"اباضیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 18: | سطر 18: | ||
اگرچہ بعض مصادر میں آیا ہے کہ جابر اس نسبت کو رد کرتے تھے اور حتی ان سے برأت کا اظہار کرتے تھے<ref>ابن سعد بغدادی، ''الطبقات الکبری''، ج ۷، ص ۱۸۱۔</ref>۔ جابر کی پیدائش ۲۰ ہجری قمری میں حرقہ از توابع [[عمان]] میں ہوئی<ref>خیر الدین بن محمود زرکلی، ''الأعلام''، ج ۲، ص ۱۰۴۔</ref> اور ۹۳ ہجری قمری میں [[بصرہ]] میں انتقال ہوا۔ | اگرچہ بعض مصادر میں آیا ہے کہ جابر اس نسبت کو رد کرتے تھے اور حتی ان سے برأت کا اظہار کرتے تھے<ref>ابن سعد بغدادی، ''الطبقات الکبری''، ج ۷، ص ۱۸۱۔</ref>۔ جابر کی پیدائش ۲۰ ہجری قمری میں حرقہ از توابع [[عمان]] میں ہوئی<ref>خیر الدین بن محمود زرکلی، ''الأعلام''، ج ۲، ص ۱۰۴۔</ref> اور ۹۳ ہجری قمری میں [[بصرہ]] میں انتقال ہوا۔ | ||
کچھ دیگر محققین معتقد ہیں کہ اباضی مذہب کے اصل میں دو بانی تھے، عبدالله اباض اس مذہب کے سیاسی رہنما اور جابر بن زید اس مکتب کے علمی اور فقہی رہنما | کچھ دیگر محققین معتقد ہیں کہ اباضی مذہب کے اصل میں دو بانی تھے، عبدالله اباض اس مذہب کے سیاسی رہنما اور جابر بن زید اس مکتب کے علمی اور فقہی رہنما تھے۔ | ||
== اباضیہ مذہب کے بانی == | == اباضیہ مذہب کے بانی == | ||
| سطر 46: | سطر 46: | ||
# اموی دور کے آخر میں، اباضیان غیر سرکاری طور پر اور پوشیدگی کے مرحلے میں عمان کے پہاڑوں اور پہاڑی علاقوں میں رہتے تھے اور وہ عمر بن عبدالعزیز کو امیر المومنین کہتے تھے۔ | # اموی دور کے آخر میں، اباضیان غیر سرکاری طور پر اور پوشیدگی کے مرحلے میں عمان کے پہاڑوں اور پہاڑی علاقوں میں رہتے تھے اور وہ عمر بن عبدالعزیز کو امیر المومنین کہتے تھے۔ | ||
# عباسی دور میں بھی جب جناح بن عبادہ اور محمد بن جناح عباسی حاکم تھے، انہوں نے اباضیہ کے اقتدار حاصل کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ بہرحال، سالوں تک اس فرقے کے داعیوں اور رہنماؤں کی طرف سے اباضیہ کی خفیہ اور پوشیدہ دعوت کے بعد، بالآخر عمان میں امامت اور اباضیہ کی حکومت کے قیام کے لیے گذشتہ کی تمام کوششیں ثمر آور ہوئیں۔ | # عباسی دور میں بھی جب جناح بن عبادہ اور محمد بن جناح عباسی حاکم تھے، انہوں نے اباضیہ کے اقتدار حاصل کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ بہرحال، سالوں تک اس فرقے کے داعیوں اور رہنماؤں کی طرف سے اباضیہ کی خفیہ اور پوشیدہ دعوت کے بعد، بالآخر عمان میں امامت اور اباضیہ کی حکومت کے قیام کے لیے گذشتہ کی تمام کوششیں ثمر آور ہوئیں۔ | ||
== اباضیہ کے امام == | == اباضیہ کے امام == | ||
| سطر 124: | سطر 122: | ||
* [[گناہان کبیرہ]] | * [[گناہان کبیرہ]] | ||
== | == حوالہ جات == | ||
* ابن سعد بغدادی، ''الطبقات الکبری'' ، تاریخ درج مواد: بدون تاریخ، تاریخ اخذ مواد:13 دی ماہ 1404 ہجری شمسی۔ | * ابن سعد بغدادی، ''الطبقات الکبری'' ، تاریخ درج مواد: بدون تاریخ، تاریخ اخذ مواد:13 دی ماہ 1404 ہجری شمسی۔ | ||
* خیرالدین بن محمود زرکلی، ''الأعلام''، تاریخ درج مواد: بدون تاریخ، تاریخ اخذ مواد: 13 دی ماہ 1404 ہجری شمسی۔ | * خیرالدین بن محمود زرکلی، ''الأعلام''، تاریخ درج مواد: بدون تاریخ، تاریخ اخذ مواد: 13 دی ماہ 1404 ہجری شمسی۔ | ||
* اباضیہ، ویب سائٹ رحماء۔ | * اباضیہ، ویب سائٹ رحماء۔ | ||
نسخہ بمطابق 13:35، 5 مئی 2026ء
| اباضیہ | |
|---|---|
| نام | ابراہیمیہ |
| تشکیل کی تاریخ | ق ۱ |
| بانی | جابر بن زید (ابو شعثاء) یا عبدالله اباض |
| نظریہ | اس فرقے کے عقائد کو دو گروہوں فقہی عقائد اور کلامی عقائد میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فقہی عقائد سے متعلق موارد یہ ہیں: ۱. اہل کتاب کا کھانا حرام نہیں ہے اور اگر وہ ذمہ میں ہوں تو ان کا کھانا حلال ہے۔ ۲. مفسدہ کو دفع کرنا اس کے جلب کرنے پر مقدم ہے۔ ۳. مسافر کو اپنی نماز قصر (شکستہ) پڑھنی چاہیے۔ ۴. باب اجتهاد کھلا ہے۔ ۵. نماز جمعہ واجب ہے。کلامی عقائد سے متعلق موارد یہ ہیں: ۱. گناہان کبیرہ کے مرتکبین کو شفاعت حاصل ہو سکتی ہے۔ ۲. گناہ کبیرہ کے مرتکبین لازماً جہنم دوزخ میں نہیں جاتے۔ ۳. خدا کی صفات اس کی ذات سے زائد ہیں۔ ۵. بغیر تاویل کے صفات خبریہ کا اثبات۔ ۶. قیامت میں مومنین کے لیے خداوند کو آنکھ ظاہری سے دیکھنا ممکن ہے۔ ۷. خدا کی صفات، رؤیت، تنزیہ، تاویل اور قرآن کے حادث ہونے کے موضوعات میں معتزلہ اور شیعہ کے ہمراہ ہیں۔ ۸. شفاعت کے بارے میں ان کی رائے معتزلہ کے قریب ہے |
اباضیہ، خوارج کے فرقے کی ایک شاخ ہے جو علاقے عمان میں جابر بن زید (ابو شعثاء) یا عبدالله اباض تمیمی کے ذریعے قائم کی گئی ہے۔
اباضیہ کی تاسیس
مذہب اباضیہ عبدالله اباض تمیمی کی طرف منسوب ہے۔ اباضیہ کے کچھ محققین اپنے مذہب کی نسبت عبدالله اباضی سے انکار نہیں کرتے، لیکن اس کی نسبت جابر بن زید (ابو شعثاء) کی طرف ترجیح دیتے ہیں اور معتقد ہیں کہ عبدالله اپنے آراء اور اعمال میں جابر کے فتاوی کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔
اگرچہ بعض مصادر میں آیا ہے کہ جابر اس نسبت کو رد کرتے تھے اور حتی ان سے برأت کا اظہار کرتے تھے[1]۔ جابر کی پیدائش ۲۰ ہجری قمری میں حرقہ از توابع عمان میں ہوئی[2] اور ۹۳ ہجری قمری میں بصرہ میں انتقال ہوا۔
کچھ دیگر محققین معتقد ہیں کہ اباضی مذہب کے اصل میں دو بانی تھے، عبدالله اباض اس مذہب کے سیاسی رہنما اور جابر بن زید اس مکتب کے علمی اور فقہی رہنما تھے۔
اباضیہ مذہب کے بانی
ملل و نحل کے ماہرین کے درمیان مشہور قول یہ ہے کہ عبدالله بن اباض تمیمی اس مذہب کے بانی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان کا دور پایا ہے۔ البتہ کچھ دوسرے لوگ اس فرقے کے بانی جابر بن زید کو جانتے ہیں۔
انہوں نے بہت سے صحابہ سے علم حاصل کیا اور علی بن ابی طالب، ابن عباس اور عائشہ سے حدیث نقل کی اور فقہ و حدیث میں ماہر تھے۔ جابر عمان کے رہنے والے تھے اور اسی لیے عمان کی تاریخی تحولات کا جائزہ ہمیں جابر اور ان کے مذہب کی شناخت میں مدد کر سکتا ہے۔
تاہم، پہلے بیان کیا گیا کہ جابر نے خود کو ان سے نہ جانا اور حتی برأت کا اظہار کیا تھا۔
عمان کی جغرافیہ
عمان ایک سلطنت والا ملک ہے اور جزیرہ العرب (عرب کا جزیرہ نما) کے جنوب مشرق میں واقع ہے، اس کا دارالحکومت مسقط شہر ہے اور اصطخری کی روایت کے مطابق، اس کی آب و ہوا گرم استوائی ہے۔
صحار، صور، قلهات اور دبا شہر عمان کے اہم ترین شہر تھے، لیکن آج کل مسقط عمان کی اہم بندرگاہ ہے، اس ملک کے لوگ زیادہ تر اباضی مذہب کے پیروکار ہیں۔ پہلے اباضی فرقے کی امامت کا مرکز نزوی شہر تھا۔
عمان والوں میں سے پہلا شخص جو مسلمان ہوا، مازن بن غضوبہ تھا۔ مازن کے اسلام لانے کے ایک سال بعد، عمان والوں کا ایک اور گروہ پیغمبر کے پاس گیا اور اسلام لایا۔
اس وقت، ایران کا بادشاہ شیرویہ نامی شخص تھا اور عمان کا ایرانی مرزبان باذان نام تھا اور شیرویہ نے مرزبان سے کہا کہ نئے ظاہر ہونے والے پیغمبر کے بارے میں تحقیق کرے۔ مرزبان اس ملاقات کے نتیجے میں مسلمان ہو گیا اور عمان کے بیشتر لوگوں کو بھی اسلام لے آیا۔
خوارج جو حضرت علی (علیہ السلام) کی خلافت کے وقت سے وجود میں آنا شروع ہوئے، بعد میں مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے جن میں سے صفریہ، نجدات، اباضیہ، عجارده وغیرہ تھے، لیکن اب اباضیہ خوارج کی شدت پسند اور تکفیری فکر کے پیروکار نہیں ہیں، اگرچہ، انہیں بھی بنیادی سابقے کی وجہ سے خوارج میں شمار کیا جاتا ہے۔
اباضیہ کی تاریخی تحولات
اباضیہ کا فکر ۱۳۲ ہجری قمری سے عمان کا سرکاری مذہب بن گیا۔ البتہ عمان میں اباضیہ کے داخلے کی پہلی سرکاری تاریخ، ۷۵ سے ۹۵ ہجری قمری کے درمیان ہے، جب جابر بن زید کو حجاج بن یوسف ثقفی نے بصرہ سے عمان جلاوطن کیا۔
عمان والوں کی اباضیہ کی دعوت پر لبیک کی چند وجوہات یہ ہیں:
- جابر خود ازدی ہیں اور عمان میں غالب قبیلہ بھی یہی قبیلہ تھا۔
- اس کے علاوہ، اعتدال پسند خیالات اور اباضی رہنما یعنی جابر بن زید کی رائے کا بھی اس مسئلے میں اہم کردار تھا۔
- اموی دور کے آخر میں، اباضیان غیر سرکاری طور پر اور پوشیدگی کے مرحلے میں عمان کے پہاڑوں اور پہاڑی علاقوں میں رہتے تھے اور وہ عمر بن عبدالعزیز کو امیر المومنین کہتے تھے۔
- عباسی دور میں بھی جب جناح بن عبادہ اور محمد بن جناح عباسی حاکم تھے، انہوں نے اباضیہ کے اقتدار حاصل کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ بہرحال، سالوں تک اس فرقے کے داعیوں اور رہنماؤں کی طرف سے اباضیہ کی خفیہ اور پوشیدہ دعوت کے بعد، بالآخر عمان میں امامت اور اباضیہ کی حکومت کے قیام کے لیے گذشتہ کی تمام کوششیں ثمر آور ہوئیں۔
اباضیہ کے امام
اباضیہ کے امام ترتیب وار یہ ہیں: جلندی بن مسعود، محمد بن عبدالله بن ابی عفان، وارث بن کعب خروصی، غسان بن عبدالله یحمدی، عبدالملک بن حمید، مہنا بن جیفر، راشد بن نظر۔ علاقے میں اور خاص طور پر عمان میں استعمار پسندوں کی موجودگی اور نویں اور دسویں ہجری قمری صدی میں مذہبی اور سیاسی معاشرے میں امامت کے ادارے کا عدم اقتدار، اس ملک میں مغربی ریاستوں کے قیام کا باعث بنا۔
عمانی اباضی شخصیات
- امام جابر بن زید، فرقہ اباضیہ کے مذہبی قواعد و اصولوں کی بنیاد انہوں نے رکھی۔
- ابوعبیدہ مسلم بن ابی کریمہ تمیمی، فکری و عقیدتی لحاظ سے مذہب اباضیہ کی حتمی شکل کی تکمیل اور اس کے آراء و اقوال کی تدوین ان کے دور میں ہوئی۔
- ربیع بن حبیب فراهیدی؛ وہ محدث اور فقیہ تھے۔
اباضیہ کے فقہی خصائص
اباضیہ کے مصادر تشریع قرآن، سنت، اجماع، قیاس اور استدلال ہیں۔
وہ قرآن کو عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات کے دائرے میں دین کا بنیادی مصدر مانتے ہیں۔
دوسرا مصدر: سنت ہے جو حد تواتر تک پہنچی ہو۔
تیسرا مصدر: اجماع ہے، البتہ وہ اجماع قولی کو حجت قطعی اور اجماع سکوتی کو حجت ظنی مانتے ہیں۔
چوتھا مصدر: قیاس ہے جسے اصول کی کتابوں میں اپنے خاص قواعد و ضوابط کے تحت بیان کیا جاتا ہے۔
پانچواں مصدر: استدلال ہے جس میں استصحاب، استحسان اور مصالح مرسلہ شامل ہیں۔
اباضیہ کے کلامی و فقہی امتیازات
- خدا کی وحدانیت، نبوت، قرآن کی حقانیت، اور نماز و روزہ جیسی عبادات کو ایمان کا جزو مانتے ہیں۔
- اباضیہ کے فقہی امتیازات میں افراط و تفریط کے درمیان ان کا اعتدال ہے۔ یہ اعتدال چند پہلوؤں سے دیکھا جاتا ہے:
حدیث اور رائے کے مسئلے میں اعتدال؛
سیاسی منش اور مذہبی طریقہ کار میں اعتدال۔
اباضیہ کے فقہی مسائل
- اہل کتاب کا کھانا حرام مانتے ہیں، لیکن اگر وہ ذمہ میں آ جائیں تو ان کا کھانا حلال ہے۔
- مفسدہ کو دفع کرنا اسے جلب کرنے پر مقدم ہے۔
- مسافر کو اپنی نماز قصر پڑھنی چاہیے۔
- باب اجتہاد کو کھلا مانتے ہیں اور اجتہاد کے لیے زبانوں کا علم، اصول دین اور فقہ کی آگاہی اور مصادر ادلہ کو ضروری شرائط سمجھتے ہیں۔
- نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، توبہ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، جہاد، اور علم و ایمان واجبات میں سے ہیں۔
- نماز جمعہ کے وجوب کے قائل ہیں۔
- نماز بغیر قنوت کے پڑھتے ہیں۔
اباضیہ کے کلامی عقائد
کچھ لوگ معتقد ہیں کہ اباضیہ کا صرف مسئلہ حکمیت کی تخطیہ اور امام کے قرشی ہونے کو شرط نہ ماننے میں دیگر فرقوں سے اختلاف ہے، باقی مسائل میں بالآخر ان میں سے کسی ایک فرقے سے اتفاق رکھتے ہیں۔ مثلاً خدا کی صفات، رؤیت، تنزیہ، تاویل اور قرآن کے حدوث کے مسئلے میں معتزلہ اور شیعہ کے ساتھ ہیں، نیز شفاعت کے بارے میں ان کی رائے معتزلہ کے قریب ہے۔ آگے اباضیہ کے دیگر مذاہب سے اختلافات و اتفاقات کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
اہل سنت، اشاعرہ اور معتزلہ کے ساتھ اباضیہ کے عقیدتی اختلافات و اشتراکات
اشاعرہ کے ساتھ اباضیہ کے اختلافی موارد:
1. مرتکبین گناہ کبیرہ کو شفاعت حاصل ہو سکتی ہے۔ 2. مرتکبین گناہ کبیرہ ضروراً جہنم نہیں جاتے۔ 3. خدا کی صفات اس کی ذات کے زائد ہیں۔ 4. بغیر تاویل کے صفات خبریہ کا اثبات، 5. قیامت میں مومنین کے لیے خدا کی بصری رؤیت۔
اباضیہ اور معتزلہ کے اختلافی موارد:
1. افعال انسان میں قضا و قدر الہی کا براہ راست دخل نہیں ہے۔ 2. خدا کی ارادت افعال قبیحہ سے تعلق نہیں رکھتی۔ 3. مرتکبین گناہ کبیرہ کے لیے ایمان و کفر کے درمیان ایک فاصلہ (منزلت) موجود ہے۔
معتزلہ کے ساتھ اباضیہ کے عقیدتی اشتراکی موارد:
1. خدا کی صفات اس کی ذات ہی ہیں۔ 2. خدا کو قیامت میں بھی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ 3. مسئلہ امامت میں نص کا انکار۔ 4. مومن کے لیے ثواب کا استحقاق ثابت کرنا، جب وہ گناہ کا مرتکب نہ ہو یا توبہ کر لے۔
اباضیہ کے بعض فقہی، کلامی اور تاریخی آثار
- اجوبة ابی نبهان؛
- اجوبه فقهیه، مصنف: ابویعقوب وارجلانی؛
- احکام الدماء، مصنف: ابی العباس احمد بن محمد؛
- احکام الزکات، مصنف: جاعد ابن خمیس خروصی؛
- احکام السفر فی الاسلام، مصنف: یحیی معمر؛
- رسالة فی احکام الزکات، مصنف: مسلم بن ابی کریمہ۔
- الفرق الاسلامیة من خلال الکشف والبیان، مصنف : ابوسعید محمد بن سعید ازدی قلهاتی؛
- اللّمعة المرضیة من اشعة الإباضیة سالمی، مصنف: نورالدین عبدالله بن حمید السالمی؛
- معجم مصادر الاباضیة، مصنف: علیاکبر ضیائی؛
- الاباضیة فی المصر والمغرب، مصنف: عبدالحلیم، رجب محمد؛
- الاباضیة بین الفرق الاسلامیّة، مصنف: معمر علی یحیی؛
- دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، مصنف: جمعی از نویسندگان؛
- مشوهات الاباضیة، ابراہیم بحاز؛
- من هم الاباضیة؟، خلیفہ نامی عمرو۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ابن سعد بغدادی، الطبقات الکبری ، تاریخ درج مواد: بدون تاریخ، تاریخ اخذ مواد:13 دی ماہ 1404 ہجری شمسی۔
- خیرالدین بن محمود زرکلی، الأعلام، تاریخ درج مواد: بدون تاریخ، تاریخ اخذ مواد: 13 دی ماہ 1404 ہجری شمسی۔
- اباضیہ، ویب سائٹ رحماء۔