مندرجات کا رخ کریں

"حسن شحاتہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حسن شحاتہ کو حسن شحاتہ کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 37: سطر 37:


== واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد ==
== واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد ==
اس دہشت گردانہ واقعے میں سات افراد یقینی طور پر ہلاک ہوئے۔ ۱. حسن شحاتہ ۶۸ سالہ؛ ۲. ابراہیم محمد شحاتہ ۵۵ سالہ برادر حسن شحاتہ؛ ۳. شحاتہ محمد شحاتہ ۳۵ سالہ برادر دیگر حسن شحاتہ؛ ۴. عبدالقادر حسنین عمر ۴۵ سالہ؛ ۵. عمران منصور عمران ۴۵ سالہ استاد الازہر و مقیم ابوالنمرس؛ ۶ و ۷. گھر والی دو خواتین۔ اس دردناک حملے میں بعض اہل روستہ ابومسلم بھی زخمی ہوئے جن کے نام رپورٹوں میں اس طرح درج ہیں: ۱. عبدالمنجی محمد عبدالحمید ۳۷ سالہ، استاد الازہر و مقیم ابونمرس؛ ۲. شعبان محمد عبدالحمید ۴۰ سالہ، خطیب جمعہ رسمی ادارہ اوقاف؛ ۳. گھر کے مالک اور میزبان: فرحت علی。
اس دہشت گردانہ واقعے میں سات افراد یقینی طور پر ہلاک ہوئے۔ ۱. حسن شحاتہ ۶۸ سالہ؛ ۲. ابراہیم محمد شحاتہ ۵۵ سالہ برادر حسن شحاتہ؛ ۳. شحاتہ محمد شحاتہ ۳۵ سالہ برادر دیگر حسن شحاتہ؛ ۴. عبدالقادر حسنین عمر ۴۵ سالہ؛ ۵. عمران منصور عمران ۴۵ سالہ استاد الازہر و مقیم ابوالنمرس؛ ۶ و ۷. گھر والی دو خواتین۔ اس دردناک حملے میں بعض اہل روستہ ابومسلم بھی زخمی ہوئے جن کے نام رپورٹوں میں اس طرح درج ہیں: ۱. عبدالمنجی محمد عبدالحمید ۳۷ سالہ، استاد الازہر و مقیم ابونمرس؛ ۲. شعبان محمد عبدالحمید ۴۰ سالہ، خطیب جمعہ رسمی ادارہ اوقاف؛ ۳. گھر کے مالک اور میزبان: فرحت علی۔
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
*دیکھیں: ویکی اخوان میں مدخل حامد الزقم؛ [http://ikhwanwiki.com ikhwanwiki.com.]۔
*دیکھیں: ویکی اخوان میں مدخل حامد الزقم؛ [http://ikhwanwiki.com ikhwanwiki.com.]۔

حالیہ نسخہ بمطابق 19:40، 9 جون 2026ء

حسن شحاتہ
پورا نامحسن محمد شحاتة موسى العنانی
ذاتی معلومات
پیدائش1947 ء
یوم پیدائش10 نومبر
پیدائش کی جگہمصر
وفات2013 ء
وفات کی جگہمصر
مذہباسلام، شیعہ
مناصبشیعہ عالم دین

حسن شحاتہ ایک سنی حنفی خاندان میں پیدا ہوئے، لیکن ۱۹۹۶ عیسوی میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ شیعہ ہو گئے ہیں۔ ان پر حسنی مبارک کے دور میں مصری حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی وجہ سے تین مہینے جیل کی سزا ہوئی اور بارہیں تین سو سے زائد شیعا علماء کے ساتھ امن و امان خراب کرنے اور مذاہب کی توہین کے الزام میں گرفتار ہوئے اور پھر رہا ہو گئے۔ جیل سے رہائی کے بعد انہیں سلفی نیروں نے قتل کر کے شہید کر دیا۔

مختصر تعارف

وی جامعہ الازہر کے فارغ التحصیل تھے اور پھر اسی دانشگاه کے اساتذہ میں شمار ہونے لگے اور پنجاه سال کی عمر میں مذہب تشیع کی طرف مائل ہو گئے۔ جیزہ اور قاہرہ میں ان کے پرجوش خطبات کی وجہ سے انہیں مصر میں شیعا خطیب اور رہنما کے طور پر جانا جانے لگا، اور اسی امر نے بہت سے پیروکاروں کو ان کے گرد جمع کر دیا۔ حسن شحاتہ کے خطبات اگرچہ روشنی پھیلانے والے اور وحدت کے پیغام پر مبنی تھے، لیکن انہوں نے مصر میں تشیع کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا، اس لیے بعض مصری سلفی گروہوں نے خطرہ محسوس کیا اور ان کے قتل کا اقدام کیا۔ حسن شحاتہ ۲۳ جون ۲۰۱۳ کو صوبہ جیزہ میں شیعوں کے بارہویں امام کے یادگیری کے مراسم میں ناخوشگوار طریقے سے قتل ہو گئے۔ انتہا پسند سلفیوں کے ایک گروہ نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔

حسن شحاتہ کے قتل کا طریقہ

عصر چودہ شعبان ۱۴۳۴ کو مصری سلفی گروہوں کے ایک جماعت نے صوبہ جیزہ کے تابع روستے ابومسلم میں نیمہ شعبان کے جشن کے مراسم میں، پہلے گھر والوں اور موجود شیعوں پر پانی بند کر دیا، پھر خاندانی دعوت والے گھر پر حملہ کیا،

اور چونکہ انہیں راستہ نہیں مل رہا تھا تو ہتھوڑے اور کلہاڑی سے گھر کی دیوار توڑ دی اور گھر کو آگ لگا دی جبکہ اندر کچھ لوگ تھے اور یہاں تک کہ قرآن کو بھی جلا دیا۔

دوسری منزل کے گرنے اور دروازہ ٹوٹنے کے باوجود جبکہ خاندان اور رشتہ دار وہیں تھے، حسن شحاتہ اور ان کے تین بھائیوں اور شاگرد کو باہر نکالا اور مسلسل وار کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاشوں کو برہنہ کر کے دو گھنٹے سڑکوں پر گھسیٹا

جبکہ نعرے لگا رہے تھے: «شیعوں کو قتل کرو» اور «شیعہ کافر ہیں»۔ کہا جاتا ہے کہ سیکیورٹی نیروں نے ان مناظر کو دیکھا۔ نیوز ویب سائٹ العالم کی رپورٹ کے مطابق، تقریباً تین ہزار انتہا پسند سلفیوں نے چودہ شعبان کی شام شیخ کے دعوتی گھر کا محاصرہ کیا اور شیعا عالم شیخ حسن شحاتہ کو ذبح کر کے شہید کر دیا اور ان کے ساتھ ان کے دو بھائی، بھتیجے اور ایک اور شخص کو بھی شہید کر دیا۔

سلفیوں نے صوبہ «الجیزہ» کے علاقہ اہرام میں روستے «زاویۃ أبومسلم» میں میزبان کے گھر پر حملہ کر کے لوگوں سے موجود لوگوں کو قتل کرنے کا کہا۔ یہ روستہ قاہرہ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس کی آبادی ۳۰ ہزار ہے جس میں سے ۱۵۰ شیعا ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع کی رپورٹ کے مطابق، لاشوں کو زمین پر گھسیٹنے اور روستے «زاویہ ابومسلم» میں گھمانے کی وجہ سے ان میں سے ایک شخص کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی اور مصری حکام نے «DNA» ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا ہے۔

واقعہ کی جگہ پر مراسم کی خصوصیات

شحاتہ اور ان کے ساتھی علاقہ ابومسلم میں مہمان تھے اور حملے کا گھر شیخ کی بہن کے شوہر کا تھا جو ایک شیعا شخص اور مقامی امام جماعت تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مراسم میزبان کی بیٹی کی شادی کے موقع پر ترتیب دیے گئے تھے اور مہمانوں کو نجی دعوت دی گئی تھی۔ وہ دوپہر کے دسترخوان پر تھے کہ حملہ ہوا، البتہ شیخ حسن شحاتہ شہادت کے وقت روزے سے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی نیروں نے واقعے سے پہلے پورے روستے کا محاصرہ کر لیا تھا، لیکن ظاہر ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور پولیس نے کہا کہ ہمارے پاس اس سلسلے میں کوئی حکم نہیں ہے۔

واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد

اس دہشت گردانہ واقعے میں سات افراد یقینی طور پر ہلاک ہوئے۔ ۱. حسن شحاتہ ۶۸ سالہ؛ ۲. ابراہیم محمد شحاتہ ۵۵ سالہ برادر حسن شحاتہ؛ ۳. شحاتہ محمد شحاتہ ۳۵ سالہ برادر دیگر حسن شحاتہ؛ ۴. عبدالقادر حسنین عمر ۴۵ سالہ؛ ۵. عمران منصور عمران ۴۵ سالہ استاد الازہر و مقیم ابوالنمرس؛ ۶ و ۷. گھر والی دو خواتین۔ اس دردناک حملے میں بعض اہل روستہ ابومسلم بھی زخمی ہوئے جن کے نام رپورٹوں میں اس طرح درج ہیں: ۱. عبدالمنجی محمد عبدالحمید ۳۷ سالہ، استاد الازہر و مقیم ابونمرس؛ ۲. شعبان محمد عبدالحمید ۴۰ سالہ، خطیب جمعہ رسمی ادارہ اوقاف؛ ۳. گھر کے مالک اور میزبان: فرحت علی۔

حوالہ جات

  • دیکھیں: ویکی اخوان میں مدخل حامد الزقم؛ ikhwanwiki.com.۔