلمہ کے رہبر و پیشوا کو دیا جاتا ہے۔ خلافت ایک سیاسی و مذہبی اصطلاح ہے جس سے مراد سیاست، حکومت اور دینی امور میں پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی جانشینی ہے، اور جو شخص اس منصب کا حامل ہوتا ہے اسے خلیفہ کہا جاتا ہے۔

مکتبِ تشیع کی تعلیمات کے مطابق، خلافت تمام تر دینی و دنیوی امور میں پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کا نام ہے۔ اہل تشیع کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حقیقی خلفاء اہلِ بیت میں سے بارہ ائمہ معصومین (علیہم السلام) ہیں؛ اور ان کا رسول اللہ (ص) سے واحد فرق یہ ہے کہ ان پر وحی نہیں ہوتی۔ وفاتِ نبوی کے بعد، رسمی و تاریخی خلافت (امام علی علیہ السلام اور امام حسن مجتبی علیہ السلام کے مختصر دورِ حکومت کے علاوہ) عملاً غیر معصوم افراد کے ہاتھ میں رہی، اور تقریباً تیرہ صدیوں تک عالمِ اسلام کے مختلف خطوں میں متعدد افراد اور خاندانوں نے خود کو خلیفۂ رسول (ص) کے طور پر پیش کیا۔ مسلمان، خلیفہ کو امیر المؤمنین، امام الامہ، امام المؤمنین اور بول چال کی زبان میں رہبرِ مسلمین بھی کہتے ہیں۔ خلفائے راشدین کے بعد یہ لقب امویوں، عباسیوں، فاطمیوں، سلطنت عثمانیہ اور آل سعود کے ذریعے بھی استعمال کیا گیا۔

مفہومِ خلیفہ

خلافت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جانشین بنانے کے ہیں، اور لفظِ خلیفہ (جس کی جمع خلفاء اور خلائف ہے) کے معنی جانشین، وکیل اور قائم مقام کے آتے ہیں[1]۔ کلمہ خلیفہ[2]، خلفاء[3]، اور خلائف[4] قرآن مجید میں انہی لغوی معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔

خلافت اور خلیفہ کا سب سے زیادہ استعمال ان کا اصطلاحی مفہوم ہے، جو وفاتِ رسول (ص) کے بعد اسلامی معاشرے کے سیاسی تغیرات و تحولات کے نتیجے میں رائج ہوا۔ اول الذکر (خلافت) امورِ حکومت میں جانشینی اور بعد از نبی مطلق امارت و اقتدار کے معنی میں ہے، اور ثانی الذکر (خلیفہ) امورِ حکومت میں پیغمبر کے جانشین کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ان اصطلاحات کے کثرتِ استعمال نے ان دونوں الفاظ کو مسلمانوں کے سیاسی کلچر کے بنیادی ترین مفاہیم میں تبدیل کر دیا، یہاں تک کہ بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے بعض گروہوں نے نظامِ خلافت کے جواز و مشروعیت کے اثبات کے لیے قرآن میں لفظِ خلیفہ کے استعمال سے بھی استناد کیا[5]۔ اسی اصطلاحی معنی میں ابتدائی مسلمان مصنفین کے آثار میں "امامت" اور "امام" کے الفاظ بھی بارہا استعمال ہوئے ہیں، جو امامت کے شیعہ کلامی تصور سے بنیادی فرق رکھتے ہیں۔

اسلامی تاریخ میں خلافت اس حکومتی ڈھانچے کا عنوان ہے جس کے تحت وفاتِ نبوی کے بعد اسلامی معاشرے کے نظم و نسق کا انتظام عمل میں آیا، اور اس کا متولی یعنی خلیفہ، اسلامی حکومت کے امور میں پیغمبر اکرم کا جانشین شمار کیا جاتا تھا۔

لغت میں خلیفہ کا معنی

ہر لفظ اپنے اندر ایک بنیادی اور اساسی معنی رکھتا ہے جو قرآنی سیاق و سباق سے ہٹ کر بھی اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ لفظِ "خلیفہ" اور ترکیب "خلیفۃ اللہ" ایسے مانوس و معروف الفاظ میں سے ہیں جو معتبر لغوی مآخذ میں جانشین، نائب اور حاکم کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ حسن مصطفوی قرآنی استعمالات کے تناظر میں لکھتے ہیں: لفظِ خلیفہ کا لغوی مادہ [خ ل ف] ہے؛ اس مادے کی بنیادی اور واحد اصل، "قُدّام" (سامنے/آگے) کا مقابل ہے اور اس سے مراد وہ چیز ہے جو کسی دوسری چیز کے بعد آتی ہے[6]۔ جیسا کہ قرآن مجید میں رات اور دن کے ایک دوسرے کے بعد آنے اور جانشین بننے کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے:

وَ هُوَ الَّذِی جَعَلَ اللَّیلَ وَ النَّهارَ خِلفَةً لِمَن أَرادَ أَن یَذَّکَّرَ أَو أَرادَ شُکُورا سوره = فرقان آیه = 62 اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا (جانشین) بنایا، اس شخص کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہے۔ اس آیت کی رو سے رات اور دن، مشیتِ الٰہی کے تحت ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور ایک دوسرے کی جگہ لیتے ہیں۔

اسی طرح اس لفظ کے لغوی و بنیادی مفہوم میں فرشتوں کی جانشینی کے معنی بھی وارد ہوئے ہیں:

وَ لَو نَشاءُ لَجَعَلنا مِنکُم مَلائِکَةً فِی الأَرضِ یَخلُفُون. سوره = زخرف آیه = 60 اور اگر ہم چاہیں تو تمہارے بدلے زمین میں فرشتے پیدا کر دیں جو تمہارے جانشین ہوں۔ دوسری جانب بنیادی لغوی معنی کے ساتھ ساتھ، الفاظ کی "دلالتِ التزامی" پر توجہ ہمیں آیاتِ قرآنی کے فہم اور تفسیر میں مدد دیتی ہے، جس سے ہر لفظ کی حدود و قیود واضح ہو جاتی ہیں اور الفاظ کے معانی کا باہمی خلط ملط ہونا رک جاتا ہے؛ نتیجتاً سوءِ فہم کا ازالہ ہوتا ہے اور مبہم تعبیرات کے استعمال سے بچا جا سکتا ہے۔ مفہومِ خلیفہ کی التزامی دلالتوں کے مختلف تفسیری امکانات پیدا ہوتے ہیں جنہیں مدنظر رکھنا ضروری ہے:

  • کسی شخص کے جانشین، نائب اور قائم مقام کو خلیفہ، مستخلَف یا خالف کہا جاتا ہے۔
  • وہ ذات جو خلیفہ کا تعین اور تقرر کرتی ہے اور مقامِ خلافت عطا فرماتی ہے، اسے مستخلِف، جاعلِ خلیفہ، یا معطِیِ خلیفہ کہتے ہیں۔
  • وہ فرد یا افراد جن کا خلیفہ قائم مقام اور نائب بنتا ہے، انہیں مستخلَف عنہ کہا جاتا ہے۔
  • مستخلَفٌ علیہ یا مستخلَفٌ فیہ سے مراد وہ افراد یا امور ہیں جن کی سرپرستی اور انتظام کے لیے خلیفہ کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔ جیسا کہ راغب اصفہانی لفظِ خلیفہ کے معانیِ التزامی کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: "خلافت سے مراد کسی دوسرے کی نیابت ہے؛ خواہ وہ 'منوبٌ عنہ' (جس کی نیابت کی جا رہی ہو) کی عدم موجودگی (غیبت) کی وجہ سے ہو، یا اس کی وفات کے سبب، یا اس کے عاجز ہونے کی بنیاد پر، یا خود نائب (مستخلَف) کے شرف و فضیلت کی وجہ سے ہو؛ اور اسی قبیل سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں اپنے اولیاء کو خلیفہ قرار دیا ہے"[7]۔ کتاب العین[8] اور لسان العرب[9] میں جانشینی کے مفہوم کے علاوہ خلافت بمعنی حکومت اور خلیفہ بمعنی سلطان و حاکم بھی وارد ہوا ہے۔

قرآن میں خلیفہ اور اس کے مشتقات کا معنی

قرآن میں خلیفہ کا مفہوم دراصل اس کے "معنیِ نسبی" (سیاقی معنی) کے ذریعے سمجھنا چاہیے، جو لفظ کے کسی خاص تناظر میں واقع ہونے سے اس کے بنیادی معنی کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ قرآن کے معنوی نظام (Semantic Network) میں دیگر کلمات اور باہمی روابط کی روشنی میں لفظ ایک اضافی یا سیاقی مفہوم حاصل کرتا ہے۔ اس بنیاد پر قرآنی مفاہیم کی تفسیر، مقاصد کے کشف اور حتمی معنی تک پہنچنے کے لیے محض الفاظ کے لغوی فہم اور جملوں کے نحوی و گرائمری ڈھانچے پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا؛ بلکہ پورے قرآن پر ایک مجموعی، پیوستہ اور منظم (سسٹمیٹک) نگاہ ڈالنا اور قرآن کے پورے متن کے تناظر میں اس مفہوم کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ قرآنِ کریم ایک ایسا مربوط و منسجم کلام ہے جس کے تمام اجزاء کا باہم معنوی ربط اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے، لہٰذا قرآنی مفاہیم ساختیاتی نگاہ (Structural approach) کی روشنی میں ہی بہتر طور پر سمجھے جا سکتے ہیں۔ جیسا کہ علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: کلامِ الٰہی میں کلمات کے حقیقی مصادیق کی پہچان کا راستہ خود قرآن میں موجود کلامی قرائن کی طرف رجوع کرنا ہے، نہ کہ عرف اور ان چیزوں کی طرف جنہیں عرف عام الفاظ کے مصادیق شمار کرتا ہے[10]۔

خلیفہ کون ہے؟

ان دو آیات اور اسی نوعیت کی دیگر آیات، مثلاً: وَهُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ. سوره = انعام، آیه = 165 میں "مستخلَف عنہ" (جس کی جگہ لی گئی ہو) کا صراحتاً ذکر نہیں ہوا۔ چنانچہ جو بات زیادہ قرینِ قیاس نظر آتی ہے اور مفہومِ خلافت کے ساتھ بھی سازگار ہے، وہ یہ ہے کہ پہلی آیت کے معاملے میں مستخلَف عنہ زمین کے سابقہ باشندے، آدم سے پہلے کی انسانی نسل یا مختلف آراء کے مطابق مخلوقات کی کوئی اور قسم (جیسے جنات یا نسناس) ہو سکتے ہیں؛ کیونکہ اس آیت میں خلیفہ سے مراد محض شخصِ آدم نہیں بلکہ ان کی پوری نسل ہے، جیسا کہ فرشتوں کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے: «أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ» (کیا تو زمین میں اسے خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد برپا کرے اور خون بہائے؟)۔

جبکہ دوسری آیت کے معاملے میں، مستخلَف عنہ حضرت داؤد سے پہلے والے انبیاء ہو سکتے ہیں جو لوگوں کے درمیان فیصلے اور حکومت کیا کرتے تھے۔

تاہم بعض مفسرین کا یہ ماننا ہے کہ دونوں صورتوں میں مستخلَف عنہ خود ذاتِ باری تعالیٰ ہے؛ اگرچہ دوسری آیت کے حوالے سے یہ مفہوم زیادہ واضح طور پر سمجھ آتا ہے، کیونکہ اس میں "مستخلَف فیہ" (جس امر میں خلافت دی گئی ہے) فیصلہ و قضاوت ہے، اور قضاوت و حاکمیت کا حقیقی حق صرف اللہ کے لیے ہے، جیسا کہ فرمایا: «إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ»۔

یہاں تک کہ بعض مفسرین اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ:

نہ صرف حضرت آدم اور حضرت داؤد، بلکہ عمومِ بنی نوع انسان "خلیفۃ اللہ" ہیں؛ جس کی دلیل کے طور پر وہ ان دونوں آیات کے علاوہ درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں:وَهُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ . سوره = انعام ،آیه = 165 اور ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلَائِفَ فِی الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ....سوره = یونس،آیه = 14 ۔

اس دعوے کی وضاحت میں وہ مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں:

کبھی کہتے ہیں کہ آیت «وَ عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ» میں اسما کی تعلیم سے مراد انسان کی فطرت میں اس علم کو ودیعت کرنا ہے، تاکہ اس کے آثار بتدریج اور دائمی طور پر نسل در نسل انسان سے ظاہر ہوتے رہیں۔ اور کبھی یہ مؤقف اپناتے ہیں کہ اگرچہ انسان کمزور اور ناتواں پیدا کیا گیا ہے، لیکن وہ حس و شعور کا حامل ہے اور ان دونوں کے ذریعے کائنات میں تصرف کرتا ہے اور اسے اپنے تابع بناتا ہے؛ اسی بنا پر اس نے یہ تمام تر عجیب و غریب ایجادات کی ہیں اور مستقبل میں وہ ایسے مقام تک پہنچے گا جس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

اسی طرح بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ: اللہ تعالیٰ اسماءِ حسنیٰ اور صفاتِ علیا کا مالک ہے، اور انسان ان تمام صفات میں زمین پر اللہ کا خلیفہ اور جانشین ہے اور اپنے تمام امور میں افعالِ الٰہی کی عکاسی کرتا ہے اور صفات و اسماءِ حق کا مظہر ہے۔ اگرچہ یہ تمام صفات کامل اور اتم صورت میں اللہ کے لیے ہیں اور انسانوں کو ان کا ایک حصہ عطا ہوا ہے، لیکن یہ خلافت تمام انسانوں پر محیط ہے؛ خواہ نیک ہوں یا بد، مؤمن ہوں یا کافر۔

مثلاً: خالق، رازق، علیم، قادر، سمیع، بصیر، رحیم، حکیم وغیرہ اسمائے الٰہی میں سے ہیں؛ انسان ان تمام صفات و اسماء میں اللہ کا جانشین ہے۔ اللہ نے سب کچھ پیدا کیا ہے اور انسان بھی عمارتیں، کارخانے وغیرہ بناتا (خلق کرتا) ہے؛ اللہ رزق دیتا ہے اور انسان بھی اپنے بچوں کے لیے رزق فراہم کرتا ہے؛ وہ جانتا ہے، قدرت رکھتا ہے، سنتا ہے، دیکھتا ہے... پس یہ تمام امور باری تعالیٰ کی جانب سے جانشینی کا مظہر ہیں۔

یہ تھا انسان کی نیابتِ الٰہی کے قائلین کے نظریات کا اجمالی خلاصہ[11]۔

وفاتِ نبوی کے بعد خلیفہ کا عنوان

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رحلت کے بعد، امام علی علیہ السلام کے علاوہ کسی نے بھی "خلیفۃ الرسول" کی اصطلاح کے ساتھ آنحضرت (ص) کی جانشینی کا دعویٰ نہیں کیا؛ اسی لیے جو لوگ سقیفہ میں اسلامی حاکم کے انتخاب کے لیے جمع ہوئے تھے انہوں نے ابتدا میں لفظِ "خلیفہ" استعمال نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ "امیر" کا لفظ استعمال کیا۔ ابوبکر نے انصار سے خطاب کرتے ہوئے کہا: فَنَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَ أَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ (پس ہم امراء ہیں اور تم وزراء ہو)؛ انصار نے جواب میں کہا: مِنَّا أَمِيرٌ وَ مِنْكُمْ أَمِيرٌ (ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے)۔ لفظِ "امیر" کا مفہوم "خلیفہ" سے جدا ہے؛ البتہ وقت گزرنے کے ساتھ امیر کی جگہ خلیفہ کی اصطلاح رائج ہو گئی۔ وفاتِ پیغمبر کے بعد پہلی بار لفظِ خلیفہ کا استعمال لشکرِ اسامہ کی تشکیل کے واقعات کے دوران ابوبکر کے لیے ہوا۔ اسامہ نے عمر سے کہا کہ وہ خلیفۂ رسول اللہ (یعنی ابوبکر) تک ان کا مخصوص پیغام پہنچائیں، اور عمر نے بھی واپسی پر ابوبکر کو خلیفہ کے لقب سے یاد کیا[12]۔

اس کے بعد سے ابوبکر کو بھی خلیفۂ رسول اللہ کہا جانے لگا۔ البتہ ایک مرتبہ ابوبکر کو "خلیفۃ اللہ" کہہ کر مخاطب کیا گیا تو وہ ناخوش ہوئے اور فرمایا: «لَسْتُ بِخَلِيفَةِ اللَّهِ وَ لَكِنِّي خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ (صلّی‌الله علیه وآله)» (میں خلیفۃ اللہ نہیں بلکہ خلیفۂ رسول اللہ ہوں)[13]۔ اسی طرح عمر کے دور میں بھی جب ایک بار انہیں خلیفۃ اللہ کہا گیا تو انہوں نے بھی اس پر اعتراض کیا۔ اگرچہ ابوبکر نے مسندِ خلافت پر بیٹھنے کے بعد اپنے پہلے خطبے میں یہ کہا تھا: وَ قَدِ اسْتَخْلَفَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ خَلِيفَةً لِيَجْمَعَ بِهِ أُلْفَتَكُمْ وَ يُقِيمَ بِهِ كَلِمَتَكُمْ فَأَعِينُونِي عَلَى ذَلِكَ بِخَيْرٍ[14] (بلاشبہ اللہ نے تم پر ایک خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ تمہارے اتحاد کو برقرار رکھے اور تمہارے کلمے کو استوار کرے، پس اس سلسلے میں بھلائی کے ساتھ میری مدد کرو)۔

متن شما با ترجمه دقیق، رعایت کامل اصطلاحات حوزوی و تاریخی در زبان اردو، قالب‌بندی استاندارد مدیاویکی و تطبیق پیوندها و رده‌ها با عناوین رایج در ویکی‌های اردوزبان به شرح زیر آماده شده است:

```mediawiki

ابتدائی خلفاء

ابوبکر بن ابی قحافہ

نظامِ خلافت ابوبکر بن ابی قحافہ کے جانشینِ رسول کے طور پر انتخاب کے ذریعے وجود میں آیا۔ اس انتخاب نے بالخصوص صحابہ کے ایک گروہ، بنی ہاشم اور خاص طور پر اہلِ بیتِ نبوی کے درمیان شدید مخالفتوں کو جنم دیا؛ لیکن بالآخر مختلف حکمتِ عملیوں اور تدابیر کے ذریعے نمایاں ترین مخالفین کو خاموش کر دیا گیا[15]، اور بعد ازاں انہیں "خلیفۂ رسول اللہ" کہا گیا[16]۔ ابوبکر، خلفائے راشدین کے پہلے خلیفہ ہیں جن کے طریقہ انتخاب کو بعد میں اہلِ سنت کے سیاسی فقہ میں نظریہ "اہلِ حل و عقد" کی بنیاد بنایا گیا[17]۔

عمر بن خطاب

ابوبکر نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل (۱۳ھ)، عمر بن خطاب کو اپنا جانشین نامزد کیا اور مسلمانوں کو ان کی بیعت کا پابند بنایا[18]۔ منقول ہے کہ انہوں نے اس اقدام کی وجہ فتنے کے ظہور کی روک تھام قرار دی[19]۔ عمر بن خطاب کو ابوبکر کے خلیفہ ہونے کی پیروی میں ابتدا میں "خلیفۂ خلیفۂ رسول اللہ" کہا گیا، لیکن انہوں نے اس طویل عبارت کی بجائے یہ ترجیح دی کہ انہیں "امیر المؤمنین" کے لقب سے پکارا جائے[20]۔ یہ لقب بعد میں دورِ خلافت کے اختتام تک خلفاء کا سب سے زیادہ رائج اور اہم ترین عنوان بن گیا۔ عمر بحیثیتِ خلیفہ اپنے اختیارات کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اختیارات کے مساوی سمجھتے تھے[21]۔ حکومتی ساخت کو اس زمانے کے مروجہ بادشاہی نظام کے قریب تر کرنے میں ان کی بعض سیاسی پالیسیوں نے گہرے نقوش چھوڑے؛ من جملہ دیگر اقوام (اصطلاحاً عجم) پر عربوں کی برتری کی ترویج، جو کہ پیغمبر اسلام کی نسلی مساوات پر مبنی پالیسی کے صریح خلاف تھی، اور اسی طرح بیت المال کی تقسیم میں طبقاتی درجہ بندی (جسے وہ مال اللہ کہتے تھے) اور غنائم کی مساوی تقسیم کے طریقے کا خاتمہ[22]۔

عثمان بن عفان

عمر نے اپنے جانشین کا تعین اصحابِ رسول (ص) کی ایک چھ رکنی شوریٰ کے سپرد کیا۔ عثمان بن عفان ۲۳ھ میں تیسرے خلیفہ کے طور پر مسندِ اقتدار پر بیٹھے۔ چھ رکنی شوریٰ کی جانب سے ان کی بیعت کی ایک اہم ترین شرط کتابِ خدا اور سنتِ رسول پر عمل کے ساتھ ساتھ پہلے دو خلفاء کی پیروی (سیرتِ شیخین) بھی تھی؛ جسے علی ابن ابی طالب نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا[23]۔ تاہم تاریخی مآخذ کے مطابق عثمان ان مذکورہ شرائط پر زیادہ پابند نہ رہ سکے؛ جن میں پیغمبر اکرم (ص) کی جانب سے نکالے گئے (ملعون و مطرود) افراد کو اعلیٰ حکومتی عہدے سونپنا، بنو امیہ کو حکومتی امور پر مسلط کرنا، اور بیت المال سے بعض افراد اور بالخصوص اپنے اموی رشتہ داروں کو بلا ضابطہ نوازشات دینا شامل تھا[24]۔

علی ابن ابی طالب

امام علی علیہ السلام کی بیعت مسجد میں عوام کی موجودگی میں اور کتابِ خدا اور سنتِ رسول پر عمل کی شرط کے ساتھ انجام پائی[25]۔ آپ (ع) نے زبردستی بیعت لینے کو جائز قرار نہیں دیا اور اس بات پر زور دیا کہ بیعت اختیاری بنیادوں پر ہونی چاہیے، اور اپنے آپ کو دعوت دینے کا پابند سمجھتے تھے نہ کہ مجبور کرنے کا[26]۔ آپ دین کی تعلیم کو حاکم کے بنیادی فرائض میں شمار کرتے تھے[27] اور اس بات کے لیے کوشاں تھے کہ معاشرے میں ایمان کا پرچم بلند کریں اور لوگوں کو حلال و حرام کی حدود سے آگاہ فرمائیں[28]۔

حسن ابن علی

۴۰ھ میں امام علی علیہ السلام کی شہادت نے خلافت کے بحرانی حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اگرچہ والد کے بعد عوام کا رجحان امام حسن مجتبی علیہ السلام کی خلافت کی طرف تھا، لیکن امام علی علیہ السلام نے لوگوں کو اپنے فرزند کے انتخاب میں خود مختار رکھا تھا۔ امام حسن علیہ السلام نے اپنے ایک خطبے میں خلافت اور ملوکیت (بادشاہت) کے درمیان واضح تفریق بیان کرتے ہوئے خلیفہ کے عمل کو مذکورہ معیار کے مطابق ڈھالنے اور ظلم و ستم سے دوری پر تاکید فرمائی[29]۔

شام میں معاویہ بن ابی سفیان کا حکومتی ڈھانچہ، مرکزی نظامِ خلافت کے متوازی چل رہا تھا۔ یہ متوازی حیثیت امام علی علیہ السلام کے دورِ خلافت تک کسی خاص مخالفت کے بغیر قائم رہی، لیکن امام علی (ع) نے اپنی حکومت کے آغاز ہی میں معاویہ کو معزول کر دیا[30]۔ امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے خلاف محاذ آرائی کی، لیکن بالآخر حالات کے پیش نظر آپ کے پاس معاویہ کے ساتھ صلح کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہ رہا۔ چنانچہ چھ ماہ کی خلافت کے بعد آپ نے اقتدار سے کنارہ کشی اختیار کی اور معاویہ کے ساتھ صلح کر لی۔ بلاذری کی روایت کے مطابق[31] صلح نامے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو جانشین نامزد نہیں کرے گا اور خلیفہ کے تقرر کا معاملہ مسلمانوں کے سپرد کرے گا۔ یہ بھی نقل ہوا ہے کہ امام نے معاویہ کی اس تجویز کی مخالفت کی تھی جس میں معاویہ کے بعد امام حسن کے لیے خلافت کا حق تجویز کیا گیا تھا[32]۔

امام حسن علیہ السلام ابتدائی اسلامی خلافت کے آخری خلیفہ اور اس سلسلے کے آخری فرد تھے جنہیں بعد میں "خلفائے راشدین" کے عنوان سے کرشماتی اور تقدس آمیز حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ نقطہ نظر، جس کی واضح عکاسی مختلف صدیوں کے سنی مؤلفین کے آثار میں بکثرت ملتی ہے[33]، ایسے خصائص و اوصاف کا نتیجہ تھا جیسے رسول اللہ (ص) کے ممتاز صحابہ میں شمولیت، آنحضرت (ص) سے نسبی یا سببی قرابت، اسلام میں سبقت اور رسولِ خدا کے الٰہی مشن میں نصرت و مدد، اور سب سے بڑھ کر عملی سیرت و کردار (جس میں البتہ تیسرے خلیفہ کو مستثنیٰ سمجھا گیا ہے)۔ ان خصوصیات نے نہ صرف ان کے اور بعد کے خلفاء کے درمیان نمایاں فرق پیدا کیا، بلکہ یہ اسلامی معاشرے میں حکمرانوں کے کردار کو جانچنے کا ایک بنیادی معیار بن گئیں۔

نظریات جیسے اہل حل و عقد اور اہل استخلاف کی آراء، اصلِ شوریٰ[34]، خلیفہ کا قریشی ہونا، بیعت کا کردار بطور ثبوتِ خلافت یا اظہارِ وفاداری و اطاعت[35]، امت کے اتحاد کی حفاظت اور خروج کی ممانعت کے پیش نظر حاکم کی اطاعت کا وجوب[36]، خلیفہ کو معزول کرنے کے امکان یا عدم امکان کی بحث[37]، اور بُغاة (سرکشوں) کے خلاف جہاد وغیرہ، یہ تمام امور خلفائے راشدین کے طریقہ تقرر اور ان کی عملی کارکردگی سے اخذ کیے گئے تھے جنہیں ایک مثالی حکومتی نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔

بنو امیہ

۴۱ھ میں معاویہ بن ابی سفیان کے ہاتھوں خلافتِ اموی کے قیام نے اسلامی خلافت کو جواز و مشروعیت کے شدید بحران سے دوچار کیا۔ معاویہ ایسا خلیفہ تھا جسے مسلمان نہ تو سابقہ خلفاء کی روش و سیرت پر دیکھتے تھے اور نہ ہی وہ کوئی اچھی شہرت رکھتا تھا۔ خود اس نے بھی صراحت کی کہ اس نے خلافت عوام کی رضامندی سے نہیں بلکہ تلوار اور طاقت کے زور پر حاصل کی ہے، اور خود کو پہلا "ملک" (بادشاہ) قرار دیا اور خلافت کے خاتمے کی خبر دی[38]۔ اس نے اقتدار کو اپنے خاندان کے لیے ایک الٰہی استحقاق گردانا۔ یہ مؤقف ایک غالب نظریے میں تبدیل ہوا جس نے نہ صرف بنو امیہ کے اندر خلافت کو موروثی بنا دیا، بلکہ اسلامی خلافت کے مفہوم کو ایک مذہبی لبادے کے تحت "اسلامی بادشاہت" (سلطنت) میں تبدیل کر دیا۔ بعد میں پیغمبر اکرم (ص) سے منسوب ایک حدیث کے ذریعے کہ "خلافت تیس سال تک رہے گی اور اس کے بعد ملوکیت (بادشاہت) ہوگی"[39]، اس امر کی توثیق اور ایک طرح سے اس کا جواز گھڑنے کی کوشش کی گئی۔

جب ۶۰ھ میں یزید برسرِ اقتدار آیا تو اس نے اسلامی اقدار کو پامال کرنے کے علاوہ تمام مخالفتوں کو بے رحمی کے ساتھ کچل ڈالا۔ امام حسین علیہ السلام کے خلاف اقدامات اور واقعہ حرہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اس کے بعد سے خلافت کی مشروعیت حق کی پاسداری سے نہیں تولی جاتی تھی، بلکہ خود حاکم ہی حق و باطل کا معیار بن گیا۔ مخالفین کے قیام اور تحریکیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگرچہ خلافت کا یہ تصور غالب ضرور تھا مگر ہمہ گیر نہ تھا؛ اور اہلِ بیت کے علاوہ (جنہوں نے اپنا واضح مؤقف قیامِ کربلا میں دکھایا)، مسلمانوں کے دیگر طبقات بالخصوص حرمین (مکہ، مدینہ) اور عراق کے باشندوں نے بھی اس کی مخالفت کی[40]۔

خلافت کے دیگر دعویداروں میں عبد اللہ بن زبیر بھی تھا جس نے ۶۴ھ میں یزید کی ہلاکت کے بعد "کتابِ خدا، سنتِ رسول اور سیرتِ خلفائے صالحین پر عمل" کی بنیاد پر لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت دی۔ یہ تحریک جس کا دعویٰ خلافت کی اصل صورت کی بحالی تھا، معاویہ بن یزید کی دستبرداری اور امویوں کے داخلی انتشار کی بدولت رفتہ رفتہ وسیع ہوتی چلی گئی اور حجاز (جو ابن زبیر کے قیام کا مرکز تھا) کی حدود سے باہر نکل گئی۔

مروانیوں کی خلافت کاref>، اس امر کی توثیق اور ایک طرح سے اس کا جواز گھڑنے کی کوشش کی گئی۔

جب ۶۰ھ میں یزید برسرِ اقتدار آیا تو اس نے اسلامی اقدار کو پامال کرنے کے علاوہ تمام مخالفتوں کو بے رحمی کے ساتھ کچل ڈالا۔ امام حسین علیہ السلام کے خلاف اقدامات اور واقعہ حرہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اس کے بعد سے خلافت کی مشروعیت حق کی پاسداری سے نہیں تولی جاتی تھی، بلکہ خود حاکم ہی حق و باطل کا معیار بن گیا۔ مخالفین کے قیام اور تحریکیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگرچہ خلافت کا یہ تصور غالب ضرور تھا مگر ہمہ گیر نہ تھا؛ اور اہلِ بیت کے علاوہ (جنہوں نے اپنا واضح مؤقف قیامِ کربلا میں دکھایا)، مسلمانوں کے دیگر طبقات بالخصوص حرمین (مکہ، مدینہ) اور عراق کے باشندوں نے بھی اس کی مخالفت کی[41]۔

خلافت کے دیگر دعویداروں میں عبد اللہ بن زبیر بھی تھا جس نے ۶۴ھ میں یزید کی ہلاکت کے بعد "کتابِ خدا، سنتِ رسول اور سیرتِ خلفائے صالحین پر عمل" کی بنیاد پر لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت دی۔ یہ تحریک جس کا دعویٰ خلافت کی اصل صورت کی بحالی تھا، معاویہ بن یزید کی دستبرداری اور امویوں کے داخلی انتشار کی بدولت رفتہ رفتہ وسیع ہوتی چلی گئی اور حجاز (جو ابن زبیر کے قیام کا مرکز تھا) کی حدود سے باہر نکل گئی۔

مروانیوں کی خلافت کا آغاز ۶۴ھ میں ہوا اور دس خلفاء کے ساتھ ۱۳۲ھ تک جاری رہا۔ مروانیوں نے خلافت میں شاہانہ اور ملوکانہ طرزِ عمل کو آگے بڑھایا اور خلیفہ کے معنوی مقام۵۱</ref>۔ عباسی خلافت کے ڈھانچے میں موروثیت ایک لازمی اور ناقابلِ تغیر رکن سمجھی جاتی تھی۔

اس دور میں خلیفہ کی بیعت کے ساتھ خاص شاہی آداب و رسوم وابستہ ہو گئیں۔ دربارِ خلافت کے تشریفات اور آداب پر مشتمل کتب دوسری اور تیسری صدی ہجری ہی سے لکھی جانے لگیں اور ہر شعبے میں شاہانہ تجملات اور تشریفات کو خلیفہ اور نظامِ خلافت کے لازمی لوازمات میں شمار کیا گیا۔

عباسی خلفاء کی ابتدائی نسلیں طاقتور مذہبی و سیاسی اثر و رسوخ کی حامل تھیں اور ان کا دینی وقار ہی ان کی سیاسی قوت کی بنیاد تھا۔ لیکن بعد ازاں خلیفہ کا سیاسی اقتدار بتدریج زوال پذیر ہوتا گیا؛ یہاں تک کہ خلفاء کا عزل و نصب، حکومت کا تسلسل اور حتیٰ کہ ان کا جینا مرنا کلی طور پر ترک فوجیوں، آلِ بویہ اور سلجوقیوں کے رحم و کرم پر آ گیا[42]۔

بالآخر عباسی خلافت ۶۵۶ھ میں ہلاکو خان منگول کے بغداد پر حملے کے نتیجے میں ختم ہو گئی۔ اس سقوط نے ایک طرف ان لوگوں میں شدید مایوسی پھیلائی جو اس خلافت کو تقدس کی نگاہ سے دیکھتے تھے[43]، اور دوسری طرف عالمِ اسلام کے مختلف خطوں میں بعض اہل سنت حکمرانوں کو خود خلافت کا دعویٰ کرنے کی ترغیب دی۔

حوالہ جات

  1. ابن منظور، ذیل لفظ خَلَفَ؛ زبیدی، ج ۲۳، ص ۲۶۳ـ۲۶۵
  2. بقرہ: ۳۰
  3. اعراف: ۶۹، ۷۴؛ نمل: ۶۲
  4. انعام:۱۶۵؛ یونس: ۱۴، ۷۳؛ فاطر: ۳۹
  5. ماوردی، ۱۴۰۹ھ، ص ۴؛ قلقشندی، مآثر الأنافۃ فی معالم الخلافۃ (بیروت)، ج ۱، ص ۸ـ۱۲، ۱۴ـ۱۶
  6. مصطفوی، 1360ش، ج 3، ص 29
  7. راغب اصفہانی، 1412ھ، ج 1، ص 294
  8. فراہیدی، 1409ھ، ج 4، ص 267
  9. ابن منظور، 1414ھ، ج 9، ص 83
  10. علامہ طباطبائی، 1417ھ، ج 12، ص 207
  11. تفسیر المیزان ذیل آیاتِ متعلقہ؛ تفسیر المنار، ج 1، ص 258ـ260
  12. ابن قتیبۃ دینوری، الامامۃ و السیاسۃ، ص ۲۱
  13. ماوردی بصری، علی بن محمد، الاحکام السلطانیۃ، ص ۱۷
  14. ابن قتیبۃ دینوری، الامامۃ و السیاسۃ، ج ۱، ص ۳۴
  15. ابن قتیبہ، ج ۱، ص ۱۲ـ۱۴؛ طبری، ج ۳، ص ۲۰۲ـ۲۰۳
  16. ابن سعد، ج ۳، ص ۸۳؛ احمد بن حنبل، ج ۱، ص ۲۰
  17. ماوردی، الاحکام السلطانیۃ و الولایات الدینیۃ، ص ۶ـ۹
  18. بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۱۰، ص ۸۸ـ۸۹، ۳۰۵؛ طبری، ج ۳، ص ۴۲۸ـ۴۳۴
  19. ابن سعد، ج ۳، ص ۲۰۰
  20. بلاذری، جُمَل من انساب الاشراف، ج ۱۰، ص ۳۲۱
  21. جعفریان، تاریخ تحول دولت و خلافت، ص ۱۰۱
  22. مالک بن انس، ص ۳۰۸؛ ابن سعد، ج ۳، ص ۲۷۶؛ بلاذری، فتوح البلدان، ص ۴۴۸ـ۴۶۱؛ ماوردی، نصیحۃ الملوک، ص ۳۵۳
  23. ابن شبّہ نمیری، ج ۳، ص ۹۳۰؛ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۶۲؛ طبری، ج ۴، ص ۲۳۳؛ قس: ابن قتیبہ، ج ۱، ص ۲۶ـ۲۷
  24. ابن قتیبہ، ج ۱، ص ۳۲؛ یعقوبی، ج ۲، ص ۱۶۸، ۱۷۴؛ طبری، ج ۴، ص ۳۴۷ـ۳۴۸؛ مزید تفصیل کے لیے رجوع کریں: جعفریان، تاریخ سیاسی اسلام، ج ۲، ص ۳۴۴ـ۳۴۹
  25. یعقوبی، ج ۲، ص ۱۷۸ـ۱۷۹؛ طبری، ج ۴، ص ۴۲۷، ۴۳۵؛ ابن اعثم کوفی، ج ۲، ص ۴۳۵ـ۴۳۶
  26. نہج البلاغہ، مکتوب ۱؛ اسکافی، ص ۵۲، ۱۰۵ـ۱۰۶؛ طبری، ج ۴، ص ۴۲۷
  27. نہج البلاغہ، خطبہ ۳۴؛ طبری، ج ۵، ص ۹۱
  28. نہج البلاغہ، خطبہ ۸۷
  29. ابو الفرج اصفہانی، ص ۴۷
  30. ابو الفرج اصفہانی، ص ۴۷
  31. اسفرایینی، ج ۲، ص ۵۰۱؛ غزالی، ص ۲۷ـ۲۸، ۱۴۸؛ سجاسی، ص ۳۴ـ۳۹
  32. ابو الفرج اصفہانی، ص ۴۷
  33. اسفرایینی، ج ۲، ص ۵۰۱؛ غزالی، ص ۲۷ـ۲۸، ۱۴۸؛ سجاسی، ص ۳۴ـ۳۹
  34. حاتم قادری، تحول مبانی مشروعیت خلافت، ص ۸۳ـ۸۴، ۸۷؛ جعفریان، تاریخ تحول دولت و خلافت، ص ۹۹
  35. ماوردی، الاحکام السلطانیۃ و الولایات الدینیۃ، ص ۶ـ۷؛ رجوع کریں: جعفریان، تاریخ تحول دولت و خلافت، ص ۹۰ـ۹۳
  36. ابن ابی شیبہ، ج ۷، ص ۵۶۶ـ۵۶۷
  37. ابن فرّاء، ص ۲۰ـ۲۳
  38. ابن عساکر، ج ۵۹، ص ۱۵۱، ۱۷۷
  39. ابن فرّاء، ص ۲۰ـ۲۳
  40. خلیفۃ بن خیاط، ص ۱۵۷؛ ابن قتیبہ، ج ۱، ص ۱۷۳ـ۱۷۴؛ طبری، ج ۵، ص ۴۹۲
  41. خلیفۃ بن خیاط، ص ۱۵۷؛ ابن قتیبہ، ج ۱، ص ۱۷۳ـ۱۷۴؛ طبری، ج ۵، ص ۴۹۲
  42. مجمل التواریخ و القصص، ص ۳۶۲ـ۳۶۵، ۳۷۴ـ۳۷۵؛ ہندوشاہ بن سنجر، ص ۱۸۵؛ تحفہ: در اخلاق و سیاست، ص ۱۳۳ـ۱۳۴
  43. ابن اثیر، ج ۱۲، ص ۳۵۸ـ۳۶۰؛ سعدی، ص ۷۰۳ـ۷۰۸