مندرجات کا رخ کریں

"ایرانی جوہری پروگرام اور زمینی حقائق!؟" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«تصغیر|بائیں| '''ایرانی جوہری پروگرام اور زمینی حقائق!؟''' اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کو ہمیشہ ہتھیاروں کی دوڑ کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس بیانیے سے یکسر مختلف ہیں <ref>تحریر: محترم ابنِ حس...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
سطر 76: سطر 76:


[[زمرہ:ایران]]
[[زمرہ:ایران]]
[[زمرہ:ممالک]]
[[fa:ایران]]

حالیہ نسخہ بمطابق 14:59، 28 اپريل 2026ء

ایرانی جوہری پروگرام اور زمینی حقائق!؟ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کو ہمیشہ ہتھیاروں کی دوڑ کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس بیانیے سے یکسر مختلف ہیں [1]۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کو ہمیشہ ہتھیاروں کی دوڑ کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس بیانیے سے یکسر مختلف ہیں:

مغربی میڈیا اور امریکی بیانیے میں جان بوجھ کر جس چیز کو دھندلا رکھا جاتا ہے وہ اس پروگرام کے پُرامن مقاصد، اس پروگرام کے ٹھوس نتائج اور اس پروگرام کی قانونی بنیادیں ہیں۔

(بات تھوڑی لمبی ہو جائے گی لیکن اگر مکمل پڑھیں گے تو اس عنوان سے کافی سارے ابہام ختم کرنے میں مدد ملے گی)

ایران کے جوہری پروگرام کا آغاز انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے 1957 میں ہوچکا تھا۔ جس کے پیچھے ایک سادہ مگر گہری منطق تھی کہ "تیل اور گیس ایک انمول اور قیمتی سرمایہ ہے ؛ انہیں جلانا زیادتی ہے۔"

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد بھی ایران کا یہ فلسفہ تبدیل نہیں ہوا اور یہ فلسفہ انقلاب کے نیتجے میں قائم ہونے والے اسلامی جمہوری نظام کی مستقل پالیسی کا حصہ بن گیا۔

پہلا سویلین جوہری بجلی گھر

بوشہر جوہری بجلی گھر جو خلیجِ فارس کے ساحل پر واقع ہے مشرقِ وسطیٰ کا پہلا سویلین جوہری بجلی گھر ہے۔ 1975 میں اس کی تعمیر شروع ہو چکی تھی۔ ایران پر عراقی جارحیت کے دوران عراقی بمباری سے اس کو نقصان پہنچا

لیکن ایرانی سائنسدانوں کی کوششوں اور روس جیسے اتحادیوں کے تعاون سے یہ بجلی گھر 2011 میں قومی گرڈ سے منسلک ہوگیا۔ نومبر 2025 تک یہ پلانٹ 75 ارب کلوواٹ آور سے زائد بجلی پیدا کر چکا تھا۔

ایران نے افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، عراق، پاکستان، شام، ترکمانستان اور ترکی سمیت آٹھ ممالک کے ساتھ بجلی کی تجارت کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ ایران کی بجلی کی طلب سالانہ چار فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اس کا کل قومی بجلی پیداواری ڈھانچہ 2024 کے اختتام پر 90 گیگاواٹ تک پہنچ چکا تھا۔

جوہری پروگرام کی دوسری اہم پُرامن جہت طبی آئسوٹوپس کی پیداوار

جوہری پروگرام کی دوسری اہم پُرامن جہت طبی آئسوٹوپس کی پیداوار ہے۔ تہران ریسرچ ری ایکٹر کینسر کی تشخیص اور علاج میں استعمال ہونے والے تابکار آئسوٹوپس تیار کرتا ہے۔

اراک کا ری ایکٹر بھی JCPOA معاہدے کے تحت اس طرح نئے سرے سے ڈیزائن کیا گیا کہ وہ ہتھیاری پلوٹونیم پیدا کیے بغیر طبی مقاصد کے لیے آئسوٹوپس فراہم کر سکے۔ یہ آئسوٹوپس لاکھوں ایرانی مریضوں کے علاج میں براہِ راست استعمال ہوتے ہیں۔

تیسرا شعبہ زراعت

تیسرا شعبہ زراعت ہے۔ ہشت گرد میں 1991 سے قائم "مرکز برائے زرعی تحقیق اور جوہری طب" ایران کے اٹامک انرجی ادارے کے تحت چل رہا ہے۔ بونیب میں ایک علیحدہ تحقیقی مرکز زراعت میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کی تحقیق میں مصروف ہے۔

تابکاری کے ذریعے خوراک کی صفائی اور تحفظ کے لیے ایران میں چھ مراکز فعال ہیں اور اتنے ہی زیرِ تعمیر ہیں ۔ان کا اصل ہدف زرعی پیداوار کا 30 فیصد ضیاع روکنا اور خوراک کا معیار بہتر بنانا ہے۔

چوتھی جہت ایندھن کی خودکفالت

چوتھی جہت ایندھن کی خودکفالت ہے۔ اصفہان میں قائم فیول مینوفیکچرنگ پلانٹ اس لیے تعمیر کیا گیا تاکہ ایران اپنے ری ایکٹروں کے لیے خود ایندھن تیار کرے اور غیر ملکی انحصار سے آزاد ہو۔

اسی مقام پر زرکونیم پروڈکشن پلانٹ بھی موجود ہے جو ری ایکٹروں کے لیے ضروری دھاتی مرکبات فراہم کرتا ہے۔ اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر میں چین کے تعاون سے قائم چھوٹے تحقیقی ری ایکٹر اور آئسوٹوپ لیبارٹریاں ملک میں جوہری علم اور تکنیکی صلاحیت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

ایران کا طویل مدتی منصوبہ یہ ہے کہ 2041 تک جوہری توانائی سے 20,000 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے۔

فروری 2024 میں ایران نے چار نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ ستمبر 2025 میں ایران اور روس کے درمیان 25 ارب ڈالر کا ایک تاریخی معاہدہ طے پایا جس کے تحت سیرک میں مزید چار جوہری ری ایکٹر تعمیر کیے جائیں گے جن کی مجموعی صلاحیت 5 گیگاواٹ ہوگی۔

اس منصوبے کی اسٹریٹیجک منطق وہی ہے کہ جوہری توانائی سے اندرونی ضروریات پوری کی جائیں اور تیل و گیس کو برآمد کے لیے محفوظ کیا جائے۔

سپریم لیڈر شہید آیت اللہ خامنہ ای کا جوہری ہتھیاروں کے خلاف فتویٰ

جہاں تک تعلق ایران کےجوہری پروگرام کی شرعی بنیادوں کا تو سپریم لیڈر شہید آیت اللہ خامنہ ای کا جوہری ہتھیاروں کے خلاف فتویٰ عالمی اداروں میں باضابطہ طور پر درج ہے اور یہی جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایران کا سرکاری موقف ہے ۔

سپریم لیڈر کا فتویٰ محض ایک بیان نہیں بلکہ اسلامی فقہ کی رُو سے ایک قانونی پابندی ہے۔ یہ فتویٰ سنہ 2005 میں جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے دوران جمع کروایا گیا،

اسی طرح سنہ 2010 میں یہ فتویٰ تہران میں منعقدہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کی کانفرنس میں پیش کیا گیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا مزید برآں 2012 میں دوبارہ آیت اللہ خامنہ ای کے فتویٰ کو آئی اے ای اے میں ایران کیجانب سے بطور دستاویز جمع کروایا گیا

اور یہ فتویٰ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایران کے سرکاری موقف کے طور پر بین الاقوامی فورمز کے اجلاسوں کے ریکارڈز کا حصہ ہے۔

ایران NPT یعنی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا باضابطہ دستخط کنندہ

جہاں تک بین الاقوامی قانون کی بات ہے تو ایران NPT یعنی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا باضابطہ دستخط کنندہ ہے۔ اس معاہدے کے آرٹیکل 4 کے تحت تمام رکن ممالک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی استعمال کرنے کا حق صریح طور پر حاصل ہے، جس میں بجلی کی پیداوار، طبی استعمال اور صنعتی مقاصد شامل ہیں

بشرطیکہ IAEA کی نگرانی قبول کی جائے۔ ایران نے IAEA کی نگرانی بھی قبول کی ہے اور اس کے تفتیش کاروں کو اپنی سہولیات تک رسائی بھی دی ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ خود مغربی حکومتوں نے بوشہرکی جوہری تنصیبات کے سویلین کردار کو تسلیم کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ امریکا بوشہر کو سویلین بجلی پیداوار کے لیے ڈیزائن کیا گیا مانتا ہے

اور اسے پھیلاؤ کے خطرے کے طور پر نہیں دیکھتا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں سیاسی مفادات نے اس حقیقت کو نظرانداز کروا دیا۔

2015 میں JCPOA معاہدے کے تحت ایران نے اپنے افزودگی کی سطح 3.67 فیصد تک محدود کی، اپنا یورینیم ذخیرہ کم کیا، سینٹری فیوجز کی تعداد گھٹائی اور IAEA کی مستحکم نگرانی قبول کی ۔

یہ سب پُرامن نیت کا عملی اظہار تھا۔ لیکن 2018 میں امریکا نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو توڑ دیا، پابندیاں بحال کیں اور ایران کو معاشی دباؤ تلے لانے کی کوشش کی۔

اس صورتحال میں ایران کا اپنے پروگرام کو آگے بڑھانا اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کا فطری ردِّعمل ہے جسے بین الاقوامی قانون کے ماہرین بھی قابلِ فہم قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی لحاظ سے بے مقصد یا عبث سرگرمی نہیں ہے اور نہ اس کا مقصد جیسا جوہری ہتھیاروں کی تیاری ہے اور نہ یہ پروگرام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ ایک مستند، کثیر الجہت اور انتہائی کارگر قومی منصوبہ ہے جس کے عملی ثمرات بجلی کی صورت میں کروڑوں گھروں تک پہنچ رہے ہیں، طبی آئسوٹوپس کی شکل میں مریضوں کو زندگی دے رہے ہیں، زراعت میں خوراک کے ضیاع کو روک رہے ہیں، اور قومی توانائی کی خودکفالت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔

سپریم لیڈر کے شرعی فتویٰ اور NPT کی رُو سے یہ ایران کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ جو بیانیہ اس پروگرام کو محض ہتھیاروں کی دوڑ سے جوڑتا ہے وہ نہ صرف حقائق سے منہ موڑتا ہے بلکہ ایک خودمختار مسلم ریاست کی جائز اور مصدّقہ ترقی کو روکنے کی ایک سیاسی کوشش ہے۔

یہ جنگ کسی جوہری یا میزائل پروگرام کے خلاف نہیں ہے، بلکہ خودمختاری کے حق اور عالمی طاقتوں کے یکطرفہ فیصلوں کے درمیان تصادم کی جنگ ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر ملک کو اپنے وسائل، اپنی ترقی اور اپنے فیصلوں کا حق حاصل ہے یا اقوام عالم کی تقدیر کے فیصلے چند نام نہاد عالمی طاقتیں کریں گی۔

یہ صرف ایران کی جنگ نہیں، یہ ہر اس قوم کی جنگ ہے جو اپنی عزت، آزادی اور قومی وقار کو کسی دباؤ کے سامنے جھکنے نہیں دینا چاہتی۔ تاریخ آخرکار اسی سوال کا جواب دے گی کہ فیصلہ قانون اور برابری کرے گی یا طاقت اور غلبہ[2]۔

حوالہ جات

  1. تحریر: محترم ابنِ حسن
  2. ایرانی جوہری پروگرام اور زمینی حقائق!؟-شائع شدہ از: 27 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 27 اپریل 2026ء