"بینک عالمی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{خانہ معلومات تنظیم | |||
| عنوان = | |||
| تصویر = بانک جهانی.png | |||
| اسم = بینک عالمی (World Bank) | |||
| اراکین کی تعداد = 44 ممالک | |||
| سربراہان = | |||
| اهداف = غربت کے خلاف جدوجہد، اقتصادی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کی مالی معاونت | |||
| اصول = | |||
| موقف = | |||
| اقتصادی پوزیشن = | |||
|تبلیغات کے طریقے = | |||
|ویب سائٹ = [https://www.worldbank.org/ext/en/home WorldBank.org] | |||
}} | |||
'''بینک عالمی'''، جسے انگریزی میں(World Bank) ورلڈ بینک کہا جاتا ہے ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا مشاورت پیش کرنا اور تحقیق انجام دینا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کی حمایت اور غربت میں کمی لائی جا سکے۔ | '''بینک عالمی'''، جسے انگریزی میں(World Bank) ورلڈ بینک کہا جاتا ہے ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا مشاورت پیش کرنا اور تحقیق انجام دینا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کی حمایت اور غربت میں کمی لائی جا سکے۔ | ||
| سطر 55: | سطر 69: | ||
* محفوظ اور پائیدار توانائی نقل و حمل اور شہری آمد و رفت کی ترقی | * محفوظ اور پائیدار توانائی نقل و حمل اور شہری آمد و رفت کی ترقی | ||
* اقتصادی مواقع پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینا | * اقتصادی مواقع پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینا | ||
== ارکان == | |||
استعمال کیے گئے ماخذ کے مطابق بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی کے ایک سو نواسی ممالک رکن ہیں جبکہ بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے ایک سو چوہتر ممالک رکن ہیں۔ رکن ممالک کے نمائندے عموماً مرکزی بینکوں کے سربراہان وزرائے خزانہ یا وزرائے ترقی میں سے منتخب کیے جاتے ہیں اور ارکان ہر سال بینک عالمی گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں میں جمع ہوتے ہیں۔ | |||
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رکنیت بینک عالمی کی رکنیت کے لیے ضروری شرائط میں سے ایک ہے اور بینک عالمی کی رکنیت بھی بینک عالمی گروپ کے بعض دیگر اداروں کی رکنیت کے لیے شرط شمار ہوتی ہے۔ | |||
ماخذ کے مطابق اندورا کیوبا لیختن اشتائن موناکو اور شمالی کوریا اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں شامل ہیں لیکن بینک عالمی کے رکن نہیں ہیں۔ اس کے برعکس کوسوو اقوام متحدہ کا رکن نہ ہونے کے باوجود بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور بینک عالمی کا رکن ہے | |||
== ووٹ دینے کی طاقت اور بینک کا سرمایہ == | |||
بینک عالمی کے رکن ممالک کی ووٹنگ کی طاقت ان کے حصص کی تعداد کے مطابق مقرر ہوتی ہے۔ بینک کا سرمایہ ممالک کے وعدہ کردہ حصص اور رکنیت فیس بانڈز کی فروخت اور مالیاتی منڈیوں اور رکن ممالک سے حاصل کیے گئے قرضوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ | |||
ماخذ میں بیان کردہ ضوابط کے مطابق بینک کا سرمایہ ایک لاکھ ڈالر مالیت کے حصص میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ملک کو دو سو پچاس مستقل ووٹوں کے علاوہ ہر حصے کے بدلے ایک ووٹ حاصل ہوتا ہے۔ | |||
ممالک کے حصص کی مقدار ان کی اقتصادی اور مالی حیثیت پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی ملک کے بینک میں شامل ہونے کے وقت اسے اپنے حصے کی ایک مقدار ادا کرنا ہوتی ہے اور اگر قرضوں کی ضمانتوں سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے بینک کو سرمایہ درکار ہو تو باقی وعدہ کردہ سرمایہ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ | |||
== بینک عالمی کی غیر جانب داری == | |||
بینک عالمی کے معاہدے کی دفعات کے مطابق یہ ادارہ اقتصادی اور سیاسی غیر جانب داری کا پابند ہے اور اسے رکن ممالک کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اس اصول کے تحت ارکان کی داخلی سیاست یا سیاسی رجحان کو براہ راست بینک کے فیصلوں کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ | |||
تاہم بینک عالمی کے ناقدین کا موقف ہے کہ بڑے حصص داروں خصوصاً ریاستہائے متحدہ امریکہ کی اقتصادی طاقت بینک کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور ووٹنگ کا غیر مساوی نظام زیادہ سرمایہ رکھنے والے ممالک کو زیادہ اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔ | |||
== تنظیمی ڈھانچہ == | |||
بینک عالمی کے رکن ممالک بینک کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں انتظامی بورڈز کے ذریعے نمائندگی کرتے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کا تقرر یا انتخاب رکن ممالک کرتے ہیں۔ بینک عالمی کا ایگزیکٹو بورڈ پچیس ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل ہوتا ہے اور ان کے ساتھ پچیس متبادل ڈائریکٹرز بھی کام کرتے ہیں۔ | |||
سب سے زیادہ حصص رکھنے والے پانچ ممالک میں سے ہر ایک ایک ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرتا ہے جبکہ باقی ڈائریکٹرز کا انتخاب رکن ممالک کرتے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے دو کردار ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ بینک عالمی کے عہدیدار ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان ممالک یا ممالک کے گروہوں کے نمائندے ہوتے ہیں جنہوں نے انہیں مقرر یا منتخب کیا ہوتا ہے۔ | |||
وہ بینک کے روزمرہ امور کی نگرانی کرتے ہیں اور قرضوں اور مالی سہولیات سے متعلق تجاویز کے ساتھ ساتھ بینک کی عمومی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ | |||
بینک عالمی گروپ کا صدر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتا ہے اور اسے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز منتخب کرتے ہیں۔ ماخذ میں اس روایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بینک عالمی کے صدر کا انتخاب امریکہ کی جانب سے نامزد امیدواروں میں سے کیا جاتا رہا ہے | |||
== بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ == | |||
بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ بین الاقوامی ترقیاتی ایسوسی ایشن جسے مختصراً آئی ڈی اے کہا جاتا ہے بینک عالمی گروپ سے وابستہ اداروں میں سے ایک ہے جو قانونی طور پر ایک آزاد بین الاقوامی شخصیت کا حامل ہے اگرچہ انتظامی امور اور عملے کے حوالے سے اس کے بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے لیے ترقیاتی قرضے فراہم کرتا ہے جن کی ضمانت حکومتیں دیتی ہیں | |||
== بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے بنیادی فرائض == | |||
* اقتصادی سرگرمیوں کو وسعت دینا | |||
* ترقی پذیر ممالک میں پیداواری صلاحیت اور معیار زندگی میں اضافہ کرنا | |||
* ترقی پذیر ممالک کو آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنا | |||
* بدعنوانی کے خلاف جدوجہد | |||
بینک عالمی بدعنوانی کو غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے حصول کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ سمجھتا ہے اور جامع ترقی کے حصول کے لیے اس کے خلاف جدوجہد کو ضروری قرار دیتا ہے۔ | |||
یہ بینک رکن ممالک میں بدعنوانی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری شعبے کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانے شفافیت میں اضافہ کرنے جواب دہی کو بہتر بنانے اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے نئے ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ | |||
انیس سو نوے کی دہائی کے اواخر میں سرکاری بدعنوانی کے قرضہ جاتی کارروائیوں کی مؤثریت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث بینک عالمی نے بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک واضح حکمت عملی اختیار کی۔ | |||
== عالمی ترقی کے لیے بدعنوانی کے خلاف عالمی پروگرام == | |||
بینک عالمی نے ترقی کے لیے بدعنوانی کے خلاف عالمی پروگرام کے تحت بدعنوانی سے متعلق کمزوریوں اور غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو کم کرنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اختیار کی ہے۔ | |||
اس پروگرام کے اہم محور درج ذیل ہیں: | |||
* فائدہ اٹھانے والے حقیقی مالکان کی ملکیت میں شفافیت کو مضبوط بنانا اور غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کا مقابلہ کرنا | |||
* سرکاری خریداری اور معاہدوں کے انتظام میں بدعنوانی کو کم کرنا | |||
* جوابدہی کے اداروں اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا | |||
* اعداد و شمار اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں جدت پیدا کرنا | |||
اسی تناظر میں بینک عالمی نے بدعنوانی کے خلاف تجربہ گاہ قائم کی ہے تاکہ ممالک کی مدد کی جا سکے علمی مواد تیار کیا جا سکے اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کے میدان میں جدید اور مؤثر طریقے وضع کیے جا سکیں۔ | |||
== مالیاتی منصوبوں میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات == | |||
بینک عالمی اپنے مالیاتی وسائل کو مقررہ مقاصد کے مطابق استعمال ہونے کو یقینی بنانے کے لیے اپنے منصوبوں میں خصوصی مالیاتی اور نگرانی کے نظام نافذ کرتا ہے۔ ان نظاموں میں مالیاتی انتظام سرکاری خریداری تحقیقات اور تادیبی طریقہ کار شامل ہیں۔ | |||
بینک عالمی کا محکمہ سالمیت ایک آزاد ادارہ ہے جو بینک عالمی گروپ کی مالیاتی سرگرمیوں میں دھوکہ دہی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔ اگر کسی خلاف ورزی کا ثبوت مل جائے تو متعلقہ کمپنیوں اور افراد کو بینک عالمی گروپ کی مالی معاونت سے چلنے والے نئے منصوبوں میں شرکت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ | |||
ماخذ کے مطابق انیس سو ننانوے سے دو ہزار انیس تک نو سو چھپن کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ اسی عرصے میں چار سو اکیس کثیرالجہتی پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔ | |||
== بدعنوانی کی روک تھام اور اس کی نشاندہی میں حکومتوں کی مدد == | |||
بینک عالمی حکومتوں کو عوامی مالیاتی انتظام کی بہتری عدالتی خدمات کی مضبوطی مالیاتی معلومات کے نظام کے قیام عوام کو معلومات تک زیادہ رسائی فراہم کرنے اور انتظامی بدعنوانی کے مواقع کم کرنے کے سلسلے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ | |||
یہ بینک بدعنوانی کے خطرات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے کے اعداد و شمار اور مشین لرننگ جیسی ٹیکنالوجیز سے بھی استفادہ کرتا ہے۔ | |||
== منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات == | |||
بینک عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بھی کام کرتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تعاون سے رکن ممالک کو قانونی ادارہ جاتی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ | |||
بینک عالمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈز نے دو ہزار ایک میں منی لانڈرنگ کو ایک اہم عالمی تشویش قرار دیا جس کے باعث ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت سیاست اور معاشرے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ | |||
دو ہزار دو میں مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات سے متعلق معیارات کو ان دونوں اداروں کی سرگرمیوں میں مدنظر رکھا گیا اور اسی سال اکتوبر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف ممالک کے قانونی اور ادارہ جاتی نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزمائشی پروگرام شروع کیا گیا۔ | |||
== مالیاتی سالمیت کا ادارہ == | |||
بینک عالمی کا مالیاتی سالمیت کا ادارہ رکن ممالک کو غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کی نشاندہی نگرانی اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے ضروری صلاحیت پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ | |||
یہ ادارہ مالیاتی شفافیت میں اضافے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرات کے جائزے مالیاتی نگرانی کو مضبوط بنانے تفتیش کاروں اور ججوں کی تحقیقی صلاحیت بڑھانے اثاثوں کے افشا کے نظام کو بہتر بنانے اور مالیاتی شمولیت کے فروغ کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ | |||
ماخذ کے مطابق دو ہزار گیارہ سے اس ادارے نے قومی خطرات کے جائزے کے ذریعے سو سے زیادہ ممالک کی رہنمائی کی ہے اور شریک ممالک میں پانچ ہزار سے زیادہ ماہرین کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرات کے جائزے کے بارے میں تربیت دی گئی ہے۔ | |||
اس کے علاوہ پینسٹھ ممالک نے اپنے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی ہیں جبکہ پچاس سے زیادہ ممالک نے اس شعبے سے متعلق قانونی نظام قائم یا اس میں نظر ثانی کی ہے۔ | |||
== چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی کا اقدام == | |||
بینک عالمی اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم نے چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی کا منصوبہ قائم کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ترقی پذیر ممالک اور مالیاتی مراکز کو بدعنوانی سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منی لانڈرنگ روکنے اور چوری شدہ اثاثوں کو ان کے اصل ممالک کو واپس کرنے کے عمل کو آسان بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ | |||
== ایران اور بینک عالمی == | |||
[[ایران]] برٹن وڈز کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک میں شامل تھا اور اسے بینک عالمی کے بانی ارکان میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایران نے چھ جنوری انیس سو چھیالیس کے قانون کے تحت چوبیس ملین ڈالر کے سرمائے کے ساتھ باضابطہ طور پر بینک عالمی کی رکنیت حاصل کی۔ | |||
ایران کی حکومت نے رکنیت حاصل کرنے کے بعد کئی مرتبہ اپنے سرمائے میں اضافہ کیا اور ماخذ میں آخری مرتبہ سرمائے میں اضافے کا ذکر مارچ انیس سو اٹھاسی میں کیا گیا ہے۔ | |||
اسی ماخذ کے مطابق ایران کے بینک عالمی میں تیرہ ہزار دو سو تینتالیس ووٹ اور ایک ہزار تین سو انتیس حصص تھے۔ بینک عالمی کی جانب سے ایران کو دیا جانے والا پہلا قرض بھی سات اگست انیس سو انسٹھ کو منظور ہوا۔ انیس سو چھیانوے میں بینک عالمی کے ایک سو اکیاون رکن ممالک میں ایران اثاثوں کی مقدار کے اعتبار سے چودہویں مقام پر تھا<ref>[https://www.fiu.gov.ir/portal/home/?generaltext/239077/239083/240862/ بانک جهانی]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 21 ستمبر 2026ء</ref>۔ | |||
== متعلقہ موضوعات == | |||
* [[ریاستہائے متحدہ امریکا|ریاستہائے متحدہ امریکہ]] | |||
* [[اقوام متحده|اقوام متحدہ]] | |||
* [[ایران]] | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[fa: بانک جهانی]] | |||
[[زمرہ:بین الاقوامی تنظیمیں]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 17:16، 20 ستمبر 2026ء
| بینک عالمی | |
|---|---|
| اسم | بینک عالمی (World Bank) |
| اراکین کی تعداد | 44 ممالک |
| اهداف | غربت کے خلاف جدوجہد، اقتصادی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کی مالی معاونت |
بینک عالمی، جسے انگریزی میں(World Bank) ورلڈ بینک کہا جاتا ہے ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا مشاورت پیش کرنا اور تحقیق انجام دینا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کی حمایت اور غربت میں کمی لائی جا سکے۔
بینک عالمی دنیا کے ایک سو تیس سے زائد ممالک میں موجود ہے اور اس کا مرکزی دفتر واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے بینک عالمی کی اصطلاح بنیادی طور پر بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی اور بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو گروپ بینک عالمی کے پانچ اداروں میں سے دو ادارے ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بینک عالمی کی قرضہ دینے کی حکمت عملی ماحولیاتی اور سماجی ملاحظات سے متاثر رہی ہے اور غیر سرکاری تنظیموں اور ماحولیاتی گروہوں کے ساتھ تعاون بھی اس کے پروگراموں میں بڑھا ہے۔
تاریخچہ
بینک عالمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جولائی انیس سو چوالیس میں برٹن وڈز کانفرنس کے دوران وجود میں آئے اس کانفرنس میں چوالیس ممالک کے نمائندے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست نیو ہیمپشائر کے علاقے برٹن وڈز میں جمع ہوئے تاکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی معیشت کی تعمیر نو کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
اس کانفرنس کے اہم فکری رہنماؤں میں برطانیہ کے خزانے کے مشیر جان مینارڈ کینز اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ خزانہ کے معاون وزیر ہری ڈیکسٹر وائٹ شامل تھے۔
برٹن وڈز کانفرنس کے نتیجے میں دو بڑے ادارے وجود میں آئے جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی شامل ہیں۔
بینک عالمی کے ابتدائی مقاصد میں جنگ سے متاثرہ ممالک کی معیشتوں کی تعمیر نو اور ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کی حمایت شامل تھی۔
نومبر انیس سو سینتالیس میں اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد بینک عالمی کا قیام باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا اور یہ ادارہ اقوام متحدہ سے متعلق خصوصی اداروں میں شامل ہو گیا۔
بینک عالمی کی ابتدائی سرگرمیاں
بینک عالمی نے اپنا پہلا قرض فرانس کو دیا اور اس کے بعد دیگر یورپی ممالک کو بھی مالی امداد فراہم کی گئی۔ انیس سو سینتالیس میں مارشل پلان کے آغاز کے بعد بینک عالمی نے دنیا کے مختلف علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مالی معاونت پر زیادہ توجہ مرکوز کی ان منصوبوں میں توانائی آبپاشی اور نقل و حمل جیسے شعبے شامل تھے۔
انیس سو اڑتالیس میں کسی غیر یورپی ملک کو دیا جانے والا بینک عالمی کا پہلا قرض چلی کو دیا گیا جس کی مالیت تیرہ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر تھی اور یہ رقم آبی بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی گئی تھی۔
بینک عالمی نے اپنی فنی معاونت کے پروگرام کو بھی وسعت دی اور انیس سو پچپن میں اقتصادی ترقی کا ادارہ قائم کیا تاکہ رکن ممالک کے حکام کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔
چھبیس جنوری انیس سو ساٹھ کو بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ بینک عالمی سے وابستہ اداروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا گیا تاکہ آسان شرائط پر قرض اور مالی سہولیات فراہم کرکے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی جا سکے۔
بین الاقوامی تنازعات میں بینک عالمی کا کردار
بینک عالمی نے بعض ایسے بین الاقوامی تنازعات میں بھی ثالث یا سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے جن کے اقتصادی پہلو موجود تھے۔
استعمال کیے گئے ماخذ میں تین معاملات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ایران کی تیل کی صنعت کو قومیانے کا مسئلہ دریائے سندھ کے آبی نظام کی ترقی اور دریائے نیل پر بلند اسوان ڈیم کی مالی معاونت شامل ہیں۔
بینک عالمی کے مقاصد
بینک عالمی کا بنیادی مقصد رکن اور ترقی پذیر ممالک کے ترقیاتی اور پیداواری منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔
یہ قرضے اور مالی سہولیات پینے کے صاف پانی کی فراہمی تعلیم ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور صنعتی اشیا کی درآمد جیسے منصوبوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
بینک عالمی نے شدید غربت کے خاتمے اور قابل رہائش سیارے پر مشترکہ خوشحالی کے فروغ کو اپنے بنیادی مقاصد میں شامل کیا ہے۔
یہ ادارہ ایسی پائیدار اور مؤثر ترقی پر بھی زور دیتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی حیاتیاتی تنوع میں کمی اور وباؤں جیسے بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو۔
بینک عالمی کی جانب سے اعلان کردہ اہم ترجیحات درج ذیل ہیں
بینک عالمی کا بنیادی مقصد رکن اور ترقی پذیر ممالک کے ترقیاتی اور پیداواری منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔ یہ قرضے اور مالی سہولیات پینے کے پانی کی فراہمی تعلیم ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور صنعتی اشیا کی درآمد جیسے منصوبوں کے لیے مختص کی جا سکتی ہیں۔
بینک عالمی نے شدید غربت کے خاتمے اور ایک قابل رہائش سیارے پر مشترکہ خوشحالی کے فروغ کو اپنے بنیادی مقاصد میں شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ ایسی مؤثر اور پائیدار ترقی پر زور دیتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور وباؤں جیسے بحرانوں کے مقابلے میں مضبوط اور لچک دار ہو۔
بینک عالمی کی جانب سے اعلان کردہ اہم ترین ترجیحات درج ذیل ہیں:
- عالمی صحت کی بہتری جامع تعلیم اور سماجی تحفظ کی حمایت
- ایسے منصوبوں پالیسیوں حکمرانی اور نظاموں میں سرمایہ کاری جو مواقع اور خوشحالی پیدا کریں
- پائیدار غذائی آبی اور اقتصادی نظام کا قیام
- محفوظ اور پائیدار توانائی نقل و حمل اور شہری آمد و رفت کی ترقی
- اقتصادی مواقع پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینا
ارکان
استعمال کیے گئے ماخذ کے مطابق بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی کے ایک سو نواسی ممالک رکن ہیں جبکہ بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے ایک سو چوہتر ممالک رکن ہیں۔ رکن ممالک کے نمائندے عموماً مرکزی بینکوں کے سربراہان وزرائے خزانہ یا وزرائے ترقی میں سے منتخب کیے جاتے ہیں اور ارکان ہر سال بینک عالمی گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں میں جمع ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رکنیت بینک عالمی کی رکنیت کے لیے ضروری شرائط میں سے ایک ہے اور بینک عالمی کی رکنیت بھی بینک عالمی گروپ کے بعض دیگر اداروں کی رکنیت کے لیے شرط شمار ہوتی ہے۔
ماخذ کے مطابق اندورا کیوبا لیختن اشتائن موناکو اور شمالی کوریا اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں شامل ہیں لیکن بینک عالمی کے رکن نہیں ہیں۔ اس کے برعکس کوسوو اقوام متحدہ کا رکن نہ ہونے کے باوجود بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور بینک عالمی کا رکن ہے
ووٹ دینے کی طاقت اور بینک کا سرمایہ
بینک عالمی کے رکن ممالک کی ووٹنگ کی طاقت ان کے حصص کی تعداد کے مطابق مقرر ہوتی ہے۔ بینک کا سرمایہ ممالک کے وعدہ کردہ حصص اور رکنیت فیس بانڈز کی فروخت اور مالیاتی منڈیوں اور رکن ممالک سے حاصل کیے گئے قرضوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
ماخذ میں بیان کردہ ضوابط کے مطابق بینک کا سرمایہ ایک لاکھ ڈالر مالیت کے حصص میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ملک کو دو سو پچاس مستقل ووٹوں کے علاوہ ہر حصے کے بدلے ایک ووٹ حاصل ہوتا ہے۔
ممالک کے حصص کی مقدار ان کی اقتصادی اور مالی حیثیت پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی ملک کے بینک میں شامل ہونے کے وقت اسے اپنے حصے کی ایک مقدار ادا کرنا ہوتی ہے اور اگر قرضوں کی ضمانتوں سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے بینک کو سرمایہ درکار ہو تو باقی وعدہ کردہ سرمایہ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
بینک عالمی کی غیر جانب داری
بینک عالمی کے معاہدے کی دفعات کے مطابق یہ ادارہ اقتصادی اور سیاسی غیر جانب داری کا پابند ہے اور اسے رکن ممالک کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اس اصول کے تحت ارکان کی داخلی سیاست یا سیاسی رجحان کو براہ راست بینک کے فیصلوں کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔
تاہم بینک عالمی کے ناقدین کا موقف ہے کہ بڑے حصص داروں خصوصاً ریاستہائے متحدہ امریکہ کی اقتصادی طاقت بینک کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور ووٹنگ کا غیر مساوی نظام زیادہ سرمایہ رکھنے والے ممالک کو زیادہ اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔
تنظیمی ڈھانچہ
بینک عالمی کے رکن ممالک بینک کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں انتظامی بورڈز کے ذریعے نمائندگی کرتے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کا تقرر یا انتخاب رکن ممالک کرتے ہیں۔ بینک عالمی کا ایگزیکٹو بورڈ پچیس ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل ہوتا ہے اور ان کے ساتھ پچیس متبادل ڈائریکٹرز بھی کام کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ حصص رکھنے والے پانچ ممالک میں سے ہر ایک ایک ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرتا ہے جبکہ باقی ڈائریکٹرز کا انتخاب رکن ممالک کرتے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے دو کردار ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ بینک عالمی کے عہدیدار ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان ممالک یا ممالک کے گروہوں کے نمائندے ہوتے ہیں جنہوں نے انہیں مقرر یا منتخب کیا ہوتا ہے۔
وہ بینک کے روزمرہ امور کی نگرانی کرتے ہیں اور قرضوں اور مالی سہولیات سے متعلق تجاویز کے ساتھ ساتھ بینک کی عمومی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔
بینک عالمی گروپ کا صدر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتا ہے اور اسے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز منتخب کرتے ہیں۔ ماخذ میں اس روایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بینک عالمی کے صدر کا انتخاب امریکہ کی جانب سے نامزد امیدواروں میں سے کیا جاتا رہا ہے
بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ
بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ بین الاقوامی ترقیاتی ایسوسی ایشن جسے مختصراً آئی ڈی اے کہا جاتا ہے بینک عالمی گروپ سے وابستہ اداروں میں سے ایک ہے جو قانونی طور پر ایک آزاد بین الاقوامی شخصیت کا حامل ہے اگرچہ انتظامی امور اور عملے کے حوالے سے اس کے بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے لیے ترقیاتی قرضے فراہم کرتا ہے جن کی ضمانت حکومتیں دیتی ہیں
بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے بنیادی فرائض
- اقتصادی سرگرمیوں کو وسعت دینا
- ترقی پذیر ممالک میں پیداواری صلاحیت اور معیار زندگی میں اضافہ کرنا
- ترقی پذیر ممالک کو آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنا
- بدعنوانی کے خلاف جدوجہد
بینک عالمی بدعنوانی کو غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے حصول کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ سمجھتا ہے اور جامع ترقی کے حصول کے لیے اس کے خلاف جدوجہد کو ضروری قرار دیتا ہے۔
یہ بینک رکن ممالک میں بدعنوانی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری شعبے کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانے شفافیت میں اضافہ کرنے جواب دہی کو بہتر بنانے اور عوامی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے نئے ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔
انیس سو نوے کی دہائی کے اواخر میں سرکاری بدعنوانی کے قرضہ جاتی کارروائیوں کی مؤثریت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث بینک عالمی نے بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک واضح حکمت عملی اختیار کی۔
عالمی ترقی کے لیے بدعنوانی کے خلاف عالمی پروگرام
بینک عالمی نے ترقی کے لیے بدعنوانی کے خلاف عالمی پروگرام کے تحت بدعنوانی سے متعلق کمزوریوں اور غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو کم کرنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اختیار کی ہے۔
اس پروگرام کے اہم محور درج ذیل ہیں:
- فائدہ اٹھانے والے حقیقی مالکان کی ملکیت میں شفافیت کو مضبوط بنانا اور غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کا مقابلہ کرنا
- سرکاری خریداری اور معاہدوں کے انتظام میں بدعنوانی کو کم کرنا
- جوابدہی کے اداروں اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا
- اعداد و شمار اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں جدت پیدا کرنا
اسی تناظر میں بینک عالمی نے بدعنوانی کے خلاف تجربہ گاہ قائم کی ہے تاکہ ممالک کی مدد کی جا سکے علمی مواد تیار کیا جا سکے اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کے میدان میں جدید اور مؤثر طریقے وضع کیے جا سکیں۔
مالیاتی منصوبوں میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات
بینک عالمی اپنے مالیاتی وسائل کو مقررہ مقاصد کے مطابق استعمال ہونے کو یقینی بنانے کے لیے اپنے منصوبوں میں خصوصی مالیاتی اور نگرانی کے نظام نافذ کرتا ہے۔ ان نظاموں میں مالیاتی انتظام سرکاری خریداری تحقیقات اور تادیبی طریقہ کار شامل ہیں۔
بینک عالمی کا محکمہ سالمیت ایک آزاد ادارہ ہے جو بینک عالمی گروپ کی مالیاتی سرگرمیوں میں دھوکہ دہی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔ اگر کسی خلاف ورزی کا ثبوت مل جائے تو متعلقہ کمپنیوں اور افراد کو بینک عالمی گروپ کی مالی معاونت سے چلنے والے نئے منصوبوں میں شرکت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
ماخذ کے مطابق انیس سو ننانوے سے دو ہزار انیس تک نو سو چھپن کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ اسی عرصے میں چار سو اکیس کثیرالجہتی پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔
بدعنوانی کی روک تھام اور اس کی نشاندہی میں حکومتوں کی مدد
بینک عالمی حکومتوں کو عوامی مالیاتی انتظام کی بہتری عدالتی خدمات کی مضبوطی مالیاتی معلومات کے نظام کے قیام عوام کو معلومات تک زیادہ رسائی فراہم کرنے اور انتظامی بدعنوانی کے مواقع کم کرنے کے سلسلے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ بینک بدعنوانی کے خطرات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے کے اعداد و شمار اور مشین لرننگ جیسی ٹیکنالوجیز سے بھی استفادہ کرتا ہے۔
منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات
بینک عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف بھی کام کرتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تعاون سے رکن ممالک کو قانونی ادارہ جاتی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
بینک عالمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈز نے دو ہزار ایک میں منی لانڈرنگ کو ایک اہم عالمی تشویش قرار دیا جس کے باعث ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت سیاست اور معاشرے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دو ہزار دو میں مالیاتی ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات سے متعلق معیارات کو ان دونوں اداروں کی سرگرمیوں میں مدنظر رکھا گیا اور اسی سال اکتوبر میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف ممالک کے قانونی اور ادارہ جاتی نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزمائشی پروگرام شروع کیا گیا۔
مالیاتی سالمیت کا ادارہ
بینک عالمی کا مالیاتی سالمیت کا ادارہ رکن ممالک کو غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کی نشاندہی نگرانی اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے ضروری صلاحیت پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ ادارہ مالیاتی شفافیت میں اضافے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرات کے جائزے مالیاتی نگرانی کو مضبوط بنانے تفتیش کاروں اور ججوں کی تحقیقی صلاحیت بڑھانے اثاثوں کے افشا کے نظام کو بہتر بنانے اور مالیاتی شمولیت کے فروغ کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔
ماخذ کے مطابق دو ہزار گیارہ سے اس ادارے نے قومی خطرات کے جائزے کے ذریعے سو سے زیادہ ممالک کی رہنمائی کی ہے اور شریک ممالک میں پانچ ہزار سے زیادہ ماہرین کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرات کے جائزے کے بارے میں تربیت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پینسٹھ ممالک نے اپنے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی ہیں جبکہ پچاس سے زیادہ ممالک نے اس شعبے سے متعلق قانونی نظام قائم یا اس میں نظر ثانی کی ہے۔
چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی کا اقدام
بینک عالمی اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم نے چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی کا منصوبہ قائم کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ترقی پذیر ممالک اور مالیاتی مراکز کو بدعنوانی سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منی لانڈرنگ روکنے اور چوری شدہ اثاثوں کو ان کے اصل ممالک کو واپس کرنے کے عمل کو آسان بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ایران اور بینک عالمی
ایران برٹن وڈز کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک میں شامل تھا اور اسے بینک عالمی کے بانی ارکان میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایران نے چھ جنوری انیس سو چھیالیس کے قانون کے تحت چوبیس ملین ڈالر کے سرمائے کے ساتھ باضابطہ طور پر بینک عالمی کی رکنیت حاصل کی۔
ایران کی حکومت نے رکنیت حاصل کرنے کے بعد کئی مرتبہ اپنے سرمائے میں اضافہ کیا اور ماخذ میں آخری مرتبہ سرمائے میں اضافے کا ذکر مارچ انیس سو اٹھاسی میں کیا گیا ہے۔
اسی ماخذ کے مطابق ایران کے بینک عالمی میں تیرہ ہزار دو سو تینتالیس ووٹ اور ایک ہزار تین سو انتیس حصص تھے۔ بینک عالمی کی جانب سے ایران کو دیا جانے والا پہلا قرض بھی سات اگست انیس سو انسٹھ کو منظور ہوا۔ انیس سو چھیانوے میں بینک عالمی کے ایک سو اکیاون رکن ممالک میں ایران اثاثوں کی مقدار کے اعتبار سے چودہویں مقام پر تھا[1]۔
متعلقہ موضوعات
حوالہ جات
- ↑ بانک جهانی-اخذ شدہ بہ تاریخ: 21 ستمبر 2026ء