"حرام" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حرام کو حرام کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 2: | سطر 2: | ||
[[فائل:حرام-2.jpg|تصغیر|بائیں]] | [[فائل:حرام-2.jpg|تصغیر|بائیں]] | ||
'''حرام''' کے معنی ممنوع اور حلال کے مقابل ہیں۔ دینی اصطلاح میں حرام اس کام کو کہتے ہیں جسے خدا کی جانب سے ممنوع اور جس سے منع کیا گیا ہو، اور جس کا انجام دینا گناہ شمار ہوتا ہو۔ حرام کو ترک کرنا اور واجب کو انجام دینا قربِ الٰہی کی طرف سفر کا پہلا مرحلہ ہے۔ | '''حرام'''، کے معنی ممنوع اور حلال کے مقابل ہیں۔ دینی اصطلاح میں حرام اس کام کو کہتے ہیں جسے خدا کی جانب سے ممنوع اور جس سے منع کیا گیا ہو، اور جس کا انجام دینا گناہ شمار ہوتا ہو۔ حرام کو ترک کرنا اور واجب کو انجام دینا قربِ الٰہی کی طرف سفر کا پہلا مرحلہ ہے۔ | ||
حرام لغت میں کسی چیز کو ناروا قرار دینے اور ممنوع کرنے، یا ایسی چیز کے معنی میں ہے جس سے دنیا و آخرت میں فائدہ اٹھانا جائز نہ ہو۔ [[ فقہ|اسلامی فقہ]] کی اصطلاح میں حرام وہ عمل ہے جسے ترک کرنا مکلف پر لازم ہو اور اسے انجام دینا عذاب اور سزا کا موجب ہو۔ | حرام لغت میں کسی چیز کو ناروا قرار دینے اور ممنوع کرنے، یا ایسی چیز کے معنی میں ہے جس سے دنیا و آخرت میں فائدہ اٹھانا جائز نہ ہو۔ [[ فقہ|اسلامی فقہ]] کی اصطلاح میں حرام وہ عمل ہے جسے ترک کرنا مکلف پر لازم ہو اور اسے انجام دینا عذاب اور سزا کا موجب ہو۔ | ||
| سطر 44: | سطر 44: | ||
===ذاتی اور عرضی=== | ===ذاتی اور عرضی=== | ||
'''حرمتِ ذاتی''' براہِ راست شرعی دلیل سے ثابت ہوتی ہے؛ جیسے | '''حرمتِ ذاتی''' براہِ راست شرعی دلیل سے ثابت ہوتی ہے؛ جیسے شراب پینے کی حرمت۔ | ||
'''حرمتِ عرضی''' اس صورت میں ہوتی ہے جب کوئی فعل بذاتِ خود حرام نہ ہو، لیکن نذر یا قسم کی وجہ سے حرام ہو جائے؛ جیسے کوئی مکروہ کام شرعی نذر یا قسم کی وجہ سے حرام ہو جائے۔<ref>ناصر مکارم شیرازی، دائرۃ المعارفِ فقہِ مقارن، ج ۱، ص ۴۳۰۔</ref> | '''حرمتِ عرضی''' اس صورت میں ہوتی ہے جب کوئی فعل بذاتِ خود حرام نہ ہو، لیکن نذر یا قسم کی وجہ سے حرام ہو جائے؛ جیسے کوئی مکروہ کام شرعی نذر یا قسم کی وجہ سے حرام ہو جائے۔<ref>ناصر مکارم شیرازی، دائرۃ المعارفِ فقہِ مقارن، ج ۱، ص ۴۳۰۔</ref> | ||
| سطر 120: | سطر 120: | ||
یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فیهِما إِثْمٌ کَبیرٌ وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُهُما أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما ...سورہ = بقرہ، آیت = ۲۱۹ | یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فیهِما إِثْمٌ کَبیرٌ وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُهُما أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما ...سورہ = بقرہ، آیت = ۲۱۹ | ||
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ | لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ | ||
شراب کے مادی نقصانات میں یہ شامل ہے کہ وہ غذائی نالی اور معدے کی سوزش، معدے کے سرطان، معدے کے زخم اور متعدد دیگر گوارشی و عصبی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔<ref>اشاراتِ علمیِ اعجاز آمیزِ قرآن، ص ۱۳۴–۱۴۷؛ المیزان، ج ۲، ص ۱۹۲؛ مع الطب فی القرآن، ص ۱۴۰۔</ref> | شراب کے مادی نقصانات میں یہ شامل ہے کہ وہ غذائی نالی اور معدے کی سوزش، معدے کے سرطان، معدے کے زخم اور متعدد دیگر گوارشی و عصبی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔<ref>اشاراتِ علمیِ اعجاز آمیزِ قرآن، ص ۱۳۴–۱۴۷؛ المیزان، ج ۲، ص ۱۹۲؛ مع الطب فی القرآن، ص ۱۴۰۔</ref> | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 15:05، 1 ستمبر 2026ء

حرام، کے معنی ممنوع اور حلال کے مقابل ہیں۔ دینی اصطلاح میں حرام اس کام کو کہتے ہیں جسے خدا کی جانب سے ممنوع اور جس سے منع کیا گیا ہو، اور جس کا انجام دینا گناہ شمار ہوتا ہو۔ حرام کو ترک کرنا اور واجب کو انجام دینا قربِ الٰہی کی طرف سفر کا پہلا مرحلہ ہے۔
حرام لغت میں کسی چیز کو ناروا قرار دینے اور ممنوع کرنے، یا ایسی چیز کے معنی میں ہے جس سے دنیا و آخرت میں فائدہ اٹھانا جائز نہ ہو۔ اسلامی فقہ کی اصطلاح میں حرام وہ عمل ہے جسے ترک کرنا مکلف پر لازم ہو اور اسے انجام دینا عذاب اور سزا کا موجب ہو۔
حرمت فقہ کے پانچ احکام میں سے ایک حکم ہے اور اس سے مراد حرام کام کو انجام دینے کی ممانعت ہے۔
لفظ شناسی
حرمت ’’ح ـ ر ـ م‘‘ کے مادے سے ہے اور لغت میں ممانعت کے معنی رکھتی ہے۔[1] بعض اہلِ لغت نے اسے کسی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اسے منع کر دینا قرار دیا ہے۔[2]
اصطلاح میں کسی چیز کی حرمت سے مراد اس کی بے حرمتی کا روا نہ ہونا ہے۔[3] یا حرمت اس شرعی حکم کو کہتے ہیں جو لازمی طور پر اس عمل یا چیز سے منع کرتا ہے جس سے وہ متعلق ہو۔[4]
شرعی طور پر ممنوع چیز کو ’’حرام‘‘، ’’محرّم‘‘ اور ’’حُرُمات‘‘ کہا جاتا ہے۔[5]
حرمت کا تاریخی پس منظر
بعض اعمال اور اشیا کی حرمت تمام الٰہی شریعتوں اور دیگر اقوام میں ثابت احکام میں سے رہی ہے۔ ان اقوام کو بعض کام انجام دینے یا بعض امور میں تصرف کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ زیادہ تر صورتوں میں اس ممانعت کا سرچشمہ خدا اور شریعت ہے؛ جیسے مردار، خون اور سور کا گوشت حرام ہے:
حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزیر. سورہ = مائدہ، آیت = ۳
کبھی لوگ اپنی طرف سے بعض امور کو حرام قرار دے کر انہیں خدا کی طرف منسوب کرتے تھے؛ مثلاً بعض چوپایوں پر سوار ہونا حرام قرار دینا۔[6]
اسی طرح بعض اعمال اور اشیا کی حرمت تمام الٰہی شریعتوں میں مشترک رہی ہے؛ جیسے خدا کے ساتھ شرک کی حرمت۔[7] کبھی کوئی حکم کسی خاص شریعت کے پیروکاروں کے ساتھ مخصوص رہا اور بعد میں آنے والی شریعت کے ذریعے وہ حکم اٹھا لیا گیا؛ جیسے بعض حلال غذاؤں کا یہودیوں پر حرام ہونا۔[8]
اسلامی محرمات کا دائرہ وسیع ہے اور اس میں انسانی عقائد، اشیا اور اعمال شامل ہیں؛ خواہ وہ عبادی ہوں، سیاسی ہوں، اقتصادی ہوں یا کسی اور نوعیت کے۔
حرمت کے حکم کی حکمت
شیعہ علما کے مطابق احکام کے مصالح و مفاسد کے تابع ہونے کے نظریے کی بنیاد پر ہر وہ کام جس میں عام لوگوں کے لیے مفسدہ ہو، اور وہ مفسدہ اس قدر شدید ہو کہ اس سے اجتناب ناگزیر ہو، حرام قرار پاتا ہے؛ اگرچہ بعض خاص افراد کے لیے اس کام میں کوئی مصلحت بھی موجود ہو۔[9]
فقہی اصطلاح میں حرام
فقہ کی اصطلاح میں حرام اس چیز کو کہتے ہیں جس کا فعل شرعاً مذمت اور ملامت کا سبب ہو، یا ایسا امر جس کا انجام دینا عذاب کا موجب ہو۔[10][11]
حرام کی اقسام
حرام اعمال کو مختلف اقسام اور انواع میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ فقہی منابع میں حلال کی متعدد اقسام بیان ہوئی ہیں، لیکن حرمت اور حرام اعمال کی تقسیم کم بیان کی گئی ہے۔
فقہی منابع میں حرام کی اقسام کے ضمن میں درج ذیل موارد ذکر کیے گئے ہیں:
ذاتی اور عرضی
حرمتِ ذاتی براہِ راست شرعی دلیل سے ثابت ہوتی ہے؛ جیسے شراب پینے کی حرمت۔
حرمتِ عرضی اس صورت میں ہوتی ہے جب کوئی فعل بذاتِ خود حرام نہ ہو، لیکن نذر یا قسم کی وجہ سے حرام ہو جائے؛ جیسے کوئی مکروہ کام شرعی نذر یا قسم کی وجہ سے حرام ہو جائے۔[12]
شرعی اور عقلی
حرمتِ شرعی شرعی دلیل سے ثابت ہوتی ہے؛ جیسے جھوٹ بولنا۔
حرمتِ عقلی قطعی حکمِ عقل سے ثابت ہوتی ہے؛ جیسے ایسی غذا کھانا جس سے شدید نقصان پہنچتا ہو۔ قاعدہ ’’کُلُّ ما حَکَمَ بِهِ العَقلُ حَکَمَ بِهِ الشَّرع‘‘ کے مطابق اس کی حرمت واضح ہو جاتی ہے۔[13]
نفسی اور غیری
حرمتِ نفسی خود عمل سے متعلق ہوتی ہے؛ جیسے دوسروں کو نقصان پہنچانا جو بذاتِ خود حرام ہے۔
حرمتِ غیری اس عمل کے حکم کو کہتے ہیں جو کسی حرام عمل کا مقدمہ ہو؛ جیسے شراب تیار کرنے کی نیت سے انگور کاشت کرنا۔[14]
ابدی اور غیر ابدی
حرمتِ ابدی ہمیشہ کے لیے جاری رہتی ہے؛ جیسے ساس سے نکاح کی حرمت۔
حرمتِ غیر ابدی ایسی حرمت ہے جو بعد میں اٹھ سکتی ہے؛ جیسے سالی سے نکاح کی حرمت، جو صرف اس وقت تک رہتی ہے جب تک پہلی بیوی سے نکاح برقرار ہو۔[15]
حرام عبادات
- اولاد کا مستحب روزہ، اگر والدین نے اسے روزہ رکھنے سے منع کیا ہو۔
- ایسے شخص کا روزہ جسے یقین ہو، یا عقلی طور پر یہ احتمال ہو، کہ روزہ اس کے لیے نقصان دہ ہے۔
- منا میں موجود افراد کے لیے ایامِ تشریق کے روزے۔
- عورت کا مستحب روزہ، اگر اس سے شوہر کا حق ضائع ہوتا ہو۔
- یوم الشک کا روزہ، اگر اسے پہلے ماہِ رمضان کی نیت سے رکھا جائے۔
- عیدالفطر کا روزہ۔
- عیدالاضحیٰ کا روزہ۔
- صمت کا روزہ۔[16]
- وصال کا روزہ۔[17]
- مسافر کا روزہ۔[18]
- حائضہ عورت کی نماز۔
دیگر محرمات
- غیبت؛
- بہتان؛
- جھوٹ؛
- دوسروں کا مذاق اڑانا؛
- شراب نوشی؛
- اسراف؛
- تبذیر؛
- چوری؛
- مردار کھانا؛
- دوسروں کی بدگوئی کرنا؛
- تجسس؛
- زنا۔
حرام قرار دینے کی حکمتیں اور مقاصد
حلال و حرام سمیت تمام الٰہی قوانین کی تشریع انسانی مصالح و مفاسد پر مبنی ہے۔ خدا نے انسانوں کے لیےریع انسانی مصالح و مفاسد پر مبنی ہے۔ خدا نے انسانوں کے لیے نقصان دہ چیز کو حرام قرار دیا ہے: یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّباتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبائِث...سورہ = اعراف، آیت = ۱۵۷
روایات کے مطابق فساد، تلف اور ضرر ان اسباب میں شامل ہیں جن کی وجہ سے خدا نے انسانوں کو بعض امور سے منع کیا اور انہیں حرام قرار دیا ہے۔[19]
البتہ الٰہی قوانین کی حکمتیں اور مقاصد کبھی انسانوں پر واضح ہوتے ہیں اور انسان اپنی عقل و فہم کے ذریعے انہیں سمجھ سکتا ہے، لیکن بہت سے مواقع پر یہ حکمتیں اور مقاصد انسانوں سے پوشیدہ ہوتے ہیں اور وہ امور کے حلال یا حرام ہونے کی اصل حکمت و علت کو سمجھنے سے عاجز ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے مواقع پر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ الٰہی احکام، بالخصوص محرمات، کے سامنے تسلیم و رضا اختیار کرے۔
چنانچہ قرآن نے مؤمنین کو الٰہی احکام کے سامنے مکمل تسلیم ہونے کا حکم دیا ہے:
وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَی اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ یَکُونَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَ مَنْ یَعْصِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً مُبینا. سورہ = احزاب، آیت = ۳۶
کوئی مؤمن مرد اور مؤمن عورت اس وقت کوئی اختیار نہیں رکھتے جب خدا اور اس کا رسول کسی امر کا فیصلہ کر دیں، اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔
حرام قرار دیے جانے کی بعض حکمتیں اور مقاصد درج ذیل ہیں:
نقصان دہ ہونے کی وجہ سے
محرمات کی تشریع کی اہم ترین حکمتوں میں سے ایک ان کا نقصان دہ ہونا ہے۔ یہ نقصان اور فساد کبھی مادی و جسمانی اور کبھی معنوی ہوتا ہے۔ کبھی اس کا اثر صرف دنیا میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
اسلام میں ممنوع حرام امور میں شراب بھی شامل ہے، جس میں مادی، جسمانی اور معنوی، تینوں طرح کے نقصانات پائے جاتے ہیں:
یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فیهِما إِثْمٌ کَبیرٌ وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُهُما أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما ...سورہ = بقرہ، آیت = ۲۱۹
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔
شراب کے مادی نقصانات میں یہ شامل ہے کہ وہ غذائی نالی اور معدے کی سوزش، معدے کے سرطان، معدے کے زخم اور متعدد دیگر گوارشی و عصبی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔[20]
شراب کے معنوی نقصانات میں کینہ و اختلاف پیدا ہونا، خدا کی یاد سے دوری اور نماز سے غفلت شامل ہیں۔[21]
مکلفین کی آزمائش کے لیے
حلال و حرام سمیت الٰہی احکام کی تشریع کے مقاصد میں سے ایک مکلفین کی آزمائش بھی ہے:
... لِکُلٍّ جَعَلْنا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَ مِنْهاجاً وَ لَوْ شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَکُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَ لکِنْ لِیَبْلُوَکُمْ فی ما آتاکُمْ...سورہ = مائدہ، آیت = ۴۸
ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور واضح راستہ مقرر کیا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ چاہتا ہے کہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔
’’ما آتاکم‘‘ سے مراد الٰہی تکالیف اور احکام ہیں۔[22] ان احکام کی تشریع کے ذریعے مؤمنین کی صفیں مشرکین اور منافقین سے جدا ہوتی ہیں، فرمان برداروں کو اجر ملتا ہے اور منکرین و نافرمانوں کو سزا دی جاتی ہے۔
گناہ گاروں کو سزا دینے کے لیے
قرآن کے مطابق خدا نے گناہ گاروں کو سزا دینے کے لیے بنی اسرائیل پر بعض حلال غذائیں حرام کر دیں:
فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذینَ هادُوا حَرَّمْنا عَلَیْهِمْ طَیِّباتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبیلِ اللَّهِ کَثیرا. سورہ = نساء، آیت = ۱۶۰
ان میں بعض سینگ والے جانوروں کا گوشت اور گائے و بھیڑ کی چربی بھی شامل تھی۔[23] ان تحریمات کا سبب بننے والے گناہوں میں راہِ خدا سے روکنا، سود خوری اور دوسروں کے اموال غصب کرنا بیان کیے گئے ہیں۔[24]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ مقاییس اللغۃ، ج ۲، ص ۴۵؛ لسان العرب، ج ۳، ص ۱۳۸، ’’حرم‘‘۔
- ↑ التحقیق، ج ۲، ص ۲۰۴، ’’حرم‘‘۔
- ↑ معجم لغۃ الفقہاء، ص ۱۷۷۔
- ↑ معجم الفاظ الفقہ الجعفری، ص ۱۵۸؛ المعالم الجدیدۃ، ص ۱۰۱۔
- ↑ معجم الفاظ الفقہ الجعفری، ص ۳۷۳؛ القاموس الفقہی، ص ۸۵۔
- ↑ سورۂ انعام، آیت ۱۳۸۔
- ↑ سورۂ لقمان، آیت ۱۳۔
- ↑ سورۂ نساء، آیت ۱۶۰۔
- ↑ سبحانی، ارشاد العقول إلی مباحث الأصول، ج ۳، ص ۳۹۴۔
- ↑ کشاف اصطلاحات الفنون، مولوی محمد اعلیٰ بن علی تہانوی حنفی، ج ۱، ص ۶۶۰۔
- ↑ فرہنگِ اصطلاحاتِ فقہِ اسلامی (بابِ معاملات)، جابری عرب لو، محسن، پہلا ایڈیشن، ۱۳۶۲ش، تہران، ص ۸۵۔
- ↑ ناصر مکارم شیرازی، دائرۃ المعارفِ فقہِ مقارن، ج ۱، ص ۴۳۰۔
- ↑ ناصر مکارم شیرازی، دائرۃ المعارفِ فقہِ مقارن، ج ۱، ص ۴۳۰۔
- ↑ ناصر مکارم شیرازی، دائرۃ المعارفِ فقہِ مقارن، ج ۱، ص ۴۳۰۔
- ↑ ناصر مکارم شیرازی، دائرۃ المعارفِ فقہِ مقارن، ج ۱، ص ۴۳۱۔
- ↑ یعنی یہ نیت کرنا کہ روزہ توڑنے والی چیزوں سے اجتناب کے ساتھ پورے دن گفتگو سے بھی پرہیز کرے گا۔
- ↑ یعنی عمداً دو دن کے روزوں کو اس طرح مسلسل رکھنا کہ ان کے درمیان افطار نہ کرے۔
- ↑ حرام، مکروہ اور مستحب روزے۔
- ↑ وسائل الشیعہ، ج ۱۷، ص ۸۴؛ مستدرک الوسائل، ج ۱۶، ص ۱۶۵؛ جامع احادیث الشیعہ، ج ۲۳، ص ۱۲۱۔
- ↑ اشاراتِ علمیِ اعجاز آمیزِ قرآن، ص ۱۳۴–۱۴۷؛ المیزان، ج ۲، ص ۱۹۲؛ مع الطب فی القرآن، ص ۱۴۰۔
- ↑ سورۂ مائدہ، آیت ۹۱۔
- ↑ مجمع البیان، ج ۳، ص ۳۵۰؛ التفسیر الکبیر، ج ۱۲، ص ۱۳۔
- ↑ سورۂ انعام، آیت ۱۴۶۔
- ↑ سورۂ نساء، آیات ۱۶۰–۱۶۱۔