"احمد کمال ابو المجد" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| (ایک ہی صارف کا 6 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 18: | سطر 18: | ||
}} | }} | ||
'''احمد کمال ابو المجد'''، یونیورسٹی کے پروفیسر، اسلامی مفکر، تقریبِ مذاہب کے حامی دانشور، جدید رجحان رکھنے والے عالم اور مصر کے ممتاز آئینی قانون کے محقق تھے، جنہوں نے اسلام کے اعتدال پسند پیغام پر زور دیا۔ انہوں نے مصر کی پہلی نوجوان تنظیم کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، [[اخوان المسلمین]] اور دیگر اسلامی تحریکوں سے فکری و تنظیمی روابط رکھے، اور مصر کے مختلف ادوارِ حکومت، خصوصاً | '''احمد کمال ابو المجد'''، یونیورسٹی کے پروفیسر، اسلامی مفکر، [[تقریب|تقریبِ مذاہب]] کے حامی دانشور، جدید رجحان رکھنے والے عالم اور [[مصر]] کے ممتاز آئینی قانون کے محقق تھے، جنہوں نے [[اسلام]] کے اعتدال پسند پیغام پر زور دیا۔ انہوں نے مصر کی پہلی نوجوان تنظیم کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، [[اخوان المسلمین]] اور دیگر اسلامی تحریکوں سے فکری و تنظیمی روابط رکھے، اور مصر کے مختلف ادوارِ حکومت، خصوصاً جمال عبدالناصر کے دور سے لے کر بعد کے ادوار تک، متعدد اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز رہے، جن میں واشنگٹن ڈی سی میں [[مصر]] کے ثقافتی نماینده، سیکرٹری جنرل برائے امورِ نوجوانان، وزیرِ نوجوانان، اور وزیرِ اطلاعات و ثقافت شامل ہیں۔ | ||
== سوانح حیات == | == سوانح حیات == | ||
احمد کمال ابو المجد 28 جون 1930ء کو صوبۂ اسیوط، [[ | احمد کمال ابو المجد 28 جون 1930ء کو صوبۂ اسیوط، [[مصر]] میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1950ء میں قانون میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، 1951ء میں عوامی قانون کا ڈپلومہ، 1952ء میں اسلامی قانون کا ڈپلومہ، اور 1958ء میں جامعہ قاہرہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم جاری رکھی اور 1959ء میں جامعہ مشی گن سے تقابلی قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 1977ء میں عوامی قانون میں دوسری ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ | ||
== انتظامی ذمہ داریاں == | == انتظامی ذمہ داریاں == | ||
کمال ابو المجد نے مصر کی تین مختلف حکومتوں میں، | کمال ابو المجد نے [[مصر]] کی تین مختلف حکومتوں میں، جمال عبدالناصر کے دور سے آغاز کرتے ہوئے، متعدد اعلیٰ سرکاری عہدے سنبھالے۔ فراغتِ تعلیم کے بعد وہ جامعہ قاہرہ کے کلیۂ قانون میں عوامی قانون کے استاد مقرر ہوئے۔ | ||
بعد ازاں 1966ء میں واشنگٹن ڈی سی میں | بعد ازاں 1966ء میں واشنگٹن ڈی سی میں مصر کے ثقافتی نماینده کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1971ء میں سیکرٹری جنرل برائے امورِ نوجوانان مقرر ہوئے اور 1973ء میں وزیرِ نوجوانان بنے، جس کی وجہ سے وہ اس وقت کے سب سے کم عمر وزیر قرار پائے۔ 1974ء میں انہیں وزیرِ اطلاعات و ثقافت مقرر کیا گیا۔ | ||
1976ء میں وہ | 1976ء میں وہ کویت منتقل ہوئے، جہاں جامعہ کویت کے کلیۂ قانون میں پروفیسر اور ولی عہدِ کویت کے مشیر رہے۔ بعد ازاں واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک کی انتظامی عدالت کے جج اور صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ قاہرہ واپسی پر انہیں [[الازہر یونیورسٹی|جامعہ الازہر]] کی اکیڈمی برائے اسلامی تحقیقات کا رکن، [[مصر]] کی سپریم کورٹ، اسٹیٹ کونسل اور اعلیٰ آئینی عدالت میں وکیل، قومی کونسل برائے خواتین کا رکن، عرب تنظیم برائے انسانی حقوق کا رکن، اردن کی شاہی اکیڈمی برائے اسلامی تہذیبی تحقیقات کا رکن، اور عرب لیگ میں بین الثقافتی مکالمے کا کمشنر مقرر کیا گیا۔ | ||
== تصانیف == | == تصانیف == | ||
ڈاکٹر کمال ابو المجد نے سیاست اور قانون کے میدان میں متعدد اہم تصانیف قلم بند کیں، جن میں شامل ہیں: | ڈاکٹر کمال ابو المجد نے سیاست اور قانون کے میدان میں متعدد اہم تصانیف قلم بند کیں، جن میں شامل ہیں: | ||
* ریاستہائے متحدہ اور مصر میں قوانین پر عدالتی نظرِ ثانی (1960ء)؛ | * [[ریاستہائے متحدہ امریکا|ریاستہائے متحدہ]] اور [[مصر]] میں قوانین پر عدالتی نظرِ ثانی (1960ء)؛ | ||
* انتظامی اعمال پر عدالتی نگرانی (1964ء)؛ | * انتظامی اعمال پر عدالتی نگرانی (1964ء)؛ | ||
* متحدہ عرب امارات کا آئینی نظام (1978ء)؛ | * متحدہ عرب امارات کا آئینی نظام (1978ء)؛ | ||
| سطر 38: | سطر 38: | ||
== اعزازات == | == اعزازات == | ||
مصر کے صدر انور سادات نے 1976ء میں ڈاکٹر کمال ابو المجد کو ان کی فکری اور قانونی خدمات کے اعتراف میں ’’نشانِ جمہوریہ (درجۂ اول)‘‘ سے نوازا۔ | |||
== وفات == | == وفات == | ||
| سطر 45: | سطر 45: | ||
== ردِّعمل == | == ردِّعمل == | ||
=== احمد کمال ابو المجد کے انتقال پر الازہر کا تعزیتی بیان === | === احمد کمال ابو المجد کے انتقال پر الازہر کا تعزیتی بیان === | ||
[[الازہر]] نے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ایمان رکھتے ہوئے ممتاز اسلامی مفکر، ڈاکٹر احمد کمال ابو المجد، رکنِ اکیڈمی تحقیقاتِ اسلامی، کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ الازہر نے ان کی فکری وسعت، روشن خیالی اور بھرپور علمی و قانونی تصانیف کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عربی و اسلامی کتب خانوں کو قیمتی علمی سرمایہ فراہم کیا۔ | [[الازہر یونیورسٹی|جامعه الازهر]] نے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ایمان رکھتے ہوئے ممتاز اسلامی مفکر، ڈاکٹر احمد کمال ابو المجد، رکنِ اکیڈمی تحقیقاتِ اسلامی، کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ الازہر نے ان کی فکری وسعت، روشن خیالی اور بھرپور علمی و قانونی تصانیف کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عربی و اسلامی کتب خانوں کو قیمتی علمی سرمایہ فراہم کیا۔ | ||
الازہر نے مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے وسیع رحمت، جنت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی<ref>[https://www.albawabhnews.com/3547535 الأزهر ينعى المفكر أحمد كمال أبو المجد، ویبسائٹ البوابة]</ref>۔ | الازہر نے مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے وسیع رحمت، جنت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی<ref>[https://www.albawabhnews.com/3547535 الأزهر ينعى المفكر أحمد كمال أبو المجد، ویبسائٹ البوابة]</ref>۔ | ||
== نظریات == | == نظریات == | ||
=== تقریب کی موضوعیت اور طریقۂ کار === | === تقریب کی موضوعیت اور طریقۂ کار === | ||
ڈاکٹر احمد کمال ابو المجد نے | ڈاکٹر احمد کمال ابو المجد نے مصر کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے بارہویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدت اسلامی میں [[تقریب]] کے موضوع پر کہا: | ||
[[مسلمان|مسلمانوں]]، علما، خواص اور عوام کے درمیان تقریب کی دعوت کوئی نئی بات نہیں۔ اس امت کے باشعور افراد تاریخ کے آغاز سے آج تک اس کی دعوت دیتے آئے ہیں۔ تاہم آج یہ دعوت ایک نئے قالب میں سامنے آئی ہے، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں نقل و حمل، ابلاغ اور اطلاعات کے میدان میں عظیم سائنسی انقلابات آ چکے ہیں، جنہوں نے اقوام اور تہذیبوں کے درمیان فاصلے مٹا دیے ہیں۔ تنہائی اب ممکن اور قابلِ قبول نہیں رہی۔ | |||
مسلمانوں کے نزدیک ’’تصادمِ تہذیب‘‘ کا نظریہ بد نیتی پر مبنی ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس میں | مسلمانوں کے نزدیک ’’تصادمِ تہذیب‘‘ کا نظریہ بد نیتی پر مبنی ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس میں اسلامی تهذیب کو جارح اور عدمِ برداشت پر مبنی تہذیب کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کی تاریخ میں کوئی بنیاد نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس نے تمہیں آزمائش میں ڈالا؛ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاؤ*۔ اسی فہم کے ساتھ معاصر مسلم علما نے اسلامی تہذیب کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ | ||
=== تفرقہ اور اس کا حل === | === تفرقہ اور اس کا حل === | ||
| سطر 67: | سطر 67: | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
== ماخذ == | == ماخذ == | ||
* [https://gate.ahram.org.eg/News/5238848.aspx أحمد كمال أبو المجد.. رفع شعار «حوار لا مواجهة».. ماذا تبقى من إرث عقل القانون وروح الفكر؟، ویبسائٹ مؤسسہ الاهرام]، تاریخِ اشاعت: 2025-06-28، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02- | * [https://gate.ahram.org.eg/News/5238848.aspx أحمد كمال أبو المجد.. رفع شعار «حوار لا مواجهة».. ماذا تبقى من إرث عقل القانون وروح الفكر؟، ویبسائٹ مؤسسہ الاهرام]،(زبان عربی) تاریخِ اشاعت: 2025-06-28، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-26 | ||
* [https://www.albawabhnews.com/3547535 الأزهر ينعى المفكر أحمد كمال أبو المجد، ویبسائٹ البوابة]، تاریخِ اشاعت: 2019-04-04، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02- | * [https://www.albawabhnews.com/3547535 الأزهر ينعى المفكر أحمد كمال أبو المجد، ویبسائٹ البوابة]، ( زبان عربی) تاریخِ اشاعت: 2019-04-04، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-26 | ||
* [https://taqrib.ir/fa/conf45 بارہویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدت اسلامی، ویبسائٹ مجمعِ عالمی تقریبِ مذاہب اسلامی]، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02- | * [https://taqrib.ir/fa/conf45 بارہویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدت اسلامی، ویبسائٹ مجمعِ عالمی تقریبِ مذاہب اسلامی]، ( زبان فارسی) تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-26 | ||
[[زمرہ:علمائے اسلام]] | [[زمرہ:علمائے اسلام]] | ||
[[زمرہ:اہل سنت علما]] | [[زمرہ:اہل سنت علما]] | ||
[[زمرہ:مصر]] | [[زمرہ:مصر]] | ||
[[fa:احمد کمال ابو المجد]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 11:50، 26 فروری 2026ء
| احمد کمال ابو المجد | |
|---|---|
| پورا نام | احمد کمال ابو المجد |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1308 ش، 1930 ء، 1347 ق |
| پیدائش کی جگہ | مصر، صوبه اسیوط |
| وفات | 1397 ش، 2019 ء، 1439 ق |
| یوم وفات | 3 اپریل |
| وفات کی جگہ | مصر |
| مذہب | اسلام، [[اہل سنت]] |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
احمد کمال ابو المجد، یونیورسٹی کے پروفیسر، اسلامی مفکر، تقریبِ مذاہب کے حامی دانشور، جدید رجحان رکھنے والے عالم اور مصر کے ممتاز آئینی قانون کے محقق تھے، جنہوں نے اسلام کے اعتدال پسند پیغام پر زور دیا۔ انہوں نے مصر کی پہلی نوجوان تنظیم کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، اخوان المسلمین اور دیگر اسلامی تحریکوں سے فکری و تنظیمی روابط رکھے، اور مصر کے مختلف ادوارِ حکومت، خصوصاً جمال عبدالناصر کے دور سے لے کر بعد کے ادوار تک، متعدد اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز رہے، جن میں واشنگٹن ڈی سی میں مصر کے ثقافتی نماینده، سیکرٹری جنرل برائے امورِ نوجوانان، وزیرِ نوجوانان، اور وزیرِ اطلاعات و ثقافت شامل ہیں۔
سوانح حیات
احمد کمال ابو المجد 28 جون 1930ء کو صوبۂ اسیوط، مصر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1950ء میں قانون میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، 1951ء میں عوامی قانون کا ڈپلومہ، 1952ء میں اسلامی قانون کا ڈپلومہ، اور 1958ء میں جامعہ قاہرہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم جاری رکھی اور 1959ء میں جامعہ مشی گن سے تقابلی قانون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 1977ء میں عوامی قانون میں دوسری ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
انتظامی ذمہ داریاں
کمال ابو المجد نے مصر کی تین مختلف حکومتوں میں، جمال عبدالناصر کے دور سے آغاز کرتے ہوئے، متعدد اعلیٰ سرکاری عہدے سنبھالے۔ فراغتِ تعلیم کے بعد وہ جامعہ قاہرہ کے کلیۂ قانون میں عوامی قانون کے استاد مقرر ہوئے۔ بعد ازاں 1966ء میں واشنگٹن ڈی سی میں مصر کے ثقافتی نماینده کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1971ء میں سیکرٹری جنرل برائے امورِ نوجوانان مقرر ہوئے اور 1973ء میں وزیرِ نوجوانان بنے، جس کی وجہ سے وہ اس وقت کے سب سے کم عمر وزیر قرار پائے۔ 1974ء میں انہیں وزیرِ اطلاعات و ثقافت مقرر کیا گیا۔
1976ء میں وہ کویت منتقل ہوئے، جہاں جامعہ کویت کے کلیۂ قانون میں پروفیسر اور ولی عہدِ کویت کے مشیر رہے۔ بعد ازاں واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک کی انتظامی عدالت کے جج اور صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ قاہرہ واپسی پر انہیں جامعہ الازہر کی اکیڈمی برائے اسلامی تحقیقات کا رکن، مصر کی سپریم کورٹ، اسٹیٹ کونسل اور اعلیٰ آئینی عدالت میں وکیل، قومی کونسل برائے خواتین کا رکن، عرب تنظیم برائے انسانی حقوق کا رکن، اردن کی شاہی اکیڈمی برائے اسلامی تہذیبی تحقیقات کا رکن، اور عرب لیگ میں بین الثقافتی مکالمے کا کمشنر مقرر کیا گیا۔
تصانیف
ڈاکٹر کمال ابو المجد نے سیاست اور قانون کے میدان میں متعدد اہم تصانیف قلم بند کیں، جن میں شامل ہیں:
- ریاستہائے متحدہ اور مصر میں قوانین پر عدالتی نظرِ ثانی (1960ء)؛
- انتظامی اعمال پر عدالتی نگرانی (1964ء)؛
- متحدہ عرب امارات کا آئینی نظام (1978ء)؛
- عرب معاشرے پر مطالعات (1962ء)؛
- مکالمہ، نہ کہ تصادم (1988ء)۔
اعزازات
مصر کے صدر انور سادات نے 1976ء میں ڈاکٹر کمال ابو المجد کو ان کی فکری اور قانونی خدمات کے اعتراف میں ’’نشانِ جمہوریہ (درجۂ اول)‘‘ سے نوازا۔
وفات
بالآخر احمد کمال ابو المجد بدھ، 3 اپریل 2019ء کی شام، طویل علالت کے بعد 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ مصر اور عالمِ عرب کی متعدد فکری و قانونی شخصیات اور اداروں نے قانون، فکر اور مکالمے کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات پر ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا[1]۔
ردِّعمل
احمد کمال ابو المجد کے انتقال پر الازہر کا تعزیتی بیان
جامعه الازهر نے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ایمان رکھتے ہوئے ممتاز اسلامی مفکر، ڈاکٹر احمد کمال ابو المجد، رکنِ اکیڈمی تحقیقاتِ اسلامی، کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ الازہر نے ان کی فکری وسعت، روشن خیالی اور بھرپور علمی و قانونی تصانیف کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عربی و اسلامی کتب خانوں کو قیمتی علمی سرمایہ فراہم کیا۔ الازہر نے مرحوم کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور چاہنے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے وسیع رحمت، جنت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی[2]۔
نظریات
تقریب کی موضوعیت اور طریقۂ کار
ڈاکٹر احمد کمال ابو المجد نے مصر کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے بارہویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدت اسلامی میں تقریب کے موضوع پر کہا: مسلمانوں، علما، خواص اور عوام کے درمیان تقریب کی دعوت کوئی نئی بات نہیں۔ اس امت کے باشعور افراد تاریخ کے آغاز سے آج تک اس کی دعوت دیتے آئے ہیں۔ تاہم آج یہ دعوت ایک نئے قالب میں سامنے آئی ہے، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں نقل و حمل، ابلاغ اور اطلاعات کے میدان میں عظیم سائنسی انقلابات آ چکے ہیں، جنہوں نے اقوام اور تہذیبوں کے درمیان فاصلے مٹا دیے ہیں۔ تنہائی اب ممکن اور قابلِ قبول نہیں رہی۔
مسلمانوں کے نزدیک ’’تصادمِ تہذیب‘‘ کا نظریہ بد نیتی پر مبنی ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس میں اسلامی تهذیب کو جارح اور عدمِ برداشت پر مبنی تہذیب کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کی تاریخ میں کوئی بنیاد نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس نے تمہیں آزمائش میں ڈالا؛ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاؤ*۔ اسی فہم کے ساتھ معاصر مسلم علما نے اسلامی تہذیب کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔
تفرقہ اور اس کا حل
احمد کمال ابو المجد کے مطابق تفرقہ کئی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے: اسلامی ممالک کے درمیان، اسلامی تحریکوں اور جماعتوں کے درمیان، اور ایک ہی ملک کے عوام کے درمیان عقیدتی، فقہی اور سیاسی بنیادوں پر۔ حل یہ ہے کہ مکالمے کے آداب کی پابندی کی جائے، قلم اور زبان کی پاکیزگی برقرار رکھی جائے، فریقین کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جائے اور نیتوں کو حسنِ ظن پر محمول کیا جائے۔ نظریات کا تنوع سنتِ الٰہی ہے، اور وحدتِ حق اس کے مختلف زاویوں اور تعبیرات کے اختلاف کی نفی نہیں کرتی۔ فرقہ وارانہ اور فقہی مکالمے میں ضروری ہے کہ وحی پر مبنی دینی امور اور عرف و روایت پر مبنی دنیاوی امور کے درمیان واضح حد قائم کی جائے[3]۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
ماخذ
- أحمد كمال أبو المجد.. رفع شعار «حوار لا مواجهة».. ماذا تبقى من إرث عقل القانون وروح الفكر؟، ویبسائٹ مؤسسہ الاهرام،(زبان عربی) تاریخِ اشاعت: 2025-06-28، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-26
- الأزهر ينعى المفكر أحمد كمال أبو المجد، ویبسائٹ البوابة، ( زبان عربی) تاریخِ اشاعت: 2019-04-04، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-26
- بارہویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدت اسلامی، ویبسائٹ مجمعِ عالمی تقریبِ مذاہب اسلامی، ( زبان فارسی) تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-26