مندرجات کا رخ کریں

"حسن حسن‌زاده آملی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:


{{Infobox person
| title =
| image =  حسن حسن زاده آملی.jpg
| name = حسن حسن زاده آملی
| other names = علامه حسن زاده آملی ذوالفنون
| brith year = 1307 ش
| brth date = 
| birth place = [[ایران]] آمل، لاریجانی
| death year = 1400 ش
| death date = 
| death place = ایران، آمل
| teachers = {{افقی باکس کی فہرست |علامه میرزا ابوالحسن شعرانی، علامه سید محمد حسین طباطبائی، میرزا ابوالحسن رفیعی قزوینی، حکیم میرزا مهدی الهی قمشه‌ای}}
| students = مهدی شب‌زنده‌دار، سید محمدرضا مدرسی یزدی، اسماعیل منصوری لاریجانی، داوود صمدی آملی
| religion = [[اسلام]]
| faith = [[شیعہ]]
| works = {{افقی باکس کی فہرست| تکمله منهاج البراعه؛ رساله‏‌ای در ولایت و امامت؛ رساله‌‏ای در رؤیت و عدم آن، بر مشرب حکمت و کلام؛ رساله‌‏ای در لقاء اللّه، بر منهل عرفان؛ الهی نامه؛ تعلیقات بر اکرثاوذوسیوس؛ شرح کتاب اکرمانالاؤوس (خواجه طوسی)}}
| known for = {{hlist | ممتاز شیعہ عالم، فقیہ، عارف،  معاصر حکیم اور سنکڑوں تالیفات اور تصنیفات و تحقیقات کا مالک  }}
}}
حسن حسن‌زاده آملی (۱۳۰۷۔۱۴۰۰ شمسی) ایک ممتاز شیعہ عالم، فقیہ، عارف اور معاصر حکیم تھے، اور علامہ شعرانی اور علامہ طباطبائیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔   
حسن حسن‌زاده آملی (۱۳۰۷۔۱۴۰۰ شمسی) ایک ممتاز شیعہ عالم، فقیہ، عارف اور معاصر حکیم تھے، اور علامہ شعرانی اور علامہ طباطبائیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔   
آپ کو ادب، علومِ غریبه، ریاضیات، ہیئت (فلکیات) اور طب میں گہری مہارت اور دسترس حاصل تھی، اسی وجہ سے آپ کو **«علامہ ذوالفنون»** کا لقب دیا گیا۔   
آپ کو ادب، علومِ غریبه، ریاضیات، ہیئت (فلکیات) اور طب میں گہری مہارت اور دسترس حاصل تھی، اسی وجہ سے آپ کو **«علامہ ذوالفنون»** کا لقب دیا گیا۔   
سطر 265: سطر 283:


ان کی رحلت حوزاتِ علمیہ اور عالمِ تشیع کے لیے ایک عظیم علمی و عرفانی نقصان ہے، تاہم ان کی گراں قدر علمی و معنوی میراث ہمیشہ طالبانِ معرفت و حکمت کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
ان کی رحلت حوزاتِ علمیہ اور عالمِ تشیع کے لیے ایک عظیم علمی و عرفانی نقصان ہے، تاہم ان کی گراں قدر علمی و معنوی میراث ہمیشہ طالبانِ معرفت و حکمت کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[ایران]]
[[حوزہ علمیہ قم]]
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:ایران]]
[[fa:حسن حسن زاده آملی]]

نسخہ بمطابق 14:22، 25 جنوری 2026ء

حسن حسن‌زاده آملی
پورا نامحسن حسن زاده آملی
دوسرے نامعلامه حسن زاده آملی ذوالفنون
ذاتی معلومات
پیدائش1307 ش، 1929 ء، 1346 ق
پیدائش کی جگہایران آمل، لاریجانی
وفات1400 ش، 2022 ء، 1442 ق
وفات کی جگہایران، آمل
اساتذہ
  • علامه میرزا ابوالحسن شعرانی، علامه سید محمد حسین طباطبائی، میرزا ابوالحسن رفیعی قزوینی، حکیم میرزا مهدی الهی قمشه‌ای
شاگردمهدی شب‌زنده‌دار، سید محمدرضا مدرسی یزدی، اسماعیل منصوری لاریجانی، داوود صمدی آملی
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • تکمله منهاج البراعه؛ رساله‏‌ای در ولایت و امامت؛ رساله‌‏ای در رؤیت و عدم آن، بر مشرب حکمت و کلام؛ رساله‌‏ای در لقاء اللّه، بر منهل عرفان؛ الهی نامه؛ تعلیقات بر اکرثاوذوسیوس؛ شرح کتاب اکرمانالاؤوس (خواجه طوسی)
مناصب
  • ممتاز شیعہ عالم، فقیہ، عارف، معاصر حکیم اور سنکڑوں تالیفات اور تصنیفات و تحقیقات کا مالک

حسن حسن‌زاده آملی (۱۳۰۷۔۱۴۰۰ شمسی) ایک ممتاز شیعہ عالم، فقیہ، عارف اور معاصر حکیم تھے، اور علامہ شعرانی اور علامہ طباطبائیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کو ادب، علومِ غریبه، ریاضیات، ہیئت (فلکیات) اور طب میں گہری مہارت اور دسترس حاصل تھی، اسی وجہ سے آپ کو **«علامہ ذوالفنون»** کا لقب دیا گیا۔ آپ نے کئی برس تک حوزۂ علمیہ قم میں فلسفہ و عرفان کی کتب، نیز ریاضیات اور علمِ ہیئت کی تدریس کی، اور ان علوم میں گراں قدر اور بیش بها تصنیفات اپنی یادگار کے طور پر چھوڑیں۔


پیدائش

آپ ۲۱ بہمن ۱۳۰۷ شمسی (10 فروری 1929ء) کو لاریجان، آمل میں پیدا ہوئے۔ جب آپ کی عمر صرف چھ برس تھی تو مکتب میں پورا قرآن مجید اچھی طرح حفظ کر لیا۔


تعلیم و اساتذہ

علامہ حسن زادہ نے ۱۳۲۳ شمسی (مطابق ۱۹۴۴ء) میں دینی علوم کی ابتدائی کتب کی تعلیم مدرسۂ روحانی (حوزہ علمیہ) میں حاصل کی۔ اس دور میں طالب علموں میں نصاب الصبیان، آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی کی رسالۂ عملیہ فارسی (کیونکہ اس زمانے میں آپ مرجع علی الاطلاق تھے)، کلیاتِ سعدی، گلستانِ سعدی، جامع المقدمات، شرح الفیہ سیوطی، حاشیہ ملا عبداللہ بر تہذیب منطق، شرح جامی بر کافیۂ نحو، شمسیہ (منطق میں)، شرح نظام (صرف میں)، مطول (معانی، بیان و بدیع میں)، معالم (اصول میں)، تبصرہ (فقہ میں)، اور قوانین (اصول میں) تا مبحث عام و خاص پڑھنا رائج تھا۔

علامہ حسن زادہ آمل میں ان کتب کی تحصیل وہاں کے علما و فضلا کی خدمت میں رہ کر کی، جن میں محمد آقا غروی، آقا عزیزاللہ طبری، آقا شیخ احمد اعتمادی، آقا عبداللہ اشراقی، آقا ابوالقاسم رجائی وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کو خوشخطی کی تعلیم آیت اللہ عزیزاللہ طبری سے ملی، یہاں تک کہ آپ نے آمل میں کچھ ابتدائی کتب خود بھی تدریس کیں۔


تہران کی طرف ہجرت

آپ نے شہريور ۱۳۲۹ شمسی (ستمبر ۱۹۵۰ء) میں تہران کا قصد فرمایا اور چند سال تک مدرسہ حاج ابوالفتح میں قیام کیا۔ وہاں آپ نے شرحِ لمعه اور قوانین کی باقی جلدوں کا درس مرحوم آیت اللہ سید احمد لواسانی کے محضرِ شریف میں مکمل کیا۔

اس کے بعد آپ کئی برس تک مدرسہ مروی میں مقیم رہے، اور آیت اللہ شیخ محمدتقی آملی (قدس سرہ) کی رہنمائی سے علامہ میرزا ابوالحسن شعرانی (اعلی اللہ مقامہ) کی خدمت میں پہنچے۔ وہ بزرگ استاد آپ کے ساتھ نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے تھے اور تیرہ (۱۳) برس تک ایک مہربان باپ کی طرح آپ کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہے، اور مختلف علوم و فنون کے کئی دروازے آپ پر کھول دیے۔


علامہ شعرانیؒ سے علوم کا حصول

نقلی علوم (ظاہری علوم) نقلی علوم میں: آپ نے شیخ انصاریؒ کی مکمل مکاسب اور رسائل، آخوند خراسانیؒ کی کفایہ کی دونوں جلدیں، اس کے بعد جواہر کی کتابِ طہارت اور نماز، خمس، زکات، حج اور ارث کی کتابیں علامہ شعرانی کے زیرِ سایہ درسِ خارج اور تحقیقی انداز میں اس طرح پڑھیں کہ خود آپ کو اطمینان حاصل ہوا اور یقین ہو گیا کہ وہ اصولِ سے فروعی مسائل استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور قوۂ اجتہاد کو پا گئے ہیں۔

عقلی علوم (باطنی و فلسفی علوم) معقول علوم میں: آپ نے علامہ خواجہ نصیرالدین طوسیؒ کی شرح بر اشارات ابن سیناؒ، ملاصدرا کی اسفار کا بیشتر حصہ، اور شیخ الرئیس ابن سیناؒ کی شفا کے کتاب نفس، حیوان، نبات اور طب کی تشریح (جو کتاب نفس سے شفا کی طبیعیات کے آخر تک ہے) علامہ شعرانیؒ سے حاصل کیے۔



تفسیر

تفسیر کے میدان میں: آپ نے تفسیر مجمع البیان از تالیف طبرسی کا پورا دورہ ابتدا سے انتہا تک مکمل طور پر پڑھا۔

قرائت و تجوید کی کتب

قرائت اور تجوید کی کتب میں: شرح شاطبیہ جس کا نام «سراج المبتدی و تذکار المقری المنتهی» ہے، جو علامہ شیخ علی بن قاصح عذری کی جانب سے علمِ قراءات میں قصیدۂ لامیہ کی شرح ہے۔ یہ قصیدہ علامہ شیخ قاسم بن فِیرہ رعینی شاطبی کی منظوم تصنیف ہے۔

یہ قصیدہ ۱۳۷۵ اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے تمام اشعار کی قافیہ صرف حرف «لام» پر ختم ہوتی ہے۔ شرح شاطبیہ (علمِ قراءات اور قرّاء کی معرفت میں) اُن درسی کتب میں شامل تھی جو علمی مراکز میں پڑھائی جاتی تھیں، اور خود علامہ شعرانیؒ نے بھی اسے اپنے والدِ محترم کے سامنے پڑھا تھا۔


ریاضیات اور علمِ نجوم

ریاضیات اور علمِ نجوم کی کتب میں: ملا علی قوشچی کی فارسی رسالہ بر علمِ ہیئت، قاضی‌زادہ رومی کی الملخّص الہیئہ پر شرح (جو محمد بن محمود خوارزمی چغمینی کی تصنیف ہے اور شرح چغمینی کے نام سے معروف ہے)، شیخ بہائی کی تشریح الافلاک پر علامہ شعرانی کی تحریر کردہ استدراک، اور کتاب الاصول (جو اصولِ اقلیدس کے نام سے مشہور ہے) خواجہ نصیرالدین طوسی کی تحریر میں، جو حساب اور ہندسہ پر مشتمل پندرہ مقالات پر مبنی ہے اور جس کے تمام مسائل ریاضیاتی براهین سے ثابت کیے گئے ہیں۔

اسی طرح علامہ خَفری کی تذکرہ فی الہیئہ (محقق طوسی کی تصنیف) پر شرح، جو علمِ ہیئت کے مسائل پر ایک استدلالی شرح ہے، کا بھی مطالعہ کیا۔

شرحِ خفری بر تذکرہ کی تعلیم کے بعد، آپ نے زیجِ بہادری کا درس لیا، جو زیجات میں سب سے زیادہ مکمل، دقیق اور جدید شمار کی جاتی ہے۔

اس کے بعد کتابِ کبیر مجسطی (بطلیموس قلوذی کی تصنیف) جو خواجہ نصیرالدین طوسی کی تحریر میں علمِ ہیئت کی سب سے معتمد اور شریف ترین کتاب سمجھی جاتی ہے، کا درس حاصل کیا۔ یہ کتاب ہیئتِ استدلالی میں اعلیٰ ترین مقصد اور غایتِ غایات کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی طرح شرحِ خفری، اُکَرِ ثاؤدوسیوس، اُکَرِ مالاناوؤس، اور کتاب الکرۃ المتحرکۃ (اوطوقوس کی تصنیف، بتحریرِ خواجہ طوسی)، نیز قسطا بن لوقا کی رسالہ *عمل بالکرۃ ذات الکرسی* اور ان جیسی دیگر کتب متوسطات، اصولِ اقلیدس، اور ان سے نچلے درجے کی حساب، ہندسہ اور ہیئت کی کتب—یہ سب علمِ ہیئت میں رائج مدارج و مراتب کے مطابق ابتدائی نصاب میں شامل ہیں۔

نجومی تقویم کی تیاری

نجومی تقویم کے استخراج کی تعلیم میں چار برس علامہ شعرانیؒ کے محضر میں صرف ہوئے۔ علامہ حسن زادہ اس علم کی باریکیوں میں اس قدر مہارت حاصل کر گئے کہ استخراجِ تقویم میں کامل دسترس پیدا کر لی اور اس پر ایک مکمل شرح بھی تحریر کی، جو تاحال شائع نہیں ہوئی۔ اسی زیج کی بنیاد پر نو برس تک تقاویم استخراج کی گئیں جو طبع ہو کر شائع ہوئیں۔

رصدی آلات میں مہارت

رصدی آلات کے استعمال میں، خصوصاً اسطرلاب اور ربعِ مجیب پر کامل مہارت حاصل کی، نیز اُن تمام آلات کا عملی علم حاصل کیا جن کا ذکر مذکورہ کتب میں آیا ہے۔



طب

طب کی کتب میں: محمد بن محمود چغمینی کی قانونچہ، نفیس بن عوض بن حکیم طبیب کی شرح الاسباب، اور شیخ الرئیس ابن سینا کی قانون کی کلیات کی تشریح کا مطالعہ کیا۔

درایہ اور رجال

علمِ درایہ و رجال میں: علامہ شعرانیؒ کے رسالے کا مکمل دورہ پڑھا، جو تاحال طبع نہیں ہوا، نیز جامع الرواة (اردبیلیؒ) کا مکمل درس حاصل کیا۔

حدیث و روایت

حدیث و روایت کے میدان میں: فیض کاشانیؒ کی تصنیف جامع وافی کا درس مکمل کیا۔ جامع وافی کی قراءت کے بعد آپ کو رواةِ دین کی صف میں شمولیت اور اہلِ بیتِ عصمت و وحیؑ سے صادر ہونے والی احادیث کے سلسلے میں شرفِ انتساب حاصل ہوا، جس کی تصدیق علامہ شعرانیؒ کے دستِ مبارک سے تحریر شدہ نوٹ کی صورت میں کتاب «در آسمانِ معرفت» میں محفوظ ہے۔

علامہ میرزا ابوالحسن رفیعی قزوینیؒ سے علمی استفادہ

ان ہی ایام میں آیت اللہ میرزا ابوالحسن رفیعی قزوینیؒ قزوین سے تہران تشریف لائے اور وہیں قیام فرمایا۔ استادِ محترم علامہ شعرانیؒ کی ہدایت پر علامہ حسن زادہ کو ان کی خدمتِ مبارک میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔

آپ نے تقریباً پانچ (۵) برس تک ان کے محضر میں علومِ عقلی، نقلی اور عرفانی کی تحصیل کی۔ ان دروس میں صدرالمتألہین شیرازی کی اسفار، علامہ محمد بن حمزہ المعروف ابن فناری کی شرح مصباح الانس (صدرالدین قونوی کی تصنیف)، فقہِ خارج (کتاب طہارت، صلاۃ اور اجارہ، عروۃ الوثقی از آقا سید محمد کاظم یزدیؒ کے متن پر)، اور اصولِ خارج کفایۃ الاصول از آخوند خراسانیؒ) شامل تھے۔

علامہ رفیعی قزوینیؒ آپ کو اپنے مبارک کلام میں «فاضل آملی» کے لقب سے یاد فرمایا کرتے تھے۔


حکیم الٰہی قمشہ‌ایؒ سے علمی استفادہ

آپ نے حکیم سبزواری کی مکمل حکمتِ منظومہ، اسفار میں مبحثِ نفس، اور شیخ الرئیس ابن سیناؒ کی اشارات پر خواجہ نصیرالدین طوسی کی شرح کا تقریباً نصف حصہ، آیت اللہ حکیم میرزا مہدی الٰہی قمشہ‌ایؒ کے حضور پڑھا۔ اسی طرح آپ ان کے درسِ تفسیرِ قرآن میں بھی باقاعدہ شریک رہے۔ یہ تمام دروس دس برس سے زائد عرصے تک حکیم متألّہ الٰہی قمشہ‌ایؒ کے بیتِ شریف میں نمازِ مغرب و عشاء کے بعد منعقد ہوتے رہے، اور آپ ان علمی مجالس سے بھرپور استفادہ کرنے والوں میں شامل تھے۔


شیخ محمدتقی آملیؒ سے علمی استفادہ

نیز آپ نے تہران میں طویل عرصے تک علامہ آیت اللہ شیخ محمدتقی آملیؒ کے درسِ خارجِ فروعِ فقہیہ اور اصول میں شرکت کی۔


دیگر اساتذہ سے علمی استفادہ

اسی طرح تہران میں جن دیگر اکابر علما کی خدمت میں حاضری کا شرف آپ کو حاصل ہوا، ان میں حکیمِ الٰہی اور عارفِ صمدانی استاد محمد حسین فاضل تونیؒ بھی شامل ہیں۔ آپ نے ان کے محضر میں شفا کی طبیعیات کا ایک حصہ اور علامہ قیصری کی شرح فصوص الحکم (شیخِ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کی تصنیف) کا درس حاصل کیا۔

اسی طرح شفا کی طبیعیات کا ایک حصہ آیت اللہ حاج میرزا احمد آشتیانیؒ کے محضرِ مبارک میں بھی پڑھا۔ ان جلیل القدر اساتذہ میں ایک بزرگ شیخِ فاضل، علم و کمال کے خادم، اور علومِ عقلی و نقلی میں یکتائے زمانہ، حاج شیخ علی محمد جولستانیؒ بھی تھے، جن کے سامنے آپ نے منطق میں متألہ سبزواری کی تصنیف «اللئالی المنتظمه» کی تعلیم حاصل کی۔


قم کی طرف ہجرت

آپ نے ۲۲ مہر ۱۳۴۲ شمسی (مطابق اکتوبر ۱۹۶۳ء) کو قم میں مستقل اقامت کی نیت سے تہران چھوڑ دیا۔ قم پہنچنے کے بعد آپ نے معارفِ حقّۂ الٰہیہ کی تدریس اور ریاضیاتی علوم کی تعلیم کا آغاز کیا۔


علامہ طباطبائیؒ سے علمی استفادہ

آپ نے سترہ (۱۷) برس تک علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ کے پاکیزہ اور روحانی محضر سے بھرپور استفادہ کیا اور ان کی خدمت میں درج ذیل کتب پڑھیں:

کتاب «تمہید القواعد» از صائن الدین علی بن ترکہ، جو ابن حامد ترکہ کی قواعد التوحید پر ایک نہایت نفیس شرح ہے۔ اس کتاب کی تدریس شبِ جمعہ ۱۲ شعبان المعظم ۱۳۸۳ ہجری قمری کو مکمل ہوئی۔

منطقِ برہان از شفا (شیخ الرئیس ابن سیناؒ)۔ اس درس کا آغاز شعبان المعظم ۱۳۸۶ ہجری قمری (مطابق آذر ۱۳۴۷ شمسی) میں ہوا۔

اسفارِ صدرالمتألہین، جلد نہم (نئی طباعت)، جو اس کتاب کے بابِ ہشتم کے آغاز سے آخر تک پر مشتمل ہے۔ اس کا درس اتوار کے دن ۲۳ شعبان المعظم (مطابق ۵ آذر ۱۳۴۶ شمسی) کو مکمل طور پر اختتام پذیر ہوا۔

بحارالانوار، کتاب التوحید از علامہ مجلسیؒ۔ اس کا آغاز شبِ پنجشنبہ ۱۴ شوال المکرم ۱۳۹۴ ہجری قمری کو ہوا۔

بحارالانوار، جلد سوم، جو معاد اور دیگر مباحث پر مشتمل ہے، اور اسے مکمل طور پر پڑھا گیا۔


علامہ حسن زادہؒ خود حلفیہ انداز میں فرماتے ہیں: «میری جان کی قسم! ان( علامه طباطبائی) کے محضرِ شریف میں سب سے زیادہ وہ چیز جو جوہرِ عاقل کو مسرور کرتی تھی، وہ اصولِ علمیّہ اور امہاتِ عقلیہ تھیں جو وہ القا فرمایا کرتے تھے؛ اور ان میں سے ہر ایک ایسا دروازہ تھا جس سے کئی دوسرے دروازے کھلتے تھے۔ خدا کی قسم! ان کے روحانی محضر سے علم و عمل کا فیضان ہوتا تھا، یہاں تک کہ ان کی خاموشی بھی ایسی گویا گفتگو تھی جو ملکوتی ہیبت اور جلال کی حکایت کرتی تھی۔»


دیگر اساتذہ

آپ کے دیگر اساتذہ میں حاج سید محمد حسن الٰہی طباطبائیؒ بھی شامل تھے، جو علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ کے برادرِ مکرم تھے۔ آپ نے ان سے علومِ غریبه کے مختلف فنون سیکھے، جن میں اوفاق، جفر، رَمل، علمِ حروف، علمِ عدد، زُبُر و بیّنات اور علمِ ارثماطیقی کی دیگر شاخیں شامل ہیں۔

اسی طرح آپ چار سال یا اس سے زائد مدت تک علومِ ارثماطیقی کی تحصیل کے لیے سید مہدی قاضی طباطبائیؒ (فرزندِ عالمِ کامل آیت اللہ سید علی قاضی تبریزیؒ) کے محضرِ مبارک میں شرفِ حاضری حاصل کرتے رہے۔ خود علامہ حسن زادہؒ کے بقول:

«انہوں نے میری تعلیم میں پوری کوشش فرمائی اور مجھ پر ان کا حق بہت عظیم ہے۔»

مزید برآں، آپ نے قم میں کئی برس تک متعدد آیاتِ عظام کے فقہی دروس میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اس بارے میں آپ خود فرماتے ہیں:

«خدا کی قسم! قلم اور زبان ان بے شمار احسانات کے شکر کی ادائیگی سے قاصر ہیں جو ان بزرگ مشائخ نے ہم پر فرمائے ہیں؛ اگرچہ علتُ العلل اور فیّاضِ علی الاطلاق اللہ ربّ العالمین ہے۔»


تدریسی خدمات

حضرت استاد علامہ حسن زادہؒ نے اپنی طویل علمی زندگی میں حوزۂ علمیہ قم اور اس سے قبل تہران میں متعدد اہم اور دقیق علوم کی تدریس فرمائی۔ ان کے بعض نمایاں دروس درج ذیل ہیں:

اشارات (شرحِ خواجہ نصیرالدین طوسیؒ کے ساتھ) کے چار مکمل ادوار کی تدریس، جن میں ہر دور نہایت دقیق تصحیح، علمی تعلیقات اور محققانہ شرح کے ساتھ انجام پایا۔

مصباح الانس کی تدریس، جو حوزۂ علمیہ قم میں آٹھ سال تک جاری رہی۔

شرح فصوص الحکم (قیصری) کے چار ادوار کی تدریس، جنہیں آپ املاء کرواتے تھے اور شاگردان تحریر کرتے تھے۔

شفا(شیخ الرئیس ابن سیناؒ) کا ایک مکمل دور، جس کی تدریس کے دوران متعدد نسخوں کی بنیاد پر تصحیح کی اور اس پر تعلیقات و حواشی تحریر فرمائے۔

تمهید القواعد کے چار ادوار کی تدریس حوزۂ علمیہ قم میں، جن میں ہر دور تقریباً چار سال پر مشتمل تھا۔

اُکَرِ مانالاؤس کی تدریس، جو حوزۂ علمیہ قم میں تین سال تک جاری رہی۔

دو کتابوں اُکَرِ ثاوذوسیوس اور مساکن (تحریرِ خواجہ نصیرالدین طوسیؒ) کی تدریس۔

اصولِ اقلیدس کی تدریس۔

علمِ ہیئت اور دیگر ریاضیاتی علوم کے متعدد دروس۔


تہران میں تدریسی خدمات

مزید برآں، تہران میں قیام کے دوران، جو تقریباً تیرہ سال یا اس سے زائد عرصے پر محیط تھا، آپ نے اکابر اساتذہ سے تحصیلِ علم کے ساتھ ساتھ، علمائے ربانی کے معروف طریقۂ تدریس اور جاری سیرت کے مطابق حوزۂ علمیہ میں تدریس کا فریضہ بھی انجام دیا۔ اس دوران آپ نے درج ذیل کتب کی تدریس فرمائی:

معالم الاصول مطوّل تفتازانی (جس کی چھ بار تدریس کی توفیق حاصل ہوئی) کشف المراد (علمِ کلام) قوانین (اصولِ فقہ) شرح محقق طوسیؒ بر اشاراتِ شیخ الرئیس (حکمتِ مشّائی) شرح لمعه (فقہ) کتاب الارث از جواهر (فقہ) لئالی منتظمه جوہر نضید حاشیۂ ملا عبداللہ شرح شمسیہ (علمِ منطق) تشریح الافلاک (شیخ بہائیؒ) اصولِ اقلیدس اور دیگر متعدد علمی و ریاضیاتی کتب

خلاصۂ آثار و تألیفات

علامہ حسن زادہ آملیؒ خود اپنی تصنیفی و تحقیقی سرگرمیوں کے بارے میں فرماتے ہیں: «چونکہ نفس کو کچھ نہ کچھ مشغول رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ حکما نے کہا ہے: *“نفس کو مشغول رکھو، ورنہ وہ تمہیں مشغول کر دے گی”*، اسی لیے میں نے معقول و منقول علوم کی درسی کتابوں، مختلف فنون و موضوعات پر توضیحات، حواشی اور رسائل و جزوات تحریر کیے ہیں۔»

ذیل میں اُن کی چند اہم اور متنوع تصنیفات و تحقیقات درج ہیں:


تکمله منهاج البراعه** – عربی شرح نهج البلاغہ (۵ جلدیں)، تکمیلِ شرحِ میرزا حبیب‌الله خویی؛ مقدمہ علامہ شعرانیؒ کا ہے۔ رساله در ولایت و امامت رساله در رؤیت و عدم آن – بر مبنای حکمت و کلام رساله در لقاء الله – بر منہج عرفان فصل الخطاب فی عدم تحریف کتاب رب الأرباب – کا ترجمہ: قرآن ہرگز تحریف نہیں ہوا تحقیق در صبح و شفق و فرق میان فجر صادق و کاذب تصحیح و اعرابِ اصول کافی (۲ جلدیں) اضبط المقال فی ضبط اسماء الرجال – رجالِ حدیث کے اسماء کی ضبط و تحقیق تصحیح خلاصه منهج الصادقین – تفسیرِ قرآن ملا فتح‌الله کاشانیؒ تحقیق در قرائت حفص و ابو بکر بن عیاش (روایانِ عاصم) تصحیح خزائنِ ملا احمد نراقیؒ – مقدّمہ و حواشی شامل تصحیح کلیله و دمنه – فارسی متنِ ابوالمعالی نصرالله منشی، توضیحات و ترجمۂ دو باب آخری بقلمِ خود انسان کامل از دیدگاه نهج‌البلاغه – اور اس کی خلاصہ رسالہ؛ بہ مناسبتِ ہزارهٔ نهج‌البلاغه تصحیح نصاب الصبیان – مقدّمہ و تقریظِ استاد شعرانیؒ دروس معرفة الوقت و القبلة– عربی درسنامہ، بر مبنای ریاضی و تفاسیر آیات و روایات شرح زیج بہادری – فارسی میں تعلیقات بر اسفارِ صدرالمتألهینؒ (از ابتدا تا انتہا) تعلیقات بر شرح خواجه طوسیؒ بر اشارات ابن سیناؒ تعلیقات بر منطقِ منظومهٔ سبزواریؒ رساله در مناسک حج و مسائل فقهی متنوع تعلیقات بر شرح مطوّل تفتازانی (هشت باب معانی) شرح فصوص فارابی – فارسی یک‌دورۂ کامل رساله در تجردِ نفسِ ناطقه– دلائلِ عقلی و نقلی (۷۰ سے زائد) رساله در توقیفیتِ اسماء الهی ردّ جبر و تفویض؛ اثباتِ “امر بین الامرین”بر مبنای حکمتِ متعالیه مراتب و درجاتِ قرآنِ مجید دیوانِ اشعارِ علامه حسن‌زادهؒ – مزین بہ تقریظِ حکیم الٰہی قمشہ‌ایؒ اصولِ اقلیدس، اُکَرِ مانالاؤس، اُکَرِ ثاوذوسیوس و مساکن – عربی و فارسی تعلیقات، ریاضی و نجوم میں رساله در میلِ کلی و مسائلِ هندسی و نجومی مرتبط با آیاتِ قرآن علمِ اوفاق کے دروس – ۷۰ سے زیادہ اسباق رساله در ظلّ (تانژانت) تفسیرِ بسم الله الرحمن الرحیم رسالہ در سیر و سلوک الهی‌نامه – معروف عرفانی نثر هزار و یک نکته – نکاتِ علمی و حکمی تحقیقات هندسی و نجومی (دایره، مجسطی، بعد بین المرکزین) دروس معرفتِ نفس – فارسی میں ۱۵۵ دروس تک اتحاد عقل و عاقل و معقول – مفصل و مستند تحقیق رسالہ در مثل افلاطونی و عالمِ مثال وجیزه در تجدد امثال و حرکتِ جوہری تعلیقات بر تحفة الاجلّة فی معرفة القبلة رسائل در تضاد، علم، و جعل تعلیقات بر شرح قیصری بر فصوصِ محیی‌الدین ابن عربیؒ تعلیقات بر قبلهٔ ملا مظفر مآخذ و مصادرِ نهج‌البلاغه و استدراکات بر آن تعلیقات بر شرحِ علامه حلیؒ بر تجریدِ خواجه طوسیؒ مفاتیح المخازن – تتمۂ مقدمات قیصری بر شرحِ فصوص شرح فصوص المحیی‌الدین بن عربی – فارسی میں، دورۂ کامل انه الحق ونهج الولایه دروس اتحادِ عاقل بمعقول وحدت از دیدگاه عارف و حکیم سی فصل در معرفتِ وقت و قبله شرح باب توحیدِ حدیقهٔ سنائی، شرح ابیاتی از حافظ، و حواشی بر شرح مجسطی نیشابوری و نیز دیگر جزوات و تعلیقاتِ علمی در موضوعاتِ متنوع فلسفہ، عرفان، ریاضی و تفسیر۔


یہ فہرست علامہ حسن زادہ آملیؒ کی وسعتِ علمی، جامعیتِ فکری، اور ریاضی و فلسفہ سے لے کر عرفان و تفسیر تک ان کے ہمہ جہت غور و تحقیق کی نمایاں مثال ہے۔ ان کی تصانیف محض درسی یا حاشیاتی نہیں بلکہ ہر ایک میں شرح، تحقیق، تصحیحِ نسخ، اور اشاراتِ عمیق عرفانی کا امتزاج پایا جاتا ہے — جو انہیں بحق لقبِ «ذوالفنونِ زمان» کا مستحق بناتا ہے۔

وفات

علامہ حسن‌زادہ آملی ۳ مہر ۱۴۰۰ ہجری شمسی، مطابق ۱۸ صفر ۱۴۴۳ ہجری قمری کو شہر آمل کے اسپتالمیں وفات پا گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق، انہیں روستائے ایرا میں واقع ان کی ذاتی رہائش گاہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ان کی رحلت حوزاتِ علمیہ اور عالمِ تشیع کے لیے ایک عظیم علمی و عرفانی نقصان ہے، تاہم ان کی گراں قدر علمی و معنوی میراث ہمیشہ طالبانِ معرفت و حکمت کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔



متعلقہ تلاشیں

حوزہ علمیہ قم

حوالہ جات