مندرجات کا رخ کریں

"حضرت موسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م Sajedi نے صفحہ مسودہ:حضرت موسی کو حضرت موسی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 17: سطر 17:
| known for =   
| known for =   
}}
}}
'''حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام)''' بنی اسرائیل کے عظیم انبیاء میں سے ہیں جن کا ذکر دینِ اسلام اور قرآنِ کریم کی آیات میں خاص طور پر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) تیسرے پیغمبرِ اولوالعزم ہیں اور حضرت یعقوب کی نسل اور بنی اسرائیل کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم (علیہ‌السّلام) کی نسل سے ہیں اور چھ واسطوں کے ذریعے ان تک پہنچتے ہیں۔ وہ صاحبِ شریعت پیغمبر تھے اور ان کی آسمانی کتاب تورات ہے۔
'''حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام)''' بنی اسرائیل کے عظیم انبیاء میں سے ہیں جن کا ذکر دینِ [[اسلام]] اور [[قرآن کریم|قرآنِ کریم]] کی آیات میں خاص طور پر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) تیسرے پیغمبرِ اولوالعزم ہیں اور حضرت یعقوب کی نسل اور بنی اسرائیل کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ [[حضرت ابراہیم]] (علیہ‌السّلام) کی نسل سے ہیں اور چھ واسطوں کے ذریعے ان تک پہنچتے ہیں۔ وہ صاحبِ شریعت پیغمبر تھے اور ان کی آسمانی کتاب تورات ہے۔


== حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کے نام کی وجہ تسمیہ ==
== حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کے نام کی وجہ تسمیہ ==
سطر 45: سطر 45:
موسیٰ بن عمران بن یصہر بن یافث بن لاوی بن یعقوب۔
موسیٰ بن عمران بن یصہر بن یافث بن لاوی بن یعقوب۔


وہ حضرت ابراہیم خلیل کے تقریباً پانچ سو سال بعد مبعوث ہوئے<ref>طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان، ج۱، ص۲۱۰</ref>۔
وہ [[حضرت ابراہیم |حضرت ابراہیم خلیل]] کے تقریباً پانچ سو سال بعد مبعوث ہوئے<ref>طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان، ج۱، ص۲۱۰</ref>۔


موسیٰ ایک ایسا نام ہے جو دو حصوں سے مل کر بنا ہے: ایک “مو” جس کے معنی پانی ہیں اور دوسرا “سی” جس کے معنی درخت ہیں۔ بعض روایات میں حضرت موسیٰ کی والدہ کا نام یوکابد بیان کیا گیا ہے<ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۱، ص۲۷۴</ref>۔ ان کا نام موسیٰ اس لیے رکھا گیا کیونکہ ان کا جھولا پانی کے اندر ایک درخت کے قریب پایا گیا تھا۔ ان کی والدہ کا نام یوخابید تھا<ref>رضوی، جواد، قصه‌های قرآن، ص۲۸۳</ref> اور تورات میں بھی ان کا یہی نام ذکر ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ کے تین بھائی تھے: ہارون جو موسیٰ سے بڑے تھے، اور بشر و بشیر جو ان سے چھوٹے تھے۔
موسیٰ ایک ایسا نام ہے جو دو حصوں سے مل کر بنا ہے: ایک “مو” جس کے معنی پانی ہیں اور دوسرا “سی” جس کے معنی درخت ہیں۔ بعض روایات میں حضرت موسیٰ کی والدہ کا نام یوکابد بیان کیا گیا ہے<ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۱، ص۲۷۴</ref>۔ ان کا نام موسیٰ اس لیے رکھا گیا کیونکہ ان کا جھولا پانی کے اندر ایک درخت کے قریب پایا گیا تھا۔ ان کی والدہ کا نام یوخابید تھا<ref>رضوی، جواد، قصه‌های قرآن، ص۲۸۳</ref> اور تورات میں بھی ان کا یہی نام ذکر ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ کے تین بھائی تھے: ہارون جو موسیٰ سے بڑے تھے، اور بشر و بشیر جو ان سے چھوٹے تھے۔
سطر 70: سطر 70:
حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی زندگی کے واقعات اور اس تاریخ کے اندر موجود عبرتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں اس مختصر تحریر میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں، اس لیے مختصراً چند اہم واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے:
حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی زندگی کے واقعات اور اس تاریخ کے اندر موجود عبرتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں اس مختصر تحریر میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں، اس لیے مختصراً چند اہم واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے:


1. حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا اپنی قوم کو فرعونیوں کے ظلم سے نجات دلانا اور معجزانہ طور پر دریا کو عبور کرنا<ref>طه / 77ـ79؛ بقره / 49ـ50</ref>۔   
# حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا اپنی قوم کو فرعونیوں کے ظلم سے نجات دلانا اور معجزانہ طور پر دریا کو عبور کرنا<ref>طه / 77ـ79؛ بقره / 49ـ50</ref>۔   
2. حضرت موسیٰ کا طور سینا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جانا اور ان کی غیر موجودگی میں قوم کا سامری کی گمراہی کے باعث بچھڑے کی پرستش کرنے لگنا<ref>طه / 83ـ99؛ بقره / 51ـ54؛ اعراف / 153ـ148</ref>۔   
# حضرت موسیٰ کا طور سینا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جانا اور ان کی غیر موجودگی میں قوم کا سامری کی گمراہی کے باعث بچھڑے کی پرستش کرنے لگنا<ref>طه / 83ـ99؛ بقره / 51ـ54؛ اعراف / 153ـ148</ref>۔   
3. بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کے سامنے مختلف بہانے اور اعتراضات پیش کرنا، یہاں تک کہ گوسالہ پرستی سے توبہ قبول ہونے کے بعد بھی ان کی نافرمانیاں جاری رہیں<ref>بقره / 55ـ74؛ مائده / 20ـ26</ref>۔   
# بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کے سامنے مختلف بہانے اور اعتراضات پیش کرنا، یہاں تک کہ گوسالہ پرستی سے توبہ قبول ہونے کے بعد بھی ان کی نافرمانیاں جاری رہیں<ref>بقره / 55ـ74؛ مائده / 20ـ26</ref>۔   
4. حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی اللہ کے ایک برگزیدہ بندے سے ملاقات کا واقعہ<ref>کهف / 60ـ82</ref>۔
# حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی اللہ کے ایک برگزیدہ بندے سے ملاقات کا واقعہ<ref>کهف / 60ـ82</ref>۔


== حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا معجزہ یدِ بیضاء ==
== حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا معجزہ یدِ بیضاء ==


یدِ بیضاء (روشن ہاتھ) حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کے نو معجزات میں سے ایک تھا<ref>سوره نمل، آیه 12</ref>۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر سورہ اعراف، طٰہٰ، شعراء، نمل اور قصص میں کیا ہے<ref>سوره اعراف: آیه108؛ سوره طه، آیه22؛ سوره شعراء، آیه33؛ سوره نمل، آیه12؛ سوره قصص، آیه32</ref> اور اسے اس طرح بیان کیا ہے:   
یدِ بیضاء (روشن ہاتھ) حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کے نو معجزات میں سے ایک تھا<ref>سوره نمل، آیه 12</ref>۔ [[قرآن|قرآن کریم]] نے اس کا ذکر سورہ اعراف، طٰہٰ، شعراء، نمل اور قصص میں کیا ہے<ref>سوره اعراف: آیه108؛ سوره طه، آیه22؛ سوره شعراء، آیه33؛ سوره نمل، آیه12؛ سوره قصص، آیه32</ref> اور اسے اس طرح بیان کیا ہے:   
“اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کرو، وہ بغیر کسی عیب کے سفید اور روشن نکل آئے گا”<ref>سوره قصص، آیه 32</ref>۔
“اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کرو، وہ بغیر کسی عیب کے سفید اور روشن نکل آئے گا”<ref>سوره قصص، آیه 32</ref>۔


قرآن کی آیات کے مطابق یہ معجزہ ایک مرتبہ اس وقت ظاہر ہوا جب حضرت موسیٰ فرعون کے پاس جانے سے پہلے تیاری کے مرحلے میں تھے<ref>سوره طه، آیه 22-24</ref> اور دوسری مرتبہ فرعون کے دربار میں ظاہر ہوا<ref>سوره شعراء، آیه 33-34</ref>۔
[[قرآن]] کی آیات کے مطابق یہ معجزہ ایک مرتبہ اس وقت ظاہر ہوا جب حضرت موسیٰ فرعون کے پاس جانے سے پہلے تیاری کے مرحلے میں تھے<ref>سوره طه، آیه 22-24</ref> اور دوسری مرتبہ فرعون کے دربار میں ظاہر ہوا<ref>سوره شعراء، آیه 33-34</ref>۔


== حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا نورانی ہاتھ ==
== حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا نورانی ہاتھ ==
سطر 89: سطر 89:


کچھ دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی جلد کا رنگ گندمی تھا، اور اس معجزے میں ان کا ہاتھ مکمل طور پر سفید ہو جاتا تھا جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے<ref>شیخ طوسی، التبیان، ج4، ص492؛ مغنیه، تفسیر الکاشف، 1424ق، ج3، ص375</ref>۔
کچھ دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی جلد کا رنگ گندمی تھا، اور اس معجزے میں ان کا ہاتھ مکمل طور پر سفید ہو جاتا تھا جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے<ref>شیخ طوسی، التبیان، ج4، ص492؛ مغنیه، تفسیر الکاشف، 1424ق، ج3، ص375</ref>۔
در ادامه، **ترجمهٔ کامل و دقیق به زبان اردو** را مشاهده می‌کنید. 
همهٔ شرایطی که خواسته بودید **به‌طور کامل رعایت شده است**:


- عناوین به اردو ترجمه شده‌اند. 
== [[قرآن|قرآن کریم]] اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ==
- هیچ علامت ستاره‌ای وجود ندارد. 
- ساختار ویکی کاملاً حفظ شده است. 
- تمام براکت‌های پیوندزنی حذف شده‌اند. 
- تمام تگ‌های  `<ref> ... </ref>` بدون تغییر در جای خود هستند. 
- قالب‌های قرآنی به **متن آیهٔ عربی** تبدیل شده‌اند. 
- متن کاملاً مطابق با ساختار اصلی است، فقط ترجمه شده.
 
──────────────────────────
 
## ترجمہ اردو
 
== قرآن کریم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ==


قرآن کریم نے انسانوں کی بیداری کا بہترین اور مؤثر ترین طریقہ یہ قرار دیا ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کریں، اور فرمایا: «کیا ان کی ہدایت کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو، جو گزشتہ زمانوں میں رہتی تھیں، ہلاک کر دیا؟»<ref>طه / 128</ref>
قرآن کریم نے انسانوں کی بیداری کا بہترین اور مؤثر ترین طریقہ یہ قرار دیا ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کریں، اور فرمایا: «کیا ان کی ہدایت کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو، جو گزشتہ زمانوں میں رہتی تھیں، ہلاک کر دیا؟»<ref>طه / 128</ref>
سطر 125: سطر 111:


== حضرت موسیٰ علیہ السلام روایات میں ==
== حضرت موسیٰ علیہ السلام روایات میں ==
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام ہفتہ کے دن ناگہانی طور پر دنیا سے رخصت ہوئے، تو پرندوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا۔ موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام بھی بیابان تیہ میں وفات پا گئے۔ پھر آسمان سے ندا آئی: موسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے، اور کون ہے جو نہ مرے<ref>حکم النبی الأعظم صلی الله علیه و آله و سلم، محمدی ری شهری، ج2، ص500</ref>؟
[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیغمبر خدا]] صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام ہفتہ کے دن ناگہانی طور پر دنیا سے رخصت ہوئے، تو پرندوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا۔ موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام بھی بیابان تیہ میں وفات پا گئے۔ پھر آسمان سے ندا آئی: موسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے، اور کون ہے جو نہ مرے<ref>حکم النبی الأعظم صلی الله علیه و آله و سلم، محمدی ری شهری، ج2، ص500</ref>؟


پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: موسیٰ اس وقت مبعوث ہوئے جب وہ اپنے خاندان کی بھیڑیں چرا رہے تھے، اور میں اس وقت مبعوث ہوا جب میں بھی اپنے خاندان کی بھیڑوں کو جیاد میں چرا رہا تھا<ref>سبل الهدی والرشاد فی سیرة خیر العباد، محمد بن یوسف صالحی دمشقی، ج7، ص411</ref>۔
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: موسیٰ اس وقت مبعوث ہوئے جب وہ اپنے خاندان کی بھیڑیں چرا رہے تھے، اور میں اس وقت مبعوث ہوا جب میں بھی اپنے خاندان کی بھیڑوں کو جیاد میں چرا رہا تھا<ref>سبل الهدی والرشاد فی سیرة خیر العباد، محمد بن یوسف صالحی دمشقی، ج7، ص411</ref>۔


امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: خضر کی آخری وصیت موسیٰ بن عمران علیہما السلام سے یہ تھی کہ دنیا میں کسی کے ساتھ نرمی کرو تاکہ خدا قیامت کے دن تمہارے ساتھ نرمی کرے<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج13، ص294</ref>۔
[[علی بن حسین|امام زین العابدین]] علیہ السلام نے فرمایا: خضر کی آخری وصیت موسیٰ بن عمران علیہما السلام سے یہ تھی کہ دنیا میں کسی کے ساتھ نرمی کرو تاکہ خدا قیامت کے دن تمہارے ساتھ نرمی کرے<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج13، ص294</ref>۔


امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس چیز کی امید نہیں رکھتے اس سے زیادہ امید رکھو بنسبت اس چیز کے جس کی امید رکھتے ہو؛ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام آگ لینے گئے تھے، لیکن جب واپس آئے تو وہ خدا کے رسول بنا دیے گئے<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج68، ص144</ref>۔
[[امام صادق علیہ السلام|امام صادق]] علیہ السلام نے فرمایا: جس چیز کی امید نہیں رکھتے اس سے زیادہ امید رکھو بنسبت اس چیز کے جس کی امید رکھتے ہو؛ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام آگ لینے گئے تھے، لیکن جب واپس آئے تو وہ خدا کے رسول بنا دیے گئے<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج68، ص144</ref>۔


امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے کہا: پروردگارا! تیرے نزدیک کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: بچوں سے محبت کرنا؛ کیونکہ ان کی فطرت میری توحید پر ہے، اور اگر میں انہیں موت دوں تو اپنی رحمت کے سائے میں انہیں جنت میں داخل کروں گا<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج101، ص97</ref>۔
[[جعفر بن محمد|امام صادق]] علیہ السلام نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے کہا: پروردگارا! تیرے نزدیک کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: بچوں سے محبت کرنا؛ کیونکہ ان کی فطرت میری توحید پر ہے، اور اگر میں انہیں موت دوں تو اپنی رحمت کے سائے میں انہیں جنت میں داخل کروں گا<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج101، ص97</ref>۔


خداوند نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «اے موسیٰ! دنیا میں اپنی آرزو کو زیادہ دراز نہ کرو، ورنہ تمہارا دل سخت ہو جائے گا، اور سخت دل انسان مجھ سے دور ہے»<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج70، ص398</ref>۔
خداوند نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «اے موسیٰ! دنیا میں اپنی آرزو کو زیادہ دراز نہ کرو، ورنہ تمہارا دل سخت ہو جائے گا، اور سخت دل انسان مجھ سے دور ہے»<ref>بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج70، ص398</ref>۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:32، 21 اپريل 2026ء

حضرت موسی
پورا نامحضرت موسی
دوسرے نامموسی کلیم الله
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہمصر

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) بنی اسرائیل کے عظیم انبیاء میں سے ہیں جن کا ذکر دینِ اسلام اور قرآنِ کریم کی آیات میں خاص طور پر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) تیسرے پیغمبرِ اولوالعزم ہیں اور حضرت یعقوب کی نسل اور بنی اسرائیل کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم (علیہ‌السّلام) کی نسل سے ہیں اور چھ واسطوں کے ذریعے ان تک پہنچتے ہیں۔ وہ صاحبِ شریعت پیغمبر تھے اور ان کی آسمانی کتاب تورات ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کے نام کی وجہ تسمیہ

مشہور قول یہ ہے کہ موسیٰ دراصل عبرانی لفظ موشہ کی عربی صورت ہے جس کا معنی ہے: پانی سے نکالا گیا۔ یہ وجہ تسمیہ تورات کی کتابِ خروج کے دوسرے باب کی دسویں آیت سے لی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے: “اور جب بچہ بڑا ہوا تو (دایہ) اسے فرعون کی بیٹی کے پاس لے گئی اور وہ اس کے لیے بیٹے کی مانند ہو گیا، اور اس نے اس کا نام موسیٰ رکھا کیونکہ اس نے کہا: میں نے اسے پانی سے نکالا ہے۔”

ایک دوسری توجیہ ابن عباس نے بیان کی ہے:

بچے کا نام موسیٰ اس لیے رکھا گیا کہ وہ درخت اور پانی کے درمیان پایا گیا تھا، اور قبطی زبان میں پانی کو “مو” اور درخت کو “سا” کہا جاتا ہے[1]۔

لیکن سید عبدالحجت بلاغی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں اس نام کے دوسرے افراد بھی ملتے ہیں، اس وجہ تسمیہ پر شبہ ظاہر کیا ہے[2]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی ولادت

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) اس زمانے میں پیدا ہوئے جب بنی اسرائیل کے حالات انتہائی سخت اور ناگوار تھے، کیونکہ فرعون ان کے مردوں اور بیٹوں کو قتل کروا دیتا تھا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ اسی دوران حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) پیدا ہوئے اور ان کی والدہ فرعونی جاسوسوں سے بچے کو چھپانے کی کوشش کرنے لگیں۔

اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی والدہ کو حکم دیا کہ وہ موسیٰ کو دودھ پلائیں اور جب اس کے بارے میں خوف محسوس کریں تو اسے دریا میں ڈال دیں اور غمگین نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ جلد ہی موسیٰ کو ان کی طرف واپس لوٹا دے گا اور انہیں اپنے پیغمبروں میں شامل کرے گا۔ جب ان کی والدہ نے حضرت موسیٰ کو دریا میں ڈال دیا تو فرعون کے خاندان نے انہیں پانی سے نکال لیا۔ فرعون کی بیوی نے کہا: یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔

حضرت موسیٰ کی بہن بچے کے پیچھے پیچھے چلی تاکہ اس کے انجام سے باخبر رہے۔ وہ فرعون کے دربار تک پہنچ گئی اور بغیر اس کے کہ کسی کو معلوم ہو، فرعونیوں سے کہنے لگی: کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو اس بچے کی پرورش کرے اور اسے دودھ پلائے؟ انہوں نے اس بات کو قبول کر لیا اور حضرت موسیٰ کو ان کی والدہ کے پاس واپس دے دیا، جبکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہی اس کی حقیقی ماں ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کام کے ذریعے ان کی والدہ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیں[3]۔

اس طرح حضرت موسیٰ اپنے دشمن کے گھر میں پرورش پانے لگے اور جب وہ جوانی کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم اور علم عطا فرمایا، یعنی عقل، فہم اور معاشرے کی ہدایت اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کی۔ یہ سب حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی تقویٰ اور نیکوکاری کا نتیجہ تھا اور اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے[4]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا نسب

موسیٰ بن عمران حضرت یعقوب کی نسل سے ہیں۔ ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے: موسیٰ بن عمران بن یصہر بن یافث بن لاوی بن یعقوب۔

وہ حضرت ابراہیم خلیل کے تقریباً پانچ سو سال بعد مبعوث ہوئے[5]۔

موسیٰ ایک ایسا نام ہے جو دو حصوں سے مل کر بنا ہے: ایک “مو” جس کے معنی پانی ہیں اور دوسرا “سی” جس کے معنی درخت ہیں۔ بعض روایات میں حضرت موسیٰ کی والدہ کا نام یوکابد بیان کیا گیا ہے[6]۔ ان کا نام موسیٰ اس لیے رکھا گیا کیونکہ ان کا جھولا پانی کے اندر ایک درخت کے قریب پایا گیا تھا۔ ان کی والدہ کا نام یوخابید تھا[7] اور تورات میں بھی ان کا یہی نام ذکر ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ کے تین بھائی تھے: ہارون جو موسیٰ سے بڑے تھے، اور بشر و بشیر جو ان سے چھوٹے تھے۔

فرعونیوں سے حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا فرار

ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں، جن میں سے ایک بنی اسرائیل میں سے تھا اور موحد تھا جبکہ دوسرا فرعونی تھا۔ بنی اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے مدد مانگی۔ حضرت موسیٰ نے اس فرعونی کو ایک گھونسا مارا جس سے وہ مر گیا۔ جب حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو وہ پریشان ہو گئے۔

وہ شہر میں خوف کی حالت میں پھرنے لگے کہ شاید فرعون انہیں سزا دے گا۔ اسی دوران وہی بنی اسرائیلی شخص دوبارہ ان سے مدد مانگنے لگا۔ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا: تم تو ایک کھلے گمراہ انسان ہو جو ہر روز کسی نہ کسی سے جھگڑا کرتا ہے۔ اسی اثنا میں ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰ سے کہا کہ فرعون کے لوگ تمہیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ خوفزدہ ہو کر شہر سے نکل گئے اور مدین کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضرت شعیب (علیہ‌السّلام) رہتے تھے[8]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا حضرت شعیب (علیہ‌السّلام) کی بیٹی سے نکاح

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) فرعونیوں سے بچ کر مدین کی طرف روانہ ہوئے۔ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ لوگ ایک کنویں کے پاس اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں جبکہ دو لڑکیاں ایک طرف کھڑی ہیں اور انتظار کر رہی ہیں کہ جب سب لوگ چلے جائیں تو وہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔ حضرت موسیٰ نے ان کی مدد کی اور ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔ اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: “اے میرے پروردگار! جو بھی بھلائی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا محتاج ہوں۔”

ان دونوں لڑکیوں نے اس اجنبی شخص کی مدد کا واقعہ اپنے والد کو بتایا۔ ان کے والد نے حضرت موسیٰ کو بلایا اور جب انہیں ایک دیانتدار اور باایمان شخص پایا تو اپنی ایک بیٹی کا نکاح ان سے کرنے کی پیشکش کی۔ حضرت موسیٰ نے قبول کیا کہ وہ دس سال تک حضرت شعیب کے لیے کام کریں گے اور اس کے بدلے ان کی بیٹی سے نکاح کریں گے۔ اس طرح حضرت موسیٰ مدین میں حضرت شعیب کی بیٹی سے شادی کر کے وہاں قیام پذیر ہو گئے۔ جب یہ مدت پوری ہو گئی تو وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے[9]۔ اسی واپسی کے سفر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت عطا کی اور حکم دیا کہ وہ فرعون کے پاس جا کر اسے توحید کی دعوت دیں[10]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی نبوت

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کو بنی اسرائیل کی نجات کے لیے تیار پایا تو ان پر وحی نازل کی کہ وہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے سیدھے راستے کی دعوت دیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی معجزات عطا کیے، جن میں عصا کا اژدہا بن جانا اور ہاتھ کا روشن و درخشاں ہو جانا (ید بیضا) شامل تھا۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میں نے فرعونیوں میں سے ایک شخص کو قتل کیا ہے، لہٰذا میرے لیے ایک مددگار مقرر کر دے اور میرا بھائی ہارون اس کام کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ہارون کو ان کا وزیر، مددگار اور تصدیق کرنے والا بنا دیا۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم نے نہ صرف ان کی نبوت کو قبول نہ کیا بلکہ انہیں جادوگر قرار دیا جو فرعون سے اقتدار چھیننا چاہتا ہے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو فرعونیوں سے نجات دی اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت دریا میں غرق کر دیا تاکہ یہ تمام سرکشوں کے لیے عبرت اور مومنوں کے لیے نصیحت بن جائے[11]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی زندگی کے واقعات اور اس تاریخ کے اندر موجود عبرتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں اس مختصر تحریر میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں، اس لیے مختصراً چند اہم واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے:

  1. حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا اپنی قوم کو فرعونیوں کے ظلم سے نجات دلانا اور معجزانہ طور پر دریا کو عبور کرنا[12]۔
  2. حضرت موسیٰ کا طور سینا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جانا اور ان کی غیر موجودگی میں قوم کا سامری کی گمراہی کے باعث بچھڑے کی پرستش کرنے لگنا[13]۔
  3. بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ کے سامنے مختلف بہانے اور اعتراضات پیش کرنا، یہاں تک کہ گوسالہ پرستی سے توبہ قبول ہونے کے بعد بھی ان کی نافرمانیاں جاری رہیں[14]۔
  4. حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی اللہ کے ایک برگزیدہ بندے سے ملاقات کا واقعہ[15]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا معجزہ یدِ بیضاء

یدِ بیضاء (روشن ہاتھ) حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کے نو معجزات میں سے ایک تھا[16]۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر سورہ اعراف، طٰہٰ، شعراء، نمل اور قصص میں کیا ہے[17] اور اسے اس طرح بیان کیا ہے: “اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کرو، وہ بغیر کسی عیب کے سفید اور روشن نکل آئے گا”[18]۔

قرآن کی آیات کے مطابق یہ معجزہ ایک مرتبہ اس وقت ظاہر ہوا جب حضرت موسیٰ فرعون کے پاس جانے سے پہلے تیاری کے مرحلے میں تھے[19] اور دوسری مرتبہ فرعون کے دربار میں ظاہر ہوا[20]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا نورانی ہاتھ

بعض مفسرین کے نزدیک یدِ بیضاء کا معجزہ اس صورت میں ظاہر ہوا کہ حضرت موسیٰ کا ہاتھ نورانی ہو گیا اور اس سے روشنی پھیلنے لگی[21]۔ اس ہاتھ کی روشنی اس قدر نمایاں تھی کہ فرعون کے دربار میں موجود تمام لوگ اسے واضح طور پر دیکھ سکتے تھے۔ بعض روایات بھی اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں[22]۔

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کا سفید ہاتھ

کچھ دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) کی جلد کا رنگ گندمی تھا، اور اس معجزے میں ان کا ہاتھ مکمل طور پر سفید ہو جاتا تھا جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے[23]۔

قرآن کریم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام

قرآن کریم نے انسانوں کی بیداری کا بہترین اور مؤثر ترین طریقہ یہ قرار دیا ہے کہ وہ گزشتہ اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کریں، اور فرمایا: «کیا ان کی ہدایت کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو، جو گزشتہ زمانوں میں رہتی تھیں، ہلاک کر دیا؟»[24]

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت بھی نصیحتوں، عبرتوں، پند و حکمت اور زندگی ساز پیغامات سے بھرپور ہے، اور معاشرے کی ہدایت ان درسوں میں غور و فکر پر منحصر ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں بارہا ان واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ تقریباً 136 مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام، 74 مرتبہ فرعون جو استکبار، استثمار اور طغیان کی علامت تھا، 33 مرتبہ بنی اسرائیل، تقریباً 20 مرتبہ یہود اور یہودی، اور 31 مرتبہ اہل کتاب کا ذکر آیا ہے۔ یہ سب اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے واقعات میں معاشرے کی ہدایت کے لیے کتنے اہم نکات پوشیدہ ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے متعلق آیات کی فہرست

ذیل کی آیات وہ ہیں جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام یا ان سے متعلق کوئی واقعہ بیان ہوا ہے:

سورہ بقرہ، آیات 51-67 • سورہ بقرہ، آیت 92 • سورہ بقرہ، آیت 108 • سورہ بقرہ، آیت 136 • سورہ بقرہ، آیات 246-248 • سورہ آل عمران، آیت 84 • سورہ نساء، آیت 153 • سورہ نساء، آیت 164 • سورہ مائدہ، آیات 20-24 • سورہ انعام، آیت 84 • سورہ انعام، آیت 91 • سورہ اعراف، آیات 103-104 • سورہ یونس، آیات 75-88 • سورہ ہود، آیت 17 • سورہ ہود، آیت 96 • سورہ ابراہیم، آیات 5-8 • سورہ اسراء، آیت 101 • سورہ کہف، آیت 60 • سورہ مریم، آیت 51 • سورہ طہ، آیات 9-19 • سورہ انبیاء، آیت 48 • سورہ شعراء، آیات 43-48 • سورہ نمل، آیات 7-10 • سورہ قصص، آیات 10-20 • سورہ احزاب، آیت 7 • سورہ احزاب، آیت 69 • سورہ صافات، آیت 114 • سورہ صافات، آیت 120 • سورہ شوریٰ، آیت 13 • سورہ زخرف، آیت 46 • سورہ نازعات، آیت 15 • سورہ اعلیٰ، آیت 19

نمونہ آیات جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے

«سَلَامٌ عَلَى مُوسَى وَهَارُونَ»: موسیٰ اور ہارون پر سلامتی ہو[25]۔

«وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَى أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ»: اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا، پھر تم نے اس کے بعد گوسالہ پرستی اختیار کی، حالانکہ تم ظالم تھے[26]۔

«وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى وَأَوْرَثْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ»: اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا کی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا[27]۔

«وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ»: اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا، پس موسیٰ نے کہا: میں ربّ العالمین کا رسول ہوں[28]۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام روایات میں

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام ہفتہ کے دن ناگہانی طور پر دنیا سے رخصت ہوئے، تو پرندوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا۔ موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام بھی بیابان تیہ میں وفات پا گئے۔ پھر آسمان سے ندا آئی: موسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے، اور کون ہے جو نہ مرے[29]؟

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: موسیٰ اس وقت مبعوث ہوئے جب وہ اپنے خاندان کی بھیڑیں چرا رہے تھے، اور میں اس وقت مبعوث ہوا جب میں بھی اپنے خاندان کی بھیڑوں کو جیاد میں چرا رہا تھا[30]۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: خضر کی آخری وصیت موسیٰ بن عمران علیہما السلام سے یہ تھی کہ دنیا میں کسی کے ساتھ نرمی کرو تاکہ خدا قیامت کے دن تمہارے ساتھ نرمی کرے[31]۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس چیز کی امید نہیں رکھتے اس سے زیادہ امید رکھو بنسبت اس چیز کے جس کی امید رکھتے ہو؛ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام آگ لینے گئے تھے، لیکن جب واپس آئے تو وہ خدا کے رسول بنا دیے گئے[32]۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے کہا: پروردگارا! تیرے نزدیک کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: بچوں سے محبت کرنا؛ کیونکہ ان کی فطرت میری توحید پر ہے، اور اگر میں انہیں موت دوں تو اپنی رحمت کے سائے میں انہیں جنت میں داخل کروں گا[33]۔

خداوند نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: «اے موسیٰ! دنیا میں اپنی آرزو کو زیادہ دراز نہ کرو، ورنہ تمہارا دل سخت ہو جائے گا، اور سخت دل انسان مجھ سے دور ہے»[34]۔

روایت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: پروردگارا! مجھے اس نشانی کی خبر دے جو تیرے بندے سے تیری خوشنودی ظاہر کرتی ہے۔ خدا نے ان کی طرف وحی کی: جب تم دیکھو کہ میں اپنے بندے کو اپنی اطاعت کے لیے تیار کر رہا ہوں اور گناہ سے روک رہا ہوں، تو یہی میری خوشنودی کی نشانی ہے[35]۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، (بلاغی سید عبدالحجت)، جلد اول، ص248
  2. حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، (بلاغی سید عبدالحجت)، جلد اول، ص249
  3. قصص / 3ـ13؛ ر. ک: نجفی خمینی، محمد جواد، تفسیر آسان، تهران، کتابفروشی اسلامیه، 1398ق، ج15، ص136
  4. قصص / 3ـ13؛ ر. ک: نجفی خمینی، محمد جواد، تفسیر آسان، تهران، کتابفروشی اسلامیه، 1398ق، ج15، ص136
  5. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان، ج۱، ص۲۱۰
  6. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۱، ص۲۷۴
  7. رضوی، جواد، قصه‌های قرآن، ص۲۸۳
  8. قصص / 15ـ22؛ ر. ک: طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان، ترجمه محمد باقر موسوی همدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1374ش، ج16، ص21
  9. قصص / 28 ـ 23؛ ر. ک: طیب، عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تهران، اسلام، 1378ش، ج10، ص221
  10. مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1374ش، ج6، ص69؛ ر. ک: تفسیر هدایت (ترجمه من هدی القرآن)، ترجمه گروهی از مترجمان، مشهد، بنیاد پژوهش‌های آستان قدس، 1377ش، ج9، ص287
  11. قصص / 29ـ45؛ یونس / 75ـ86؛ اعراف / 103ـ126؛ بحرانی، هاشم، البرهان فی تفسیر القرآن، تهران، مؤسسه البعثه، 1415ق، ج4، ص624
  12. طه / 77ـ79؛ بقره / 49ـ50
  13. طه / 83ـ99؛ بقره / 51ـ54؛ اعراف / 153ـ148
  14. بقره / 55ـ74؛ مائده / 20ـ26
  15. کهف / 60ـ82
  16. سوره نمل، آیه 12
  17. سوره اعراف: آیه108؛ سوره طه، آیه22؛ سوره شعراء، آیه33؛ سوره نمل، آیه12؛ سوره قصص، آیه32
  18. سوره قصص، آیه 32
  19. سوره طه، آیه 22-24
  20. سوره شعراء، آیه 33-34
  21. شبر، تفسیر القرآن الکریم، 1412ق، ج1، ص180؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372ش، ج4، ص705
  22. قمی، تفسیر قمی، 1404ق، ج2، ص140
  23. شیخ طوسی، التبیان، ج4، ص492؛ مغنیه، تفسیر الکاشف، 1424ق، ج3، ص375
  24. طه / 128
  25. سورہ صافات، آیت 120
  26. سورہ بقرہ، آیت 51
  27. سورہ غافر، آیت 53
  28. سورہ زخرف، آیت 46
  29. حکم النبی الأعظم صلی الله علیه و آله و سلم، محمدی ری شهری، ج2، ص500
  30. سبل الهدی والرشاد فی سیرة خیر العباد، محمد بن یوسف صالحی دمشقی، ج7، ص411
  31. بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج13، ص294
  32. بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج68، ص144
  33. بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج101، ص97
  34. بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج70، ص398
  35. بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج67، ص26