"قطر" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 163: | سطر 163: | ||
وہ Qatar Investment Authority کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی ہیں اور Al-Duhail SC کے مالک ہیں۔ | وہ Qatar Investment Authority کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی ہیں اور Al-Duhail SC کے مالک ہیں۔ | ||
شیخ تمیم نے 1997ء میں انگلینڈ کے Sherborne School سے اپنی ثانوی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے Royal Military Academy Sandhurst سے فوجی تعلیم حاصل کی۔ وہ عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھتے | شیخ تمیم نے 1997ء میں انگلینڈ کے Sherborne School سے اپنی ثانوی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے Royal Military Academy Sandhurst سے فوجی تعلیم حاصل کی۔ وہ عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں<ref>[https://www.tabnak.ir/ برگرفته شده از مقاله امیر قطر | ||
</ref>۔ | |||
== متعلقہ متعلقہ == | == متعلقہ متعلقہ == | ||
نسخہ بمطابق 02:50، 30 مئی 2026ء
| قطر | |
|---|---|
| سرکاری نام | دولہ قطر |
| دارالحکومت | دوحہ |
| آبادی | تقریبا 3 ملین |
| مذہب | اسلام |
| سرکاری زبان | عربی |
قطر ، جس کا سرکاری نام ریاستِ قطر ہے، ایشیا کے جنوب مغربی حصے میں مشرقِ وسطیٰ کے علاقے میں واقع ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ نما عرب کے مشرق میں اور خلیج فارس کے جنوبی حصے میں واقع ہے۔ اس کا دارالحکومت دوحہ ہے۔ قطر کی زمینی سرحد صرف سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے، اور یہی اس کا خشکی کے راستے دیگر علاقائی ممالک سے واحد رابطہ ہے۔ سمندری حدود کے ذریعے قطر کی سرحدیں ایران، کویت، عراق، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں۔
قطر
قطر پر انیسویں صدی کے وسط سے آل ثانی خاندان کی موروثی مطلق العنان امارت کے طور پر حکومت چلی آ رہی ہے۔ خام تیل کی دریافت سے قبل قطر بنیادی طور پر موتیوں کے شکار اور سمندری تجارت کے لیے مشہور تھا۔
یہ ملک 1971 تک برطانیہ کے زیرِ سرپرستی رہا۔ 1971 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد تیل اور قدرتی گیس سے حاصل ہونے والی بے پناہ آمدنی کی بدولت قطر خطے کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے لگا۔
جغرافیہ
خلیج فارس کے قلب میں واقع ہونے، اہم علاقائی ممالک کے ہمسایہ ہونے اور تیل و گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت نے قطر کو سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے ایک منفرد اسٹریٹجک حیثیت عطا کی ہے۔
اگرچہ اس کا رقبہ اور آبادی نسبتاً کم ہے، جس سے اس کی تزویراتی گہرائی محدود ہوتی ہے، لیکن قدرتی وسائل خصوصاً قدرتی گیس کے وسیع ذخائر اس کمی کو کافی حد تک پورا کرتے ہیں۔ قطر، روس اور ایران کے بعد دنیا کے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
تقریباً 30 لاکھ آبادی اور 11,347 مربع کلومیٹر رقبے کے ساتھ قطر خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع ایک اہم ملک ہے، جو اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے خصوصی جیوپولیٹیکل اہمیت رکھتا ہے۔
اس کے مغربی ساحل اور جنوبی سرحد سعودی عرب اور بحرین کے قریب واقع ہیں، جبکہ مشرقی جانب متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحلی علاقوں کے ساتھ اس کی سمندری حدود ملتی ہیں۔
معیشت
قطر قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کا حامل ہے۔ فوربز میگزین نے قطر کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار کیا ہے۔ قطر عرب دنیا میں انسانی ترقی کے اشاریے (HDI) میں سب سے بلند مقام رکھتا ہے اور دنیا میں فی کس آمدنی کے لحاظ سے بھی نمایاں ممالک میں شامل ہے۔
قطر کی معیشت بڑی حد تک قدرتی گیس پر منحصر ہے۔ یہ دنیا میں مائع قدرتی گیس (LNG) کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ 2014 میں تیل اور گیس کی برآمدات سے قطر کی خالص آمدنی تقریباً 38 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔
اس کی یومیہ تیل پیداوار تقریباً پانچ لاکھ بیرل ہے۔ قطر کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کے بڑے خریدار ایشیائی ممالک، خصوصاً جاپان، ہیں۔
دیگر خلیجی ممالک کی طرح قطر کی معیشت بھی تیل پر انحصار کرتی ہے۔ تقریباً 15 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر کے ساتھ یہ ملک کئی دہائیوں تک اپنی اقتصادی ترقی کے لیے اس توانائی کے ذریعے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
تیل قطر کی برآمدی آمدنی کا تقریباً 85 فیصد اور اس کے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتا ہے۔ تیل کے علاوہ قطر دنیا کے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔
اس کے پاس تقریباً 7000 مکعب کلومیٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے مجموعی گیس ذخائر کا تقریباً 5 فیصد بنتے ہیں۔ قطر آج اپنی تیل کی دولت سے زیادہ قدرتی گیس اور LNG کی پیداوار و برآمدات کی وجہ سے عالمی سرمایہ کاروں، خصوصاً امریکہ، کی توجہ کا مرکز ہے۔
گیس سے حاصل ہونے والی بلند آمدنی اور کم آبادی نے قطری شہریوں کے لیے ایک مضبوط فلاحی نظام قائم کیا ہے۔ قطر کی فی کس سالانہ آمدنی تقریباً 130 ہزار امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، جو دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔
بعض اعداد و شمار کے مطابق اس کی مجموعی قومی پیداوار 179 ارب ڈالر جبکہ بعض دیگر کے مطابق 353 ارب ڈالر ہے۔
قطر Organization of the Petroleum Exporting Countries (اوپیک) کا رکن ہے اور روس اور ایران کے بعد قدرتی گیس کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے گیس ذخائر آئندہ تقریباً 200 سال تک کافی رہیں گے۔
اگرچہ قطر کی معیشت کا انحصار توانائی کے شعبے پر ہے، تاہم سیاحت بھی اس کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ساحل دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، جبکہ غوطہ خوری (Diving) یہاں کی مقبول سرگرمیوں میں شامل ہے۔
اس کے باوجود قطر خوراک سمیت کئی بنیادی اشیاء کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ تقریباً نصف غذائی مصنوعات سعودی عرب کے ساتھ زمینی سرحد کے ذریعے ملک میں داخل ہوتی ہیں۔
ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق 2022 FIFA World Cup کی میزبانی قطر کی معیشت، خصوصاً سیاحت کے شعبے، کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہوئی۔
معیشت
قطر قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کا حامل ہے۔ فوربز میگزین نے قطر کو دنیا کا امیر ترین ملک قرار دیا ہے۔ قطر عرب ممالک میں انسانی ترقی کے اشاریے (HDI) کے لحاظ سے سب سے بلند مقام رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ دنیا میں فی کس آمدنی کے اعتبار سے بھی نمایاں ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
قطر کی معیشت بنیادی طور پر گیس پر منحصر ہے۔ یہ ملک دنیا میں مائع قدرتی گیس (LNG) کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ 2014ء میں تیل اور گیس کی برآمدات سے قطر کی خالص آمدنی تقریباً 38 ارب امریکی ڈالر تھی۔ قطر کی یومیہ تیل پیداوار تقریباً پانچ لاکھ بیرل ہے۔ اس کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کے اہم خریدار ایشیائی ممالک، خصوصاً جاپان، ہیں۔
دیگر خلیجی ممالک کی طرح قطر کی معیشت بھی تیل پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے پاس تقریباً 15 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن سے یہ تقریباً 23 سال تک اپنی اقتصادی ترقی کے لیے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ آج تیل قطر کی برآمدی آمدنی کا 85 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 60 فیصد فراہم کرتا ہے۔
تیل کے علاوہ قطر دنیا میں قدرتی گیس کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے پاس تقریباً 7000 مکعب کلومیٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے کل گیس ذخائر کا تقریباً 5 فیصد بنتے ہیں۔ آج قطر اپنی تیل کی دولت سے زیادہ قدرتی گیس اور LNG کی پیداوار و برآمدات کی وجہ سے عالمی سرمایہ کاروں، خصوصاً امریکہ، کی توجہ کا مرکز ہے۔
گیس سے حاصل ہونے والی بھاری آمدنی اور کم آبادی نے قطری شہریوں کے لیے ایک مضبوط فلاحی نظام قائم کیا ہے۔ قطر کی فی کس سالانہ آمدنی تقریباً 130 ہزار امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، جو دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق اس کی مجموعی قومی پیداوار 179 ارب ڈالر جبکہ دیگر کے مطابق 353 ارب ڈالر ہے۔
قطر اوپیک (OPEC) کا رکن ہے اور روس اور ایران کے بعد قدرتی گیس کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کے گیس ذخائر آئندہ 200 سال تک کافی رہیں گے۔ اگرچہ سیاحت بھی قطر کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ساحل دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور غوطہ خوری یہاں کی مقبول سرگرمیوں میں شامل ہے۔
اس کے باوجود قطر خوراک سمیت کئی بنیادی اشیاء کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ تقریباً نصف غذائی اشیاء سعودی عرب کے ساتھ زمینی سرحد کے ذریعے ملک میں داخل ہوتی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق 2022ء فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کی معیشت، خصوصاً سیاحت کے شعبے، کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہوئی۔
سیاست
خلیج فارس کی دیگر شیخ ریاستوں کی طرح قطر بھی آزادی سے قبل برطانیہ کے زیر اثر تھا اور آزادی کے بعد بھی اس نے برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے۔ قطر کے دنیا کی بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ عراق کے کویت پر حملے کے بعد قطر امریکہ کے مزید قریب آ گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کو قطر کے فوجی اڈوں تک رسائی حاصل ہوئی۔ اس معاہدے میں امریکی افواج کی تعیناتی اور مشترکہ فوجی مشقوں کا بھی ذکر تھا۔
بعد ازاں، عراق پر امریکی حملے اور سعودی عرب کی جانب سے امریکی افواج کو اپنے ملک سے نکالنے کے مطالبے کے بعد قطر خطے میں امریکی افواج کے مرکزی کمانڈ اور تعیناتی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔
قطر اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی تنازعات بھی موجود رہے ہیں، اور قطر اکثر اپنی علاقائی سالمیت کے حوالے سے سعودی عرب کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ بعض بیانات کے مطابق سعودی عرب نے قطر کے جنوب مشرقی علاقے کے ایک حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس کے نتیجے میں قطر کا متحدہ عرب امارات سے زمینی رابطہ متاثر ہوا۔
تاریخی پس منظر
قطر مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے علاقے میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ہے۔ مختلف مقامات سے دریافت ہونے والے کتبوں اور خوبصورت مٹی کے برتنوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سرزمین پر تقریباً 4000 قبل مسیح سے انسانی آبادیاں موجود تھیں۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس نے "کنعانیوں" (Cananites) کی سرزمین کو قطر قرار دیا تھا۔
جغرافیہ دان بطلیموس نے اپنی عرب دنیا کے نقشے میں قطر کو خلیج فارس کی اہم تجارتی بندرگاہوں میں شمار کیا۔ اسلامی تہذیب میں بھی قطر نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
آٹھویں صدی میں قطر کی معیشت ترقی کرنے لگی۔ 1916ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران ایک معاہدے کے تحت قطر برطانیہ کے زیرِ تحفظ آ گیا، جبکہ 1943ء میں ایک اور معاہدے کے ذریعے برطانوی حمایت میں اضافہ ہوا۔
اٹھارویں صدی کے آغاز میں آل ثانی خاندان کی حکمرانی شروع ہوئی۔ یہ خاندان اسی صدی کے اوائل میں قطر آیا اور جزیرہ نما قطر کے شمالی حصے میں آباد ہوا، جبکہ انیسویں صدی کے وسط میں موجودہ دوحہ کے علاقے میں منتقل ہو گیا۔ 1827ء سے قطر بھی دیگر عرب علاقوں کی طرح سلطنتِ عثمانیہ کے زیر اثر رہا۔
1878ء میں شیخ جاسم بن محمد اپنے والد شیخ محمد بن ثانی کے جانشین بنے۔ 1913ء میں شیخ عبداللہ بن جاسم اقتدار میں آئے اور انہی کے دورِ حکومت میں پہلی مرتبہ قطر میں تیل دریافت ہوا۔
1940ء میں شیخ حمد بن عبداللہ نے اقتدار سنبھالا اور 1948ء تک حکمران رہے۔ 1949ء میں شیخ علی بن عبداللہ حکمران بنے اور 1972ء تک حکومت کرتے رہے۔ 1971ء میں قطر کے متحدہ عرب امارات میں شامل ہونے کی تجویز زیر غور تھی، لیکن دونوں ممالک نے اپنی الگ آزادی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
1972ء میں شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی نے ایک پُرامن بغاوت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا۔ 3 ستمبر 1971ء کو قطر نے باضابطہ آزادی حاصل کی۔ 1991ء میں خلیج فارس کی جنگ کے دوران قطر بین الاقوامی افواج کے ایک اہم اڈے کے طور پر استعمال ہوا۔
1995ء میں شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی حکمران بنے۔ 1996ء کے آخر میں جاسم بن حمد آل ثانی کو ولی عہد مقرر کیا گیا۔ 1999ء میں پہلی مرتبہ خواتین نے بلدیاتی کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا، جو قطر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔
اسلام پسندی
اسلام قطر کا سرکاری مذہب ہے اور ملک کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے۔ مسیحی اقلیت تقریباً 10 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔
قطر کی مقامی سنی آبادی کا رجحان وہابیت کی طرف ہے، اور حکمران خاندان آل ثانی بھی اسی مکتبِ فکر سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے قطر کی سیاسی اور ثقافتی زندگی میں وہابی فکر کا نمایاں اثر پایا جاتا ہے۔
خلیج فارس کے خطے میں اسلام پسندی ایک معروف رجحان ہے، کیونکہ اسلام کا ظہور جزیرہ نمائے عرب ہی میں ہوا تھا اور اس کے تاریخی و سماجی اثرات آج بھی اس خطے میں نمایاں ہیں۔
1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں خلیجی شیخ ریاستوں کی برطانیہ سے آزادی کے بعد سنی اور شیعہ اسلام پسند تحریکیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئیں۔
تاہم ایران اور سعودی عرب میں پائے جانے والے انقلابی اسلام پسندی کے برعکس، خلیجی ممالک میں نسبتاً غیر تصادمی اور غیر عسکری نوعیت کی مذہبی بنیاد پرستی سامنے آئی، جس کی ایک بڑی وجہ ان ممالک، خصوصاً قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود معاشی خوشحالی ہے۔
خلیجی عرب ممالک میں اسلامی بنیاد پرستی ایک منفرد سماجی و سیاسی ماحول میں پروان چڑھی، جس کی چند نمایاں خصوصیات یہ ہیں:
- سنی حکمران خاندانوں کی موروثی حکومت (عمان کو چھوڑ کر) ایسے معاشروں پر قائم ہے جن میں شیعہ آبادی کے اہم حصے بھی موجود ہیں۔
- مقامی عرب آبادی کا غیر مقامی باشندوں پر سیاسی اور معاشی غلبہ۔
- تیز رفتار جدیدیت کے نتیجے میں مغربی معاشی اور ثقافتی اثرات کا پھیلاؤ۔
- عمومی خوشحالی کے باوجود طبقاتی تفاوت کا موجود ہونا۔
- بڑی طاقتوں کی رقابت اور ایران، عراق، سعودی عرب، پاکستان، شام، اسرائیل اور اردن جیسے طاقتور ہمسایہ ممالک کا دباؤ۔
یہ عوامل مل کر خلیج فارس میں نسبتاً غیر عسکری بنیاد پرستی کے فروغ کا سبب بنے ہیں۔ خلیجی ممالک کے اسلامی رجحانات میں کئی مشترک پہلو پائے جاتے ہیں۔ تمام حکمران خاندان اپنی حکومت کو اسلامی جواز اور قبائلی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر قائم رکھتے ہیں۔
اس کے باوجود وہ اپنے نسبتاً کھلے اور کثیرالثقافتی معاشروں پر سخت مذہبی پابندیاں نافذ کرنے کے خواہش مند نہیں ہوتے۔ تاہم دولت کی فراوانی اور نمایاں شاہانہ طرزِ زندگی نے سنی اور شیعہ دونوں قسم کی مذہبی بنیاد پرستی کے ابھرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
سنی بنیاد پرستی عموماً متوسط اور بالائی متوسط طبقے کے عربوں اور بعض قبائلی گروہوں میں دیکھی جا سکتی ہے جو حکمران خاندان کی دولت اور اقتدار سے مطمئن نہیں ہوتے۔
اسلامی احیاء کی زیادہ نمایاں صورت غیر مقامی سنی مسلمانوں، خواہ عرب ہوں یا غیر عرب، خصوصاً فلسطینی، مصری، پاکستانی، یمنی، شامی اور عراقی باشندوں میں دیکھی جاتی ہے، جو عموماً متوسط اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسی طرح شیعہ بنیاد پرستی بھی زیادہ تر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کا رجحان ہے، جو بعض عرب اور ایرانی نژاد افراد میں، جو خلیجی ممالک میں مقیم یا ملازمت کرتے ہیں، دیکھنے میں آتا ہے۔
خلیج فارس میں معاشی خوشحالی کے باوجود اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باعث نمایاں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ دولت کی غیر مساوی تقسیم، آبادی کا عدم توازن اور تیز رفتار جدیدیت بعض اوقات عدم استحکام کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں عوامی مذہبی رجحانات بعض اوقات سرکاری مذہبی اداروں کے ساتھ اختلاف کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
خلیج فارس کا عوامی اسلام بھی دیگر عرب معاشروں کی طرح مختلف مذہبی رجحانات پر مشتمل ہے، جن میں تصوف، تشیع، اصلاح پسند تحریکیں اور سخت مذہبی تقویٰ شامل ہیں[1]۔
اسلامی فنون کا عجائب گھر
دوحہ میں واقع اسلامی فنون کا عجائب گھر قطر کا ایک اہم ثقافتی مرکز ہے اور دنیا کے نمایاں اسلامی عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے۔
اس میں اسلامی مخطوطات، نفیس کپڑے، قیمتی پتھر اور سونے، چاندی اور کانسی کے قدیم سکے محفوظ ہیں۔ بعض نوادرات اسلام سے قبل اور ساسانی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس عجائب گھر کے فرانسیسی معمار نے تجویز دی تھی کہ اسے ایک الگ جزیرے پر تعمیر کیا جائے تاکہ اردگرد کی عمارتیں اس کے حسن کو متاثر نہ کریں۔ عجائب گھر کی بالائی منزل پر واقع بیرونی چھت سے دوحہ کا خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے اور وہاں ایک ریستوران بھی موجود ہے۔
عجائب گھر کی منفرد اور دلکش طرزِ تعمیر دوحہ کی جدید فلک بوس عمارتوں کے سامنے نمایاں نظر آتی ہے۔ اس کے اطراف تقریباً 50 ہزار مربع میٹر رقبہ سیاحتی اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
یہ عجائب گھر تین منزلوں پر مشتمل ہے اور اس میں قدیم کتابیں، سرامک کے برتن، نفیس قالین اور مجسمے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ تیسری منزل پر ایرانی نوادرات محفوظ ہیں، جن میں نایاب قرآنِ مجید، ایرانی ٹائلیں، مٹی کے برتن اور ایرانی قالین شامل ہیں۔
امیرِ قطر
امیرِ قطر ملک کا حکمران، سربراہِ مملکت، مسلح افواج کا سپریم کمانڈر اور آئین کا محافظ ہوتا ہے۔ قطر کے سیاسی نظام میں امیر سب سے بااختیار شخصیت شمار ہوتا ہے۔ قطر کے تمام امرا آل ثانی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی نسبت جزیرہ نمائے عرب کے مشہور قبیلے بنو تمیم سے ملائی جاتی ہے۔
جانشینی کا نظام
جانشینی کا تعین آل ثانی خاندان کے اندر کیا جاتا ہے۔ سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے ابتدا میں اپنی دوسری اہلیہ کے بڑے بیٹے شیخ جاسم کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔
تاہم جب شیخ جاسم نے تخت کے حق سے دستبرداری اختیار کی تو 8 اگست 2003ء کو شیخ حمد نے اپنی دوسری اہلیہ کے دوسرے بیٹے، شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی، کو اپنا جانشین نامزد کر دیا۔
موجودہ امیر کا تعارف
Tamim bin Hamad Al Thani (پیدائش: 3 جون 1980، دوحہ) قطر کے موجودہ امیر ہیں۔ وہ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے حکمرانوں میں نسبتاً کم عمر حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
وہ Qatar Investment Authority کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی ہیں اور Al-Duhail SC کے مالک ہیں۔
شیخ تمیم نے 1997ء میں انگلینڈ کے Sherborne School سے اپنی ثانوی تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے Royal Military Academy Sandhurst سے فوجی تعلیم حاصل کی۔ وہ عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں[2]۔
متعلقہ متعلقہ
حوالہ جات
- ↑ برگرفته شده از مقاله تحلیل جنبش اسلامگرایی-اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 مئی 2026ء
- ↑ [https://www.tabnak.ir/ برگرفته شده از مقاله امیر قطر