مندرجات کا رخ کریں

"سعودی عرب کے سادات" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 1: سطر 1:
 
[[فائل:سادات ایران.png|تصغیر|بائیں|]]
'''سعودی عرب کے سادات'''، سے مراد وہ خاندان اور گروہ ہیں جو [[سعودی عرب]] کے مختلف علاقوں، بالخصوص تاریخی سرزمینِ حجاز میں آباد ہیں اور اپنے نسبی شجرہ ہائے نسب اور نسب شناسی کے منابع کے مطابق اپنا سلسلۂ نسب خاندانِ بنو ہاشم اور [[اہلِ بیت|اہلِ بیتؑ]] تک پہنچاتے ہیں۔
'''سعودی عرب کے سادات'''، سے مراد وہ خاندان اور گروہ ہیں جو [[سعودی عرب]] کے مختلف علاقوں، بالخصوص تاریخی سرزمینِ حجاز میں آباد ہیں اور اپنے نسبی شجرہ ہائے نسب اور نسب شناسی کے منابع کے مطابق اپنا سلسلۂ نسب خاندانِ بنو ہاشم اور [[اہلِ بیت|اہلِ بیتؑ]] تک پہنچاتے ہیں۔
یہ خاندان مختلف شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں سادات حسنی، سادات حسینی، سادات موسوی، سادات جعفری اور سادات رضوی شامل ہیں۔ [[مکہ |مکہ مکرمہ]]، [[مدینہ|مدینہ منورہ]]، جدہ، طائف، ینبع، تبوک، ضباء اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے سادات کے خاندانوں کے اہم مراکزِ سکونت شمار ہوتے ہیں۔
یہ خاندان مختلف شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں سادات حسنی، سادات حسینی، سادات موسوی، سادات جعفری اور سادات رضوی شامل ہیں۔ [[مکہ |مکہ مکرمہ]]، [[مدینہ|مدینہ منورہ]]، جدہ، طائف، ینبع، تبوک، ضباء اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے سادات کے خاندانوں کے اہم مراکزِ سکونت شمار ہوتے ہیں۔
سطر 210: سطر 210:


== سادات حسینی ==
== سادات حسینی ==
ساداتِ حسینی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا سلسلۂ نسب حضرت امام حسینؑ تک پہنچاتے ہیں۔ حجاز کے ساداتِ حسینی کے اہم خاندانوں کی بڑی تعداد مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح میں آباد رہی ہے۔
نسب شناسی کے منابع میں ان خاندانوں میں سے متعدد کو امام زین العابدینؑ کے فرزند حسین اصغر کی نسل سے منسوب کیا گیا ہے۔
=== بنی حسین ===
بنی حسین حجاز کے وسیع ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کا سلسلۂ نسب حسین اصغر بن امام زین العابدینؑ تک پہنچتا ہے۔
مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح کے شہر اور دیہات اس خاندان کے قدیم مراکزِ سکونت رہے ہیں۔
بنی حسین کی شاخوں میں طماۃ، مہانی، ہواشم، عیاسا، ملاعبہ، آل سبیع بن مہنا، وحاحدہ، عرمات، شداقمہ اور جمامزہ شامل ہیں۔
=== طماۃ یا آل یحییٰ طامی ===
طماۃ یا آل یحییٰ طامی کو بنی حسین کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو مدینہ منورہ کے گردونواح میں آباد تھے۔
یہ گروہ بنی حسین کی بدوی شاخوں میں سے ایک کے طور پر معروف ہے۔ بعض تاریخی روایات میں ان کے محلِ سکونت کو سویداء بنی حسین کہا گیا ہے۔
=== اشرافِ مہانی ===
اشرافِ مہانی مدینہ منورہ کے نمایاں ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
نسب شناسی کے منابع کے مطابق اس خاندان کے افراد کئی صدیوں تک مدینہ کے امراء میں شامل رہے ہیں۔ مہانی کی اہم شاخوں میں اشرافِ ہواشم اور ملاعبہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اشرافِ ہواشم میں عیاسا کا خاندان شامل ہے، جس کی مزید شاخیں درج ذیل ہیں:
* آل مبارک
* آل برکہ
* آل شمَیسان
* آل عساف
* آل علی
* آل شہیل
* آل زہیر
* شقّارین
* آل عمیرہ
* زرافہ یا آل زرفی
=== آل سبیع بن مہنا ===
آل سبیع بن مہنا خاندانِ مہانی کی دیگر شاخوں میں شامل ہیں، جن سے متعدد خاندان وجود میں آئے ہیں۔
اس خاندان کی اہم شاخیں درج ذیل ہیں:
* آل ذویب: آل سبیع بن مہنا سے وابستہ خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
* آل مقرن: ان میں سے ایک گروہ عراق کے شہر حلہ میں آل رمیح کے نام سے معروف ہے۔
* ظوالم: اس میں آل حیار اور آل طراد شامل ہیں۔
* وحاحدہ یا وحاودہ: اس کی شاخوں میں حمزات، ثللا، آل زاید، آل حزیم اور آل معرعر شامل ہیں۔
* عرمات: یہ آل عرمه بن نکَیثہ بن ثوبہ سے منسوب ہیں۔
* شداقمہ: اس شاخ کے معروف خاندانوں میں آل شدقمی شامل ہیں۔
* جمامزہ: مدینہ کے تاریخی خاندانوں میں سے ہیں، جنہیں بعض منابع میں مدینہ کا آخری حکمران خاندان بھی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک گروہ مصر کے علاقے قنا اور صعید کے دیگر شہروں میں آباد ہے۔ مدینہ میں باقی رہ جانے والی ان کی شاخوں میں آل صقر اور آل طہ شامل ہیں۔
=== آل مدنی ===
آل مدنی مدینہ منورہ کے معروف سادات خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں زیرِ حوالہ نسب شناسی کی رپورٹ میں بنی حسین سے منسوب کیا گیا ہے۔
یہ خاندان مدینہ کے بااثر اور معروف خاندانوں میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔
اس خاندان کی معروف شخصیات میں ادیب اور مورخ عبید مدنی اور ان کے فرزندان، نزار بن عبید مدنی اور غازی بن عبید مدنی شامل ہیں۔ ایاد مدنی بھی اس خاندان سے منسوب سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس خاندان کے افراد مذہبِ جعفری کے پیروکار ہیں۔
=== بنی حسین سے متعلق دیگر خاندان ===
بنی حسین سے منسوب دیگر خاندانوں میں اشرافِ ودمہ اور آل ماردینی شامل ہیں۔
اشرافِ ودمہ ایسے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے قبائلِ حرب اور ظفیر کے ساتھ حلف اور اتحاد کے تعلقات رہے ہیں۔
آل ماردینی ساداتِ حسینی کے خاندانوں میں شامل ہیں، جو حامدیہ کے نام سے بھی معروف ہیں۔
آل نوری کو آل ماردینی سے منسوب شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف، جدہ اور ریاض میں آباد ہے۔
== امام جعفر صادقؑ اور آل باعلوی سے منسوب خاندان ==
حجاز کے نسب شناسی کے منابع میں سادات کے بعض خاندانوں کو حضرت امام جعفر صادقؑ سے منسوب کیا گیا ہے۔
یہ خاندان مکہ، مدینہ اور جدہ میں آباد رہے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض نے مختلف ادوار میں یمن اور حضرموت کی طرف ہجرت بھی کی۔
اس شاخ سے منسوب خاندانوں میں آل شطا، آل حسنین، آل عشقی اور بیت ہاشم شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں مکہ کے بیت ہاشم کو مدینہ کے آل ہاشم خاندان سے الگ قرار دیا گیا ہے۔
=== آل باعلوی ===
آل باعلوی یا بنی علوی کو عالم اسلام کے بڑے سادات خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان اپنے نسب کو امام جعفر صادقؑ تک پہنچاتا ہے۔ نسب شناسی کی روایات کے مطابق اس خاندان کے جدِ امجد سید علوی عراق سے یمن ہجرت کرکے حضرموت میں آباد ہوئے۔ اسی روایت میں خاندان اہادل اور قدیمیہ کے اسلاف کو بھی اس ہجرت سے متعلق شاخوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اہادل خاندان عسیر میں جبکہ قدیمیہ خاندان یمن کے دیگر علاقوں میں آباد ہوا۔
آل باعلوی حضرموت کے مختلف شہروں، مثلاً سیئون، تریم، مکلا، شحر اور عدن کے علاوہ حجاز، خلیج فارس کے ممالک، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی آباد ہیں۔ نسب شناسی کے بعض مآخذ کے مطابق اس خاندان کے افراد نے جنوب مشرقی ایشیا کے بعض علاقوں میں اسلام کی ترویج میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ حجاز میں آل باعلوی کی متعدد شاخیں موجود ہیں، جن میں آل عطاس، آل سقاف، آل جمل اللیل، آل بیتی، آل مشیخ، آل صافی، آل جعفری، آل عقیل، آل بافقیہ اور آل حبشی شامل ہیں۔
=== آل عطاس ===
آل عطاس آل باعلوی کے بڑے خاندانوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ، جدہ اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
=== آل سقاف ===
آل سقاف آل باعلوی کی معروف شاخوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ، جدہ اور مدینہ میں موجود ہیں۔
=== آل جمل اللیل ===
آل جمل اللیل آل باعلوی کے خاندانوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔ اس خاندان کو مدینہ کے معروف علمی اور دینی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے آل ترابی خاندان سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔
=== آل بیتی ===
آل بیتی آل باعلوی کے ان خاندانوں میں سے ہے جس کے افراد مدینہ میں رہائش پذیر ہیں اور شہر کے معروف خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
=== آل مشیخ ===
آل مشیخ آل باعلوی کا ایک خاندان ہے جو مدینہ میں آباد ہے۔ احمد بن حیدر مشیخ اور حیدر مشیخ اس خاندان کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
=== آل صافی ===
آل صافی آل باعلوی سے منسوب دو خاندانوں کا نام ہے، جن میں سے ایک آل سقاف اور دوسرا آل جعفری سے منسوب ہے۔ یہ دونوں شاخیں مدینہ، مکہ اور جدہ میں آباد ہیں۔
=== آل جعفری ===
آل جعفری آل باعلوی کے بڑے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کے افراد مکہ، مدینہ اور جدہ میں آباد ہیں۔ نسب شناسی کے مآخذ میں اس خاندان کو حجاز کے علمی اور مذہبی خاندانوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
=== آل عقیل ===
آل عقیل یا بن عقیل آل باعلوی کی بڑی شاخوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ، مدینہ اور جدہ میں رہتے ہیں۔ عبدالحمید بن زینی عقیل اس خاندان کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔
=== آل بافقیہ اور آل حبشی ===
آل بافقیہ مدینہ میں آباد سادات خاندانوں میں سے ایک ہے۔ جبکہ آل حبشی آل باعلوی کے دیگر خاندانوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے افراد مکہ اور مدینہ میں آباد ہیں۔
== سادات موسوی ==
سادات موسوی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا نسب امام موسیٰ کاظمؑ تک پہنچاتے ہیں۔ حجاز کے نسب شناسی کے مآخذ کے مطابق ان میں سے متعدد خاندان مدینہ، مکہ، طائف، ینبع اور دیگر علاقوں میں آباد رہے ہیں۔
اس گروہ میں شامل معروف خاندانوں میں درج ذیل کا ذکر کیا جا سکتا ہے:
* اشراف مواسا: مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
* آل رفاعی: مدینہ کے رہائشی سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ مآخذ میں انہیں سادات رفاعیہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور انہیں رفاعہ جہینہ اور غامد قبائل سے الگ قرار دیا گیا ہے۔
* آل اسعد: مدینہ میں سادات رفاعیہ سے منسوب خاندانوں کی ایک شاخ ہیں۔
* برزنجیہ: مدینہ میں آباد سادات خاندانوں میں سے ہیں۔
* آل بیطار: طائف میں آباد رہے ہیں۔
* آل ناصر: مدینہ کے سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ شیخ ذیاب ناصر اس خاندان کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
* آل خیاری: مدینہ کے سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خیاری نام رکھنے والے تمام افراد لازماً اسی خاندان سے تعلق نہیں رکھتے۔
* آل خلیفہ: مدینہ میں آباد ہیں۔
* آل خطیب: ینبع اور مدینہ میں رہتے ہیں۔ نسب شناسی کی روایت کے مطابق ان کے جد مصطفیٰ بن محمد خطیب ینبع کے آخری ہاشمی حکمرانوں میں سے تھے۔
* آل ہاشم: مدینہ کے سادات خاندانوں میں سے ہیں اور انہیں مکہ کے بیت ہاشم سے الگ سمجھا جاتا ہے۔
* آل حسینی: اس میں مدینہ کے بیت سید اسعد حسینی اور بیت سید عمران حسینی شامل ہیں۔
* آل ابی ہاشم: انہیں ہواشمہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ضباء، وجہ، تبوک اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
== جعفر زکی بن امام علی ہادیؑ سے منسوب خاندان ==
نسب شناسی کی بعض روایات میں خاندانوں کے ایک گروہ کو جعفر زکی، فرزند امام علی ہادیؑ، سے منسوب کیا گیا ہے۔ بعض مآخذ میں ان خاندانوں کا تعلق رضوی اور حسینی شاخوں سے بھی بیان کیا گیا ہے۔
اس زمرے میں شامل معروف خاندانوں میں درج ذیل کا ذکر کیا جا سکتا ہے:
* آل اولیاء: مکہ، مدینہ اور طائف میں آباد ہیں۔
* آل بدور: بدر بن قائد سے منسوب خاندانوں میں سے ہیں۔
* آل ردنہ: ردینی کے نام سے بھی معروف ہیں اور بدر اور قضیمہ میں رہتے ہیں۔
* آل قدیمیہ: مکہ، مدینہ اور جدہ میں موجود ہیں۔ آل صائم الدہر ان کی ان شاخوں میں سے ہے جو مکہ اور جدہ میں آباد ہیں۔
* آل مغربل: مدینہ، جدہ، تبوک اور ظہران میں آباد ہیں۔
* آل اہادل: آل اَہدَل سے منسوب خاندانوں میں سے ہیں، جو مکہ اور جدہ میں رہتے ہیں۔ ان کی شاخوں میں طائف کے مہادیلہ اور ینبع کے زوارعہ یا آل زارع شامل ہیں۔
* آل عقاد: نسب شناسی کے مآخذ میں انہیں عقاقید یا عقادین کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ ماضی میں یہ خاندان آل حریکہ کے نام سے معروف تھا، بعد میں عقاد کا لقب رائج ہوا۔ زیرِ بحث روایت کے مطابق یہ خاندان سادات مواجد قواسم رضوی حسینی میں شمار ہوتا ہے اور اس کی بعض شاخیں ظہران، ریاض اور جدہ میں آباد ہیں۔ اسی ماخذ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں عقاد نام رکھنے والے تمام خاندان ایک ہی نسب سے تعلق نہیں رکھتے۔
* آل میرغنی: مکہ میں آباد سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ آل محجوب میرغنی اس خاندان کی ایک شاخ ہے۔
* آل عبدالدايم: اس گروہ میں شامل دیگر خاندانوں میں سے ہیں۔
== شرفائے مکہ اور خاندان ہاشمی ==
شرفائے مکہ علوی خاندانوں میں سے تھے اور ان کی اکثریت سادات حسنی سے منسوب تھی۔ انہوں نے طویل تاریخی ادوار میں مکہ شہر اور حجاز کے بعض علاقوں کا انتظام و اقتدار سنبھالے رکھا۔ ان کی حکومت مختلف نسبی اور سیاسی شاخوں پر مشتمل تھی اور تاریخی مآخذ میں اسے امارتِ شرفائے مکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ شرفائے مکہ کے تاریخی خاندانوں میں جعفری، ہواشم اور قتادی شاخوں کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ قتادہ بن ادریس کا خاندان اس حکومت کے اہم حکمران خاندانوں میں سے تھا اور اس کی اولاد نے کئی صدیوں تک حجاز کے سیاسی نظام میں کردار ادا کیا۔ جدید دور میں ذوعون خاندان، عبادیلہ کی شاخوں میں سے ایک، حجاز کے سیاسی حالات میں نمایاں ہوا۔
شریف حسین بن علی اس خاندان کی اہم شخصیات میں سے تھے، جو 1908ء میں امارتِ مکہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے 1916ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد وہ حجاز کے بادشاہ بنے اور 1924ء میں تخت سے دست بردار ہوگئے۔ شریف حسین کے دست بردار ہونے کے بعد ان کے بیٹے علی بن حسین نے 1925ء تک حجاز کی حکومت سنبھالی۔ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کی طاقت میں اضافے کے ساتھ ہی حجاز کی ہاشمی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور یہ علاقہ سعودی ریاست میں شامل ہوگیا۔ شریف حسین، عراق کے فیصل اول اور اردن کے عبداللہ اول جیسی شخصیات کے والد تھے۔
ان دونوں شخصیات نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے سیاسی حالات میں اہم کردار ادا کیا اور عراق و اردن میں ہاشمی حکومتوں کی بنیاد رکھی۔ فیصل اول عراق کے بادشاہ بنے اور ان کے پوتے فیصل دوم عراق کے آخری بادشاہ تھے، جو 14 جولائی 1958ء کی فوجی بغاوت میں قتل کردیے گئے۔ اردن میں عبداللہ اول کے بعد طلال اور پھر حسین بن طلال تخت نشین ہوئے۔ شاہ حسین 1952ء سے 1999ء تک اردن کے بادشاہ رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے عبداللہ دوم تخت نشین ہوئے۔
== نخاولہ اور مدینہ کے سادات ==
نخاولہ مدینہ کے شیعہ باشندوں کے ایک گروہ کا نام ہے۔ ان کے نام کی وجہ تسمیہ شہر کے جنوبی علاقے میں واقع کھجور کے باغات میں ان کی تاریخی رہائش کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس برادری کو مدینہ کی سماجی اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے اور مختلف ادوار میں اسے سماجی اور مذہبی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
نخاولہ کو مکمل طور پر مدینہ کے سادات کے ہم معنی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس برادری کے تمام افراد سادات نہیں ہیں۔ بعض رپورٹوں میں مدینہ کے شیعہ سادات خاندانوں کو نخاولہ برادری کے ساتھ ایک الگ گروہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ حسینی، موسوی اور جعفری سادات کے بعض خاندان بھی مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
== مکہ کا خاندان مالکی ==
خاندان مالکی حسنی مکہ کے معروف علمی اور مذہبی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق اس خاندان کا نسب ادریس بن عبداللہ تک پہنچتا ہے، جو امام حسن مجتبیٰؑ کی نسل سے تھے۔ اس خاندان کے افراد نے مختلف نسلوں میں مکہ کی علمی، مذہبی اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔
سید محمد علوی مالکی حسنی مکہ کے مشہور علماء میں سے تھے، جنہوں نے فقہ مالکی، حدیث اور اسلامی علوم کے میدان میں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے اپنی تعلیم کا ایک حصہ مصر کی جامعہ الازہر میں حاصل کیا اور دینی علوم کی تدریس و تحقیق میں سرگرم رہے۔ اس خاندان سے متعلق رپورٹوں میں سید عباس مالکی کا ذکر مکہ کے قاضی اور حرم کے امام و خطیب کی حیثیت سے، جبکہ سید علوی بن عباس مالکی کا ذکر عالم اور مسجدالحرام کے مدرس کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ خاندان مالکی مکہ کے معروف مذہبی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی کئی نسلوں نے مسجدالحرام میں علمی اور دینی خدمات انجام دی ہیں۔
== سعودی عرب کے اہلِ سنت میں سادات ==
بعض عرب معاشروں اور سعودی عرب کے اہلِ سنت میں بھی سیادت کا عنوان پایا جاتا ہے۔ بعض مآخذ میں اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے ایسے خاندانوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اہلِ بیتؑ سے منسوب ہیں اور مذہبی اعتبار سے شافعی اور مالکی جیسے فقہی مذاہب کی پیروی کرتے ہیں۔
بعض رپورٹوں میں محمد رشید رضا، خاندان برزنجی، مکہ اور مدینہ کے شریف حسین اور شریف حسن، نیز اردن کے شاہ حسین جیسی شخصیات اور خاندانوں کو اہلِ سنت کے درمیان سادات سے منسوب کیا گیا ہے۔ تاہم ان تمام شخصیات نے سعودی عرب میں سکونت اختیار نہیں کی تھی بلکہ ان میں سے بعض کا تعلق عرب دنیا کے دوسرے ممالک سے تھا۔
سنہ 1390 ہجری شمسی میں «سادات سنی عربستان سعودی» کے نام سے ایک گروہ نے سعودی عرب کے اس وقت کے بادشاہ ملک عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے نام ایک پیغام میں ٹیلی ویژن سیریل «الحسن والحسین و معاویہ» کی نشریات روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پیغام میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے کردار ادا کرنے والے فنکاروں کے چہرے دکھانے کو صدرِ اسلام کی شخصیات کی توہین کے ممکنہ خدشات اور مذہبی اختلافات میں اضافے کا سبب قرار دیا گیا تھا۔ اس گروہ نے بعض اسلامی مراکز اور علماء کی جانب سے اس سیریل کی نشریات کی مخالفت کا بھی حوالہ دیا تھا۔
== سادات خاندانوں کی جغرافیائی تقسیم ==
سادات سے منسوب خاندان سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد تاریخی سرزمین حجاز میں سکونت رکھتی ہے۔ مکہ اور مدینہ ان خاندانوں کی رہائش کے اہم مراکز ہیں۔ اس کے علاوہ جدہ، طائف، ینبع، تبوک، ضباء، وجہ، بدر، مرج، لیث اور ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی ان میں سے متعدد خاندان آباد ہیں۔
ینبع میں حسنی اور حسینی سادات کے کئی خاندان موجود رہے ہیں۔ نسب شناسی کے مآخذ میں ذو ہجار، عیایشہ، قرون، زوارعہ اور آل زارع جیسے خاندانوں کا ذکر ملتا ہے۔
مدینہ میں نخاولہ برادری کے علاوہ حسینی اور موسوی خاندانوں، آل باعلوی کی بعض شاخوں اور دیگر سادات کی موجودگی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مکہ بھی حسنی، قتادی، مالکی، شرفا اور موسوی و جعفری سادات کے بعض گروہوں کی تاریخی رہائش گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
سعودی عرب کے جنوبی علاقوں، بالخصوص جیزان، ابوعریش اور صامطہ میں آل خیرات اور عبادیلہ کی بعض شاخیں آباد رہی ہیں۔ شمالی علاقوں میں بھی تبوک، وجہ اور ضباء میں بعض سادات خاندانوں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔
== سماجی، مذہبی اور ثقافتی مقام ==
حجاز میں سادات سے منسوب خاندانوں نے مختلف ادوار میں علمی، تعلیمی، مذہبی، عدالتی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض نے مساجد، دینی مدارس اور علمی مراکز میں اسلامی علوم کی تدریس کی، جبکہ بعض افراد نے عدالتی، مذہبی اور انتظامی مناصب بھی سنبھالے۔
ان خاندانوں میں آل مالکی مکہ، آل باعلوی، مدینہ کے حسینی خاندان اور شرفائے مکہ ایسے گروہوں میں شامل ہیں جن کے مذہبی اور ثقافتی کردار کا تاریخی اور سماجی مآخذ میں ذکر ملتا ہے۔
سادات کے بعض خاندان مختلف ادوار میں یمن، حضرموت، عراق، ایران اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی طرف بھی ہجرت کرگئے اور انہوں نے نئے معاشروں میں دینی اور سماجی سرگرمیاں انجام دیں۔ بعض روایتی معاشروں میں سید اور شریف کے القاب کو خصوصی سماجی مقام حاصل رہا ہے اور ان خاندانوں سے منسوب افراد کو مذہبی اجتماعات اور سماجی تقریبات میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔
تاہم محض خاندانی لقب یا نام کی مماثلت نسب کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے۔ کسی خاندان کے نسب کی درست شناخت کے لیے شجرہ ہائے نسب، تاریخی دستاویزات اور معتبر نسب شناسی کے مآخذ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:ایران]]
[[fa:سادات عربستان]]

حالیہ نسخہ بمطابق 11:59، 4 نومبر 2026ء

سعودی عرب کے سادات، سے مراد وہ خاندان اور گروہ ہیں جو سعودی عرب کے مختلف علاقوں، بالخصوص تاریخی سرزمینِ حجاز میں آباد ہیں اور اپنے نسبی شجرہ ہائے نسب اور نسب شناسی کے منابع کے مطابق اپنا سلسلۂ نسب خاندانِ بنو ہاشم اور اہلِ بیتؑ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ خاندان مختلف شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں سادات حسنی، سادات حسینی، سادات موسوی، سادات جعفری اور سادات رضوی شامل ہیں۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ، طائف، ینبع، تبوک، ضباء اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے سادات کے خاندانوں کے اہم مراکزِ سکونت شمار ہوتے ہیں۔ تاریخِ حجاز میں سادات کے ایک گروہ کو اشراف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مکہ کے اشراف، جنہیں عموماً امام حسن مجتبیٰؑ کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے، کئی صدیوں تک امارتِ مکہ کے منصب پر فائز رہے۔ ان کے علاوہ سادات حسینی اور موسوی کے دیگر خاندان بھی مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح میں آباد رہے ہیں۔ ان خاندانوں میں سے بعض نے مختلف ادوار میں علمی، مذہبی، سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جبکہ ان میں سے کچھ خاندانوں نے حجاز، عراق اور اردن کی حکومتوں کی تاریخ میں بھی کردار ادا کیا۔ نسب شناسی کے منابع میں حجاز کے متعدد اشرافی خاندانوں کا ذکر ملتا ہے، جن میں ہواشم، قتادیان، عبادیلہ، بنی حسین اور آل باعلوی شامل ہیں [1].

حجاز میں سادات کا تاریخی پس منظر

حجاز اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدیوں ہی سے اہلِ بیتؑ کے خاندانوں کی موجودگی اور سکونت کا مرکز رہا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مذہبی اہمیت اور اس سرزمین کا رسولِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے خاندان سے تعلق اس بات کا سبب بنا کہ بنی ہاشم کی اولاد اور ان کی نسلوں کے متعدد افراد نے اس علاقے کی طرف ہجرت کی۔

مختلف ادوار میں ان میں سے بعض خاندانوں نے سماجی، مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل کیا اور حجاز کے شہروں کے انتظامی امور میں کردار ادا کیا۔ تاریخی منابع میں مکہ کے اشرافِ حسنی اور مدینہ کے سادات حسینی کو علاقے کے اہم علوی خاندانوں میں شمار کیا گیا ہے۔ ان خاندانوں کے بعض افراد مختلف ادوار میں امارت، قضاوت اور مذہبی امور کی سرپرستی جیسے عہدوں پر فائز رہے۔

چوتھی صدی ہجری کے بعد مکہ میں حسنی خاندانوں کی حکومت وسعت اختیار کرنے لگی اور بعد کے ادوار میں اشراف کی مختلف شاخوں نے اس شہر کا انتظام سنبھالا۔ حجاز کی سیاسی تاریخ میں خاندان‌های جعفری، ہواشم، قتادیان اور عبادیلہ کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان خاندانوں نے مختلف ادوار میں مکہ اور اس کے گردونواح پر حکومت کی اور اسلامی سلطنتوں کے ساتھ حجاز کے سیاسی تعلقات پر اثر ڈالا۔

سادات حسنی

سادات حسنی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا نسب امام حسن مجتبیٰؑ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ حجاز کے اہم ترین سادات خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں اور مکہ کی سیاسی تاریخ سمیت سعودی عرب کے بعض دیگر علاقوں میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ حجاز سے متعلق نسب شناسی کے منابع میں سادات حسنی کے متعدد خاندانوں کا ذکر ملتا ہے، جو مکہ، طائف، ینبع، مدینہ اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں آباد رہے ہیں۔ اس گروہ کے مشہور خاندانوں میں ہواشم، قتادیان، آل فضل اللہ، آل جعفر، آل شرف الدین، آل صدرالدین، آل صفی الدین، آل فحص اور آل برکات شامل ہیں۔

ہواشم

ہواشم یا ہواشمِ امراء کو سادات حسنی سے منسوب خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نسب شناسی کے شجرہ ہائے نسب کے مطابق اس خاندان کا سلسلۂ نسب ابو ہاشم بن حسین بن محمد الثائر بن موسیٰ دوم بن عبداللہ دوم بن موسیٰ الجون بن عبداللہ المحض بن حسن مثنیٰ کے ذریعے امام حسن مجتبیٰؑ تک پہنچتا ہے۔

ہواشم حجاز کے تاریخی خاندانوں میں سے ہیں جن کا تعلق امارتِ مکہ سے رہا ہے۔ بعض منابع کے مطابق اس خاندان کے گروہ مکہ اور وادی فاطمہ میں آباد تھے۔ نسب شناسی کے منابع میں ہواشمِ امراء اور حجاز کے مختلف علاقوں میں موجود اسی نام کے دیگر خاندانوں کے درمیان فرق بھی بیان کیا گیا ہے۔

اشرافِ قتادی

اشرافِ قتادی یا قتادیان کو مکہ کے بڑے سادات حسنی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا سلسلۂ نسب قتادہ بن ادریس بن مطاعن بن عبدالکریم بن عیسیٰ بن حسین بن سلیمان بن علی بن عبداللہ بن محمد الثائر تک پہنچتا ہے۔ یہ خاندان مکہ کے اشراف کی سابقہ شاخوں کے بعد اقتدار میں آیا اور قتادہ کی اولاد نے کئی صدیوں تک حجاز کے سیاسی نظام میں اہم کردار ادا کیا۔

قتادہ بن ادریس کے پانچ صاحبِ نسل فرزند بیان کیے گئے ہیں:

  • ادریس
  • راجح
  • علی اکبر
  • حسین
  • حسن

اس خاندان کی بعد کی نسلوں سے متعدد شاخیں اور خاندان وجود میں آئے، جو حجاز کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے۔

ذو ہجار

ذو ہجار قتادیان کی ایک شاخ ہے، جس کا سلسلۂ نسب شریف ہجار بن وبیر بن مخباز بن محمد بن عقیل بن راجح بن ادریس بن حسن بن قتادہ تک پہنچتا ہے۔ یہ خاندان ینبع النخل، ینبع البحر، مدینہ منورہ، املج اور ضباء کے علاقوں میں آباد رہا ہے۔

حجران یا آل غیث

حجران یا آل غیث بھی قتادیان سے منسوب شاخوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا نسب شریف عبدالکریم بن ابوسعید حسن بن علی اکبر بن قتادہ تک پہنچایا جاتا ہے۔

ذو عنان

ذو عنان کو شریف عنان بن مغامس بن رمیثہ بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ کے شمال میں واقع گاؤں خوار، شہر مکہ اور علاقے خلیص میں آباد رہا ہے۔ نسب شناسی کے منابع میں اشرافِ عنانی اور جدہ و مصر میں موجود اسی نام کے دیگر خاندانوں کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ذو عراد

ذو عراد کو شریف عراد بن عجل بن حازم بن عبدالکریم بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان قتادیان سے وابستہ شاخوں میں شمار ہوتا ہے۔

خاندانِ عنقاوی

عنقاویہ یا آل عنقاوی قتادیان سے منسوب خاندانوں میں شامل ہیں۔ ان کا سلسلۂ نسب شریف عنقا بن وبیر بن محمد بن عاطف بن ابو دعیج بن محمد ابو نمی اول تک پہنچتا ہے۔ یہ خاندان مکہ، مدینہ اور مصر کے بالائی علاقے صعید میں واقع قنا میں آباد رہا ہے۔ آل بصری عنقاوی کو مدینہ میں اس خاندان کی معروف شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ذو حسن

ذو حسن کو شریف علی اور ابراہیم، فرزندانِ حسن بن عجلان بن رمیثہ بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف کے جنوب میں واقع علاقوں لیث اور شواق میں آباد رہا ہے۔

آل برکات

آل برکات کو شریف برکات بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان متعدد شاخوں پر مشتمل ہے اور اس کے افراد مختلف ادوار میں جموم اور وادی فاطمہ کے علاقوں میں بااثر رہے ہیں۔ آل برکات کی شاخوں میں نواصرہ، برکاتی، کریمی، ذو رضا، ذو سرور، رباعنہ، شواکرہ اور آل غیث شامل ہیں۔ نسب شناسی کے منابع میں ان شاخوں کو شریف موسیٰ بن برکات کی نسل سے منسوب کیا گیا ہے۔

شریف ابراہیم بن برکات کی نسل سے بھی ذو حسین، مفالحہ، ذو عبداللہ اور ذو ابراہیم جیسے خاندان وجود میں آئے۔ اسی طرح شریف عمرو بن برکات کی نسل سے عمور، عرامطہ اور علوات کے خاندان منسوب کیے جاتے ہیں۔

ذو حراز اور ماندیل

ذو حراز کو شریف حراز بن احمد بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ماندیل یا مندیلی کو شریف مندیل بن حیدر بن احمد بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔

آل خیرات

آل خیرات کو شریف خیرات بن بشیر بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس خاندان کی شاخوں میں آل حمود ابومسمار، آل مسعود، آل حیدر، آل بشیر، آل ناصر، آل ظافر اور آل علی فارس شامل ہیں۔ زربان، مکارمہ، آل ابو طالب، آل نش، آل حوذان، آل ابو ذیاب، آل حسین، آل فواز، آل عقیل اور آل یحییٰ کے خاندان بھی اس خاندان سے منسوب شاخوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان خاندانوں کے مراکزِ سکونت صامطہ، ابو عریش، جیزان اور خر مہ کے بعض علاقوں میں بتائے گئے ہیں۔

آل مغامس

آل مغامس قتادیان سے منسوب خاندانوں میں شامل ہیں۔ ان کا سلسلۂ نسب شریف مغامس بن ابو نمی بن زامل بن ثقَبہ بن محمد ابو نمی دوم تک پہنچتا ہے۔

عبادیلہ

عبادیلہ حجاز کے اہم سادات حسنی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں شریف عبداللہ بن حسن بن محمد ابو نمی دوم سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس خاندان کی متعدد شاخیں ہیں، جو مکہ، طائف، جدہ، مدینہ، خرمہ، تربہ اور حجاز کے دیگر علاقوں میں آباد ہیں۔

ذو حمود

ذو حمود عبادیلہ کی شاخوں میں سے ایک ہے۔ آل ابو بطین، عرجان، آل ابو جمال، آل حوذان اور آل فاخر کو اس شاخ سے منسوب خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آل ابو بطین مزید کئی شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں آل عبداللہ، آل عبدالملک، آل لباس اور کرماء شامل ہیں۔ اس خاندان کی معروف شخصیات میں شریف شاکر بن ہزاع حمودی عبدلی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کے فرزند شریف ہزاع بن شاکر بھی اس شاخ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

ذو عون

ذو عون عبادیلہ کی نمایاں شاخوں میں سے ایک اور حجاز کی سیاسی تاریخ کے بااثر خاندانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس خاندان نے مختلف ادوار میں مکہ اور حجاز کی امارت سنبھالی اور ایک صدی سے زیادہ عرصے تک علاقے کے سیاسی حالات میں کردار ادا کیا۔

ذو عون کی تین بنیادی شاخیں ہیں:

  1. ذو محمد العونیہ
  2. ذو ناصر العونیہ
  3. ذو ہزاع العونیہ

خاندانِ ذو محمد اس مجموعے کی اہم شاخوں میں سے ہے۔ نسب شناسی کے منابع میں اردن کے شاہی خاندان اور عراق کے سابق شاہی خاندان کو بھی اسی شاخ سے منسوب کیا گیا ہے۔

صوامله

صوامله عبادیلہ کی دیگر شاخوں میں شامل ہیں۔ آل زید، آل سرور، آل سعد، آل سالم، آل عبدالمعین، آل عبداللہ، آل مبارک، آل محمد اور آل سعد کو اس خاندان کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آل صامل

آل صامل کو شریف صامل کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان حجاز کے مشرق میں واقع شہر رنیہ میں آباد رہا ہے۔ نسب شناسی کے منابع میں رنیہ کی مقامی امارت بھی اسی خاندان سے منسوب کی گئی ہے۔

فعور

فعور عبادیلہ کی شاخوں میں سے ایک ہے، جو دو بنیادی شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے:

  • ذو حسین
  • ذو زید

ذو حسین کی شاخوں میں ذو سلطان اور ذو محمد ابو شرین شامل ہیں۔ جبکہ ذو زید کی شاخوں میں ذو حمزہ، ذو مستور، ذو جابر، ذو برکات اور ذو زید اصغر شامل ہیں۔ آل ملبس اور آل محسن بن حسن، جو آل ابو حریق کے نام سے مشہور ہیں، بھی فعور کی دیگر شاخوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ذو سلطان

ذو سلطان مکہ کے مشرق میں واقع علاقے تربہ میں آباد رہے ہیں۔ مقامی تاریخی منابع میں انہیں تربہ کی قدیم امارت کے بااثر خاندانوں میں شمار کیا گیا ہے۔ راشد بن راجح کو اس خاندان کی معروف شخصیات میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔

عبادیلہ کی دیگر شاخیں

عبادیلہ کی دیگر شاخوں میں ذو حسن، آل حامد، ذو حازم، ذو لؤی، ذو عبدالملک، ذو مبارک اور آل شاہین شامل ہیں۔ ذو حسن میں ذو دخیل اللہ، ذو فہید، ذو مستور اور ذو عبداللہ جیسے خاندان شامل ہیں۔ آل حامد کی شاخوں میں آل فتن، آل سلیم اور آل سعید شامل ہیں۔

ذو حازم میں ذو شرف، جو آل ہاشم کے نام سے مشہور ہیں، ذو برکات اور ذو مہنا شامل ہیں۔ ذو برکات مکہ، جدہ اور طائف میں جبکہ ذو مہنا جدہ میں آباد رہے ہیں۔ ذو مبارک کی شاخوں میں آل جاراللہ، آل عبداللہ، آل ہاشم، آل بن یحییٰ، آل حماد، آل سعید، آل ثابت اور آل مساعد شامل ہیں۔ یہ خاندان وادی الاحسبہ میں آباد ہیں۔ آل شاہین بھی متعدد شاخوں میں تقسیم ہیں، جن میں سے بعض خرمہ، تربہ اور مکہ میں آباد ہیں۔

مناعمہ

مناعمه عبادیلہ کی شاخوں میں شامل ہیں، جنہیں شریف عبدالمنعم بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔

شنابرہ

شنابرہ یا آل شنبر کو شریف شنبر بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف، مکہ، وادی لیہ اور وادی سعیا میں آباد رہے ہیں۔ اس خاندان کی شاخوں میں ذو عمرو، ذو شنبر، ذو عبداللہ، ذو طالب، ذو دخیل اللہ، ذو غیث، ذو سلیمان، سلامین، ذو ابراہیم، ذو باز، ذو ثقَبہ، ذو حسین اور ذو ہندی شامل ہیں۔

ذو جوداللہ

ذو جوداللہ یا جوادا کو شریف جوداللہ بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور طائف میں آباد رہا ہے۔ طائف سے ریاض جانے والے راستے پر واقع ایک علاقے کا نام جودیہ بھی اسی خاندان سے منسوب کیا جاتا ہے۔

حرث یا آل حارث

حرث یا آل حارث کو شریف محمد حارث بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور اس کے شمال میں واقع وادی مضیق میں آباد رہا ہے۔ نسب ناموں کے ایک ماخذ میں اس خاندان کو طائف کے بنی حارث اور جنوبی عربستان کے بلحارث قبائل سے الگ قرار دیا گیا ہے۔

ذو نامی اور قتادی

ذو نامی کو شریف نامی بن عبدالطلب بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خاندان قتادی کو اس شاخ کا رشتہ دار اور شریف عبدالطلب بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے شمار کیا گیا ہے۔

آل زید اور ذو سرور

آل زید کو شریف زید بن محسن بن حسین بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ، طائف اور جدہ میں آباد رہا ہے اور اس کی شاخوں میں آل غالب، آل عبداللہ، آل یحییٰ اور ذو مساعد شامل ہیں۔ ذو سرور کو شریف سرور بن باز بن احمد بن علی بن باز بن حسین بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور طائف میں آباد ہے۔

جوازین اور آل راجح

جوازین یا آل جازان کو شریف جازان بن قایتبای بن حسن بن محمد ابو نمی دوم کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح آل راجح یا رواجحہ کو شریف راجح بن محمد ابو نمی اول کی نسل سے شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان مکہ اور وادی فاطمہ میں واقع خیف الرواجحہ میں آباد رہا ہے۔

حجاز کے دیگر حسنی خاندان

حجاز کے اشراف سے متعلق نسب شناسی کے منابع میں ہواشم، قتادیان اور عبادیلہ کے علاوہ دیگر متعدد خاندانوں کو بھی سادات حسنی سے منسوب کیا گیا ہے۔ ان میں درج ذیل خاندان شامل ہیں:

  • اشراف عیایشہ: ینبع اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • اشراف قرون: ینبع میں سکونت رکھنے والے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
  • محمودیہ یا محامید: ینبع اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • اشراف وکلا: علاقے موَیلح میں سکونت رکھتے تھے۔
  • آل بدوی بن حسین: وجہ، تبوک اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • آل نامی: علاقے بدر میں سکونت رکھتے تھے۔
  • آل کتبی حسنی: مکہ اور جدہ میں آباد رہے ہیں۔
  • آل دحلان: حجاز کے سادات سے منسوب خاندانوں میں شامل ہیں۔
  • آل دباغ: ادریسی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں اور مکہ و مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • آل رضوان: ادریسی خاندانوں میں شامل ہیں اور مکہ، مدینہ اور جدہ میں سکونت رکھتے ہیں۔
  • آل یمانی: سادات حسنی رسی سے منسوب ہیں اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔ ہاشم بن عبداللہ یمانی اس خاندان کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
  • آل غوث: مدینہ میں آباد سادات کے خاندانوں میں شامل ہیں۔
  • آل مالکی حسنی: مکہ کے علمی اور مذہبی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ادریسی شاخوں سے منسوب ہیں۔
  • آل تونسی: مکہ میں آباد ہیں۔
  • آل فاسی: ادریسی خاندانوں میں شامل ہیں اور مکہ و جدہ میں سکونت رکھتے ہیں۔
  • آل عیسیٰ وفائی: سادات حسنی سے منسوب ہیں اور طائف و وادی العرج میں آباد رہے ہیں۔

آل عیسیٰ وفائی کی تین بنیادی شاخیں ہیں: آل قصیر، منادحہ اور ذو عوض۔ آل سلیمان کو ذو عوض کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سادات حسینی

ساداتِ حسینی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا سلسلۂ نسب حضرت امام حسینؑ تک پہنچاتے ہیں۔ حجاز کے ساداتِ حسینی کے اہم خاندانوں کی بڑی تعداد مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح میں آباد رہی ہے۔

نسب شناسی کے منابع میں ان خاندانوں میں سے متعدد کو امام زین العابدینؑ کے فرزند حسین اصغر کی نسل سے منسوب کیا گیا ہے۔

بنی حسین

بنی حسین حجاز کے وسیع ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کا سلسلۂ نسب حسین اصغر بن امام زین العابدینؑ تک پہنچتا ہے۔ مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح کے شہر اور دیہات اس خاندان کے قدیم مراکزِ سکونت رہے ہیں۔ بنی حسین کی شاخوں میں طماۃ، مہانی، ہواشم، عیاسا، ملاعبہ، آل سبیع بن مہنا، وحاحدہ، عرمات، شداقمہ اور جمامزہ شامل ہیں۔

طماۃ یا آل یحییٰ طامی

طماۃ یا آل یحییٰ طامی کو بنی حسین کی شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو مدینہ منورہ کے گردونواح میں آباد تھے۔ یہ گروہ بنی حسین کی بدوی شاخوں میں سے ایک کے طور پر معروف ہے۔ بعض تاریخی روایات میں ان کے محلِ سکونت کو سویداء بنی حسین کہا گیا ہے۔

اشرافِ مہانی

اشرافِ مہانی مدینہ منورہ کے نمایاں ساداتِ حسینی خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ نسب شناسی کے منابع کے مطابق اس خاندان کے افراد کئی صدیوں تک مدینہ کے امراء میں شامل رہے ہیں۔ مہانی کی اہم شاخوں میں اشرافِ ہواشم اور ملاعبہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔

اشرافِ ہواشم میں عیاسا کا خاندان شامل ہے، جس کی مزید شاخیں درج ذیل ہیں:

  • آل مبارک
  • آل برکہ
  • آل شمَیسان
  • آل عساف
  • آل علی
  • آل شہیل
  • آل زہیر
  • شقّارین
  • آل عمیرہ
  • زرافہ یا آل زرفی

آل سبیع بن مہنا

آل سبیع بن مہنا خاندانِ مہانی کی دیگر شاخوں میں شامل ہیں، جن سے متعدد خاندان وجود میں آئے ہیں۔

اس خاندان کی اہم شاخیں درج ذیل ہیں:

  • آل ذویب: آل سبیع بن مہنا سے وابستہ خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
  • آل مقرن: ان میں سے ایک گروہ عراق کے شہر حلہ میں آل رمیح کے نام سے معروف ہے۔
  • ظوالم: اس میں آل حیار اور آل طراد شامل ہیں۔
  • وحاحدہ یا وحاودہ: اس کی شاخوں میں حمزات، ثللا، آل زاید، آل حزیم اور آل معرعر شامل ہیں۔
  • عرمات: یہ آل عرمه بن نکَیثہ بن ثوبہ سے منسوب ہیں۔
  • شداقمہ: اس شاخ کے معروف خاندانوں میں آل شدقمی شامل ہیں۔
  • جمامزہ: مدینہ کے تاریخی خاندانوں میں سے ہیں، جنہیں بعض منابع میں مدینہ کا آخری حکمران خاندان بھی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک گروہ مصر کے علاقے قنا اور صعید کے دیگر شہروں میں آباد ہے۔ مدینہ میں باقی رہ جانے والی ان کی شاخوں میں آل صقر اور آل طہ شامل ہیں۔

آل مدنی

آل مدنی مدینہ منورہ کے معروف سادات خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں زیرِ حوالہ نسب شناسی کی رپورٹ میں بنی حسین سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ خاندان مدینہ کے بااثر اور معروف خاندانوں میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔ اس خاندان کی معروف شخصیات میں ادیب اور مورخ عبید مدنی اور ان کے فرزندان، نزار بن عبید مدنی اور غازی بن عبید مدنی شامل ہیں۔ ایاد مدنی بھی اس خاندان سے منسوب سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس خاندان کے افراد مذہبِ جعفری کے پیروکار ہیں۔

بنی حسین سے متعلق دیگر خاندان

بنی حسین سے منسوب دیگر خاندانوں میں اشرافِ ودمہ اور آل ماردینی شامل ہیں۔ اشرافِ ودمہ ایسے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے قبائلِ حرب اور ظفیر کے ساتھ حلف اور اتحاد کے تعلقات رہے ہیں۔ آل ماردینی ساداتِ حسینی کے خاندانوں میں شامل ہیں، جو حامدیہ کے نام سے بھی معروف ہیں۔ آل نوری کو آل ماردینی سے منسوب شاخوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان طائف، جدہ اور ریاض میں آباد ہے۔

امام جعفر صادقؑ اور آل باعلوی سے منسوب خاندان

حجاز کے نسب شناسی کے منابع میں سادات کے بعض خاندانوں کو حضرت امام جعفر صادقؑ سے منسوب کیا گیا ہے۔

یہ خاندان مکہ، مدینہ اور جدہ میں آباد رہے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض نے مختلف ادوار میں یمن اور حضرموت کی طرف ہجرت بھی کی۔

اس شاخ سے منسوب خاندانوں میں آل شطا، آل حسنین، آل عشقی اور بیت ہاشم شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں مکہ کے بیت ہاشم کو مدینہ کے آل ہاشم خاندان سے الگ قرار دیا گیا ہے۔


آل باعلوی

آل باعلوی یا بنی علوی کو عالم اسلام کے بڑے سادات خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان اپنے نسب کو امام جعفر صادقؑ تک پہنچاتا ہے۔ نسب شناسی کی روایات کے مطابق اس خاندان کے جدِ امجد سید علوی عراق سے یمن ہجرت کرکے حضرموت میں آباد ہوئے۔ اسی روایت میں خاندان اہادل اور قدیمیہ کے اسلاف کو بھی اس ہجرت سے متعلق شاخوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اہادل خاندان عسیر میں جبکہ قدیمیہ خاندان یمن کے دیگر علاقوں میں آباد ہوا۔

آل باعلوی حضرموت کے مختلف شہروں، مثلاً سیئون، تریم، مکلا، شحر اور عدن کے علاوہ حجاز، خلیج فارس کے ممالک، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی آباد ہیں۔ نسب شناسی کے بعض مآخذ کے مطابق اس خاندان کے افراد نے جنوب مشرقی ایشیا کے بعض علاقوں میں اسلام کی ترویج میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ حجاز میں آل باعلوی کی متعدد شاخیں موجود ہیں، جن میں آل عطاس، آل سقاف، آل جمل اللیل، آل بیتی، آل مشیخ، آل صافی، آل جعفری، آل عقیل، آل بافقیہ اور آل حبشی شامل ہیں۔

آل عطاس

آل عطاس آل باعلوی کے بڑے خاندانوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ، جدہ اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔

آل سقاف

آل سقاف آل باعلوی کی معروف شاخوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ، جدہ اور مدینہ میں موجود ہیں۔

آل جمل اللیل

آل جمل اللیل آل باعلوی کے خاندانوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔ اس خاندان کو مدینہ کے معروف علمی اور دینی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے آل ترابی خاندان سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔

آل بیتی

آل بیتی آل باعلوی کے ان خاندانوں میں سے ہے جس کے افراد مدینہ میں رہائش پذیر ہیں اور شہر کے معروف خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

آل مشیخ

آل مشیخ آل باعلوی کا ایک خاندان ہے جو مدینہ میں آباد ہے۔ احمد بن حیدر مشیخ اور حیدر مشیخ اس خاندان کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

آل صافی

آل صافی آل باعلوی سے منسوب دو خاندانوں کا نام ہے، جن میں سے ایک آل سقاف اور دوسرا آل جعفری سے منسوب ہے۔ یہ دونوں شاخیں مدینہ، مکہ اور جدہ میں آباد ہیں۔

آل جعفری

آل جعفری آل باعلوی کے بڑے خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کے افراد مکہ، مدینہ اور جدہ میں آباد ہیں۔ نسب شناسی کے مآخذ میں اس خاندان کو حجاز کے علمی اور مذہبی خاندانوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

آل عقیل

آل عقیل یا بن عقیل آل باعلوی کی بڑی شاخوں میں سے ایک ہے، جس کے افراد مکہ، مدینہ اور جدہ میں رہتے ہیں۔ عبدالحمید بن زینی عقیل اس خاندان کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔

آل بافقیہ اور آل حبشی

آل بافقیہ مدینہ میں آباد سادات خاندانوں میں سے ایک ہے۔ جبکہ آل حبشی آل باعلوی کے دیگر خاندانوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے افراد مکہ اور مدینہ میں آباد ہیں۔

سادات موسوی

سادات موسوی ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جو اپنا نسب امام موسیٰ کاظمؑ تک پہنچاتے ہیں۔ حجاز کے نسب شناسی کے مآخذ کے مطابق ان میں سے متعدد خاندان مدینہ، مکہ، طائف، ینبع اور دیگر علاقوں میں آباد رہے ہیں۔

اس گروہ میں شامل معروف خاندانوں میں درج ذیل کا ذکر کیا جا سکتا ہے:

  • اشراف مواسا: مدینہ میں آباد رہے ہیں۔
  • آل رفاعی: مدینہ کے رہائشی سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ مآخذ میں انہیں سادات رفاعیہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور انہیں رفاعہ جہینہ اور غامد قبائل سے الگ قرار دیا گیا ہے۔
  • آل اسعد: مدینہ میں سادات رفاعیہ سے منسوب خاندانوں کی ایک شاخ ہیں۔
  • برزنجیہ: مدینہ میں آباد سادات خاندانوں میں سے ہیں۔
  • آل بیطار: طائف میں آباد رہے ہیں۔
  • آل ناصر: مدینہ کے سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ شیخ ذیاب ناصر اس خاندان کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
  • آل خیاری: مدینہ کے سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خیاری نام رکھنے والے تمام افراد لازماً اسی خاندان سے تعلق نہیں رکھتے۔
  • آل خلیفہ: مدینہ میں آباد ہیں۔
  • آل خطیب: ینبع اور مدینہ میں رہتے ہیں۔ نسب شناسی کی روایت کے مطابق ان کے جد مصطفیٰ بن محمد خطیب ینبع کے آخری ہاشمی حکمرانوں میں سے تھے۔
  • آل ہاشم: مدینہ کے سادات خاندانوں میں سے ہیں اور انہیں مکہ کے بیت ہاشم سے الگ سمجھا جاتا ہے۔
  • آل حسینی: اس میں مدینہ کے بیت سید اسعد حسینی اور بیت سید عمران حسینی شامل ہیں۔
  • آل ابی ہاشم: انہیں ہواشمہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ضباء، وجہ، تبوک اور مدینہ میں آباد رہے ہیں۔

جعفر زکی بن امام علی ہادیؑ سے منسوب خاندان

نسب شناسی کی بعض روایات میں خاندانوں کے ایک گروہ کو جعفر زکی، فرزند امام علی ہادیؑ، سے منسوب کیا گیا ہے۔ بعض مآخذ میں ان خاندانوں کا تعلق رضوی اور حسینی شاخوں سے بھی بیان کیا گیا ہے۔

اس زمرے میں شامل معروف خاندانوں میں درج ذیل کا ذکر کیا جا سکتا ہے:

  • آل اولیاء: مکہ، مدینہ اور طائف میں آباد ہیں۔
  • آل بدور: بدر بن قائد سے منسوب خاندانوں میں سے ہیں۔
  • آل ردنہ: ردینی کے نام سے بھی معروف ہیں اور بدر اور قضیمہ میں رہتے ہیں۔
  • آل قدیمیہ: مکہ، مدینہ اور جدہ میں موجود ہیں۔ آل صائم الدہر ان کی ان شاخوں میں سے ہے جو مکہ اور جدہ میں آباد ہیں۔
  • آل مغربل: مدینہ، جدہ، تبوک اور ظہران میں آباد ہیں۔
  • آل اہادل: آل اَہدَل سے منسوب خاندانوں میں سے ہیں، جو مکہ اور جدہ میں رہتے ہیں۔ ان کی شاخوں میں طائف کے مہادیلہ اور ینبع کے زوارعہ یا آل زارع شامل ہیں۔
  • آل عقاد: نسب شناسی کے مآخذ میں انہیں عقاقید یا عقادین کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ ماضی میں یہ خاندان آل حریکہ کے نام سے معروف تھا، بعد میں عقاد کا لقب رائج ہوا۔ زیرِ بحث روایت کے مطابق یہ خاندان سادات مواجد قواسم رضوی حسینی میں شمار ہوتا ہے اور اس کی بعض شاخیں ظہران، ریاض اور جدہ میں آباد ہیں۔ اسی ماخذ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں عقاد نام رکھنے والے تمام خاندان ایک ہی نسب سے تعلق نہیں رکھتے۔
  • آل میرغنی: مکہ میں آباد سادات خاندانوں میں سے ہیں۔ آل محجوب میرغنی اس خاندان کی ایک شاخ ہے۔
  • آل عبدالدايم: اس گروہ میں شامل دیگر خاندانوں میں سے ہیں۔

شرفائے مکہ اور خاندان ہاشمی

شرفائے مکہ علوی خاندانوں میں سے تھے اور ان کی اکثریت سادات حسنی سے منسوب تھی۔ انہوں نے طویل تاریخی ادوار میں مکہ شہر اور حجاز کے بعض علاقوں کا انتظام و اقتدار سنبھالے رکھا۔ ان کی حکومت مختلف نسبی اور سیاسی شاخوں پر مشتمل تھی اور تاریخی مآخذ میں اسے امارتِ شرفائے مکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ شرفائے مکہ کے تاریخی خاندانوں میں جعفری، ہواشم اور قتادی شاخوں کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ قتادہ بن ادریس کا خاندان اس حکومت کے اہم حکمران خاندانوں میں سے تھا اور اس کی اولاد نے کئی صدیوں تک حجاز کے سیاسی نظام میں کردار ادا کیا۔ جدید دور میں ذوعون خاندان، عبادیلہ کی شاخوں میں سے ایک، حجاز کے سیاسی حالات میں نمایاں ہوا۔

شریف حسین بن علی اس خاندان کی اہم شخصیات میں سے تھے، جو 1908ء میں امارتِ مکہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ انہوں نے 1916ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد وہ حجاز کے بادشاہ بنے اور 1924ء میں تخت سے دست بردار ہوگئے۔ شریف حسین کے دست بردار ہونے کے بعد ان کے بیٹے علی بن حسین نے 1925ء تک حجاز کی حکومت سنبھالی۔ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کی طاقت میں اضافے کے ساتھ ہی حجاز کی ہاشمی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور یہ علاقہ سعودی ریاست میں شامل ہوگیا۔ شریف حسین، عراق کے فیصل اول اور اردن کے عبداللہ اول جیسی شخصیات کے والد تھے۔

ان دونوں شخصیات نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے سیاسی حالات میں اہم کردار ادا کیا اور عراق و اردن میں ہاشمی حکومتوں کی بنیاد رکھی۔ فیصل اول عراق کے بادشاہ بنے اور ان کے پوتے فیصل دوم عراق کے آخری بادشاہ تھے، جو 14 جولائی 1958ء کی فوجی بغاوت میں قتل کردیے گئے۔ اردن میں عبداللہ اول کے بعد طلال اور پھر حسین بن طلال تخت نشین ہوئے۔ شاہ حسین 1952ء سے 1999ء تک اردن کے بادشاہ رہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے عبداللہ دوم تخت نشین ہوئے۔

نخاولہ اور مدینہ کے سادات

نخاولہ مدینہ کے شیعہ باشندوں کے ایک گروہ کا نام ہے۔ ان کے نام کی وجہ تسمیہ شہر کے جنوبی علاقے میں واقع کھجور کے باغات میں ان کی تاریخی رہائش کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس برادری کو مدینہ کی سماجی اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے اور مختلف ادوار میں اسے سماجی اور مذہبی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

نخاولہ کو مکمل طور پر مدینہ کے سادات کے ہم معنی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس برادری کے تمام افراد سادات نہیں ہیں۔ بعض رپورٹوں میں مدینہ کے شیعہ سادات خاندانوں کو نخاولہ برادری کے ساتھ ایک الگ گروہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ حسینی، موسوی اور جعفری سادات کے بعض خاندان بھی مدینہ میں آباد رہے ہیں۔

مکہ کا خاندان مالکی

خاندان مالکی حسنی مکہ کے معروف علمی اور مذہبی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق اس خاندان کا نسب ادریس بن عبداللہ تک پہنچتا ہے، جو امام حسن مجتبیٰؑ کی نسل سے تھے۔ اس خاندان کے افراد نے مختلف نسلوں میں مکہ کی علمی، مذہبی اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ سید محمد علوی مالکی حسنی مکہ کے مشہور علماء میں سے تھے، جنہوں نے فقہ مالکی، حدیث اور اسلامی علوم کے میدان میں خدمات انجام دیں۔

انہوں نے اپنی تعلیم کا ایک حصہ مصر کی جامعہ الازہر میں حاصل کیا اور دینی علوم کی تدریس و تحقیق میں سرگرم رہے۔ اس خاندان سے متعلق رپورٹوں میں سید عباس مالکی کا ذکر مکہ کے قاضی اور حرم کے امام و خطیب کی حیثیت سے، جبکہ سید علوی بن عباس مالکی کا ذکر عالم اور مسجدالحرام کے مدرس کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ خاندان مالکی مکہ کے معروف مذہبی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی کئی نسلوں نے مسجدالحرام میں علمی اور دینی خدمات انجام دی ہیں۔

سعودی عرب کے اہلِ سنت میں سادات

بعض عرب معاشروں اور سعودی عرب کے اہلِ سنت میں بھی سیادت کا عنوان پایا جاتا ہے۔ بعض مآخذ میں اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے ایسے خاندانوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اہلِ بیتؑ سے منسوب ہیں اور مذہبی اعتبار سے شافعی اور مالکی جیسے فقہی مذاہب کی پیروی کرتے ہیں۔

بعض رپورٹوں میں محمد رشید رضا، خاندان برزنجی، مکہ اور مدینہ کے شریف حسین اور شریف حسن، نیز اردن کے شاہ حسین جیسی شخصیات اور خاندانوں کو اہلِ سنت کے درمیان سادات سے منسوب کیا گیا ہے۔ تاہم ان تمام شخصیات نے سعودی عرب میں سکونت اختیار نہیں کی تھی بلکہ ان میں سے بعض کا تعلق عرب دنیا کے دوسرے ممالک سے تھا۔

سنہ 1390 ہجری شمسی میں «سادات سنی عربستان سعودی» کے نام سے ایک گروہ نے سعودی عرب کے اس وقت کے بادشاہ ملک عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے نام ایک پیغام میں ٹیلی ویژن سیریل «الحسن والحسین و معاویہ» کی نشریات روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پیغام میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے کردار ادا کرنے والے فنکاروں کے چہرے دکھانے کو صدرِ اسلام کی شخصیات کی توہین کے ممکنہ خدشات اور مذہبی اختلافات میں اضافے کا سبب قرار دیا گیا تھا۔ اس گروہ نے بعض اسلامی مراکز اور علماء کی جانب سے اس سیریل کی نشریات کی مخالفت کا بھی حوالہ دیا تھا۔

سادات خاندانوں کی جغرافیائی تقسیم

سادات سے منسوب خاندان سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد تاریخی سرزمین حجاز میں سکونت رکھتی ہے۔ مکہ اور مدینہ ان خاندانوں کی رہائش کے اہم مراکز ہیں۔ اس کے علاوہ جدہ، طائف، ینبع، تبوک، ضباء، وجہ، بدر، مرج، لیث اور ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی ان میں سے متعدد خاندان آباد ہیں۔ ینبع میں حسنی اور حسینی سادات کے کئی خاندان موجود رہے ہیں۔ نسب شناسی کے مآخذ میں ذو ہجار، عیایشہ، قرون، زوارعہ اور آل زارع جیسے خاندانوں کا ذکر ملتا ہے۔

مدینہ میں نخاولہ برادری کے علاوہ حسینی اور موسوی خاندانوں، آل باعلوی کی بعض شاخوں اور دیگر سادات کی موجودگی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مکہ بھی حسنی، قتادی، مالکی، شرفا اور موسوی و جعفری سادات کے بعض گروہوں کی تاریخی رہائش گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

سعودی عرب کے جنوبی علاقوں، بالخصوص جیزان، ابوعریش اور صامطہ میں آل خیرات اور عبادیلہ کی بعض شاخیں آباد رہی ہیں۔ شمالی علاقوں میں بھی تبوک، وجہ اور ضباء میں بعض سادات خاندانوں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

سماجی، مذہبی اور ثقافتی مقام

حجاز میں سادات سے منسوب خاندانوں نے مختلف ادوار میں علمی، تعلیمی، مذہبی، عدالتی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض نے مساجد، دینی مدارس اور علمی مراکز میں اسلامی علوم کی تدریس کی، جبکہ بعض افراد نے عدالتی، مذہبی اور انتظامی مناصب بھی سنبھالے۔ ان خاندانوں میں آل مالکی مکہ، آل باعلوی، مدینہ کے حسینی خاندان اور شرفائے مکہ ایسے گروہوں میں شامل ہیں جن کے مذہبی اور ثقافتی کردار کا تاریخی اور سماجی مآخذ میں ذکر ملتا ہے۔

سادات کے بعض خاندان مختلف ادوار میں یمن، حضرموت، عراق، ایران اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی طرف بھی ہجرت کرگئے اور انہوں نے نئے معاشروں میں دینی اور سماجی سرگرمیاں انجام دیں۔ بعض روایتی معاشروں میں سید اور شریف کے القاب کو خصوصی سماجی مقام حاصل رہا ہے اور ان خاندانوں سے منسوب افراد کو مذہبی اجتماعات اور سماجی تقریبات میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔

تاہم محض خاندانی لقب یا نام کی مماثلت نسب کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ہے۔ کسی خاندان کے نسب کی درست شناخت کے لیے شجرہ ہائے نسب، تاریخی دستاویزات اور معتبر نسب شناسی کے مآخذ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

حوالہ جات