مندرجات کا رخ کریں

"انبیا" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Sajedi نے صفحہ مسودہ:انبیا کو انبیا کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 10: سطر 10:


== پیغمبر ==
== پیغمبر ==
پیغمبر یا [[نبی]] وہ شخص ہے جو براہِ راست خدا کی طرف سے لوگوں تک خبریں پہنچاتا ہے<ref>طریحی، مجمع البحرین، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۳۷۵</ref> اور خدا و مخلوق کے درمیان واسطہ ہوتا ہے، لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے<ref>مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۸ش، ج۱۲، ص۵۵</ref>۔
پیغمبر یا نبی وہ شخص ہے جو براہِ راست خدا کی طرف سے لوگوں تک خبریں پہنچاتا ہے<ref>طریحی، مجمع البحرین، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۳۷۵</ref> اور خدا و مخلوق کے درمیان واسطہ ہوتا ہے، لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے<ref>مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۸ش، ج۱۲، ص۵۵</ref>۔


وحی کا وصول کرنا، علم غیب<ref>طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۲، ص۴۵۹</ref>، عصمت<ref>مفید، عدم سهو النبی، ۱۴۱۳ق، ص۲۹و۳۰؛ سید مرتضی، تنزیه الأنبیاء، ۱۳۸۷ش، ص۳۴</ref> اور [[مستجاب الدعوہ]] ہونا<ref>مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۲، ص۱۱۶</ref> پیغمبروں کی خصوصیات ہیں۔ اکثر علمائے کلام کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر زندگی کے تمام امور میں گناہ اور خطا سے معصوم ہوتے ہیں<ref>مفید، عدم سهو النبی، ۱۴۱۳ق، ص۲۹و۳۰؛ سید مرتضی، تنزیه الأنبیاء، ۱۳۸۷ش، ص۳۴</ref>۔ اسی بنا پر قرآن میں جہاں پیغمبروں کے استغفار یا مغفرت کا ذکر آیا ہے<ref>سوره قصص، آیه ۱۶؛ سوره انبیاء، آیه۸۷؛ سوره طه، آیه۱۲۱</ref>، جیسے [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام)]] کے ہاتھوں ایک مصری کا قتل<ref>مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱۶، ص۴۲، ۴۳</ref>، حضرت یونس (علیہ‌السّلام) کا ترک رسالت<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۳۱۵</ref> اور حضرت آدم (علیہ‌السّلام) کا میوۂ ممنوعہ کھانا<ref>طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲، ج۷، ص۵۶؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱۳، ص۳۲۳</ref>— ان سب کو ترکِ اولیٰ کے طور پر تفسیر کیا جاتا ہے۔   
وحی کا وصول کرنا، علم غیب<ref>طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۲، ص۴۵۹</ref>، عصمت<ref>مفید، عدم سهو النبی، ۱۴۱۳ق، ص۲۹و۳۰؛ سید مرتضی، تنزیه الأنبیاء، ۱۳۸۷ش، ص۳۴</ref> اور مستجاب الدعوہ ہونا<ref>مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۲، ص۱۱۶</ref> پیغمبروں کی خصوصیات ہیں۔ اکثر علمائے کلام کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر زندگی کے تمام امور میں گناہ اور خطا سے معصوم ہوتے ہیں<ref>مفید، عدم سهو النبی، ۱۴۱۳ق، ص۲۹و۳۰؛ سید مرتضی، تنزیه الأنبیاء، ۱۳۸۷ش، ص۳۴</ref>۔ اسی بنا پر قرآن میں جہاں پیغمبروں کے استغفار یا مغفرت کا ذکر آیا ہے<ref>سوره قصص، آیه ۱۶؛ سوره انبیاء، آیه۸۷؛ سوره طه، آیه۱۲۱</ref>، جیسے [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام)]] کے ہاتھوں ایک مصری کا قتل<ref>مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱۶، ص۴۲، ۴۳</ref>، حضرت یونس (علیہ‌السّلام) کا ترک رسالت<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۳۱۵</ref> اور حضرت آدم (علیہ‌السّلام) کا میوۂ ممنوعہ کھانا<ref>طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲، ج۷، ص۵۶؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱۳، ص۳۲۳</ref>— ان سب کو ترکِ اولیٰ کے طور پر تفسیر کیا جاتا ہے۔   


لیکن بعض متکلمان کی رائے یہ ہے کہ پیغمبروں کی عصمت صرف امورِ نبوت میں لازم ہے اور روزمرہ کے امور میں سهو النبی کے قائل ہیں<ref>صدوق، من لا یحضره الفقیه، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۶۰</ref>۔
لیکن بعض متکلمان کی رائے یہ ہے کہ پیغمبروں کی عصمت صرف امورِ نبوت میں لازم ہے اور روزمرہ کے امور میں سهو النبی کے قائل ہیں<ref>صدوق، من لا یحضره الفقیه، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۶۰</ref>۔

حالیہ نسخہ بمطابق 16:39، 21 اپريل 2026ء

انبیاء وہ افراد ہیں جن کے ذریعے خدا انسانوں کو اپنی طرف دعوت دیتا ہے۔ خداوند عالم وحی کے ذریعے پیغمبروں سے رابطہ رکھتا ہے۔

عصمت، علم غیب کی آگاہی، معجزہ اور وحی کا وصول کرنا پیغمبروں کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ قرآن میں بعض پیغمبروں کے معجزات کا ذکر ہے، جیسے آگ کا ابراہیم (علیہ‌السّلام) پر ٹھنڈی ہو جانا، موسیٰ کے عصا کا اژدہا بن جانا، مردوں کا حضرت عیسیٰ (علیہ‌السّلام) کے ذریعے زندہ ہونا اور قرآن کریم کا نازل ہونا۔

مشہور قول کے مطابق پیغمبروں کی تعداد ۱۲۴ ہزار ہے۔ قرآن میں ان میں سے ۲۶ کے نام ذکر ہوئے ہیں۔ پہلے پیغمبر حضرت آدم (علیہ‌السّلام) اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔

علمائے شیعہ نے اپنے آثار میں قصصِ انبیاء پر بحث کی ہے اور مستقل کتابیں تحریر کی ہیں، جن میں سید نعمت‌الله جزائری کی النور المبین فی قصص الانبیاء والمرسلین، راوندی کی قصص الانبیاء، سید مرتضی کی تنزیه الانبیاء اور علامه مجلسی کی حیات القلوب شامل ہیں۔

پیغمبر

پیغمبر یا نبی وہ شخص ہے جو براہِ راست خدا کی طرف سے لوگوں تک خبریں پہنچاتا ہے[1] اور خدا و مخلوق کے درمیان واسطہ ہوتا ہے، لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے[2]۔

وحی کا وصول کرنا، علم غیب[3]، عصمت[4] اور مستجاب الدعوہ ہونا[5] پیغمبروں کی خصوصیات ہیں۔ اکثر علمائے کلام کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر زندگی کے تمام امور میں گناہ اور خطا سے معصوم ہوتے ہیں[6]۔ اسی بنا پر قرآن میں جہاں پیغمبروں کے استغفار یا مغفرت کا ذکر آیا ہے[7]، جیسے حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کے ہاتھوں ایک مصری کا قتل[8]، حضرت یونس (علیہ‌السّلام) کا ترک رسالت[9] اور حضرت آدم (علیہ‌السّلام) کا میوۂ ممنوعہ کھانا[10]— ان سب کو ترکِ اولیٰ کے طور پر تفسیر کیا جاتا ہے۔

لیکن بعض متکلمان کی رائے یہ ہے کہ پیغمبروں کی عصمت صرف امورِ نبوت میں لازم ہے اور روزمرہ کے امور میں سهو النبی کے قائل ہیں[11]۔

پیغمبر قرآن میں

قرآن کریم کے مطابق بعض پیغمبروں کے نام قرآن میں آئے ہیں اور بعض کے نہیں:

و لقد ارسلنا رسلاً من قبلک منهم من قصصنا علیک و منهم من لم نقصص علیک |سوره = غافر آیه = ۷۸ ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے، جن میں سے بعض کے حالات تمہیں بتائے اور بعض کے نہیں بتائے۔

بعض انبیاء کے نام ذکر ہونے کی وجہ

بعض کو دوسروں پر فضیلت

خداوند فرماتا ہے:تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم مَّن کَلَّمَ اللّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ |سوره = بقره |آیه = ۲۵۳ ہم نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت دی، ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے خدا نے گفتگو کی اور بعض کو درجات میں بلند کیا۔

عبرت آموزی

قرآن بعض پیغمبروں کی زندگی اس لیے بیان کرتا ہے کہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں:

لقد کان فی قصصهم عبرة لأولی الالباب |سوره = یوسف |آیه = ۱۱۱ ان کے قصوں میں صاحبانِ عقل کے لیے عبرت ہے۔

پیغمبر اسلام کی دلجوئی

قرآن، پیغمبر اسلام (صلّی‌الله علیہ وآلہ) کی تسلی کے لیے سابقہ پیغمبروں کے حالات بیان کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ انہوں نے بھی ایسی مشکلات کا سامنا کیا مگر صبر کیا اور کامیاب ہوئے[12]۔

و کلا نقص علیک من أنباء الرّسل ما نثبت به فؤادک و جاءک فی هذه الحق و موعظة و ذکری للمؤمنین |آیه = 120 |سوره = هود ہم رسولوں کی خبروں میں سے ہر ایک کی خبر تمہیں سناتے ہیں تاکہ اس سے تمہارے دل کو مضبوط کریں، اور ان میں حق اور اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے۔

بعثتِ رسل کا مقصد بیان کرنا

قرآن، انبیاء کی زندگی بیان کرکے یہ واضح کرتا ہے کہ وہ ہدایت اور انسانی تکامل کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔

باقی انبیاء کے نام ذکر نہ ہونے کی وجہ

قرآن کا کتابِ تاریخ نہ ہونا

قرآن ایک تاریخی کتاب نہیں ہے کہ تمام انبیاء کی تفصیلی زندگی بیان کرے کیونکہ یہ انسانی تاریخ کی انتہائی طویل مدت ہے اور اس تفصیل کا آسمانی کتاب کے مقصد سے کوئی تعلق نہیں۔

تکرار سے بچنا

تاریخِ انبیاء کے بیشتر واقعات تکراری ہیں اور فصاحت کلام میں بلا ضرورت تکرار مناسب نہیں۔ اس لیے قرآن نے تاریخ کا صرف وہ حصہ بیان کیا جو اہم اور عبرت آموز تھا۔

اکثر انبیاء کے نام عربوں کے لیے نامعلوم ہونا

بہت سے پیغمبروں کے نام عربوں کے لیے ناشناختہ تھے۔ ایسے ناموں کا ذکر وحی کے انکار کا بہانہ بن سکتا تھا، اس لیے قرآن نے ان کا اجمالی ذکر کیا ہے[13]۔

بعض انبیاء کو دوسرے پر ترجیح نہ دینا

انبیاء کے درمیان کسی قسم کی ترجیح مراد نہیں؛ بلکہ قرآن اس بات پر زور دیتا ہے:

لا نفرق بین احد منهم و نحن له مسلمون |سوره = بقره |آیه = ۱۳۶ ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور ہم خدا کے فرمانبردار ہیں۔

یہی مضمون دیگر دو آیات میں بھی آیا ہے[14] [15]، جو اس بات کی دلیل ہے کہ مؤمن تمام انبیاء کی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ سب اصولی طور پر ایک ہی تعلیم کے حامل تھے[16]۔

حوالہ جات

  1. طریحی، مجمع البحرین، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۳۷۵
  2. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۸ش، ج۱۲، ص۵۵
  3. طوسی، التبیان، داراحیاء التراث العربی، ج۲، ص۴۵۹
  4. مفید، عدم سهو النبی، ۱۴۱۳ق، ص۲۹و۳۰؛ سید مرتضی، تنزیه الأنبیاء، ۱۳۸۷ش، ص۳۴
  5. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۲، ص۱۱۶
  6. مفید، عدم سهو النبی، ۱۴۱۳ق، ص۲۹و۳۰؛ سید مرتضی، تنزیه الأنبیاء، ۱۳۸۷ش، ص۳۴
  7. سوره قصص، آیه ۱۶؛ سوره انبیاء، آیه۸۷؛ سوره طه، آیه۱۲۱
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱۶، ص۴۲، ۴۳
  9. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۳۱۵
  10. طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲، ج۷، ص۵۶؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۱۳، ص۳۲۳
  11. صدوق، من لا یحضره الفقیه، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۶۰
  12. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج ۲۰، ص ۱۸۱
  13. تفسیر المنار، ج۶، ص۷۰
  14. بقره، آیه ۲۸۵
  15. نساء، آیه ۱۵۲
  16. تفسیر نمونه، ج۷، ص۳۳۹