"تمیمیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 13: | سطر 13: | ||
'''تمیمیہ''' (یا زراریہ)، شیعہ [[غلاة (فرقہ)|غلات]] فرقوں کی ایک شاخ ہے۔ یہ فرقہ [[امامت]] کے بارے میں واقفی ہیں اور امامت کو ساتویں امام تک قبول کرتے ہیں اور انہیں [[حجت بن الحسن (مہدی)|قائم آل محمد]] مانتے ہیں اور معتقد ہیں کہ حضرت ایک دن ظہور فرمائیں گے۔ | '''تمیمیہ''' (یا زراریہ)، شیعہ [[غلاة (فرقہ)|غلات]] فرقوں کی ایک شاخ ہے۔ یہ فرقہ [[امامت]] کے بارے میں واقفی ہیں اور امامت کو ساتویں امام تک قبول کرتے ہیں اور انہیں [[حجت بن الحسن (مہدی)|قائم آل محمد]] مانتے ہیں اور معتقد ہیں کہ حضرت ایک دن ظہور فرمائیں گے۔ | ||
== بانی == | == بانی == | ||
[[ابوالحسن اشعری]] کہتے ہیں کہ اس فرقے کا بانی ایک شخص بہ نام [[زرارة بن اعین|زرارة بن اعین]] ہے<ref> ابوالحسن اشعری، ''مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین''، ج 1، ص 103。</ref> | [[ابوالحسن اشعری]] کہتے ہیں کہ اس فرقے کا بانی ایک شخص بہ نام [[زرارة بن اعین|زرارة بن اعین]] ہے<ref> ابوالحسن اشعری، ''مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین''، ج 1، ص 103。</ref> | ||
== تاریخ == | == تاریخ == | ||
[[محمد بن عمر کشی|کشی]] لکھتے ہیں کہ زرارہ تقریباً 80 ہجری قمری میں دار الولید [[کوفہ]] میں رہتے تھے اور [[محمد بن علی (باقر العلوم)|امام محمد باقر]] (علیہ السلام) اور [[جعفر بن محمد (صادق)|امام جعفر صادق]] (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے تھے۔ | [[محمد بن عمر کشی|کشی]] لکھتے ہیں کہ زرارہ تقریباً 80 ہجری قمری میں دار الولید [[کوفہ]] میں رہتے تھے اور [[محمد بن علی (باقر العلوم)|امام محمد باقر]] (علیہ السلام) اور [[جعفر بن محمد (صادق)|امام جعفر صادق]] (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے تھے۔ | ||
[[نجاشی]] کے مطابق، زرارة بن اعین ایک غلام تھا جسے آزاد کیا گیا تھا۔ [[شیخ صدوق|شیخ صدوق]] کہتے ہیں کہ کتاب «الاستطاعة و الجبر» زرارہ کی تصنیف ہے۔ [[شیخ طوسی]] اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں: ان کا نام عبدربہ کنیت ابوالحسن، ایک کانے شخص تھے اور اصل میں رومی غلام تھے جو بنو شیبان قبیلے کے ایک شخص کے ہاتھوں آزاد ہوئے۔ ان کے دادا سنسن روم میں تھے اور راہب تھے۔ ان کے بھائی حمران نحوی، بکیر بن اعین اور عبدالملک بن اعین تھے۔ مامقانی لکھتے ہیں۔ ان سے منسوب احادیث ظاہر کرتی ہیں کہ وہ سند کے لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔ ان کی مذمت میں وارد ہونے والی خبروں میں سے یہ ہے کہ حضرت صادق (علیہ السلام) کی وفات کے بعد، زرارہ نے اپنے بیٹے عبید کو [[مدینہ|مدینہ]] بھیجا تاکہ اس حضرت کے جانشین کو پہچانے، جب ان کی موت قریب آئی تو [[قرآن]] کو ہاتھ میں لیا اور کہا جو شخص اس مصحف کی امامت ثابت کرے وہ میرا امام ہے<ref>محمدجواد مشکور، ''فرہنگ فرق اسلامی''، مشہد، اشاعتات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص 123، عبارت میں ترمیم و تصرف کے ساتھ。</ref> | [[نجاشی]] کے مطابق، زرارة بن اعین ایک غلام تھا جسے آزاد کیا گیا تھا۔ [[شیخ صدوق|شیخ صدوق]] کہتے ہیں کہ کتاب «الاستطاعة و الجبر» زرارہ کی تصنیف ہے۔ [[شیخ طوسی]] اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں: ان کا نام عبدربہ کنیت ابوالحسن، ایک کانے شخص تھے اور اصل میں رومی غلام تھے جو بنو شیبان قبیلے کے ایک شخص کے ہاتھوں آزاد ہوئے۔ ان کے دادا سنسن روم میں تھے اور راہب تھے۔ ان کے بھائی حمران نحوی، بکیر بن اعین اور عبدالملک بن اعین تھے۔ مامقانی لکھتے ہیں۔ ان سے منسوب احادیث ظاہر کرتی ہیں کہ وہ سند کے لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔ ان کی مذمت میں وارد ہونے والی خبروں میں سے یہ ہے کہ حضرت صادق (علیہ السلام) کی وفات کے بعد، زرارہ نے اپنے بیٹے عبید کو [[مدینہ|مدینہ]] بھیجا تاکہ اس حضرت کے جانشین کو پہچانے، جب ان کی موت قریب آئی تو [[قرآن]] کو ہاتھ میں لیا اور کہا جو شخص اس مصحف کی امامت ثابت کرے وہ میرا امام ہے<ref>محمدجواد مشکور، ''فرہنگ فرق اسلامی''، مشہد، اشاعتات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، ص 123، عبارت میں ترمیم و تصرف کے ساتھ。</ref>۔ | ||
== عقائد == | == عقائد == | ||
تمیمیہ معتقد ہیں کہ علم، قدرت، حیات، سمع و بصر از ازل خدا کے ساتھ نہیں تھے، بلکہ خداوند نے یہ صفات بعد کے اوقات میں اپنے لیے خلق کی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فرقہ امامت کے باب میں «واقفی» ہیں اور امامت کو ساتویں امام تک قبول کرتے ہیں اور انہیں قائم آل محمد مانتے ہیں اور اس باور پر ہیں کہ حضرت ایک دن ظہور فرمائیں گے<ref> ''ایضاً''، ص 124。</ref><ref> عباس اقبال آشتیانی، ''خاندان نوبختی''، ص 253。</ref>。 | تمیمیہ معتقد ہیں کہ علم، قدرت، حیات، سمع و بصر از ازل خدا کے ساتھ نہیں تھے، بلکہ خداوند نے یہ صفات بعد کے اوقات میں اپنے لیے خلق کی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فرقہ امامت کے باب میں «واقفی» ہیں اور امامت کو ساتویں امام تک قبول کرتے ہیں اور انہیں قائم آل محمد مانتے ہیں اور اس باور پر ہیں کہ حضرت ایک دن ظہور فرمائیں گے<ref> ''ایضاً''، ص 124。</ref><ref> عباس اقبال آشتیانی، ''خاندان نوبختی''، ص 253。</ref>。 | ||
== متعلقہ تلاشیں == | |||
== | |||
* [[حجت بن الحسن (مہدی)|قائم آل محمد]] | * [[حجت بن الحسن (مہدی)|قائم آل محمد]] | ||
* [[امامت]] | * [[امامت]] | ||
| سطر 39: | سطر 31: | ||
* [[زرارة بن اعین|زرارة بن اعین]] | * [[زرارة بن اعین|زرارة بن اعین]] | ||
* [[غلاة (فرقہ)|غلات]] | * [[غلاة (فرقہ)|غلات]] | ||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
== ماخذ == | == ماخذ == | ||
| سطر 52: | سطر 41: | ||
{{فرق و مذاهب}} | {{فرق و مذاهب}} | ||
[[زمرہ:فرق و مذاهب]] | [[زمرہ:فرق و مذاهب]] | ||
نسخہ بمطابق 10:41، 3 مئی 2026ء
تمیمیہ (یا زراریہ)، شیعہ غلات فرقوں کی ایک شاخ ہے۔ یہ فرقہ امامت کے بارے میں واقفی ہیں اور امامت کو ساتویں امام تک قبول کرتے ہیں اور انہیں قائم آل محمد مانتے ہیں اور معتقد ہیں کہ حضرت ایک دن ظہور فرمائیں گے۔
بانی
ابوالحسن اشعری کہتے ہیں کہ اس فرقے کا بانی ایک شخص بہ نام زرارة بن اعین ہے[1]
تاریخ
کشی لکھتے ہیں کہ زرارہ تقریباً 80 ہجری قمری میں دار الولید کوفہ میں رہتے تھے اور امام محمد باقر (علیہ السلام) اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے تھے۔ نجاشی کے مطابق، زرارة بن اعین ایک غلام تھا جسے آزاد کیا گیا تھا۔ شیخ صدوق کہتے ہیں کہ کتاب «الاستطاعة و الجبر» زرارہ کی تصنیف ہے۔ شیخ طوسی اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں: ان کا نام عبدربہ کنیت ابوالحسن، ایک کانے شخص تھے اور اصل میں رومی غلام تھے جو بنو شیبان قبیلے کے ایک شخص کے ہاتھوں آزاد ہوئے۔ ان کے دادا سنسن روم میں تھے اور راہب تھے۔ ان کے بھائی حمران نحوی، بکیر بن اعین اور عبدالملک بن اعین تھے۔ مامقانی لکھتے ہیں۔ ان سے منسوب احادیث ظاہر کرتی ہیں کہ وہ سند کے لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔ ان کی مذمت میں وارد ہونے والی خبروں میں سے یہ ہے کہ حضرت صادق (علیہ السلام) کی وفات کے بعد، زرارہ نے اپنے بیٹے عبید کو مدینہ بھیجا تاکہ اس حضرت کے جانشین کو پہچانے، جب ان کی موت قریب آئی تو قرآن کو ہاتھ میں لیا اور کہا جو شخص اس مصحف کی امامت ثابت کرے وہ میرا امام ہے[2]۔
عقائد
تمیمیہ معتقد ہیں کہ علم، قدرت، حیات، سمع و بصر از ازل خدا کے ساتھ نہیں تھے، بلکہ خداوند نے یہ صفات بعد کے اوقات میں اپنے لیے خلق کی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ فرقہ امامت کے باب میں «واقفی» ہیں اور امامت کو ساتویں امام تک قبول کرتے ہیں اور انہیں قائم آل محمد مانتے ہیں اور اس باور پر ہیں کہ حضرت ایک دن ظہور فرمائیں گے[3][4]。
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
ماخذ
- ابوالحسن اشعری، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، تاریخ درج مواد: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ مواد: 15 اسفند ماہ 1404 ہجری شمسی۔
- محمد جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، اشاعتات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، دوسرا ایڈیشن، تاریخ درج مواد: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ مواد: 15 اسفند ماہ 1404 ہجری شمسی۔
- عباس اقبال آشتیانی، خاندان نوبختی،تاریخ درج مواد: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ مواد: 15 اسفند ماہ 1404 ہجری شمسی۔