"ابو یحییٰ اللیبی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ابو یحییٰ اللیبی کو ابو یحییٰ اللیبی کی جانب بدون رجوع مکرر منتقل کیا |
||
| (ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{ | |||
| | {{خانہ معلومات شخصیت | ||
| | | title = | ||
| | | image = اللیبی.jpg | ||
| | | name = ابو یحییٰ اللیبی | ||
| | | other names = حسن قائد (حسن قیاد یا حسن قید)، یونس الصحراوی اور حسن قائد الفر | ||
| | | brith year = 1963 ء | ||
| | | brith date = 1 جون | ||
| | | birth place = انڈونیشیا | ||
| | | death year = | ||
| | | death date = | ||
| | | death place = | ||
| | | teachers = | ||
| | | students = | ||
| | | religion = [[اسلام]] | ||
| | | faith = [[اہل سنت]] | ||
| | | works = | ||
| known for = القاعدہ کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک اور لیبیا کی اسلامی جنگجو تنظیم کے رکن}} | |||
}} | |||
'''ابو یحییٰ اللیبی''' (عربی: أبو یحیی اللیبی؛ 1 جنوری 1963ء، مرزاق – 4 جون 2012ء) القاعدہ کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک اور لیبیا کی اسلامی جنگجو تنظیم کے رکن تھے۔ | '''ابو یحییٰ اللیبی''' (عربی: أبو یحیی اللیبی؛ 1 جنوری 1963ء، مرزاق – 4 جون 2012ء) القاعدہ کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک اور لیبیا کی اسلامی جنگجو تنظیم کے رکن تھے۔ | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 21:14، 13 مئی 2026ء
| ابو یحییٰ اللیبی | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | ابو یحییٰ اللیبی |
| دوسرے نام | حسن قائد (حسن قیاد یا حسن قید)، یونس الصحراوی اور حسن قائد الفر |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1963 ء، 1341 ش، 1382 ق |
| یوم پیدائش | 1 جون |
| پیدائش کی جگہ | انڈونیشیا |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| مناصب | القاعدہ کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک اور لیبیا کی اسلامی جنگجو تنظیم کے رکن |
ابو یحییٰ اللیبی (عربی: أبو یحیی اللیبی؛ 1 جنوری 1963ء، مرزاق – 4 جون 2012ء) القاعدہ کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ایک اور لیبیا کی اسلامی جنگجو تنظیم کے رکن تھے۔
مقام
کہا جاتا ہے کہ وہ اردو، پشتو اور عربی بول سکتے تھے اور انہوں نے حسن قائد (حسن قیاد یا حسن قید)، یونس الصحراوی اور حسن قائد الفر کے عرفی نام استعمال کیے۔
اللیبی لیبیا کے شہری تھے جو غیر قانونی حراستی کیمپ بگرام میں قید تھے۔ اس دوران امریکی دہشت گردی کے ماہرین نے کہا کہ اللیبی القاعدہ کا رکن ہے۔ اللیبی بگرام کے کئی مشہور قیدیوں میں سے ایک تھا جو 10 جولائی 2005ء کی رات فرار ہو گیا تھا۔
مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کی سابقہ تجزیہ نگار جرت براچمن اللیبی کے بارے میں کہتی ہیں:
وہ ایک جنگجو تھا۔ اس نے فوجی کمان بھی سنبھالی تھی۔ اور وہ القاعدہ میں ایک بہت ہی بااثر، نوجوان اور پرعزم ابھرتا ہوا ستارہ ہے، اور میرا خیال ہے کہ وہ پوری عالمی جہادی تحریک کی قیادت سنبھالنے کے لحاظ سے اسامہ بن لادن کا واضح جانشین بن چکا ہے۔
شوئر کے مطابق وہ "گزشتہ تقریباً ایک سال سے القاعدہ کے سخت گیر" اور "باغی عالم دین" کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وہ القاعدہ کی شریعت کمیٹی کے عہدیداروں میں سے بھی تھا۔
وفات
وہ 4 جون 2012ء کو میرعلی میں امریکہ کے ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔ اس کی موت کی تصدیق بعد میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے ستمبر 2012ء میں 11 ستمبر کی سالگرہ کے موقع پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو میں کی[1]۔ امریکہ کی یہ نئی جنگی ٹیکنالوجی اتنی مؤثر ثابت ہوئی کہ اس سے قبل درجنوں اسلام پسند جنگجوؤں اور ان کے کئی سینئر کمانڈروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جن میں القاعدہ کے اہم کمانڈر شمول الیاس کشمیری اور پاکستان کے طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود شامل ہیں۔ ابو یحییٰ اللیبی کی موت کی تصدیق ابھی تک طالبان کی جانب سے نہیں کی گئی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس کے اطلاعاتی ذرائع نے اس کی موت کی تصدیق کی ہے[2]۔
نتیجہ
القاعدہ گروپ نے اعلان کیا کہ لیبیا کے بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ اس گروپ کے نمبر دو شخص 'ابو یحییٰ اللیبی' کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شیخ ابو یحییٰ کا قتل صرف عمر مختار (لیبیا کے ہیروِ آزادی) کے بیٹوں کے جوش و عزم میں اضافے کا باعث بنا تاکہ ہمارے نبی پر حملہ آور ہونے والوں سے بدلہ لیا جا سکے[3]۔
