"احمد العسال" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:احمد العسال کو احمد العسال کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 47: | سطر 47: | ||
فوجی جیل میں اپنی قید کے بارے میں وہ کہتے ہیں: "ہمیں [[قرآن]] سے محروم رکھا گیا، تاہم ہم میں سے ہر ایک نے جو کچھ جانا دوسروں کو سکھایا۔ فوجی جیل میں حراست انتہائی سخت تھی؛ وہ ہمیں ہر چیز، چاہے وہ قرآن ہو یا کوئی کتاب، سے منع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم پر ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ باوجود اس کے، ہم نے اپنے علمی ذخیرے کو آپس میں منتقل کیا، یہاں تک کہ بعض نے کالے کمبل اور لکس صابون پر انگریزی زبان سیکھی۔ مجھے یاد ہے کہ فوجی جیل میں میری پہلی ملاقات سات ماہ بعد ہوئی۔" | فوجی جیل میں اپنی قید کے بارے میں وہ کہتے ہیں: "ہمیں [[قرآن]] سے محروم رکھا گیا، تاہم ہم میں سے ہر ایک نے جو کچھ جانا دوسروں کو سکھایا۔ فوجی جیل میں حراست انتہائی سخت تھی؛ وہ ہمیں ہر چیز، چاہے وہ قرآن ہو یا کوئی کتاب، سے منع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم پر ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ باوجود اس کے، ہم نے اپنے علمی ذخیرے کو آپس میں منتقل کیا، یہاں تک کہ بعض نے کالے کمبل اور لکس صابون پر انگریزی زبان سیکھی۔ مجھے یاد ہے کہ فوجی جیل میں میری پہلی ملاقات سات ماہ بعد ہوئی۔" | ||
== | ==الازہر انتظامیہ میں خدمات== | ||
العسال کہتے ہیں: "شیخ الباقوری میرے طالب علمی کے دور سے مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔ ایک بار جب انہوں نے مجھے وزارت اوقاف میں دیکھا تو پوچھا: 'احمد، تم کہاں ہو؟' میں نے کہا: 'خدا کی قسم! ہمیں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے।' انہوں نے فرمایا: 'تھوڑا صبر اور استقامت بہت سے مسائل حل کر دے گی।' وزارت اوقاف میں ہم نے جماعت کی امامت کے لیے درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا، لیکن شیخ الباقوری نے حکم دیا کہ ہمیں انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ چنانچہ میں اور شیخ قرضاوی وزارت اوقاف میں رسالہ 'منبر الاسلام' کے شعبے میں کام کرنے لگے۔ بعد ازاں شیخ الباقوری نے ہمیں [[محمود شلتوت|شیخ شلتوت]] کے دفتر میں، ازہر کی انتظامیہ میں منتقل کر دیا۔ | العسال کہتے ہیں: "شیخ الباقوری میرے طالب علمی کے دور سے مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔ ایک بار جب انہوں نے مجھے وزارت اوقاف میں دیکھا تو پوچھا: 'احمد، تم کہاں ہو؟' میں نے کہا: 'خدا کی قسم! ہمیں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے।' انہوں نے فرمایا: 'تھوڑا صبر اور استقامت بہت سے مسائل حل کر دے گی।' وزارت اوقاف میں ہم نے جماعت کی امامت کے لیے درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا، لیکن شیخ الباقوری نے حکم دیا کہ ہمیں انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ چنانچہ میں اور شیخ قرضاوی وزارت اوقاف میں رسالہ 'منبر الاسلام' کے شعبے میں کام کرنے لگے۔ بعد ازاں شیخ الباقوری نے ہمیں [[محمود شلتوت|شیخ شلتوت]] کے دفتر میں، ازہر کی انتظامیہ میں منتقل کر دیا۔ | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:55، 20 مئی 2026ء
| احمد العسال | |
|---|---|
| پورا نام | احمد العسال |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1928 ء |
| پیدائش کی جگہ | غریبیه، مصر |
| وفات | 1430 ق |
| وفات کی جگہ | اسکندریه، مصر |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| مناصب | خطیب، یونیورسٹی کے پروفیسر اور مبلغ |
احمد العسال، (۱۶ مئی ۱۹۲۸ تا ۱۰ جولائی ۲۰۱۰)، ایک مصری اسلامی عالم اور واعظ تھے جو اخوان المسلمین کے دفاع کرنے والے علماء میں سے تھے اور پاکستان کے شہر اسلام آباد میں واقع بین الاقوامی اسلامی جامعہ کے صدر کے مشیر بھی رہے۔ انہوں نے ابتدا میں بطور استاد، پھر پاکستان کی اسلامی جامعہ کے صدر اور بعد ازاں عالمی اتحاد برائے علمائے مسلم کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی طویل تجربہ رہا؛ انہوں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز 1950ء کی دہائی میں کیا اور اپنی زندگی کے آخر تک اسی میں مصروف رہے۔ وہ 1958ء میں جامعہ الازہر کی شریعت کی فیکلٹی سے عمومی تدریس کے شعبے میں فارغ التحصیل ہوئے، پھر 1960ء میں سابق شیخ الازہر شیخ محمود شلتوت کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔
پیدائش اور تعلیم
وہ مصر کے صوبہ غربیہ کے مرکز باسیون کے گاؤں فرساق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ بچپن میں ہی قرآن کے حافظ بن جائیں، چنانچہ انہوں نے ساڑھے دس سال کی عمر میں قرآن مکمل حفظ کر لیا اور بارہ سال سے کم عمر میں شاہ فاروق کا انعام حاصل کیا۔ یہ انعام بارہ سال سے کم عمر کے حفاظ کو دیا جاتا تھا۔ قرآن حفظ کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی مکمل کر لی۔ اس کے بعد ان کے والد نے انہیں صوبہ طنطہ کے دینی ادارے میں داخل کروایا، جہاں ان کی ملاقات ڈاکٹر یوسف القرضاوی سے ہوئی اور دونوں نے اسی ادارے میں ایک ہی دورِ تعلیم حاصل کیا۔
انتظامی خدمات
شیخ الازہر کے دفتر میں دو سال کام کرنے کے بعد وہ قطر چلے گئے، جہاں 1961ء سے 1965ء تک ثانوی اسکولوں میں عربی زبان پڑھاتے رہے۔ 1968ء میں انہوں نے لندن کی کیمبرج یونیورسٹی سے اسلامی فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پھر 1970ء تک کیمبرج یونیورسٹی میں مخطوطات پر کام کرتے رہے۔
1970ء سے 1984ء تک انہوں نے سعودی عرب میں جامعہ امام محمد بن سعود کے شعبہ اسلامی ثقافت کی صدارت کی، جبکہ 1984ء میں اسی جامعہ کے شعبہ دعوت و تبلیغ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ 1986ء سے 2002ء تک وہ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی جامعہ میں بطور استاد فرائض انجام دیتے رہے اور بعد ازاں وہاں کے نائب صدر اور پھر مشیرِ جامعہ کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔
علمی خدمات
- 1968ء میں انگلستان سے اصولِ فقہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
- پاکستان کی بین الاقوامی اسلامی جامعہ میں بطور نائب صدر، پھر صدر اور بعد ازاں مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
- اسلامی ثقافت کے ماہر ہیں اور اسلامی نصاب مرتب کرنے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔
- مختلف اسلامی موضوعات پر کثیر التالیف ہیں۔
- انگلستان میں ایک تعلیمی و تربیتی ادارہ «دار الرعایۃ الاسلامیۃ» کی بنیاد رکھی۔
- جامعہ الازہر میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی کے ساتھ تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔[1]
اخوان المسلمین سے تعلق
اخوان المسلمین میں شمولیت کے بارے میں وہ کہتے ہیں: "عجیب بات یہ ہے کہ میں اور شیخ یوسف القرضاوی ادارے سے نکلنے کے بعد سڑک پر چل رہے تھے کہ ہمیں اخوان کا ایک مبلغ نظر آیا جو سڑک پر کھڑا ہو کر 'اللہ اکبر اور خدا کا شکر ہے' کے نعرے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا: 'خدا ہمارا مقصد ہے، نبی ہمارا نمونہ ہے، قرآن ہمارا قانون ہے، جہاد ہمارا راستہ ہے اور اللہ کی راہ میں موت ہماری بلند ترین خواہش ہے।' ان اصولوں کو سن کر ہم لرز اٹھے، لہذا ہم اس کے پاس گئے اور اس تحریک سے واقف ہوئے۔ اس وقت ہم الازہر کی تیسری جماعت (تمہیدی) میں پڑھ رہے تھے اور ہمارے استاد البہی الخولی ایک بہترین معلم تھے جو اخوان المسلمین کی مجلسِ ارشاد کے رکن بھی تھے۔ وہ ہمارے دوست بن گئے اور ہفتے میں دو بار، اتوار اور منگل کے دن، ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے۔ جب ہم ہائی اسکول میں داخل ہوئے تو میں اور شیخ یوسف خطیب بن چکے تھے۔ اس وقت امین الوصیف، جو شعبہ دعوت کے انچارج تھے، ہر جمعرات کو ہمیں طنطہ کے آس پاس کے دیہات میں بھیج دیتے تھے تاکہ ہم جمعہ کے دن جمعہ کی خطبے پڑھائیں۔ کئی سال گزر گئے یہاں تک کہ 1948ء کا المیہ پیش آیا اور اخوان المسلمین کو تحلیل کر دیا گیا۔"
مشکلات اور گرفتاریاں
ان کی پہلی گرفتاری اس وقت ہوئی جب وہ ہائی اسکول کی پانچویں جماعت میں تھے، جس دوران انہوں نے اور اخوان المسلمین کے بعض کارکنوں نے تنظیم کو تحلیل ہونے سے بچانے کے لیے ہڑتال اور مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں انہیں، شیخ یوسف قرضاوی اور اخوان کے دیگر کئی ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدا میں انہیں ہیکسٹپ بھیجا گیا، پھر طور کے حراستی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا۔ جب حکام کو معلوم ہوا کہ یہ ہائی اسکول کے طلبا ہیں تو وہ شرمندہ ہوئے اور انہیں واپس ہیکسٹپ بھیج دیا، لیکن بعد میں دوبارہ طور بھیج دیا گیا۔
اس دوران شیخ محمد غزالی جیل میں اخوان کے ذمہ دار تھے، جبکہ شیخ عبدالعزیز عبدالستار بھی ان کے ساتھ حراست میں تھے۔ تقریباً نو ماہ بعد رہائی ملی تو امتحانات کا وقت گزر چکا تھا، تاہم اس وقت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر طہٰ حسین نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے قیدیوں کے لیے خصوصی امتحانات کا اہتمام کیا۔ تاہم وہ ان امتحانات میں شامل نہ ہو سکے، البتہ ان سے اور ڈاکٹر قرضاوی سے بعد میں دوبارہ امتحان لیا گیا۔ اس کے بعد وہ کلیہ شریعت میں داخل ہو گئے۔
سن 1953ء میں انہیں انقلابیوں نے گرفتار کیا اور پھر رہا کر دیا، لیکن دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور وہ ابتدائی 1956ء تک فوجی جیل میں رہے۔ رہائی کے بعد وہ کلیہ واپس آئے اور اپنی تعلیم مکمل کی۔ گریجویشن کے بعد حکومت نے انہیں سرکاری ملازمت سے روک دیا، چنانچہ انہوں نے نجی اسکولوں میں کام کیا، جن میں "مصر الجدیدہ" اسکول بھی شامل تھا۔
جیل میں ان کی حالت
فوجی جیل میں اپنی قید کے بارے میں وہ کہتے ہیں: "ہمیں قرآن سے محروم رکھا گیا، تاہم ہم میں سے ہر ایک نے جو کچھ جانا دوسروں کو سکھایا۔ فوجی جیل میں حراست انتہائی سخت تھی؛ وہ ہمیں ہر چیز، چاہے وہ قرآن ہو یا کوئی کتاب، سے منع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم پر ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ باوجود اس کے، ہم نے اپنے علمی ذخیرے کو آپس میں منتقل کیا، یہاں تک کہ بعض نے کالے کمبل اور لکس صابون پر انگریزی زبان سیکھی۔ مجھے یاد ہے کہ فوجی جیل میں میری پہلی ملاقات سات ماہ بعد ہوئی۔"
الازہر انتظامیہ میں خدمات
العسال کہتے ہیں: "شیخ الباقوری میرے طالب علمی کے دور سے مجھے اچھی طرح جانتے تھے۔ ایک بار جب انہوں نے مجھے وزارت اوقاف میں دیکھا تو پوچھا: 'احمد، تم کہاں ہو؟' میں نے کہا: 'خدا کی قسم! ہمیں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے।' انہوں نے فرمایا: 'تھوڑا صبر اور استقامت بہت سے مسائل حل کر دے گی।' وزارت اوقاف میں ہم نے جماعت کی امامت کے لیے درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا، لیکن شیخ الباقوری نے حکم دیا کہ ہمیں انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ چنانچہ میں اور شیخ قرضاوی وزارت اوقاف میں رسالہ 'منبر الاسلام' کے شعبے میں کام کرنے لگے۔ بعد ازاں شیخ الباقوری نے ہمیں شیخ شلتوت کے دفتر میں، ازہر کی انتظامیہ میں منتقل کر دیا۔
ہمارا کام ریڈیو پروگراموں اور اخبارات کی روزانہ کی خبروں کا جائزہ لینا، ازہر انتظامیہ کی سرگرمیوں کی رپورٹ تیار کرنا اور اسے صدر جمہوریہ کے حوالے کرنا تھا۔
مصر سے باہر تبلیغی سرگرمیاں
ہم نے شیخ شلتوت سے درخواست کی کہ وہ مصر سے باہر بھی تبلیغی سرگرمیوں کو وسعت دیں، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ چنانچہ قطر کے اسلامی علوم کے ڈائریکٹر شیخ عبداللہ الترکی کے ساتھ قطر کے سفر کے لیے ضروری ہم آہنگی کی گئی۔ جب ہم دوحہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ قوم پرست تحریک طلبا کے ذہنوں میں گہری اثر انداز ہو چکی ہے اور اسلام کی افادیت کو ختم قرار دے رہی ہے۔ لہٰذا ہم نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز اسلام کی اصالت اور عملی پہلوؤں کی ترویج کو بنایا اور تعلیمی سال کے دوران تقریروں، سیمیناروں، کانفرنسوں اور نشستوں کے ذریعے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
جب ہم گرمیوں میں مصر واپس آئے تو حکومت کو ہمارے خلاف ایسی رپورٹس موصول ہوئیں جن میں ہم پر سیکولر ازم اور قوم پرستی کے خلاف تبلیغ کا الزام لگایا گیا تھا، جس کی بنا پر مجھے اور شیخ یوسف کو گرفتار کر لیا گیا۔
برطانیہ میں سرگرمیاں
عارضی رہائی کے بعد ہم دوحہ واپس آئے، لیکن قطر میں قیام کی میعاد ختم ہونے کے بعد میرا پاسپورٹ تجدید نہیں کیا گیا، تاکہ میں مصر واپس جاؤں اور گرفتار ہو جاؤں۔ اس لیے میں نے مصر واپس جانے سے انکار کر دیا اور پی ایچ ڈی کی تکمیل کے لیے انگلستان چلا گیا، جہاں میں 1965ء سے 1970ء تک رہا۔
اس دوران اسلام پسندی کی لہر شدت اختیار کر چکی تھی، چنانچہ ہم نے ایک گھر خریدا جو 'اسلامی کیئر ہوم' بن گیا، جس کی اب انگلستان میں 20 شاخیں ہیں۔
سعودی عرب میں سرگرمیاں
کچھ بھائیوں نے مجھ سے لیبیا جانے کی درخواست کی، لیکن وہیں قذافی کی بغاوت ہو گئی، اس لیے میں سوڈان چلا گیا، مگر وہاں بھی النمیری کی بغاوت واقع ہو گئی۔ اسی دوران ڈاکٹر عبدالعزیز الفہد نے مجھے سعودی عرب میں کام کرنے کی دعوت دی، چنانچہ میں وہاں چلا گیا اور ریاض یونیورسٹی کے کلیہ تربیت میں اسلامی ثقافت کا درس دیتا رہا۔ میں وہیں تب تک رہا جب تک کہ استاد عمر التلمسانی نے مجھے مصر واپس آنے کی دعوت نہیں دی۔ میں نے استعفیٰ دے دیا اور فوراً قاہرہ پہنچ گیا، لیکن معلوم ہوا کہ مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس لیے میں دوبارہ ریاض میں کلیہ دعوت اسلامی واپس چلا گیا۔
پاکستان میں سرگرمیاں
پاکستان کے بعض ثقافتی کارکنوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کالج کے ذریعے وہاں جا کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی دعوت دی۔ چنانچہ میں پاکستان گیا اور اسلام آباد میں عالمی اسلامی یونیورسٹی کے نائب صدر کے طور پر کام شروع کیا، بعد ازاں میں اسی یونیورسٹی کا صدر مقرر ہوا اور 2003ء تک اسلام آباد میں مقیم رہا۔"
وفات
آپ کا انتقال 10 جنوری 2010ء کی صبح کو مصر کے شہر اسکندریہ میں اپنے گھر پر ہوا۔ عصر کی نماز کے بعد جامع مسجد الحصری میں آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور آپ کو قطعۃ الجمعیۃ الشرعیہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔[2]
بیرونی روابط
مآخذ
مزید دیکھیے
حوالہ جات
- ↑ مقرر احمد العسال کا صفحہ(زبان عربی) درج شده : نامعلوم. اخذشده تاریخ: 20/مئی/2026ء
- ↑ ڈاکٹر احمد العسال.. دعوت و جہاد کے قافلے میں زندگی(زبان عربی) درج شده تاریخ: نامعلوم . اخذ شده تاریخ: 20/مئی/ 2026ء