مندرجات کا رخ کریں

"امین عباد بن عباس طالقانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
{{جعبہ معلومات شخصیت
{{Infobox person
| عنوان = امین عباد بن عباس طالقانی
| title = امین عباد بن عباس طالقانی
| تصویر = عالمان شیعه.jpg
| image = عالمان شیعه.jpg
| نام = ابوالقاسم اسماعیل بن عبّاد
| name = ابوالقاسم اسماعیل بن عبّاد
| نام‌های دیگر = {{فهرست جعبه افقی |صاحب بن عباد  |شیخ امین عباد بن عباس طالقانی }}
| other names = صاحب بن عباد، شیخ امین عباد بن عباس طالقانی
| سال تولد = 326 ق
| brith year = 326 ء
| تاریخ تولد =  
| brith date =
| محل تولد = [[اصفہان]]
| birth place = [[اصفہان]]
| سال درگذشت = 385 ق
| death year = 2019 ء 
| تاریخ درگذشت =
| death dat 
| محل درگذشت = [[رے]]
| death place =  
| استادان = {{فهرست جعبه عمودی |احمد بن فارس رازی لغوی |ابوالفضل عباس بن محمد |نحوی ابوالفضل بن عمی |ابوسعید سیرافی |قاضی ابی بکر بن کامل |عبدالله بن جعفر بن فارس |احمد بن کامل بن شجره}}
| teachers = احمد بن فارس رازی لغوی، ابوالفضل عباس بن محمد، نحوی ابوالفضل بن عمی ، ابوسعید سیرافی، قاضی ابی بکر بن کامل، عبدالله بن جعفر بن فارس، احمد بن کامل بن شجره
| شاگردان = {{فهرست جعبه عمودی |شیخ عبدالقاهر جرجانی |حسن بن قاسم بغدادی معروف به رازی نحوی |ابوبکر بن مقرئ |قاضی ابوطیب طبری |ابوبکر بن علی ذکوانی }}
| students = شیخ عبدالقاهر جرجانی، حسن بن قاسم بغدادی معروف به رازی نحوی، ابوبکر بن مقرئ، قاضی ابوطیب طبری، ابوبکر بن علی ذکوانی.
| دین = [[اسلام]]
| religion = [[اسلام]]  
| مذهب = [[مذهب شیعہ|شیعہ]]
| faith = [[مذهب شیعہ|شیعہ]]
| آثار = {{فهرست جعبه افقی |المحیط فی اللغه  |الصاحبی فی فقه اللغه }}
| works =  
| فعالیت‌ها = {{فهرست جعبه افقی |[[محدّث|محدث]] |متکلم|وزیر|نویسنده |شاعر |ادیب }}
| known for =  
| وبگاه =  
}}
}}
'''ابوالقاسم اسماعیل بن عَبّاد''' (326 - 385ق)، ملقب به صاحب و مشهور به صاحب بن عَبّاد، ادیب، نویسنده، شاعر اور [[مذهب شیعہ|شیعہ مذہب]] وزیر دربار [[آل بویہ|آل بویہ]] (مؤیدالدولہ و فخرالدولہ) تھے۔ ان کی سب سے مشہور ادبی کتاب «المحیط فی اللغة» ہے۔




'''ابوالقاسم اسماعیل بن عَبّاد''' (326 - 385ق)، ملقب به صاحب و مشهور به صاحب بن عَبّاد، ادیب، نویسنده، شاعر اور شیعہ مذہب وزیر دربار آل بویہ (مؤیدالدولہ و فخرالدولہ) تھے۔ ان کی سب سے مشہور ادبی کتاب «المحیط فی اللغة» ہے۔


== پیدائش ==
== پیدائش ==
وہ عباس کے بیٹے تھے جو صاحب کے لقب سے مشہور تھے اور صاحب بن عبّاد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی پیدائش 16 [[ذی القعدہ|ذیقعدہ]] سن 326 ہجری میں [[اصفہان]] میں ہوئی۔ جیسا کہ صاحب بن عباد نے اپنی بعض اشعار میں اشارہ کیا ہے، اگرچہ بعض دلائل ان کے طالقانی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس قول کے ثبوت کے لیے ثعالبی کی ایک روایت کا حوالہ دیا جاتا ہے جو عباد بن علی کی بیٹی کے حوالے سے صاحب کے بارے میں لائی گئی ہے، لیکن ان دونوں ظاہراً متضاد اقوال میں تطبیق یہ معلوم ہوتی ہے کہ اصفہان میں بھی طالقان نامی ایک مقام موجود تھا، اور یہ مقام ظاہراً ایک ایسا گاؤں ہے جو اب بھی موجود ہے اور طاخونچہ کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم دفاتر میں طاقانچہ کو چھوٹا طالقان لکھا جاتا تھا۔ طالقانچہ اب بلوک لنجان اور سمیرم کے درمیان واقع ہے<ref>بہمنیار، احمد، صاحب بن عباد شرح احوال و آثار، ص35-36</ref>۔
وہ عباس کے بیٹے تھے جو صاحب کے لقب سے مشہور تھے اور صاحب بن عبّاد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی پیدائش 16 ذی القعدہ سن 326 ہجری میں اصفہان میں ہوئی۔ جیسا کہ صاحب بن عباد نے اپنی بعض اشعار میں اشارہ کیا ہے، اگرچہ بعض دلائل ان کے طالقانی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس قول کے ثبوت کے لیے ثعالبی کی ایک روایت کا حوالہ دیا جاتا ہے جو عباد بن علی کی بیٹی کے حوالے سے صاحب کے بارے میں لائی گئی ہے، لیکن ان دونوں ظاہراً متضاد اقوال میں تطبیق یہ معلوم ہوتی ہے کہ اصفہان میں بھی طالقان نامی ایک مقام موجود تھا، اور یہ مقام ظاہراً ایک ایسا گاؤں ہے جو اب بھی موجود ہے اور طاخونچہ کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم دفاتر میں طاقانچہ کو چھوٹا طالقان لکھا جاتا تھا۔ طالقانچہ اب بلوک لنجان اور سمیرم کے درمیان واقع ہے<ref>بہمنیار، احمد، صاحب بن عباد شرح احوال و آثار، ص35-36</ref>۔
 
 


== خاندان ==
== خاندان ==
صاحب کے والد اور اجداد اصفہان کے بزرگان اور مشہور شخصیات تھے اور وزارت کے مرتبے پر فائز تھے۔ عباس، صاحب کے والد، بزرگی اور احترام کی اس حد تک پہنچے تھے کہ لوگ انہیں «شیخ امین» کہتے تھے۔
صاحب کے والد اور اجداد اصفہان کے بزرگان اور مشہور شخصیات تھے اور وزارت کے مرتبے پر فائز تھے۔ عباس، صاحب کے والد، بزرگی اور احترام کی اس حد تک پہنچے تھے کہ لوگ انہیں «شیخ امین» کہتے تھے۔


== تعلیم ==
== تعلیم ==
انہوں نے مقدماتی علوم حاصل کرنے کے بعد [[فقہ]]، [[حدیث]]، تفسیر، کلام اور دیگر رائج علوم کی تحصیل کی۔ کچھ عرصے بعد جب وہ اصفہان کے اساتذہ اور بزرگان سے بے نیاز ہو گئے تو وہ «[[رے|رے]]» کی طرف ہجرت کر گئے جو اس وقت علم و ادب کا مرکز تھا، اور وہاں وہ «ابن عمید» کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے جو [[آل بویہ|آل بویہ]] کے دانشمند اور مشہور وزیر تھے۔ ابن عمید نے «صاحب» کی ادبی متون کی تحریر میں صلاحیت کو دیکھا اور انہیں وزارت کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا۔ صاحب کی ان امور میں مہارت اور صلاحیت نے ترقی کا راستہ ان کے لیے ہموار کر دیا یہاں تک کہ جب رکن الدولہ نے اپنے بیٹے مؤیدالدولہ کو اصفہان کا گورنر مقرر کیا تو صاحب بھی ان کے منشی اور مصنف کے طور پر اپنے آبائی شہر اصفہان واپس آ گئے۔
انہوں نے مقدماتی علوم حاصل کرنے کے بعد فقہ، حدیث، تفسیر، کلام اور دیگر رائج علوم کی تحصیل کی۔ کچھ عرصے بعد جب وہ اصفہان کے اساتذہ اور بزرگان سے بے نیاز ہو گئے تو وہ «رے» کی طرف ہجرت کر گئے جو اس وقت علم و ادب کا مرکز تھا، اور وہاں وہ «ابن عمید» کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے جو آل بویہ کے دانشمند اور مشہور وزیر تھے۔ ابن عمید نے «صاحب» کی ادبی متون کی تحریر میں صلاحیت کو دیکھا اور انہیں وزارت کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا۔ صاحب کی ان امور میں مہارت اور صلاحیت نے ترقی کا راستہ ان کے لیے ہموار کر دیا یہاں تک کہ جب رکن الدولہ نے اپنے بیٹے مؤیدالدولہ کو اصفہان کا گورنر مقرر کیا تو صاحب بھی ان کے منشی اور مصنف کے طور پر اپنے آبائی شہر اصفہان واپس آ گئے۔
 
 


== اساتذہ ==
== اساتذہ ==
سطر 41: سطر 34:
* عبّاد (ان کے والد)، ابن عمید،  
* عبّاد (ان کے والد)، ابن عمید،  
* ابن فارس،  
* ابن فارس،  
* [[ابوسعید حسن بن عبدالله سیرافی|ابوسعید حسن بن عبدالله سیرافی]]،
* [[ابوسعید حسن بن عبدالله سیرافی،
* ابوبکر محمد بن یعقوب،  
* ابوبکر محمد بن یعقوب،  
* قاضی ابوبکر احمد بن کامل،  
* قاضی ابوبکر احمد بن کامل،  
* ابوزکریّا یحیى بن عدّى،  
* ابوزکریّا یحیى بن عدّى،  
* ابوعمر صباغ۔
* ابوعمر صباغ۔


== شاگرد ==
== شاگرد ==
ان کے بعض شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:  
ان کے بعض شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:  
* شیخ [[عبدالقاهر جرجانی]]،
* شیخ عبد القاهر جرجانی،
* ابوبکر بن مقری،  
* ابوبکر بن مقری،  
* قاضی ابوطیب طبری،  
* قاضی ابوطیب طبری،  
* ابوالفضل محمد بن ابراهیم نسوی شافعی،  
* ابوالفضل محمد بن ابراهیم نسوی شافعی،  
* ابوبکر علی ذکوانی۔
* ابوبکر علی ذکوانی۔


== مذہب ==
== مذہب ==
بہت سے بزرگان نے [[مذهب شیعہ|تشیع]] اور بعض نے ان کے بارہ امامی ہونے کی تصریح کی ہے۔ [[سید بن طاووس|سید بن طاووس]]، [[شیخ صدوق|شیخ صدوق]]، [[محمد باقر مجلسی|علامہ مجلسی]]، [[شیخ حر عاملی|شیخ حر عاملی]]، [[شیخ بہائی|شیخ بہائی]]، اور بہت سے دیگر اسی زمرے میں آتے ہیں۔ بزرگان کی تصریحات کے علاوہ، صاحب سے باقی بچنے والی اشعار پر غور اور ان کا [[ائمہ]] معصومین (علیہم السلام) کی ولایت اور دوستی کے لیے جوش و جذبہ اس عظیم شخصیت کے شیعہ ہونے کی بہترین دلیل ہے۔
بہت سے بزرگان نے تشیع اور بعض نے ان کے بارہ امامی ہونے کی تصریح کی ہے۔ سید بن طاووس، شیخ صدوق، علامہ مجلسی، شیخ حر عاملی، شیخ بہائی، اور بہت سے دیگر اسی زمرے میں آتے ہیں۔ بزرگان کی تصریحات کے علاوہ، صاحب سے باقی بچنے والی اشعار پر غور اور ان کا ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی ولایت اور دوستی کے لیے جوش و جذبہ اس عظیم شخصیت کے شیعہ ہونے کی بہترین دلیل ہے۔
 
 


== عہدے ==
== عہدے ==
جب صاحب وزارت کے عہدے پر پہنچے تو انہوں نے امور کی اصلاح کا ارادہ کیا اور پہلے قدم کے طور پر ناپسندیدہ بدعتوں اور ظالمانہ رسومات کو ختم کر دیا۔ وہ [[عدل|عدالت]] کے نفاذ اور لوگوں پر سے ظلم کے خاتمے میں بہت کوشاں تھے۔ وزارت کے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی انہوں نے علم و معرفت کے حصول کو فراموش نہیں کیا۔ وہ چاہے [[اصفہان]]، [[بغداد]] اور [[رے|رے]] کے شہروں میں قیام کے دوران ہوں یا سفر میں، ہمیشہ بعض علماء اور بزرگانِ علم کے ہمراہ رہتے تھے اور یہاں تک کہ فوجی مہمات کے دوران بھی بحث و گفتگو کے مجالس قائم کرتے تھے۔
جب صاحب وزارت کے عہدے پر پہنچے تو انہوں نے امور کی اصلاح کا ارادہ کیا اور پہلے قدم کے طور پر ناپسندیدہ بدعتوں اور ظالمانہ رسومات کو ختم کر دیا۔ وہ [[عدل|عدالت]] کے نفاذ اور لوگوں پر سے ظلم کے خاتمے میں بہت کوشاں تھے۔ وزارت کے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی انہوں نے علم و معرفت کے حصول کو فراموش نہیں کیا۔ وہ چاہے اصفہان، [[بغداد]] اور رے کے شہروں میں قیام کے دوران ہوں یا سفر میں، ہمیشہ بعض علماء اور بزرگانِ علم کے ہمراہ رہتے تھے اور یہاں تک کہ فوجی مہمات کے دوران بھی بحث و گفتگو کے مجالس قائم کرتے تھے۔
 
 


== توجہات ==
== توجہات ==
سطر 73: سطر 58:


صاحب بن عبّاد اور ان کے ہم عصر بزرگان کے درمیان اچھے تعلقات کے بارے میں بہت سی حکایات اور واقعات دستاویزات اور مصادر میں نقل کیے گئے ہیں جو صاحب بن عباد کے لیے ان کے ہم عصرین کی تعظیم و تکریم اور ستائش کی عکاسی کرتی ہیں۔
صاحب بن عبّاد اور ان کے ہم عصر بزرگان کے درمیان اچھے تعلقات کے بارے میں بہت سی حکایات اور واقعات دستاویزات اور مصادر میں نقل کیے گئے ہیں جو صاحب بن عباد کے لیے ان کے ہم عصرین کی تعظیم و تکریم اور ستائش کی عکاسی کرتی ہیں۔
صاحب نے شعر کے تمام ابواب اور فنون جیسے مدح، وصف، رثاء، ہجو، ہزل، مواعظ وغیرہ میں اشعار کہے ہیں اور ہر فن میں نئے معانی اور تازہ و دقیق مضامین لا کر اپنی طبع کی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ائمہ اور [[علی بن ابی طالب|امام علی]] کی توصیف اور ان کے بلند مقام کے بیان میں متعدد اشعار کہے ہیں۔
صاحب نے شعر کے تمام ابواب اور فنون جیسے مدح، وصف، رثاء، ہجو، ہزل، مواعظ وغیرہ میں اشعار کہے ہیں اور ہر فن میں نئے معانی اور تازہ و دقیق مضامین لا کر اپنی طبع کی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ائمہ اور [[علی بن ابی طالب|امام علی]] کی توصیف اور ان کے بلند مقام کے بیان میں متعدد اشعار کہے ہیں۔


صاحب بن عبّاد کی شخصیت کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ [[عبدالحسین امینی|علامہ امینی]] ان کے بارے میں فرماتے ہیں: «وہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ سیرت نگار جتنا بھی ادیب اور سخن دان ہو، ان کی فضیلتوں اور مکارم کے بیان سے قاصر رہتا ہے، اس کی زبان حلق میں خشک ہو جاتی ہے۔»
صاحب بن عبّاد کی شخصیت کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ علامہ امینی ان کے بارے میں فرماتے ہیں: «وہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ سیرت نگار جتنا بھی ادیب اور سخن دان ہو، ان کی فضیلتوں اور مکارم کے بیان سے قاصر رہتا ہے، اس کی زبان حلق میں خشک ہو جاتی ہے۔»


== آثار ==
== آثار ==
سطر 87: سطر 71:
# دیوان اشعار؛
# دیوان اشعار؛
# رسائل صاحب (اخلاقی، اعتقادی اور سماجی مباحث پر مشتمل)؛
# رسائل صاحب (اخلاقی، اعتقادی اور سماجی مباحث پر مشتمل)؛
# حضرت [[عبدالعظیم حسنی|عبدالعظیم حسنی(علیہ السلام)]] کے فضائل پر ایک رسالہ؛
# حضرت عبدالعظیم حسنی(علیہ السلام) کے فضائل پر ایک رسالہ؛
# علم طب پر ایک رسالہ؛
# علم طب پر ایک رسالہ؛
# عنوان المعارف؛
# عنوان المعارف؛
سطر 93: سطر 77:
# المحیط (علم لغت پر)؛
# المحیط (علم لغت پر)؛
# الروزنامچہ (وہ دفتر جس میں صاحب اپنے تمام سرکاری روزمرہ کے کاموں کو درج کیا کرتے تھے)<ref>ملایری، تاریخ و فرهنگ ایران در دوران انتقال از عصر ساسانی به عصر اسلامی، ۱۳۷۹ش، ج۶، ص۲۵۶</ref>.
# الروزنامچہ (وہ دفتر جس میں صاحب اپنے تمام سرکاری روزمرہ کے کاموں کو درج کیا کرتے تھے)<ref>ملایری، تاریخ و فرهنگ ایران در دوران انتقال از عصر ساسانی به عصر اسلامی، ۱۳۷۹ش، ج۶، ص۲۵۶</ref>.


== وفات ==
== وفات ==
زندگی کے آخری ایام میں وہ بیمار اور ناتواں ہو گئے اور بستر علالت پر گر پڑے۔ بستر بیماری پر بھی وہ مملکت کے امور سے غافل نہ رہے اور ملک کی صورت حال سے باخبر رہتے تھے۔ بالآخر جمعرات کی رات 24 [[صفر المظفر|صفر]] سن 385 ہجری کو انہوں نے اپنے پروردگار کو لبیک کہا۔
زندگی کے آخری ایام میں وہ بیمار اور ناتواں ہو گئے اور بستر علالت پر گر پڑے۔ بستر بیماری پر بھی وہ مملکت کے امور سے غافل نہ رہے اور ملک کی صورت حال سے باخبر رہتے تھے۔ بالآخر جمعرات کی رات 24 صفر المظفر سن 385 ہجری کو انہوں نے اپنے پروردگار کو لبیک کہا۔
 
 


== مزید دیکھیے ==
== مزید دیکھیے ==
* [[آل بویہ]]
* [[آل بویہ]]
* [[ذی القعده|ذیقعدہ]]
* [[شیخ بہایی|شیخ بہائی]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{پانویس}}
{{علمای اسلام}}
{{علمای اسلام}}



نسخہ بمطابق 18:51، 6 جون 2026ء

امین عباد بن عباس طالقانی
پورا نامابوالقاسم اسماعیل بن عبّاد
دوسرے نامصاحب بن عباد، شیخ امین عباد بن عباس طالقانی
ذاتی معلومات
پیدائش326 ء
پیدائش کی جگہاصفہان
وفات2019 ء
اساتذہاحمد بن فارس رازی لغوی، ابوالفضل عباس بن محمد، نحوی ابوالفضل بن عمی ، ابوسعید سیرافی، قاضی ابی بکر بن کامل، عبدالله بن جعفر بن فارس، احمد بن کامل بن شجره
شاگردشیخ عبدالقاهر جرجانی، حسن بن قاسم بغدادی معروف به رازی نحوی، ابوبکر بن مقرئ، قاضی ابوطیب طبری، ابوبکر بن علی ذکوانی.
مذہباسلام، شیعہ


ابوالقاسم اسماعیل بن عَبّاد (326 - 385ق)، ملقب به صاحب و مشهور به صاحب بن عَبّاد، ادیب، نویسنده، شاعر اور شیعہ مذہب وزیر دربار آل بویہ (مؤیدالدولہ و فخرالدولہ) تھے۔ ان کی سب سے مشہور ادبی کتاب «المحیط فی اللغة» ہے۔

پیدائش

وہ عباس کے بیٹے تھے جو صاحب کے لقب سے مشہور تھے اور صاحب بن عبّاد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی پیدائش 16 ذی القعدہ سن 326 ہجری میں اصفہان میں ہوئی۔ جیسا کہ صاحب بن عباد نے اپنی بعض اشعار میں اشارہ کیا ہے، اگرچہ بعض دلائل ان کے طالقانی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس قول کے ثبوت کے لیے ثعالبی کی ایک روایت کا حوالہ دیا جاتا ہے جو عباد بن علی کی بیٹی کے حوالے سے صاحب کے بارے میں لائی گئی ہے، لیکن ان دونوں ظاہراً متضاد اقوال میں تطبیق یہ معلوم ہوتی ہے کہ اصفہان میں بھی طالقان نامی ایک مقام موجود تھا، اور یہ مقام ظاہراً ایک ایسا گاؤں ہے جو اب بھی موجود ہے اور طاخونچہ کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم دفاتر میں طاقانچہ کو چھوٹا طالقان لکھا جاتا تھا۔ طالقانچہ اب بلوک لنجان اور سمیرم کے درمیان واقع ہے[1]۔

خاندان

صاحب کے والد اور اجداد اصفہان کے بزرگان اور مشہور شخصیات تھے اور وزارت کے مرتبے پر فائز تھے۔ عباس، صاحب کے والد، بزرگی اور احترام کی اس حد تک پہنچے تھے کہ لوگ انہیں «شیخ امین» کہتے تھے۔

تعلیم

انہوں نے مقدماتی علوم حاصل کرنے کے بعد فقہ، حدیث، تفسیر، کلام اور دیگر رائج علوم کی تحصیل کی۔ کچھ عرصے بعد جب وہ اصفہان کے اساتذہ اور بزرگان سے بے نیاز ہو گئے تو وہ «رے» کی طرف ہجرت کر گئے جو اس وقت علم و ادب کا مرکز تھا، اور وہاں وہ «ابن عمید» کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے جو آل بویہ کے دانشمند اور مشہور وزیر تھے۔ ابن عمید نے «صاحب» کی ادبی متون کی تحریر میں صلاحیت کو دیکھا اور انہیں وزارت کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا۔ صاحب کی ان امور میں مہارت اور صلاحیت نے ترقی کا راستہ ان کے لیے ہموار کر دیا یہاں تک کہ جب رکن الدولہ نے اپنے بیٹے مؤیدالدولہ کو اصفہان کا گورنر مقرر کیا تو صاحب بھی ان کے منشی اور مصنف کے طور پر اپنے آبائی شہر اصفہان واپس آ گئے۔

اساتذہ

صاحب کے تمام اساتذہ کی تفصیلات مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے بعض اہم اساتذہ یہ ہیں:

  • عبّاد (ان کے والد)، ابن عمید،
  • ابن فارس،
  • [[ابوسعید حسن بن عبدالله سیرافی،
  • ابوبکر محمد بن یعقوب،
  • قاضی ابوبکر احمد بن کامل،
  • ابوزکریّا یحیى بن عدّى،
  • ابوعمر صباغ۔

شاگرد

ان کے بعض شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:

  • شیخ عبد القاهر جرجانی،
  • ابوبکر بن مقری،
  • قاضی ابوطیب طبری،
  • ابوالفضل محمد بن ابراهیم نسوی شافعی،
  • ابوبکر علی ذکوانی۔

مذہب

بہت سے بزرگان نے تشیع اور بعض نے ان کے بارہ امامی ہونے کی تصریح کی ہے۔ سید بن طاووس، شیخ صدوق، علامہ مجلسی، شیخ حر عاملی، شیخ بہائی، اور بہت سے دیگر اسی زمرے میں آتے ہیں۔ بزرگان کی تصریحات کے علاوہ، صاحب سے باقی بچنے والی اشعار پر غور اور ان کا ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی ولایت اور دوستی کے لیے جوش و جذبہ اس عظیم شخصیت کے شیعہ ہونے کی بہترین دلیل ہے۔

عہدے

جب صاحب وزارت کے عہدے پر پہنچے تو انہوں نے امور کی اصلاح کا ارادہ کیا اور پہلے قدم کے طور پر ناپسندیدہ بدعتوں اور ظالمانہ رسومات کو ختم کر دیا۔ وہ عدالت کے نفاذ اور لوگوں پر سے ظلم کے خاتمے میں بہت کوشاں تھے۔ وزارت کے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی انہوں نے علم و معرفت کے حصول کو فراموش نہیں کیا۔ وہ چاہے اصفہان، بغداد اور رے کے شہروں میں قیام کے دوران ہوں یا سفر میں، ہمیشہ بعض علماء اور بزرگانِ علم کے ہمراہ رہتے تھے اور یہاں تک کہ فوجی مہمات کے دوران بھی بحث و گفتگو کے مجالس قائم کرتے تھے۔

توجہات

ان کی اہل قلم کی تالیفات پر خاص عنایت اور توجہ تھی اور جب بھی انہیں کسی نئی کتاب کی تالیف کا علم ہوتا تو وہ بڑی کوشش اور محنت سے اس کی ایک نسخہ حاصل کرتے اور اپنی ذاتی لائبریری میں مطالعے کے لیے رکھ لیتے۔ ان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں وہ ایک عظیم اور بے مثال لائبریری قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ صاحب کی لائبریری میں اس دور کی زیادہ تر علمی آثار اور تالیفات شامل تھیں اور بہت سے دانشوروں اور مصنفین نے اس قیمتی خزانے سے استفادہ کیا۔ چوتھی صدی ہجری کے مشہور جغرافیہ دان «مقدسی» نے خود تصریح کی ہے کہ انہوں نے صاحب کی بڑی لائبریری سے بہت زیادہ استفادہ اور فائدہ اٹھایا ہے۔

صاحب بن عبّاد اور ان کے ہم عصر بزرگان کے درمیان اچھے تعلقات کے بارے میں بہت سی حکایات اور واقعات دستاویزات اور مصادر میں نقل کیے گئے ہیں جو صاحب بن عباد کے لیے ان کے ہم عصرین کی تعظیم و تکریم اور ستائش کی عکاسی کرتی ہیں۔ صاحب نے شعر کے تمام ابواب اور فنون جیسے مدح، وصف، رثاء، ہجو، ہزل، مواعظ وغیرہ میں اشعار کہے ہیں اور ہر فن میں نئے معانی اور تازہ و دقیق مضامین لا کر اپنی طبع کی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ائمہ اور امام علی کی توصیف اور ان کے بلند مقام کے بیان میں متعدد اشعار کہے ہیں۔

صاحب بن عبّاد کی شخصیت کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ علامہ امینی ان کے بارے میں فرماتے ہیں: «وہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ سیرت نگار جتنا بھی ادیب اور سخن دان ہو، ان کی فضیلتوں اور مکارم کے بیان سے قاصر رہتا ہے، اس کی زبان حلق میں خشک ہو جاتی ہے۔»

آثار

صاحب کے قلم سے مذکورہ علوم کے حوالے سے متعدد آثار باقی بچے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے[2]:

  1. کتاب الابانہ (علم کلام پر)؛
  2. الاقناع (علم عروض پر)؛
  3. الامثال السائرہ (ادبی علوم پر)؛
  4. التذکرہ (کلام اور اصول دین پر)؛
  5. دیوان اشعار؛
  6. رسائل صاحب (اخلاقی، اعتقادی اور سماجی مباحث پر مشتمل)؛
  7. حضرت عبدالعظیم حسنی(علیہ السلام) کے فضائل پر ایک رسالہ؛
  8. علم طب پر ایک رسالہ؛
  9. عنوان المعارف؛
  10. الفرق بین الضاد والظاء؛
  11. المحیط (علم لغت پر)؛
  12. الروزنامچہ (وہ دفتر جس میں صاحب اپنے تمام سرکاری روزمرہ کے کاموں کو درج کیا کرتے تھے)[3].

وفات

زندگی کے آخری ایام میں وہ بیمار اور ناتواں ہو گئے اور بستر علالت پر گر پڑے۔ بستر بیماری پر بھی وہ مملکت کے امور سے غافل نہ رہے اور ملک کی صورت حال سے باخبر رہتے تھے۔ بالآخر جمعرات کی رات 24 صفر المظفر سن 385 ہجری کو انہوں نے اپنے پروردگار کو لبیک کہا۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

سانچہ:علمای اسلام

  1. بہمنیار، احمد، صاحب بن عباد شرح احوال و آثار، ص35-36
  2. صاحب، المحیط فی اللغة، ۱۴۱۴ق، ج۱، مقدمه، ص۱۲۱۶
  3. ملایری، تاریخ و فرهنگ ایران در دوران انتقال از عصر ساسانی به عصر اسلامی، ۱۳۷۹ش، ج۶، ص۲۵۶