"براعظم یورپ" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 68: | سطر 68: | ||
ان جنگوں کے اختتام کے بعد امریکہ ایک نئی فوجی اور اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا، جبکہ روس میں بالشویک انقلاب نے بھی یورپ کی سیاسی تقدیر پر گہرا اثر ڈالا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ سرد جنگ کی صورتحال سے دوچار ہوگیا اور یورپی ممالک دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ مشرقی یورپ میں سوویت یونین کی قیادت میں سوشلسٹ نظام قائم ہوا، جبکہ مغربی اور لبرل ممالک امریکہ کی قیادت اور اثر و رسوخ کے دائرے میں آگئے۔ | ان جنگوں کے اختتام کے بعد امریکہ ایک نئی فوجی اور اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا، جبکہ روس میں بالشویک انقلاب نے بھی یورپ کی سیاسی تقدیر پر گہرا اثر ڈالا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ سرد جنگ کی صورتحال سے دوچار ہوگیا اور یورپی ممالک دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ مشرقی یورپ میں سوویت یونین کی قیادت میں سوشلسٹ نظام قائم ہوا، جبکہ مغربی اور لبرل ممالک امریکہ کی قیادت اور اثر و رسوخ کے دائرے میں آگئے۔ | ||
بیسویں صدی کی ستر کی دہائی میں مشرقی یورپ کے ممالک نے مغربی یورپ کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ فروغ دیا اور سوویت یونین سے آزادی کی جانب پیش رفت شروع کی۔ بالآخر 1989ء میں مشرقی بلاک کے ممالک میں انقلابات کے نتیجے میں یہ ممالک سوویت تسلط سے باہر نکل | بیسویں صدی کی ستر کی دہائی میں مشرقی یورپ کے ممالک نے مغربی یورپ کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ فروغ دیا اور سوویت یونین سے آزادی کی جانب پیش رفت شروع کی۔ بالآخر 1989ء میں مشرقی بلاک کے ممالک میں انقلابات کے نتیجے میں یہ ممالک سوویت تسلط سے باہر نکل آئے <ref>تاریخ اروپا، هنری و. لیتل فیلد، ص۱۶۰-۱۶۱</ref>. | ||
== یورپ میں اسلام کی تاریخ == | == یورپ میں اسلام کی تاریخ == | ||
نسخہ بمطابق 16:04، 25 اگست 2026ء

براعظم یورپ، دنیا کے کم رقبے والے براعظموں میں سے ایک ہے۔ اسے وسیع اور بلند براعظم ایشیا کا ایک قدرتی تسلسل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعض جغرافیہ دان ایشیا اور یورپ کو ملا کر ایک ہی براعظم تصور کرتے ہیں اور اسے یوریشیا کہتے ہیں۔ تاہم کوہِ اورال ایک قدرتی سرحد کے طور پر ان دونوں براعظموں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔
جغرافیہ
یورپ شمالی معتدل خطے میں واقع ہونے کی وجہ سے سبز براعظم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے تین اہم جزیرہ نما اسکینڈے نیویا، بلقان اور آئبیریا ہیں۔ یہ براعظم جنوب مشرق میں بحیرۂ کیسپین اور بحیرۂ اسود، جنوب میں بحیرۂ روم، مغرب میں بحرِ اوقیانوس اور دیگر آبی علاقوں سے گھرا ہوا ہے [1].
یورپ دنیا کا دوسرا سب سے چھوٹا براعظم اور ایشیا و افریقہ کے بعد تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا براعظم ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 857 ملین افراد پر مشتمل بتائی جاتی ہے، جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ اگرچہ روس کو یورپ کا سب سے بڑا ملک سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کا ایک بڑا حصہ ایشیا میں واقع ہے۔ یورپ تقریباً 50 مختلف ممالک پر مشتمل ہے اور ماسکو اور لندن اس کے زیادہ آبادی والے شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔
قارۂ یورپ کی سطحی ساخت اور زمینی ناهمواریاں دو مختلف حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ شمالی یورپ کے علاقوں میں ارضیاتی اعتبار سے پہاڑ قدیم اور گھسے ہوئے ہیں، ان کی چوٹیاں گنبد نما ہیں اور ان کی بلندی نسبتاً کم ہے۔ ان علاقوں میں وسیع میدان اور بڑی تعداد میں جھیلیں بھی پائی جاتی ہیں۔
قارۂ یورپ میں مختلف نسلی گروہ آباد ہیں، تاہم آبادی کی اکثریت سفید فام لوگوں پر مشتمل ہے۔ مشرقی علاقوں اور شمالی کوہِ اورال کے اطراف میں دیگر نسلی گروہ بھی آباد ہیں۔
یورپی یونین
دو تباہ کن عالمی جنگوں کے بعد یورپی ممالک کے رہنماؤں نے اس نتیجے پر پہنچنا شروع کیا کہ جنگوں کو روکنے کا ایک اہم ذریعہ باہمی تعاون ہے۔ اس تعاون کا آغاز سب سے پہلے تجارت اور معیشت کے میدان میں ہوا۔ جرمنی، فرانس، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ نے اپنے بہت سے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کوئلے اور فولاد کی صنعت میں باہمی تعاون شروع کیا۔
بعد میں یہ تعاون عوامی زندگی کے دیگر شعبوں تک بھی پھیل گیا۔ یورپی مشترکہ منڈی اور دیگر تنظیمیں معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئیں۔
1967ء میں مختلف اداروں اور تنظیموں کے لیے ایک مرکزی تنظیم، جسے یورپی برادری یا یورپی کمیونٹیز کہا گیا، قائم کی گئی۔ یورپی برادری میں تمام رکن ممالک کے تعاون کے لیے مشترکہ کونسلیں اور کمیشن موجود تھے۔
1970ء کی دہائی میں نئے اراکین کی شمولیت کے ساتھ یورپی برادری میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔ 1972ء میں پہلی مرتبہ یورپی برادری کے رکن ممالک کے شہریوں کو براہِ راست ووٹنگ کے ذریعے یورپی پارلیمنٹ کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملا۔
1992ء میں یورپی برادری کے رکن ممالک نے باہمی تعاون کے مزید معاہدے کیے اور یورپی برادری کا نام تبدیل کرکے یورپی یونین رکھا گیا۔ یہ معاہدہ نیدرلینڈز کے شہر ماستریخت میں طے پایا، اسی مناسبت سے اسے ماستریخت معاہدہ کہا جاتا ہے۔
فن لینڈ 1995ء میں یورپی یونین میں شامل ہوا۔ اس سے پہلے، یعنی 1973ء سے، فن لینڈ یورپی آزاد تجارتی معاہدے کے دستخط کنندگان میں شامل تھا۔ آزاد تجارتی معاہدے کے تحت رکن ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ کسٹم ڈیوٹی ادا کیے بغیر تجارتی لین دین کی اجازت حاصل تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ یورپی یونین کے بعض اراکین نے یونین سے علیحدگی اختیار کی۔ متن کے مطابق الجزائر، فرانس کے بعض زیرِ انتظام علاقے، گرین لینڈ، سینٹ بارتھیلمی اور برطانیہ ایسے علاقوں یا ممالک میں شامل ہیں جن کا یورپی اتحاد کے ساتھ تعلق مختلف ادوار میں تبدیل ہوا۔
یورپ میں مذہب
یورپ کے اکثر باشندے توحیدی مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں، اگرچہ بعض علاقوں میں قدیم مذہبی اور غیر توحیدی عقائد بھی پائے جاتے ہیں۔ یورپ کی اکثریت عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے، اور عیسائیوں کو تین بڑے مذہبی گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1. کیتھولک
کیتھولک عیسائی زیادہ تر جنوب مغربی یورپ کے ممالک، جیسے پرتگال، اسپین، آئرلینڈ، فرانس، اٹلی، آسٹریا اور پولینڈ میں پائے جاتے ہیں۔
2۔پروٹسٹنٹ
پروٹسٹنٹ عیسائی اسکینڈے نیویا، انگلستان، نیدرلینڈز، شمالی جرمنی، سوئٹزرلینڈ کے بعض علاقوں اور ہنگری میں پائے جاتے ہیں۔
3. آرتھوڈوکس
آرتھوڈوکس عیسائی زیادہ تر روس اور جزیرہ نمائے بلقان کے علاقوں میں آباد ہیں۔ لاپ اور ساموئید اقوام میں قدیم غیر توحیدی عقائد کے پیروکار بھی پائے جاتے ہیں۔ اسلام بھی یورپ کے بعض علاقوں، خصوصاً بلقان اور یورال کے اطراف میں موجود ہے، جبکہ یہودیوں کی آبادی بھی یورپ کے مختلف ممالک میں پائی جاتی ہے۔
تاریخچہ
یونانی یورپ کے اولین باشندوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تقریباً 500 قبل مسیح میں ایک ترقی یافتہ تہذیب کی بنیاد رکھی۔ اس تہذیب کی علمی اور فنی شاندار کامیابیوں نے بعد کی یورپی تہذیب کی بنیاد فراہم کی۔ رومیوں نے، جنہوں نے دوسری صدی قبل مسیح میں اپنی سلطنت قائم کی، یونانی تہذیب کے علمی اور ثقافتی کارناموں کو اپنایا اور انہیں آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔
رومی سلطنت کے دور میں یورپ نے عیسائیت کے ظہور اور پھیلاؤ کا مشاہدہ کیا۔ یہ مذہب چوتھی صدی عیسوی میں شہنشاہ قسطنطین کے دور میں سرکاری مذہب بن گیا۔ رومی سلطنت کے زوال کے بعد، 395ء میں یہ سرزمین دو حصوں میں تقسیم ہوگئی، مشرقی حصہ جس کا مرکز قسطنطنیہ تھا اور مغربی حصہ جس کا مرکز روم تھا۔ پانچویں صدی عیسوی میں جرمن، ہن اور گوت قبائل کے حملوں اور مغربی رومی سلطنت کے خاتمے کے بعد یورپ کی تاریخ میں قرونِ وسطیٰ کا آغاز ہوا [2].
بنیادی تبدیلیوں کا آغاز
سولہویں صدی عیسوی سے یورپ نے کئی بنیادی تبدیلیوں کا تجربہ کیا۔ نشاۃِ ثانیہ یا رینائسنس کی تحریک، جو ابتدا میں ایک فنی اور ثقافتی تحریک تھی اور یونانی و رومی ورثے کی طرف رجوع پر مبنی تھی، یورپ کو ثقافتی اور سماجی زندگی کے ایک نئے مرحلے میں لے گئی۔
پروٹسٹنٹ ازم کے ظہور نے بھی ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کے علاوہ یورپی ممالک کو طویل مذہبی جنگوں میں مبتلا کردیا۔ یہی وہ دور تھا جب بڑی یورپی ریاستیں تشکیل پانے لگیں، بحری سفر کو فروغ حاصل ہوا اور ان ریاستوں نے امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے بعض علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔
فکری اور فلسفیانہ تبدیلی
اٹھارہویں صدی عیسوی میں عہدِ روشن خیالی کے آغاز کے ساتھ یورپ نے ایک عظیم فکری اور فلسفیانہ تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ اٹھارہویں صدی جمہوری انقلابات کا دور بھی تھی۔ 1789ء میں عظیم فرانسیسی انقلاب برپا ہوا، جو بعد میں یورپ کے دیگر انقلابات کا نقطۂ آغاز بنا۔
اسی دور میں صنعتی انقلاب، جو اٹھارہویں صدی کے اواخر میں سب سے پہلے انگلستان میں شروع ہوا، یورپ کے دوسرے علاقوں تک پھیل گیا۔ صنعتی انقلاب نے یورپی ممالک کو دنیا کے مختلف علاقوں میں سستے خام مال کی تلاش پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں افریقی اور ایشیائی ممالک میں یورپی استعمار کی بنیاد مضبوط ہوئی [3].
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کا وقوع
بیسویں صدی عیسوی میں یورپ کے اہم ترین واقعات میں دو عالمی جنگوں کا وقوع شامل ہے۔ پہلی جنگِ عظیم 1914ء سے 1918ء تک جاری رہی، جبکہ دوسری جنگِ عظیم 1939ء سے 1945ء تک جاری رہی۔
ان جنگوں کے اختتام کے بعد امریکہ ایک نئی فوجی اور اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا، جبکہ روس میں بالشویک انقلاب نے بھی یورپ کی سیاسی تقدیر پر گہرا اثر ڈالا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ سرد جنگ کی صورتحال سے دوچار ہوگیا اور یورپی ممالک دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ مشرقی یورپ میں سوویت یونین کی قیادت میں سوشلسٹ نظام قائم ہوا، جبکہ مغربی اور لبرل ممالک امریکہ کی قیادت اور اثر و رسوخ کے دائرے میں آگئے۔
بیسویں صدی کی ستر کی دہائی میں مشرقی یورپ کے ممالک نے مغربی یورپ کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ فروغ دیا اور سوویت یونین سے آزادی کی جانب پیش رفت شروع کی۔ بالآخر 1989ء میں مشرقی بلاک کے ممالک میں انقلابات کے نتیجے میں یہ ممالک سوویت تسلط سے باہر نکل آئے [4].
یورپ میں اسلام کی تاریخ
ساتویں صدی عیسوی کے اواخر میں یورپ کا اسلامی سلطنت سے اپنی مشرقی اور جنوبی سرحدوں پر سامنا ہوا۔ شمالی افریقہ تیزی سے مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا اور بحیرۂ روم میں مسلسل اسلامی فتوحات کا سلسلہ 717ء میں قسطنطنیہ کے محاصرے تک پہنچ گیا۔ تاہم داخلی مسائل کی وجہ سے اموی مشرقی رومی سلطنت کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
مغربی یورپ میں مسلمان شمالی افریقہ سے گزر کر آبنائے جبل الطارق عبور کرتے ہوئے اندلس میں داخل ہوئے۔ اندلس کی فتح کے بعد مسلمانوں نے جنوبی فرانس کی طرف پیش قدمی کی، لیکن جنگِ پواتیہ میں شکست کے بعد ان کی پیش قدمی رک گئی۔
گیارہویں صدی عیسوی میں سلجوقیوں نے اناطولیہ پر قبضہ کرلیا اور 1071ء میں جنگِ ملازگرد کے دوران مشرقی رومی سلطنت کو شکست دی۔ اس کے نتیجے میں اناطولیہ کا بڑا حصہ مشرقی رومی سلطنت سے الگ ہوگیا۔
عثمانی حکومت کے دور میں مسلمانوں کی یورپ میں پیش قدمی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ عثمانیوں نے یورپ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور جنوبی یورپ کے متعدد علاقوں، جن میں سربیا، جنوبی یونان اور بوسنیا شامل تھے، اپنے زیرِ اقتدار لے لیا۔
اسلامی سرزمینوں کا استعمار
یورپ میں مسلمانوں کے منتشر گروہوں کی موجودگی، خصوصاً مشرقی یورپ اور فرانس و اسپین کے بعض علاقوں میں، کئی صدیوں پرانی ہے۔ تاہم مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر یورپ کی طرف ہجرت کا آغاز بنیادی طور پر انیسویں صدی میں ہوا اور بیسویں صدی میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اسلامی سرزمینوں میں یورپی ممالک کا استعمار، یورپ کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ، مسلمانوں کی یورپی ممالک کی طرف ہجرت کے اہم اسباب میں سے ایک تھا۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں یورپی کارخانوں کو سستی افرادی قوت کی ضرورت تھی، جو بڑی حد تک نوآبادیاتی ممالک سے آنے والے مہاجرین کے ذریعے پوری کی جاتی تھی۔
چنانچہ بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کے بہت سے مسلمان انگلستان منتقل ہوئے، جبکہ شمالی افریقہ کے مسلمان فرانس کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ روزگار کی تلاش میں اسلامی ممالک سے یورپ کی طرف ہجرت کا سلسلہ بیسویں صدی کے آغاز میں بھی جاری رہا، اور سیاسی و سماجی عوامل نے بھی اس میں اضافہ کیا۔
مثال کے طور پر جرمنی میں موجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سابق سوویت یونین اور سابق یوگوسلاویہ سے آنے والے پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔ نوآبادیاتی ممالک کے بہت سے باشندے یورپی ممالک کی فوجوں میں شامل ہوئے، اور دونوں عالمی جنگوں کے دوران استعماری طاقتوں کی افواج میں ان کے زیرِ نگیں ممالک کے مقامی باشندے بھی شامل تھے۔ ان میں سے بعض افراد جنگ کے بعد اپنے آبائی وطن واپس نہ گئے اور یورپ ہی میں آباد ہوگئے۔
متن کے مطابق، آج مغربی یورپ میں تقریباً 15,000,000 مسلمان موجود ہیں۔ مشرقی یورپ میں، روس کو شامل کیے بغیر، مسلمانوں کی تعداد تقریباً 14,000,000 بتائی گئی ہے، جبکہ روس میں تقریباً 21,000,000 مسلمان آباد ہیں۔