"اجمل خان لاہوری" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «'''اجمل خان لاہوری'''،خطیب اسلام حضرت مولانا قاری اجمل خان لاہوری رحمہ اللّٰہ علیہ (1930 – 21 مئی 2002) ایک پاکستانی اسلامی اسکالر اور سیاست دان تھے۔ وہ جمعیت علماء اسلام کے سرپرست اور جامعہ رحمانیہ قلعہ گوجر سنگھ(قلعہ شاہ فیصل)کے بانی و مد...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 12: | سطر 12: | ||
تب سے لے کر اب تک ہر دور میں بہت سے عظیم مبلغین کو اس لقب سے یاد کیا جاتا رہا ہے، جب کہ گذشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان میں اس لقب سے سب سے مشہور مولانا محمد اجمل خان تھے۔ | تب سے لے کر اب تک ہر دور میں بہت سے عظیم مبلغین کو اس لقب سے یاد کیا جاتا رہا ہے، جب کہ گذشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان میں اس لقب سے سب سے مشہور مولانا محمد اجمل خان تھے۔ | ||
== وفات == | == وفات == | ||
8ربیع الاول 1423مطابق21مئی 2002ء بروز منگل جمعیت علماء اسلام کے سرپرست جامعہ رحمانیہ گجر سنگھ کے بانی و مدیر نادر خطیب قائد جمعیت حضرت مولانامفتی محمود کے دست راست خافظ الحدیث حضرت مولنا عبداللہ درخواستی کے سیاسی جانشین حضرت امام الاولیا مولانا احمد علی لاہوری کے رفیق فکرونظر ،ممبر و محراب کی زینت،قاریٔ القرآن حضرت مولانا قاری اجمل خان راہی عالم آخرت ہوئے ۔ | |||
لاہور میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کی میت آبائی گائوں کالنجر لائی گئی ۔ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن نے ہزاروں علماء کی موجودگی میں اپنے سرپرست اعلی کی نماز جنازہ ادا کی اور وہیں کالنجر ضلع ہری پورمیں آسودہ خاک ہوئے <ref>[https://juipak.org.pk/%D8%AE%D8%B7%DB%8C%D8%A8-%D9%90%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D8%B6%D8%B1-%D8%AA-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%A7%D8%AC%D9%85%D9%84-%D8%AE%D8%A7%D9%86-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1/ خطیب ِاسلام حضر ت مولانا اجمل خان لاہوری رحمۃ اللہ]-شائع شدہ از: 21 مئی 2002ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اگست 2026ء</ref>۔ | |||
نسخہ بمطابق 14:33، 20 اگست 2026ء
اجمل خان لاہوری،خطیب اسلام حضرت مولانا قاری اجمل خان لاہوری رحمہ اللّٰہ علیہ (1930 – 21 مئی 2002) ایک پاکستانی اسلامی اسکالر اور سیاست دان تھے۔ وہ جمعیت علماء اسلام کے سرپرست اور جامعہ رحمانیہ قلعہ گوجر سنگھ(قلعہ شاہ فیصل)کے بانی و مدیر تھے۔ان کا شمار اپنے دور کے بڑے خطیبوں میں ہوتا تھا اس وجہ سے انھیں خطیب اسلام لقب ملا۔
سوانح عمری
مولانا اجمل خان نے 1930 میں صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور کے مضافاتی گاؤں کالنجرکے ایک علمی خاندان میں آنکھ کھولی. ابتدا سے دورہ حدیث تک کی تعلیم مشہور دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ میں حاصل کی. جامعہ رحمانیہ کے بانی و مدیر مولانا خلیل الرحمن کی تعلیم و تربیت نے آپ کی شخصیت سازی میں خصوصی کردار ادا کیا چنانچہ درس نظامی سے فراغت کے بعد اپنے ساتھ ہی ادارے میں بحیثیت مدرس نامزد کیا۔
وہ شروع ہی سے جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ تھے اور مفتی محمود کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔ مولانا محمد اجمل ساری زندگی جمعیت علمائے اسلام میں رہے اور مختلف عہدوں پر فائز رہے اور وفات کے وقت جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سرپرست اعلیٰ اور بزرگ رہنما تھے۔
خطیب اسلام کا لقب
قاری اجمل خان نے مولانا احمد علی لاہوری کے دور میں ان کی بھرپور شفقت اور راہنمائی میں لاہور سے خطابت کا آغاز کیا. اپنے منفرد انداز ٬ اسلوب اور خطابت کی بنیاد پرآپ کا شمار اپنے وقت کے بڑے خطیبوں میں کیا جانے لگااورجلد ہی دنیا آپ کو خطیب اسلام کے نام سے جاننے لگی اور انھیں ان کے مشہور زمانہ لقب خطیب اسلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
"خطیبِ اسلام" کا لقب سب سے پہلے حضرت ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے لیے استعمال ہوا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے کے طور پر مختلف مجالس میں شریک ہوتے تھے۔ آپ کو خطیب الانصار اور خطیب رسول کریم کے القابات سے بھی یاد کیا جاتا تھا اور سب سے پہلے آپ کو خطیب الاسلام کا خطاب ملا۔
تب سے لے کر اب تک ہر دور میں بہت سے عظیم مبلغین کو اس لقب سے یاد کیا جاتا رہا ہے، جب کہ گذشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان میں اس لقب سے سب سے مشہور مولانا محمد اجمل خان تھے۔
وفات
8ربیع الاول 1423مطابق21مئی 2002ء بروز منگل جمعیت علماء اسلام کے سرپرست جامعہ رحمانیہ گجر سنگھ کے بانی و مدیر نادر خطیب قائد جمعیت حضرت مولانامفتی محمود کے دست راست خافظ الحدیث حضرت مولنا عبداللہ درخواستی کے سیاسی جانشین حضرت امام الاولیا مولانا احمد علی لاہوری کے رفیق فکرونظر ،ممبر و محراب کی زینت،قاریٔ القرآن حضرت مولانا قاری اجمل خان راہی عالم آخرت ہوئے ۔
لاہور میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کی میت آبائی گائوں کالنجر لائی گئی ۔ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن نے ہزاروں علماء کی موجودگی میں اپنے سرپرست اعلی کی نماز جنازہ ادا کی اور وہیں کالنجر ضلع ہری پورمیں آسودہ خاک ہوئے [1]۔
- ↑ خطیب ِاسلام حضر ت مولانا اجمل خان لاہوری رحمۃ اللہ-شائع شدہ از: 21 مئی 2002ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 20 اگست 2026ء