مندرجات کا رخ کریں

"تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
{{خانہ معلومات پارٹی
| عنوان = تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے
| تصویر = سازمان چریکهای فدایی خلق ایران.jpg
| نام =  تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے
| قیام کی تاریخ = ۱۳۵۰ ش
| بانی =  گروه بیژن جزنی و گروه مسعود احمدزاده کا ادغام
| رہنما =  بیژن جزنی، حمید اشرف، مسعود احمدزاده، امیرپرویز پویان
| مقاصد = {{hlist |مسلح جدوجہد کے ذریعے حکومتِ محمد رضا پہلوی کا تختہ الٹنا | ایک سوشلسٹ حکومت کا قیام }}
}}
'''تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے'''،(انگلش:Organization of Iranian People's Fedai Guerrillas) ایک مارکسی ـ لیننی تنظیم تھی، جو فروردین ۱۳۵۰ شمسی میں بیژن جزنی اور مسعود احمدزاده کی قیادت میں قائم دو گوریلا گروہوں کے انضمام سے وجود میں آئی۔ یہ تنظیم مسلح جدوجہد کو حکومتِ محمدرضا پہلوی کے خلاف مقابلے کی بنیادی حکمتِ عملی سمجھتی تھی اور مارکسی نظریات اور لاطینی امریکہ کی گوریلا تحریکوں کے تجربات سے متاثر ہو کر حکومتِ پہلوی کے خلاف متعدد مسلح کارروائیاں انجام دیتی رہی۔ بہمن ۱۳۴۹ شمسی کا واقعۂ سیاهکل  اس تحریک کی پہلی اہم کارروائی تھی۔ اگرچہ یہ فوجی اعتبار سے ناکام رہی، لیکن اس کے نتیجے میں تنظیم طلبہ اور حکومت مخالف عناصر کے ایک حصے میں متعارف اور معروف ہوگئی۔ [[انقلاب اسلامی|انقلابِ اسلامی]] کی کامیابی کے بعد چریک‌های فدائیِ خلق کی سیاسی سرگرمیوں میں وسعت آئی، جس کے نتیجے میں تنظیم اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی اور دو دھڑوں، یعنی "اکثریت" اور "اقلیت" میں تقسیم ہوگئی۔ جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ طرزِ عمل اور رویّے کے بارے میں اختلاف اس تقسیم کا سب سے اہم سبب تھا۔
'''تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے'''،(انگلش:Organization of Iranian People's Fedai Guerrillas) ایک مارکسی ـ لیننی تنظیم تھی، جو فروردین ۱۳۵۰ شمسی میں بیژن جزنی اور مسعود احمدزاده کی قیادت میں قائم دو گوریلا گروہوں کے انضمام سے وجود میں آئی۔ یہ تنظیم مسلح جدوجہد کو حکومتِ محمدرضا پہلوی کے خلاف مقابلے کی بنیادی حکمتِ عملی سمجھتی تھی اور مارکسی نظریات اور لاطینی امریکہ کی گوریلا تحریکوں کے تجربات سے متاثر ہو کر حکومتِ پہلوی کے خلاف متعدد مسلح کارروائیاں انجام دیتی رہی۔ بہمن ۱۳۴۹ شمسی کا واقعۂ سیاهکل  اس تحریک کی پہلی اہم کارروائی تھی۔ اگرچہ یہ فوجی اعتبار سے ناکام رہی، لیکن اس کے نتیجے میں تنظیم طلبہ اور حکومت مخالف عناصر کے ایک حصے میں متعارف اور معروف ہوگئی۔ [[انقلاب اسلامی|انقلابِ اسلامی]] کی کامیابی کے بعد چریک‌های فدائیِ خلق کی سیاسی سرگرمیوں میں وسعت آئی، جس کے نتیجے میں تنظیم اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی اور دو دھڑوں، یعنی "اکثریت" اور "اقلیت" میں تقسیم ہوگئی۔ جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ طرزِ عمل اور رویّے کے بارے میں اختلاف اس تقسیم کا سب سے اہم سبب تھا۔
== تاریخچہ اور تشکیل ==
== تاریخچہ اور تشکیل ==
سطر 128: سطر 137:
واقعۂ سیاهکل اور اس کی دیگر مسلح کارروائیاں اگرچہ فوجی اعتبار سے محدود کامیابی حاصل کرسکیں، لیکن ایران میں بنیاد پرست بائیں بازو کی تحریکوں کی تشکیل اور ارتقا پر ان کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔
واقعۂ سیاهکل اور اس کی دیگر مسلح کارروائیاں اگرچہ فوجی اعتبار سے محدود کامیابی حاصل کرسکیں، لیکن ایران میں بنیاد پرست بائیں بازو کی تحریکوں کی تشکیل اور ارتقا پر ان کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔


اسلامی انقلاب کے بعد جمہوری اسلامی کے ساتھ طرزِ تعامل کے بارے میں اختلافات تنظیم کے انشعاب اور اس کے تنظیمی اتحاد میں کمزوری کا سبب بنے۔ بعد کے برسوں میں ملک کے اندر سرگرمیوں پر پابندیوں اور تنظیم کے ایک اہم حصے کے ارکان کی بیرونِ ملک ہجرت نے اس سیاسی تحریک کی نوعیت اور اس کی سیاسی حکمتِ عملیوں میں بتدریج تبدیلی پیدا کردی۔
اسلامی انقلاب کے بعد جمہوری اسلامی کے ساتھ طرزِ تعامل کے بارے میں اختلافات تنظیم کے انشعاب اور اس کے تنظیمی اتحاد میں کمزوری کا سبب بنے۔ بعد کے برسوں میں ملک کے اندر سرگرمیوں پر پابندیوں اور تنظیم کے ایک اہم حصے کے ارکان کی بیرونِ ملک ہجرت نے اس سیاسی تحریک کی نوعیت اور اس کی سیاسی حکمتِ عملیوں میں بتدریج تبدیلی پیدا کردی<ref>[https://psri.ir/?id=26gqye3k عملکرد سازمان چریک های فدائی خلق، علی محمد زندی]-شائع شدہ از: 3 خرداد 1400ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 24 اگست 2026ء</ref>۔


== متعلقہ موضوعات ==
== متعلقہ موضوعات ==
* [[انقلاب اسلامی|انقلابِ اسلامی]]؛
* [[انقلاب اسلامی|انقلابِ اسلامی]]؛
* [[قیامِ ۱۵ خرداد]]
* [[قیامِ ۱۵ خرداد]]
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
[[fa: سازمان چریکهای فدایی خلق ایران]]

نسخہ بمطابق 21:31، 24 اگست 2026ء

تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے
پارٹی کا نامتنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے
قیام کی تاریخ۱۳۵۰ ش، 1972 ء، 1391 ق
بانی پارٹیگروه بیژن جزنی و گروه مسعود احمدزاده کا ادغام
پارٹی رہنمابیژن جزنی، حمید اشرف، مسعود احمدزاده، امیرپرویز پویان
مقاصد و مبانی
  • مسلح جدوجہد کے ذریعے حکومتِ محمد رضا پہلوی کا تختہ الٹنا
  • ایک سوشلسٹ حکومت کا قیام

تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے،(انگلش:Organization of Iranian People's Fedai Guerrillas) ایک مارکسی ـ لیننی تنظیم تھی، جو فروردین ۱۳۵۰ شمسی میں بیژن جزنی اور مسعود احمدزاده کی قیادت میں قائم دو گوریلا گروہوں کے انضمام سے وجود میں آئی۔ یہ تنظیم مسلح جدوجہد کو حکومتِ محمدرضا پہلوی کے خلاف مقابلے کی بنیادی حکمتِ عملی سمجھتی تھی اور مارکسی نظریات اور لاطینی امریکہ کی گوریلا تحریکوں کے تجربات سے متاثر ہو کر حکومتِ پہلوی کے خلاف متعدد مسلح کارروائیاں انجام دیتی رہی۔ بہمن ۱۳۴۹ شمسی کا واقعۂ سیاهکل اس تحریک کی پہلی اہم کارروائی تھی۔ اگرچہ یہ فوجی اعتبار سے ناکام رہی، لیکن اس کے نتیجے میں تنظیم طلبہ اور حکومت مخالف عناصر کے ایک حصے میں متعارف اور معروف ہوگئی۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد چریک‌های فدائیِ خلق کی سیاسی سرگرمیوں میں وسعت آئی، جس کے نتیجے میں تنظیم اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی اور دو دھڑوں، یعنی "اکثریت" اور "اقلیت" میں تقسیم ہوگئی۔ جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ طرزِ عمل اور رویّے کے بارے میں اختلاف اس تقسیم کا سب سے اہم سبب تھا۔

تاریخچہ اور تشکیل

ایران میں مسلح جدوجہد کے تصور کے ظہور کا پس منظر ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ شمسی کی تحریک کے نتائج سے جا ملتا ہے۔ اس تحریک کو کچلنے، مخالف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے، ملکی اطلاعات و سلامتی کے ادارے ساواک کی طاقت میں اضافے اور حکومت مخالف نوجوانوں کے ایک طبقے کی جانب سے قانونی جدوجہد کے طریقوں کو غیر مؤثر سمجھنے کے نتیجے میں گوریلا جدوجہد کی طرف رجحان پیدا ہوا۔

ایسے ماحول میں دو آزاد مارکسی گروہوں نے اپنی سرگرمیاں شروع کیں، جو بعد میں سازمانِ چریک‌های فدائیِ خلقِ ایران کے بنیادی مرکز اور ہسته کی حیثیت اختیار کر گئے۔

پہلا گروہ ۱۳۴۲ شمسی میں بیژن جزنی، عباس سورکی، علی‌اکبر صفائی فراهانی، محمد آشتیانی اور حمید اشرف نے تشکیل دیا۔

یہ گروہ بعد میں "گروہ جزنی ـ ظریفی" یا "گروہ سیاهکل" کے نام سے مشہور ہوا۔ اس گروہ کا مؤقف انقلابی قوتوں کو منظم کرنے اور سوشلسٹ انقلاب کے لیے حالات سازگار بنانے کی ضرورت پر مبنی تھا۔

چند سال بعد اس گروہ کے بعض ارکان کو ساواک نے شناخت کرکے گرفتار کر لیا۔ بیژن جزنی اور عباس سورکی ۱۳۵۴ شمسی تک جیل میں رہے اور بعد ازاں دیگر چند سیاسی قیدیوں کے ساتھ قتل کر دیے گئے۔ اس دوران حمید اشرف نے باقی ماندہ نیٹ ورکس کو برقرار رکھتے ہوئے تنظیم کی سرگرمیاں جاری رکھیں اور تنظیم کی سب سے اہم عملی شخصیت بن گیا۔

دوسرا گروہ ۱۳۴۶ شمسی کے اواخر میں "مسعود احمدزاده" اور "امیرپرویز پویان" کی قیادت میں تشکیل پایا۔ یہ گروہ زیادہ تر تہران اور مشہد کی جامعات کے طلبہ پر مشتمل تھا۔

اس گروہ نے حزب تودہ ایران اور ایران کے نیشنل فرنٹ کے اصلاح پسندانہ طرزِ فکر کی مخالفت کی اور حکومتِ پہلوی کے خاتمے کا واحد راستہ مسلح جدوجہد کو قرار دیا۔

آخرکار، فروردین ۱۳۵۰ شمسی میں یہ دونوں گروہ آپس میں ضم ہوگئے اور سازمانِ چریک‌های فدائیِ خلقِ ایران کی بنیاد رکھی گئی۔ نئی تنظیمی ساخت میں گروہِ جزنی زیادہ تر دیہی علاقوں میں سرگرمیوں کا ذمہ دار تھا، جبکہ احمدزاده ـ پویان گروہ شہری علاقوں میں مسلح کارروائیوں کی قیادت اور انجام دہی کی ذمہ داری سنبھالتا تھا۔

نظریہ اور حکمتِ عملی

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلقِ ایران مارکسزم اور لینن ازم کے نظریات پر قائم تھی اور مسلح جدوجہد کو سوشلسٹ انقلاب کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ سمجھتی تھی۔ اگرچہ اس تنظیم کے رہنما اسٹالن کے دور کے بعد سوویت یونین کی بعض پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے، تاہم بنیادی طور پر وہ خود کو انقلابی مارکسزم کی تحریک کا حصہ سمجھتے تھے۔

اس تنظیم کی فکری خصوصیات میں درج ذیل نکات نمایاں تھے:

  • مسلح جدوجہد کو انقلاب کا محرک سمجھنا؛
  • نجی ملکیت کی مخالفت اور ذرائعِ پیداوار پر اجتماعی ملکیت کا دفاع؛
  • سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت اور ریاستی معیشت کی حمایت؛
  • جسے وہ امریکہ کی سربراہی میں "سامراجیت" قرار دیتے تھے، اس کے خلاف جدوجہد؛
  • پارلیمانی سرگرمیوں اور پُرامن سیاسی طریقوں کی مخالفت؛
  • سماجی انقلاب برپا کرنے میں گوریلا گروہوں کے پیش رو کردار پر زور دینا۔

اس نظریے کی بنیاد پر مسلح کارروائیاں عوامی بغاوت اور حکومتِ پہلوی کے سقوط کے لیے حالات سازگار بنا سکتی تھیں۔

سرگرمیاں

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق کی سرگرمیوں کو اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اور بعد کے دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے دور میں یہ تنظیم حکومتِ محمدرضا پہلوی کے خلاف گوریلا کارروائیوں اور سیاسی قتل و غارت کے باعث معروف تھی۔ دوسرے دور میں اس نے اپنی سرگرمیوں کو سیاسی میدان تک وسعت دی اور بعض علاقوں میں مسلح اور قوم پرستانہ تحریکوں کی حمایت بھی کی۔

واقعۂ سیاهکل

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق کی پہلی فوجی کارروائی ۱۹ بہمن ۱۳۴۹ شمسی کو سیاهکل کی ژاندارمری چوکی پر حملہ تھا۔ یہ کارروائی تنظیم کے باضابطہ اعلانِ تشکیل سے پہلے انجام دی گئی اور اسے ایران میں منظم مارکسی بائیں بازو کی مسلح جدوجہد کے آغاز کا نقطۂ عطف سمجھا جاتا ہے۔

اس کارروائی کا بنیادی مقصد تنظیم کے ایک رکن کو آزاد کرانا تھا جسے سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا تھا؛ تاہم حملے سے قبل ہی اسے کسی دوسرے مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔ اس کے باوجود گروہ کے ارکان نے چوکی پر حملہ کیا، اسے غیر مسلح کیا اور پھر آس پاس کے جنگلات کی طرف پسپائی اختیار کی۔

حکومتِ پہلوی کی فوجی اور سکیورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں زمینی اور فضائی دستے روانہ کرکے علاقے کا محاصرہ کیا اور چند ہی دنوں میں گروہ کے بیشتر ارکان کو گرفتار یا ہلاک کردیا۔ تنظیم کے شہری نیٹ ورک کی شناخت کے بعد اس کے مزید کئی ارکان اور رہنماؤں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

اگرچہ سیاهکل کی کارروائی فوجی اعتبار سے ناکام رہی، لیکن طلبہ اور روشن فکر حلقوں میں اس کی وسیع تشہیر نے تنظیم کی شہرت میں اضافہ کیا اور نئے حامیوں کی بھرتی کا باعث بنی۔ اس واقعے کے بعد باقی ماندہ ارکان نے خفیہ رسائل "نبردِ خلق" اور ۱۹ بہمن شائع کیے۔

مسلح کارروائیاں

واقعۂ سیاهکل کے بعد تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق نے مسلح جدوجہد کی حکمتِ عملی جاری رکھی اور ایران کے مختلف شہروں میں متعدد گوریلا کارروائیاں انجام دیں۔

شائع شدہ رپورٹس کے مطابق، انقلاب سے قبل اپنی سرگرمیوں کے دوران تنظیم کے ارکان نے مالی وسائل حاصل کرنے کے مقصد سے کئی بینک شاخوں پر حملے کیے، متعدد پولیس اہلکاروں اور حکومتی عہدیداروں کو قتل کیا اور حکومت سے وابستہ بعض مراکز اور کچھ غیر ملکی مراکز کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔

ان کارروائیوں کے اعلان کردہ اہداف میں غیر ملکی کمپنیوں کے دفاتر، پولیس مراکز، بین الاقوامی مواصلاتی اداروں کے دفاتر، انجمنِ ایران و امریکہ اور تہران سمیت بعض دوسرے شہروں میں واقع غیر ملکی سیاسی نمائندگیاں شامل تھیں۔

تنظیم کے رہنما ان اقدامات کو مسلح تبلیغ کی حکمتِ عملی کا حصہ اور انقلابی جدوجہد کے فروغ کے لیے زمین ہموار کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ گوریلا کارروائیوں کا تسلسل ملک کے سیاسی ماحول کو تبدیل کرکے عوامی بغاوت کے لیے حالات پیدا کرسکتا ہے۔

انقلاب سے پہلے تنظیم میں انشعاب

۱۳۵۴ شمسی میں جدوجہد جاری رکھنے کے طریقۂ کار کے بارے میں اختلافات کے نتیجے میں تنظیم میں انشعاب پیدا ہوا۔ حمید اشرف کی قیادت میں ایک گروہ نے مسلح جدوجہد کو جاری رکھنے اور گوریلا کارروائیوں کو وسعت دینے پر زور دیا۔ ان کا خیال تھا کہ انقلاب کے لیے حالات صرف اسی طریقے سے پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں دوسرے گروہ نے مسلح جدوجہد کی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں، مزدوروں کی تنظیم سازی اور حزبِ تودہ ایران کے ساتھ قریبی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ گروہ بعد میں "منشعب فدائیان" کے نام سے معروف ہوا اور اس کے بہت سے ارکان حزبِ تودہ میں شامل ہوگئے۔

۱۳۵۵ شمسی میں ساواک کی جانب سے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد تنظیم کے نیٹ ورک کا ایک بڑا حصہ ختم ہوگیا اور اسلامی انقلاب کی کامیابی تک اس کی سرگرمیاں شدید طور پر محدود ہوگئیں۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سرگرمیاں

بہمن ۱۳۵۷ شمسی میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق نے اپنی علانیہ سرگرمیاں دوبارہ شروع کردیں۔ اس نے "کار" نامی رسالہ شائع کرکے طلبہ، مزدوروں اور بعض روشن فکر حلقوں میں اپنے سماجی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی۔

سیاسی قیدیوں کی رہائی، حکومتِ پہلوی کے سکیورٹی ڈھانچے کے انہدام اور پیدا ہونے والی سیاسی آزادی کے ماحول نے تنظیم کو اپنی قوتوں کو دوبارہ منظم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ خاص طور پر جامعات اور بعض صنعتی مراکز میں اس کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

اس کے باوجود تنظیم جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ طرزِ تعامل کے مسئلے پر متفق نہ ہوسکی اور انقلاب کے ابتدائی مہینوں ہی سے اس کی قیادت کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات نمایاں ہوگئے۔

اکثریت اور اقلیت میں انشعاب

جمہوری اسلامی کے نظام کے ساتھ تعامل کے طریقۂ کار پر اختلاف بالآخر تنظیم کی تقسیم کا باعث بنا اور اس کے دو بڑے دھڑے، "اکثریت" اور "اقلیت" وجود میں آئے۔

اکثریتی دھڑا

اکثریتی دھڑے نے مسلح جدوجہد کی سابقہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں پر زور دیا۔ اس دھڑے کے رہنماؤں نے گوریلا طریقۂ کار کو ملک کے نئے حالات سے ناسازگار قرار دیا اور مزدوروں، طلبہ اور معاشرے کے دیگر طبقات کے درمیان قانونی سیاسی سرگرمیوں کا مطالبہ کیا۔

یہ دھڑا بہت سے سیاسی معاملات میں حزب تودہ ایران کے قریب ہوگیا اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف فوجی تصادم سے گریز کیا۔

اقلیتی دھڑا

اقلیتی دھڑا، جس کی قیادت اشرف دہقانی اور محمد حرمتی‌پور کررہے تھے، انقلابی اور مسلح جدوجہد کی ضرورت پر بدستور زور دیتا رہا۔

یہ دھڑا اسلامی جمہوریہ کی حکومت کو صنعتی بورژوازی، تجارتی بورژوازی اور معاشرے کے روایتی طبقات کے اتحاد کا نتیجہ سمجھتا تھا اور اس کا خیال تھا کہ ۱۳۵۷ کا انقلاب مکمل نہیں ہوا ۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق، نئی سیاسی ساخت کی جگہ مزدوروں اور کسانوں کی کونسلوں پر مبنی حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

قومی بحرانوں میں کردار

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق، خصوصاً اقلیتی دھڑے نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ابتدائی برسوں میں پیدا ہونے والے بعض قومی اور علاقائی بحرانوں کے دوران کردستان، گنبدِ کاووس، بلوچستان اور خوزستان کے علاقوں میں حکومت مخالف گروہوں کی سیاسی اور بعض مواقع پر تنظیمی حمایت کی۔

تنظیم کے رہنما قومی گروہوں کے مطالبات کو نئی سیاسی ساخت کے خلاف جدوجہد کا ایک حصہ سمجھتے تھے اور ان علاقوں میں بائیں بازو کی قوتوں کی سرگرمیوں کو وسعت دینے پر زور دیتے تھے۔ اس پالیسی کو اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی جانب سے ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں تنظیم کی سرگرمیاں محدود ہوگئیں۔

جمہوری اسلامی کے ریفرنڈم کے بارے میں مؤقف

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق نے فروردین ۱۳۵۸ شمسی میں سیاسی نظام کے تعین کے لیے منعقد ہونے والے ریفرنڈم کی مخالفت کی۔ تنظیم کے رہنماؤں کا موقف تھا کہ عوام کے سامنے مزید متنوع اختیارات پیش کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے "جمہوریۂ عوامی و جمہوری" کے قیام کی تجویز پیش کی۔

آخرکار، تنظیم نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا اور اس کے نتائج کو معاشرے میں موجود تمام سیاسی رجحانات کا حقیقی عکاس قرار نہیں دیا۔

آئین کے بارے میں مؤقف

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق نے جمہوری اسلامی ایران کے آئین کے ابتدائی مسودے پر تنقید کی۔ تنظیم کا خیال تھا کہ آئین کے مسودے میں سرمایہ داری اور سامراج کے خلاف جدوجہد جیسے تصورات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی اور یہ اقتصادی و سماجی نقطۂ نظر سے مارکسی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تنظیم کے رہنماؤں نے حکومت کے لیے تجویز کردہ ڈھانچے کو بھی اپنے مطلوبہ نمونے، یعنی مزدوروں اور عوامی شوراوں پر مبنی نظام سے مختلف قرار دیا۔

مجلسِ خبرگانِ قانونِ اساسی کے انتخابات کے بارے میں مؤقف

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق نے مجلسِ خبرگانِ قانونِ اساسی کے انتخابات کو غیر مسابقتی* قرار دیا۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ انتخابی حالات اس انداز سے مرتب کیے گئے ہیں کہ بائیں بازو اور دیگر مخالف گروہوں کے امیدواروں کو مؤثر طور پر حصہ لینے کا مناسب موقع حاصل نہیں۔

تنظیم نے اپنے حامیوں کی انتخابی و تبلیغی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں اور انتخابات کے دوران ہونے والی کارروائیوں پر بھی تنقید کی اور انتخابی نتائج کو آزاد سیاسی مقابلے کا حقیقی عکاس قرار نہیں دیا۔

تنظیم کا انجام

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ابتدائی برسوں میں سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی میں اضافے کے ساتھ تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق کی سرگرمیوں کو وسیع پابندیوں اور محدودیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اقلیتی دھڑا، جو انقلابی جدوجہد اور بعض مواقع پر مسلح طریقۂ کار پر بدستور زور دیتا تھا، ۱۳۶۰ شمسی میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران ملک کے اندر اپنے تنظیمی ڈھانچے کا بڑا حصہ کھو بیٹھا۔ اس کے بہت سے ارکان اور کارکن گرفتار یا ہلاک ہوئے، جبکہ بعض کو ایران سے باہر منتقل ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

اکثریتی دھڑے نے اگرچہ مسلح جدوجہد کی حکمتِ عملی ترک کرکے سیاسی سرگرمیوں پر زور دیا تھا، تاہم اسے بھی بعد کے برسوں میں اسی نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے رہنماؤں اور ارکان کا ایک قابلِ ذکر حصہ اپنی سرگرمیاں ملک سے باہر منتقل کرنے پر مجبور ہوا۔

بعد کی دہائیوں میں تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق کے بعض حصوں، خصوصاً اکثریتی دھڑے نے اپنے سیاسی مؤقف پر نظرِ ثانی کی۔ انہوں نے مسلح جدوجہد کی حکمتِ عملی سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے سیاسی و شہری سرگرمیوں اور پُرامن اصلاحات پر زیادہ زور دینا شروع کیا۔

اسی طرح سوویت یونین کے انہدام اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں نے اس تنظیم سے وابستہ بعض عناصر کے نظریاتی اور سیاسی مبانی پر نظرِ ثانی کے عمل کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ان میں سے بعض نے سوشل ڈیموکریٹ رجحانات اختیار کیے۔

تنظیمِ چریک‌های فدائیِ خلق، ایران میں ۱۳۴۰ اور ۱۳۵۰ کی شمسی دہائیوں کی اہم ترین مارکسی بائیں بازو کی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تنظیم نے مسلح جدوجہد کی حکمتِ عملی اختیار کرکے حکومتِ پہلوی کے مخالف طلبہ اور روشن فکر طبقے کے ایک حصے میں گوریلا جدوجہد کے نظریات اور ادبیات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔

واقعۂ سیاهکل اور اس کی دیگر مسلح کارروائیاں اگرچہ فوجی اعتبار سے محدود کامیابی حاصل کرسکیں، لیکن ایران میں بنیاد پرست بائیں بازو کی تحریکوں کی تشکیل اور ارتقا پر ان کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔

اسلامی انقلاب کے بعد جمہوری اسلامی کے ساتھ طرزِ تعامل کے بارے میں اختلافات تنظیم کے انشعاب اور اس کے تنظیمی اتحاد میں کمزوری کا سبب بنے۔ بعد کے برسوں میں ملک کے اندر سرگرمیوں پر پابندیوں اور تنظیم کے ایک اہم حصے کے ارکان کی بیرونِ ملک ہجرت نے اس سیاسی تحریک کی نوعیت اور اس کی سیاسی حکمتِ عملیوں میں بتدریج تبدیلی پیدا کردی[1]۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. عملکرد سازمان چریک های فدائی خلق، علی محمد زندی-شائع شدہ از: 3 خرداد 1400ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 24 اگست 2026ء