مندرجات کا رخ کریں

"اقوام متحده" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 80: سطر 80:
منشور کا مقصد ایک ایسا عالمی نظام قائم کرنا تھا جس میں ممالک اپنی اقتصادی اور مالی وسائل کا زیادہ تر حصہ ترقی اور فلاح پر صرف کریں اور جنگی ہتھیاروں پر کم خرچ کریں۔
منشور کا مقصد ایک ایسا عالمی نظام قائم کرنا تھا جس میں ممالک اپنی اقتصادی اور مالی وسائل کا زیادہ تر حصہ ترقی اور فلاح پر صرف کریں اور جنگی ہتھیاروں پر کم خرچ کریں۔


ایٹمی ہتھیاروں کی ایجاد منشور کے دستخط کے چند ہفتوں بعد ہوئی جس کے نتیجے میں اسلحہ پر کنٹرول اور تخفیفِ اسلحہ کا مسئلہ عالمی سطح پر اہم بن گیا۔ اسی سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس (۲۴ جنوری ۱۹۴۶ء) میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ایٹمی توانائی کے کنٹرول اور تباہ کن ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی ایجاد منشور کے دستخط کے چند ہفتوں بعد ہوئی جس کے نتیجے میں اسلحہ پر کنٹرول اور تخفیفِ اسلحہ کا مسئلہ عالمی سطح پر اہم بن گیا۔ اسی سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس (۲۴ جنوری ۱۹۴۶ء) میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ایٹمی توانائی کے کنٹرول اور تباہ کن ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔<ref>[https://www.irna.ir/ خبرگزاری جمهوری اسلامی ایران (ایرنا)]، تاریخ مشاہدہ: 31 فروردین 1400 ش.</ref>


== مآخذ ==
== حوالہ جات ==
- [https://www.irna.ir/ خبرگزاری جمهوری اسلامی ایران (ایرنا)]، تاریخ مشاہدہ: 31 فروردین 1400 ش.
{{حوالہ جات}}


[[زمرہ:بین الاقوامی تنظیمیں]]
[[زمرہ:بین الاقوامی تنظیمیں]]
[[fa: سازمان ملل متحد]]
[[fa: سازمان ملل متحد]]

نسخہ بمطابق 15:30، 1 اپريل 2026ء

اقوامِ متحدہ
پارٹی کا ناماقوامِ متحدہ
بانی پارٹی۵۱ ممالک
مقاصد و مبانیبین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ

اقوامِ متحدہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو اس وقت قائم کی گئی جب دوسری عالمی جنگ کے تباہ کن اثرات ابھی بھی یورپ، افریقہ اور ایشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو ۵۱ ممالک نے اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط کیے اور اس طرح اس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔

اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ، امن کے خلاف خطرات کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے اجتماعی اقدامات، اور اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا قیام

"اقوامِ متحدہ" کی اصطلاح پہلی مرتبہ فرینکلن ڈی روزویلٹ، صدر ریاستہائے متحدہ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی ممالک (متفقین) کے لیے استعمال کی۔ اس اصطلاح کا پہلا باضابطہ استعمال یکم جنوری ۱۹۴۲ء کے بیان میں ہوا جسے "اعلامیۂ اقوامِ متحدہ" کہا جاتا ہے۔ اس اعلامیے میں اتحادی ممالک نے منشورِ اوقیانوس کی حمایت کی اور عہد کیا کہ وہ محوری طاقتوں کے ساتھ علیحدہ امن معاہدہ نہیں کریں گے۔

اسی دوران "اعلامیۂ اقوامِ متحدہ" نامی ایک دستاویز تیار کی گئی جس پر دنیا کے ۲۶ ممالک نے دستخط کیے جن میں ایران بھی شامل تھا، اور انہوں نے جنگ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا۔

اس دستاویز کے مطابق ۱۹۴۳ء میں ماسکو، قاہرہ اور تہران کی کانفرنسوں میں اقوامِ متحدہ کے قیام کا تصور مزید مضبوط ہوا۔ اگست سے اکتوبر ۱۹۴۴ء تک امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور چین کے نمائندوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ڈمبارٹن اوکس کانفرنس میں اس تنظیم کے قیام کے منصوبوں پر غور کیا۔ اس کانفرنس میں زیادہ تر بحث تنظیم کی رکنیت اور ارکان کے کردار کے بارے میں ہوئی۔

بعد ازاں اپریل ۱۹۴۵ء میں سان فرانسسکو کانفرنس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے حقِ ویٹو کا تعین کیا گیا۔ آخرکار ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو ۵۰ ممالک نے اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط کیے اور یہ تنظیم باضابطہ طور پر قائم ہو گئی۔

سرگرمیوں کا آغاز اور پہلی نشست

اقوامِ متحدہ نے اپنی سرگرمیاں ۱۹۴۶ء میں شروع کیں۔ ابتدا میں تنظیم کے اجلاس لندن اور جنیوا میں منعقد ہوتے تھے، یہاں تک کہ ۱۹۵۱ء میں اس کا مرکزی دفتر نیویارک منتقل کر دیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پہلا اجلاس ۵۱ رکن ممالک کی شرکت سے منعقد ہوا جبکہ سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس ۱۷ جنوری ۱۹۴۶ء کو لندن کے ویسٹ منسٹر چرچ میں منعقد ہوا۔ جنرل اسمبلی نے نیویارک شہر کو تنظیم کے مستقل صدر دفتر کے طور پر منتخب کیا۔

اقوامِ متحدہ کے دیگر دفاتر جنیوا، ویانا اور نائروبی میں واقع ہیں اور انہیں بین الاقوامی علاقے تصور کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کے پہلے سیکریٹری جنرل ناروے کے وزیر خارجہ تریگوه لی (Trygve Lie) منتخب ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کے فرائض اور مقاصد

اقوامِ متحدہ کا سب سے اہم مقصد بین الاقوامی امن اور سلامتی کا تحفظ ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے دیگر اہم مقاصد یہ ہیں:

  • اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا
  • قوموں کے حقِ خود ارادیت کا احترام
  • اقتصادی، سماجی، سائنسی اور انسانی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا
  • انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام
  • مختلف ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم فراہم کرنا

ان مقاصد کے حصول کے لیے اقوامِ متحدہ نے متعدد ادارے قائم کیے ہیں۔ منشورِ اقوامِ متحدہ کے مطابق اس تنظیم کے **چھ بنیادی ارکان (Organs)** ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بنیادی ارکان

جنرل اسمبلی

یہ اقوامِ متحدہ کے چھ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور واحد ادارہ ہے جس میں تمام رکن ممالک شرکت کرتے ہیں۔ اس کے اجلاس ہر سال ایک منتخب صدر کی سربراہی میں منعقد ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر جنرل اسمبلی کے فیصلے سفارشات کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سلامتی کونسل

یہ اقوامِ متحدہ کا وہ ادارہ ہے جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔ منشور کے مطابق سلامتی کونسل کو امن فوج بھیجنے، بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے اور بعض صورتوں میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے۔

اقتصادی و سماجی کونسل

یہ ادارہ عالمی اقتصادی، سماجی اور انسانی مسائل پر توجہ دیتا ہے۔ اس کونسل کے ۵۴ ارکان ہوتے ہیں جنہیں جنرل اسمبلی تین سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ یہ کونسل ہر سال متعدد اجلاس منعقد کرتی ہے۔

سیکریٹریٹ

یہ اقوامِ متحدہ کا انتظامی ادارہ ہے جو سیکریٹری جنرل کی سربراہی میں کام کرتا ہے اور تنظیم کے اجلاسوں اور سرگرمیوں کے لیے معلومات اور انتظامی سہولیات فراہم کرتا ہے۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف

یہ اقوامِ متحدہ کا اعلیٰ ترین عدالتی ادارہ ہے۔ اس میں ۱۵ جج ہوتے ہیں جنہیں جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل مشترکہ طور پر ۹ سال کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ اس عدالت کا صدر دفتر ہیگ (نیدرلینڈز) میں ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انتظامی اور مالی اعتبار سے اسی تنظیم کے تابع ہوتے ہیں۔ ان کے قوانین اور فرائض اقوامِ متحدہ ہی طے کرتی ہے۔ ان میں سے چند اہم ادارے یہ ہیں:

  • یونیسف(UNICEF)
  • اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (UNDP)
  • مختلف بین الاقوامی کمیٹیاں اور ادارے

اقوامِ متحدہ کا بجٹ

اقوامِ متحدہ کا بجٹ رکن ممالک کی مالی شراکت سے پورا کیا جاتا ہے۔ سیکریٹریٹ پیشہ ور مالیاتی اداروں کے اندازوں کی بنیاد پر دو سالہ بجٹ تیار کرتا ہے اور ہر ملک کے حصے کا تعین کرتا ہے۔

یہ بجٹ جنرل اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے اور منظوری کے بعد ممالک کو اس کی ادائیگی کی اطلاع دی جاتی ہے۔ ہر ملک کی مالی شراکت اس کی قومی مجموعی پیداوار (GDP) کے مطابق مقرر کی جاتی ہے۔ اس طرح ترقی یافتہ اور بڑی معیشتوں والے ممالک زیادہ حصہ ادا کرتے ہیں جبکہ چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کا حصہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔

کچھ خصوصی پروگراموں جیسے یونیسف یا انسانی ترقیاتی فنڈ کے اخراجات رضاکارانہ عطیات کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں۔

منشورِ اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کا منشور دراصل اس تنظیم کا بنیادی آئینی دستاویز ہے۔ یہ رکن ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے اور تنظیم کے ڈھانچے اور طریقۂ کار کی وضاحت کرتا ہے۔ جو بھی ملک اقوامِ متحدہ کا رکن بنتا ہے وہ اس منشور کے اصولوں کو تسلیم کرتا ہے۔

یہ منشور ایک بین الاقوامی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں عالمی تعلقات کے بنیادی اصول، جیسے ریاستوں کی خودمختاری کی برابری اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال سے اجتناب، شامل ہیں۔

یہ منشور ۲۶ جون ۱۹۴۵ء کو سان فرانسسکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے اختتام پر دستخط کے لیے پیش کیا گیا اور اسی سال اکتوبر میں نافذ العمل ہوا۔

منشور کا مقصد ایک ایسا عالمی نظام قائم کرنا تھا جس میں ممالک اپنی اقتصادی اور مالی وسائل کا زیادہ تر حصہ ترقی اور فلاح پر صرف کریں اور جنگی ہتھیاروں پر کم خرچ کریں۔

ایٹمی ہتھیاروں کی ایجاد منشور کے دستخط کے چند ہفتوں بعد ہوئی جس کے نتیجے میں اسلحہ پر کنٹرول اور تخفیفِ اسلحہ کا مسئلہ عالمی سطح پر اہم بن گیا۔ اسی سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے اجلاس (۲۴ جنوری ۱۹۴۶ء) میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ایٹمی توانائی کے کنٹرول اور تباہ کن ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔[1]

حوالہ جات

  1. خبرگزاری جمهوری اسلامی ایران (ایرنا)، تاریخ مشاہدہ: 31 فروردین 1400 ش.