"امیر خان متقی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:امیر خان متقی کو امیر خان متقی کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 21: | سطر 21: | ||
==سوانح حیات== | ==سوانح حیات== | ||
امیر خان متقی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا کی ولسوالی زرمت سے ہے اور وہ کچھ عرصہ ہلمند میں رہے ہیں۔ | امیر خان متقی کا تعلق [[افغانستان]] کے صوبہ پکتیا کی ولسوالی زرمت سے ہے اور وہ کچھ عرصہ ہلمند میں رہے ہیں۔ | ||
== تعلیم == | == تعلیم == | ||
مولوی امیر خان متقی نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی مدرسے اور مسجد میں حاصل کی۔ | مولوی امیر خان متقی نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی مدرسے اور [[مسجد]] میں حاصل کی۔ | ||
کمیونسٹوں کی بغاوت اور سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد، وہ 9 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ وہاں انہوں نے افغان مہاجرین کے دینی مدارس میں صرف، نحو، منطق، بیان، فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر مروجہ علوم حاصل کیے، اور علومِ دینیہ میں دستارِ فراغت حاصل کی۔ | کمیونسٹوں کی بغاوت اور سوویت یونین کے [[افغانستان]] پر حملے کے بعد، وہ 9 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ وہاں انہوں نے افغان مہاجرین کے دینی مدارس میں صرف، نحو، منطق، بیان، فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر مروجہ علوم حاصل کیے، اور علومِ دینیہ میں دستارِ فراغت حاصل کی۔ | ||
==مناصب== | ==مناصب== | ||
# طالبان کی حکومت کے دوران اطلاعات، ثقافت اور تعلیم کے وزیر؛ | # طالبان کی حکومت کے دوران اطلاعات، ثقافت اور تعلیم کے وزیر؛ | ||
# قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن؛ | # [[قطر]] میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن؛ | ||
# طالبان گروپ کے رہنما ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ کے دفتر کے سربراہ (فی الحال اس عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں)؛ | # طالبان گروپ کے رہنما ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ کے دفتر کے سربراہ (فی الحال اس عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں)؛ | ||
# افغانستان کی حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکراتی ٹیم کے رکن۔ | # [[افغانستان]] کی حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکراتی ٹیم کے رکن۔ | ||
== سیاسی سرگرمیاں == | == سیاسی سرگرمیاں == | ||
مولوی امیر خان متقی ایک معروف افغان سیاست دان اور تحریکِ اسلامی طالبان کے نمایاں اراکین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے افغانستان کے اہم سیاسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ | مولوی امیر خان متقی ایک معروف افغان سیاست دان اور تحریکِ اسلامی طالبان کے نمایاں اراکین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے افغانستان کے اہم سیاسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ | ||
| سطر 40: | سطر 40: | ||
سال 1375 میں، کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد، جناب متقی کو وزارتِ اطلاعات و ثقافت کا سرپرست مقرر کیا گیا اور انہوں نے کئی سال وہاں خدمات انجام دیں۔ وہ بطور ترجمان بھی امارتِ اسلامی کے مؤقف کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے رہے۔ | سال 1375 میں، کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد، جناب متقی کو وزارتِ اطلاعات و ثقافت کا سرپرست مقرر کیا گیا اور انہوں نے کئی سال وہاں خدمات انجام دیں۔ وہ بطور ترجمان بھی امارتِ اسلامی کے مؤقف کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے رہے۔ | ||
جناب متقی 1378 میں ادارۂ امور کے رئیس مقرر ہوئے اور مختصر مدت تک خدمت کے بعد حوت 1378 میں وزیرِ تعلیم و تربیہ مقرر کیے گئے۔ وہ افغانستان پر امریکہ کے حملے تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ | جناب متقی 1378 میں ادارۂ امور کے رئیس مقرر ہوئے اور مختصر مدت تک خدمت کے بعد حوت 1378 میں وزیرِ تعلیم و تربیہ مقرر کیے گئے۔ وہ [[افغانستان]] پر [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے حملے تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ | ||
مولوی متقی نے سرکاری انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امارتِ اسلامی کے ایک ممتاز مذاکرات کار کے طور پر بھی | مولوی متقی نے سرکاری انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امارتِ اسلامی کے ایک ممتاز مذاکرات کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ جناب متقی اس وفد کی قیادت کرتے تھے جسے طالبان کے رہنما ملا محمد عمر مجاہد نے شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے مقرر کیا تھا۔ ان کی قیادت میں اس وفد نے شمالی اتحاد کے ساتھ، 6+2 ممالک کی شمولیت کے ساتھ، تاشقند (ازبکستان)، عشق آباد (ترکمانستان) اور جدہ ([[سعودی عرب]]) میں اسلامی کانفرنس کی ثالثی سے گفتگو اور مذاکرات کیے۔ | ||
متقی نے [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے حملے کے خلاف مزاحمت کے دوران کئی برس تک امارتِ اسلامی کے ثقافتی کمیشن کی قیادت بھی کی۔ انہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف متعدد الیکٹرانک، مطبوعہ اور تصویری ذرائع قائم کیے، اور اس طرح وسیع پیمانے پر میڈیا سرگرمیوں کی قیادت کی، جن کا مقصد طالبان مجاہدین کے حوصلے بلند کرنا اور مخالفین کو کمزور کرنا تھا۔ | |||
وہ 2018 میں طالبان کی قیادت کے دفتر کے سربراہ مقرر ہوئے اور دو برس تک اس منصب پر فائز رہے۔ | وہ 2018 میں طالبان کی قیادت کے دفتر کے سربراہ مقرر ہوئے اور دو برس تک اس منصب پر فائز رہے۔ | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 21:13، 30 مئی 2026ء
| امیر خان متقی | |
|---|---|
| پورا نام | امیر خان متقی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | افغانستان کے صوبہ پکتیا کی ولسوالی زرمت |
| وفات | 1970 ء |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| مناصب | طالبان کے سینئر رہنما۔ |
امیر خان متقی طالبان کے سینئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔
سوانح حیات
امیر خان متقی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا کی ولسوالی زرمت سے ہے اور وہ کچھ عرصہ ہلمند میں رہے ہیں۔
تعلیم
مولوی امیر خان متقی نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی مدرسے اور مسجد میں حاصل کی۔ کمیونسٹوں کی بغاوت اور سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد، وہ 9 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ وہاں انہوں نے افغان مہاجرین کے دینی مدارس میں صرف، نحو، منطق، بیان، فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر مروجہ علوم حاصل کیے، اور علومِ دینیہ میں دستارِ فراغت حاصل کی۔
مناصب
- طالبان کی حکومت کے دوران اطلاعات، ثقافت اور تعلیم کے وزیر؛
- قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن؛
- طالبان گروپ کے رہنما ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ کے دفتر کے سربراہ (فی الحال اس عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں)؛
- افغانستان کی حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکراتی ٹیم کے رکن۔
سیاسی سرگرمیاں
مولوی امیر خان متقی ایک معروف افغان سیاست دان اور تحریکِ اسلامی طالبان کے نمایاں اراکین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے افغانستان کے اہم سیاسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں۔ جناب متقی 16 سنبلہ 1400 کو کابل کے قبضے کے بعد امارتِ اسلامی افغانستان کے وزیرِ خارجہ مقرر ہوئے۔
سال 1373 میں، جب تحریکِ طالبان نے ملک میں رائج انارکی کے خلاف قیام کیا، تو جناب متقی ابتدا ہی سے اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اسی کے دائرۂ کار میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اسی سال 1373 میں، قندہار شہر پر طالبان کے قبضے کے بعد، مولوی امیر خان متقی طالبان کی اعلیٰ شوریٰ کے رکن مقرر ہوئے اور اسی سال قندہار ریڈیو کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد کی گئی۔ بعد ازاں 1374 میں وہ ولایتِ قندہار کے اطلاعات و ثقافت کے رئیس مقرر ہوئے۔
سال 1375 میں، کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد، جناب متقی کو وزارتِ اطلاعات و ثقافت کا سرپرست مقرر کیا گیا اور انہوں نے کئی سال وہاں خدمات انجام دیں۔ وہ بطور ترجمان بھی امارتِ اسلامی کے مؤقف کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے رہے۔
جناب متقی 1378 میں ادارۂ امور کے رئیس مقرر ہوئے اور مختصر مدت تک خدمت کے بعد حوت 1378 میں وزیرِ تعلیم و تربیہ مقرر کیے گئے۔ وہ افغانستان پر امریکہ کے حملے تک اسی عہدے پر فائز رہے۔
مولوی متقی نے سرکاری انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امارتِ اسلامی کے ایک ممتاز مذاکرات کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ جناب متقی اس وفد کی قیادت کرتے تھے جسے طالبان کے رہنما ملا محمد عمر مجاہد نے شمالی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے مقرر کیا تھا۔ ان کی قیادت میں اس وفد نے شمالی اتحاد کے ساتھ، 6+2 ممالک کی شمولیت کے ساتھ، تاشقند (ازبکستان)، عشق آباد (ترکمانستان) اور جدہ (سعودی عرب) میں اسلامی کانفرنس کی ثالثی سے گفتگو اور مذاکرات کیے۔
متقی نے امریکہ کے حملے کے خلاف مزاحمت کے دوران کئی برس تک امارتِ اسلامی کے ثقافتی کمیشن کی قیادت بھی کی۔ انہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف متعدد الیکٹرانک، مطبوعہ اور تصویری ذرائع قائم کیے، اور اس طرح وسیع پیمانے پر میڈیا سرگرمیوں کی قیادت کی، جن کا مقصد طالبان مجاہدین کے حوصلے بلند کرنا اور مخالفین کو کمزور کرنا تھا۔
وہ 2018 میں طالبان کی قیادت کے دفتر کے سربراہ مقرر ہوئے اور دو برس تک اس منصب پر فائز رہے۔ اسی طرح 2019 میں امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن کے طور پر بھی انہوں نے خدمات انجام دیں۔ جناب متقی بین الافغان مذاکرات کے لیے امارتِ اسلامی کے وفد کے رکن بھی مقرر کیے گئے تھے۔
مزاحمت کے آخری برسوں میں، 2021 میں، جناب متقی کو امارتِ اسلامی کے دعوت، ارشاد، جلب و جذب کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا، اور اسی کمیشن کے ذریعے کابل کی سابقہ انتظامیہ کے بہت سے اراکین کے ساتھ بات چیت کی گئی، جس کے نتیجے میں 15 اگست 2021 کو یہ تبدیلی پُرامن انداز میں وقوع پذیر ہوئی۔[1]