"حسنا جلیل" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حسنا جلیل کو حسنا جلیل کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 2 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 2: | سطر 2: | ||
'''حسنا جلیل''' پہلی خاتون ہیں جو [[افغانستان]] میں وزارت داخلہ (وزارت کشور) کی معاونت تک پہنچیں<ref>[https://www.bbc.com/persian/afghanistan-46417078 بی بی سی فارسی ویب سائٹ]</ref>. انہیں تاریخ ۱۴ قوس/آذر ۱۳۹۷ کو افغانستان کے وزیر داخلہ کی حکمت عملی اور پالیسی کی معاون کے طور پر مقرر کیا گیا<ref>[https://www.isna.ir/news/97091407188/%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D9%86-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%AF ایسنا ویب سائٹ]</ref>. | '''حسنا جلیل''' پہلی خاتون ہیں جو [[افغانستان]] میں وزارت داخلہ (وزارت کشور) کی معاونت تک پہنچیں<ref>[https://www.bbc.com/persian/afghanistan-46417078 بی بی سی فارسی ویب سائٹ]</ref>. انہیں تاریخ ۱۴ قوس/آذر ۱۳۹۷ کو افغانستان کے وزیر داخلہ کی حکمت عملی اور پالیسی کی معاون کے طور پر مقرر کیا گیا<ref>[https://www.isna.ir/news/97091407188/%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D9%86-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%AF ایسنا ویب سائٹ]</ref>. | ||
==تعلیم اور سوابق== | ==تعلیم اور سوابق== | ||
حسنا جلیل کے پاس | حسنا جلیل کے پاس امریکن یونیورسٹی آف کابل سے انتظامیہ اور کاروبار میں ماسٹر کی ڈگری ہے<ref>[http://www.afghanpaper.com/nbody.php?id=156299 افغانستان نیٹ ورک]</ref>. وزارت داخلہ کی حکمت عملی اور پالیسی کی معاونت سے پہلے، وہ افغانستان کی وزارت معدن اور پٹرولیم میں تجزیہ، تشخیص اور پالیسی کے محکمے کی سربراہ تھیں。 | ||
==ردعمل== | ==ردعمل== | ||
انہیں ۲۶ سال کی عمر میں وزیر داخلہ کے معاون کے عہدے پر مقرر کیا گیا اور ان کی بطور وزیر داخلہ معاون تقرری نے سوشل میڈیا پر وسیع ردعمل پیدا کیا۔ ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ وہ اس عہدے کے لیے «نوجوان اور غیر تجربہ کار» ہیں<ref>[https://www.entekhab.ir/fa/news/444849/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D9%86-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%AF انتخاب ویب سائٹ]</ref>. | انہیں ۲۶ سال کی عمر میں وزیر داخلہ کے معاون کے عہدے پر مقرر کیا گیا اور ان کی بطور وزیر داخلہ معاون تقرری نے سوشل میڈیا پر وسیع ردعمل پیدا کیا۔ ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ وہ اس عہدے کے لیے «نوجوان اور غیر تجربہ کار» ہیں<ref>[https://www.entekhab.ir/fa/news/444849/%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%86-%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D9%86-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%AF انتخاب ویب سائٹ]</ref>. | ||
معاون سخنگوی وزارت کشور افغانستان نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر لکھا: افغانستان میں عورت دشمنی ثقافت بن چکی ہے اور صرف طالبان ہی خواتین کی اقتدار میں شراکت کے رکاوٹ نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے وزارت داخلہ کی معاونت کے اعلان کے بعد، ہم سائبر سپیس میں کچھ ردعمل دیکھ رہے ہیں۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ابھی تک کچھ ہم وطن افغانستان میں انسانی وسائل کے شعبے میں پیدا ہونے والی وسیع صلاحیتوں کو نہیں سمجھ سکے ہیں۔ بہتر ہے کہ جلدی فیصلہ نہ کریں!<ref>[https://www.isna.ir/news/97091407188/%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D9%86-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%AF افغانستان میں عورت دشمنی]</ref>. | معاون سخنگوی وزارت کشور افغانستان نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر لکھا: [[افغانستان]] میں عورت دشمنی ثقافت بن چکی ہے اور صرف طالبان ہی خواتین کی اقتدار میں شراکت کے رکاوٹ نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے وزارت داخلہ کی معاونت کے اعلان کے بعد، ہم سائبر سپیس میں کچھ ردعمل دیکھ رہے ہیں۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ابھی تک کچھ ہم وطن [[افغانستان]] میں انسانی وسائل کے شعبے میں پیدا ہونے والی وسیع صلاحیتوں کو نہیں سمجھ سکے ہیں۔ بہتر ہے کہ جلدی فیصلہ نہ کریں!<ref>[https://www.isna.ir/news/97091407188/%DB%8C%DA%A9-%D8%B2%D9%86-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D8%AF افغانستان میں عورت دشمنی]</ref>. | ||
==حوالہ جات== | ==حوالہ جات== | ||
| سطر 23: | سطر 17: | ||
[[زمرہ:سیاسی شخصیات]] | [[زمرہ:سیاسی شخصیات]] | ||
[[زمرہ:افغانستان]] | [[زمرہ:افغانستان]] | ||
[[fa: حسنا جلیل]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 18:02، 11 جون 2026ء

حسنا جلیل پہلی خاتون ہیں جو افغانستان میں وزارت داخلہ (وزارت کشور) کی معاونت تک پہنچیں[1]. انہیں تاریخ ۱۴ قوس/آذر ۱۳۹۷ کو افغانستان کے وزیر داخلہ کی حکمت عملی اور پالیسی کی معاون کے طور پر مقرر کیا گیا[2].
تعلیم اور سوابق
حسنا جلیل کے پاس امریکن یونیورسٹی آف کابل سے انتظامیہ اور کاروبار میں ماسٹر کی ڈگری ہے[3]. وزارت داخلہ کی حکمت عملی اور پالیسی کی معاونت سے پہلے، وہ افغانستان کی وزارت معدن اور پٹرولیم میں تجزیہ، تشخیص اور پالیسی کے محکمے کی سربراہ تھیں。
ردعمل
انہیں ۲۶ سال کی عمر میں وزیر داخلہ کے معاون کے عہدے پر مقرر کیا گیا اور ان کی بطور وزیر داخلہ معاون تقرری نے سوشل میڈیا پر وسیع ردعمل پیدا کیا۔ ان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ وہ اس عہدے کے لیے «نوجوان اور غیر تجربہ کار» ہیں[4].
معاون سخنگوی وزارت کشور افغانستان نے اپنے سرکاری فیس بک پیج پر لکھا: افغانستان میں عورت دشمنی ثقافت بن چکی ہے اور صرف طالبان ہی خواتین کی اقتدار میں شراکت کے رکاوٹ نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے وزارت داخلہ کی معاونت کے اعلان کے بعد، ہم سائبر سپیس میں کچھ ردعمل دیکھ رہے ہیں۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ابھی تک کچھ ہم وطن افغانستان میں انسانی وسائل کے شعبے میں پیدا ہونے والی وسیع صلاحیتوں کو نہیں سمجھ سکے ہیں۔ بہتر ہے کہ جلدی فیصلہ نہ کریں![5].